پردہ بصارت کیا چیز ہے؟

پردہ بصارت کیا چیز ہے؟

پردہ بصارت کہاں پر ہوتا ہے؟

آنکھ میں پردۂ بصارت کی وہی حیثیت ہے جو کیمرہ میں فلم اور کمپیوٹر میں ریم کارڈ RAM card کی ہوتی ہے؛ اس کے بغیر نظر آنا نا ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ کی انجیئرنگ کا ایک شاہکار ہے۔ یہ آنکھ کی اندرونی شطح پرایک لیمینیشن کی طرح جُڑا ہوتا ہے۔ لیمینیشن کی طرح کی اِس پتلی سی شفّاف جِھلّی کو پردۂ بصارت کہتے ہیں۔

آنکھ کا فوکسنگ سسٹم مختلف چیزوں سے آنے والے شعاعوں کو اِس پردے پر مرتکز کرتا ہے جس سے اُس چیز کی ایک شبیہ یعنی Image اِس پردے کے اوپر بنتی ہے۔ اِس شبیہ کا مختلف پہلوؤں سے اِس پردے میں تجزیہ کیا جاتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے کمپیوٹر کے رَیم کارڈ میں کیا جاتا ہے۔ تصویر کے سائز، اُس کی موٹائی، اُس کے رنگ، اُس کی چمک کی شدّت وغیرہ کا تجزیہ کرکے اُس کی تفصیلات کی کوڈنگ Coding کی جاتی ہے۔ اُن کوڈز کو برقی لہروں کی زبان میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اِن لہروں سے مخصوص سگنلز یعنی برقی اِشارات کی شکل میں آپٹک نرو Optic Nerve کے ذریعے دماغ کے مختلف حصوں کو بھیجا جاتا ہے۔ اِس پردے کو سمجھنے کیلئے ذیل کی تصویروں پر غور فرمائیں:

اِن تصاویر میں آنکھ کی ساخت دکھائی گئی ہے۔ جب مختلف آلات سے دیکھا جائے تو پردہ جیسا نظر آتا ہے وہ بائیں طرف والی تصویر میں نظر آ رہا ہے۔

پردے کے کونسے حصے ہوتے ہیں؟

پردے کو سمجھنے کیلئے چند تصویریں مزید دیکھیں:

اِن تصویروں کی مدد سے بھی سمجھنے کی کوشش کریں کہ پردۂ بصارت کے مختلف حصوں کا آپس میں کیا تعلق ہوتا ہے۔ دائیں طرف کی تصویر میں آنکھ کے اندر کے مختلف حصوں کی پوزیشن نظر آ رہی ہے جبکہ بائیں طرف کی تصویر میں وہ پوزیشن ہے جو مشین سے دیکھنے سے نظر آتی ہے۔

کیا کہ صرف ایک پتلی سی جھلی ہوتی ہے؟

نیچے کی تصویر میں جو پیلے رنگ کی تہہ نظر آ رہی ہے وہ پردۂ بصارت ہے۔ اس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پردہ بالکل لیمینیشن کی طرح پوری اندرونی سطح پر جُڑا ہوا ہوتا ہے۔ پردہ  بنیادی طور پر ہے تو  ایک جھلی لیکن اللہ تعالی نے ظاہری طور پر ایک جھلی نظر آنے والی اس چیز کی شکل میں  دراصل ایک پیچیدہ کمپیوٹر پیدا کیا ہے۔  نیچے والی دونوں تصاویر میں اِس پردے کی پیچیدہ ساخت کا آئیڈیا دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

 بالائی تصویر میں پردے کے  اندر کی طرف شیشے کی طرح کا  شفّاف ویٹریَس بھی نظر آ رہا ہے۔

 نیچے کی تصاویرمیں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اتنے بڑے پردۂ بصارت کا چھوٹا سا حصہ نکال کر اگر اُس کا باریک بینی سے جدید خورد بینوں سے معائنہ کیا جائے تو وہ ایک انتہائی پیچیدہ مشینری کی شکل میں بنا ہوا نظر آتا ہے۔ اِس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کتنی تہہ در تہہ ساخت ہے اور قسما قسم کے سیل موجود ہوتے ہیں جو اپنی اپنی منفرد قسم کی ڈیوٹیاں ادا کر رہے ہوتے ہیں۔

اب نیچے کی تصویر میں ریٹینا کے ایک چھوٹے سے حصے کی ساخت کو بڑا کرکے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اِس پر غور کرکے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ پردہ  اتنے پیچیدہ کام  کیسے کر لیتا ہے!

۔