پردے کی خرابی کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟

پردے کی خرابی کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟

کیا آنکھ کے پردے کا آپریشن کامیاب ہو جاتا ہے؟ ہمیں تو لوگ ڈرا رہے ہیں کہ پردے کا اپریشن نہ کرواؤ جو نظر ہے وہ بھی ختم ہو جائے گی۔ یہی سُنا ہے کہ پردۂ بصارت کی خرابی لاعلاج ہوتی ہے؟

پاکستان میں پردۂ بصارت کی خرابیوں کا مسئلہ بہت اہم ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کے علاج کی سہولتیں بھی بہت کم جگہوں پر موجود ہیں اور اس کے علاج کے لئے تربیت یافتہ ڈاکٹرز بھی بہت کم تعداد میں موجود ہیں۔ اس کےنتیجے میں لوگوں میں علاج کے حوالے سے مایوسی اور لاپرواہی کا رویہ جنم لیتا ہے، چنانچہ علاج کے لئے جب رابطہ کرتے ہیں تب تک بیماری بہت آگے بڑھ چکی ہوتی ہے۔ اصل میں علاج شروع کرنے میں تاخیر اِسے لاعلاج بنا دیتی ہے۔ تاہم بعض خرابیاں ضرور ایسی ہیں جن کا کوئی بھی علاج ممکن نہیں لیکن اُن میں سے بھی بہت سی کیفیتوں میں کم ازکم معذوری کی مقدار میں کمی کرنا ممکن ہوتا ہے۔

علاج کے جدید طریقے آ جانے کے بعد اب پردہ اُکھڑنے کے 90 فیصد مریضوں کا کامیاب علاج کیا جا سکتا ہے جس سے پردہ اپنی جگہ پر جُڑ جاتا ہے تاہم اِن میں سے کئی کا اپریشن دوسری یا تیسری مرتبہ بھی کرنا پڑتا ہے۔البتہ نظر کتنی بحال ہو گی اِس کے بارے میں پیشین گوئی بہت کرنا انتہائی محال ہے۔

پردۂ بصارت کی بیماری کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟ کیا آنکھ میں ٹیکے لگوانے سے پردہ ٹھیک ہو جائے گا؟

اصل میں علاج تو تب ہوسکتا ہے جب بیما ری کی وجہ دور ہو سکے۔ بہت سارے مریضوں میں بیماری کی وجہ کو دور کرنا اِس لئے ممکن نہیں ہوتا مریض بروقت علاج شروع نہیں کرتے بلکہ بہت تاخیر سے شروع کرتے ہیں۔

پردۂ بصارت کی خرابیوں کا علاج کرنے کیلئے بہت سے مختلف طریقے اختیار کئے جاتے ہیں۔ اہم کا ذکر ذیل میں کیا گیا ہے:

  • مختلف قسم کی دوائیں جو قطروں کی شکل میں بھی استعمال کی جاتی ہیں اور کھلائی بھی جاتی ہیں۔
  • بعض ادویہ انجیکشز کی شکل میں دی جاتی ہیں۔ یہ ٹیکے آنکھ کے سطحی پردوں کے نیچے بھی لگائے جاتے ہیں اور بعض ٹیکے آنکھ کے اندر آنکھ کے اندر تک بھی دوائی پہچاتے ہیں۔
  • لیزر شعائیں بھی پردے کے علاج کا ایک اہم اور مفید ذریعہ ہیں۔
  • بعض ایسے اپریشن بھی کئے جاتے ہیں جن کی مدد سے پردہ کو ویلڈ کر دیا جاتا ہے اور پھر باہر سے ایک پٹہ نما چیز Silicon band آنکھ کے گرد لپیٹ دی جاتی ہی جس سے پردہ دوبارہ نہیں اآکھڑتا۔
  • ایک اور بہت ہی اہم طریقۂ علاج ویٹریکٹومی اپریشن Vitrectomy Operation ہے جس میں آنکھ کے اندر سے صفائی کرکے مختلف جھِلّیاں اور خون وغیرہ نکال دیا جاتا ہے اور جہاں ضروری ہو وہاں سے لیزر لگا دی جاتی ہے۔

کیا لیزر شعاعوں سے پردہ جُڑ جاتا ہے؟ 

لیزر شعاعوں کی مدد سے سوراخ کو بند کیا جا سکتا ہے جس سے لیکیج بند ہو جاتی ہے جس سے سوجھن ٹھیک ہو جاتی ہے۔ لیزر اس لئے بھی لگائی جاتی ہے کہ پردہ اُکھڑنے سے بچ جائے۔

