بھینگے پن کا علاج کیسے کیا جا سکتا ہے؟

بھینگے پن کا علاج کیسے کیا جا سکتا ہے؟

بھینگے پَن کا علاج نہ کروانے کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں؟

  • بد نمائی
  • بہت دفعہ بھینگا پَن نفسیاتی اُلجھنوں کا باعث بنتا ہے خصوصاً بچوں اور خواتین میں۔
  • جِن بچوں میں عضلے کا فالج اِس کی وجہ ہوتا ہے اُن میں لاشعوری طور پر سر اور چہرے کی ابنارمل پوزیشن آختیار کی جاتی ہے۔ اِس پوزیشن سے گردن کے مہرے عمر بھر کے لئے خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
  • سردرد، چکّر آنا، پڑھتے ہوئے الفاظ کا حرکت کرنا شروع کر دینا اِس مرض کی عام علامات ہیں۔ اِن کی موجودگی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔ بچوں کا پڑھائی سے دل اُچاٹ ہو جاتا ہے۔ کام سے لوگ جی چُرانے لگتے ہیں جِس کی اُن کو وجہ بھی سمجھ نہیں آتی۔

کیا بھینگے پَن کا علاج ممکن ہے؟

زیادہ تر مریضوں کا علاج ممکن ہوتا ہے۔ علاج کا تعلّق نُقص سے ہوتا ہے۔ اگر آنکھ کی کارکردگی ناقص ہے اور کسی طریقے سے اُس کی کام کرنے کی صلاحیّت کو بہتر کیا جا سکے تو اِس سے بھینگا پَن ٹھیک ہو جائے گا مثلاً اگر سفید موتیا کا اپریشن کردیا جائے یا اگر عینک کی ضرورت ہے تو عینک اِستعمال کرنا شروع کر دیا جائے تو اِس سے آہستہ آہستہ ٹھیڑھا پَن ٹھیک ہوجاتا ہے۔

اِسی طرح اگر عضلہ فالج کا شکار ہو گیا ہے یا پیدائشی طور پر کمزور بنا ہے؛ تو اُسکی لمبائی کو کم کرکے اُس کی کارکردگی کو اکثر اوقات بہتر کرنا ممکن ہوتا ہے۔

بھینگے پَن کا نُقص دُور کرنے کیلئے کیا طریقے اختیار کئے جاتے ہیں؟

علاج کے لئے مختلف طریقے اِستعمال کیے جاتے ہیں؛کیونکہ علاج کا انحصار اس بات پر ہے کہ آنکھوں کے ٹیڑھے ہو جانے کا سبب کیا ہے؟ علاج کے طریقوں کی چند مثالیں نیچے دی جاتی ہیں:

  • جن کی آنکھ کا عضلہ کمزور ہو جائے اُس کو چھوٹا کر دیا جاتا ہے تو ٹیڑھا پن دور ہو جاتا ہے۔
  • جن کی آنکھ کا عضلہ سکڑ چکا ہو اُن کے عضلے کو لمبا کر دینے سے ان کی آنکھیں سیدھی ہو جاتی ہیں۔
  • جو آنکھ کام نہ کر رہی ہو یعنی Amblyopia کی بیماری میں مبتلا ہو اُس کو کام شروع کروا کے آنکھوں کا بیلینس برابر کر دیا جاتا ہے۔
  • بھینگے پن کے بعض مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو مخصوص ورزشوں کے ذریعے بہت فائدہ ہوتا ہے۔
  • بھینگے پن کے بہت سارے مریضوں کی آنکھیں صرف عینک لگانے سے ہی سیدھی ہو جاتی ہیں۔
  • بھینگے پن کے بعض مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو دوائیوں سے فائدہ ہو جاتا ہے۔