پردے میں ہونے والی لیکیج کے علاج کے لئے لیزر شعاعیں لگائی جا رہی ہیں

شعاٰیں لگنے کے بعد پردہ اس طرح نظر آتا ہے

لیزر کے ساتھ بعض ادویہ کے آنکھ کے اندر ٹیکے لگانے سے جھلیاں بننے کے عمل کو روکا جا سکتا ہے۔ اور اِس طرح لیزر کی افادیّت بڑھائی جا سکتی ہے۔

ویٹریکٹومی اپریشن کیسے کیا جاتا ہے؟ اِس اپریشن پر اتنے زیادہ اخراجات کیوں آتے ہیں؟

پردۂ بصارت جب اپنی جگہ سے اُکھڑ جاتا ہے تو اپریشن کر کے اُسے دوبارہ جوڑا جا سکتا ہے۔ اِس کیلئے مختلف طریقے اِستعمال کئے جاتے ہیں۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آنکھ کے گرد ایک سیلیکون کی پٹی مستقل طور پر باندھ دی جائے جو آنکھ کو باہر سے دبا کر رکھتی ہے جس سے دونوں پرتیں آپس میں جُڑ جاتی ہیں اور پھر مسلسل پریشر سے مسلسل جُڑی رہتی ہیں دوبارہ نہیں اُکھڑتیں۔ جیسا کہ ذیل کی تصویر میں نظر آ رہا ہے:

دوسرا انتہائی جدید اوزارا اور مشینیں استعمال کرکے خرابی کے سبب کو دار کرنے کے بعد محلول کو نکال کر سوراخ یا پھٹنے کی جگہ کو لیزر کے زریعے ویلڈ کردینے کا طریقہ ہے۔ اِس طریقے کا نام ویٹریکٹومی Vitrectomy اپریشن ہے۔

اپریشن کا یہ طریقہ آج کے دور کی دریافتوں میں سے ایک ایسی دریافت ہے جس پر ا للہ تعالی کا بھی شکرگذار ہونا چاہئے اور اُن محقیقن کا بھی جن کی محنتوں کے نتیجے میں یہ نعمت انسان کے علم میں آئی اور مسلسل ترقی کر رہی ہے۔ یہ طریقۂ علاج ایک عظیم نعمت ہے ۔ کسی زمانے میں اِس اپریشن پر دس دس گھنٹے صرف ہو جایا کرتے تھے لیکن اب وہی کام بعض اوقات صرف ایک گھنٹے میں اُس سے بہتر معیار کے ساتھ ہو جاتا ہے۔ پھر کسی قسم کے ٹانکے بھی نہیں لگانے پڑتے اور نہ ہی مریض کو بیہوش کرنا پڑتا علاوہ ازیں بینا ئی بھی صرف چند دنوں میں بحال ہو جاتی ہے۔

اِس اپریشن میں کیا طریقۂ کار اختیار کیا جاتا ہے اِس کو سمجھنے کیلئے ذیل کی تصویر کو دیکھیں:

اِس میں دکھایا گیا ہے کہ آنکھ کے اندر مختلف اوزار داخل کرکے جما ہوا خون نکالا جا رہا ہے۔ اُسی منظر کو اگر اوپر سے دیکھیں تو ایسے نظر آتا ہے:

حقیقی اپریشن میں اوزار کیسے موجود ہوتے ہیں ذرا قریب سے دیکھیں:

اپریشن کے پہلے مرحلے میں آنکھ کے اندر کی صفائی کرکے اب جہاں سے پردہ پھٹا ہوا تھا اُس کے کناروں پر لیزر لگائی جا رہی ہے تاکہ وہاں پر ایک طرح سے ویلڈنگ ہو جائے:

نیچے کی تصاویر میں اپریشن کرنے کے مناظر ملاحظہ فرما سکتے ہیں:

Storz کمپنی کی  Millinuimوٹریکٹومی مشین، Zeiss کمپنی کی Lumera ماڈل اپریشن مائیکروسکوپ اور BIOM استعمال کرکے 23-G وٹریکٹومی اپریشن کیا جا رہا ہے۔ اس جدید طریقے میں نہ ٹیکا لگانے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ٹانکے لگانے کی۔

Oertli کمپنی کی وٹریکٹومی مشین، Zeiss کمپنی کی Lumera ماڈل اپریشن مائیکروسکوپ اور BIOM استعمال کرکے 23-G وٹریکٹومی اپریشن کیا جا رہا ہے۔ اس جدید طریقے میں نہ ٹیکا لگانے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ٹانکے لگانے کی۔