شوگر پردہ بصارت کو کیسے خراب کر دیتی ہے؟

شوگر پردہ بصارت کو کیسے خراب کر دیتی ہے؟

ذیابیطس آنکھوں کو کیا نقصان پہنچاتی ہے؟

میرے والد صاحب کچھ عرصہ سے محسوس کررہے ہیں کہ اُن کی نظر بہت تیزی سے گر رہی ہے۔ ان کو شوگر بھی اور وہ سمجھتے ہیں کہ نظر اسی وجہ سے خراب ہو رہی ہے۔ کیا یہ صحیح ہے؟ کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ شوگر کی وجہ سے نظر کیوں کم ہو جاتی ہے؟

 شوگر کو اگر صحیح طرح کنٹرول کیا جائے اور مسلسل کنٹرول میں رکھا جائے تو نظر پر اُس کا اثر بہت ہی کم ہوتا ہے۔ اور وہ بھی بڑھاپے میں کیونکہ اِس عمر میں پردے اور خون کی سپلائی کا نظام ویسے بھی کمزور ہو جاتا ہے اور شوگر بھی چونکہ یہی کام کرتی ہے اِس لئے خرابی کی رفتار ذرا تیز ہو جاتی ہے۔

البتہ اگر شوگر کا صحیح طرح علاج نہ کیا جائے تو پھر آنکھ کئی طریقوں سے متأثر ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ آنکھ کا عدسہ اور پردۂ بصارت متأثر ہوتے ہیں جن سے نظر کم ہو جاتی ہے۔ آنکھ کا عدسہ خراب ہونے سے سفید موتیا بن جاتا ہے۔ اور پردۂ بصارت خراب ہونے سے نظر کا نظام صحیح طرح کام نہیں کر سکتا۔ پردے کے اوپر جھلیاں نظر کو کم کر دیتی ہیں۔ اسی طرح خون کی نالیاں پھٹنے سے نظر کم ہو جاتی ہے۔ اوپر کے ایک پیراگراف میں خراب ہونے کی کی مختلف سٹیجیں بتائی جا چکی ہیں۔

میرے والد صاحب کو کافی عرصہ سے شوگر کی بیماری ہے۔ چند دن پہلے اچانک اُن کی نظر کم ہو گئی۔ ڈاکٹر صاحب کو دکھایا تو ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اُن کے پردے کی خون کی ایک نالی پھٹ گئی ہے۔ انھوں نے دوائیاں لکھ کر دی ہیں۔ نالی کیسے پھٹ جاتی ہے؟ کیا اِس مسئلے کا لیزر یا اپریشن سے علاج ہو سکتا ہے؟

ڈاکٹر کہتے ہیں شوگر کی وجہ سے پردہ خراب ہو گیا ہے۔ کیا میں اپریشن کرواؤں یا لیزر سے بھی علاج ہو سکتا ہے؟ جب شوگر سے آنکھیں خراب ہو جائیں تو کیا اُن کا علاج ہو سکتا ہے؟ ہم نے تو یہی سُنا ہے کہ جب ایک دفعہ شوگر سے آنکھیں خراب ہوجائیں تو پھر ٹھیک نہیں ہو سکتیں۔

  • ذیا بیطس ایک دیمک ہے، جوانسان کو آہستہ آہستہ اندر سے کھوکھلا کر کے رکھ دیتی ہے اس کا تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعے ہونے والے نقصان کا احساس بہت دیر بعد ہوتا ہے اور بالعموم جب احساس ہوتا ہے تو اس وقت بہترین علاج کر کے بھی بہت زیادہ فائدہ نہیں ہو پاتا۔
  • ذیابیطس آنکھ کے عدسہ کو نقصان پہنچاتی ہے جس سے عدسہ شفاف نہیں رہتا بلکہ گدلا ہو جاتا ہے اس خرابی کا عمومی نام سفید موتیاہے۔
  • پردۂ بصارت میں موجود خون کی کئی نالیوں کی دیواریں ٹوٹ پھوٹ کر Leak ہونا شروع کر دیتی ہیں جس کے باعث پردے کے مختلف حصوں میں خون کے اجزا رِس رِس کر سُوجھن پیدا کر دیتے ہیں ۔جس سے پردے کی حساسیت متاثر ہوتی ہے اور نظر متاثر ہو جاتی ہے ۔ عینک سے بھی عموماً فائدہ نہیں ہو پاتا۔
  • خون کی کئِ نالیاں کے خراب ہونے سے باعث بند ہو جاتی ہیں جس سےپردے کے کئی حصّوں کو خوراک نہیں ملتی خاص طور پر اُن کی آکسیجن کی ضرورت پوری نہیں ہو پاتی جس سے پردے کے اوپر اور وٹیریس کے اندر جھلیاں بننی شروع ہو جاتی ہیں۔

ان جھلیوں سے وقتاً فوقتاً خون کی کوئی نالی پھٹ جاتی ہے جس سے بعض اوقات پردے کے اوپر خون کی تہہ جم جاتی ہے اور بسا اوقات وٹیریس کا پورا خانہ خون سے بھر جاتا ہے۔یہ جھلیاں آہستہ آہستہ پردے کے بعض حصوں کو اپنی جگہ سے اکھاڑ دیتی ہیں بعض اوقات پردے کا کوئی حصہ پھٹ بھی جاتا ہے جس سے پردے کے اندر پانی بھر جاتا ہے۔

ان تصاویرمیں پردہ بصارت کی خون کی نالیوں میں خرابی کے باعث ہونے والی Leakage اور سوجھن کی علامات نظر آرہی ہیں بالخصوص Macula بہت خراب ہو چکا ہے۔

ان تصاویرمیں پردہ بصارت کی خون کی نالیوں میں خرابی کے باعث ہونے والی Leakage اور سوجھن کی علامات ُس طرح نظر آرہی ہیں جس طرح FFA ٹسٹ میں نظر آتی ہیں۔ جو حصّے سیاہ ہیں ان کی خون کی نالیاں بند ہو چکی ہیں جس سے ان حصوں تک خون کی سپلائی ختم ہو گئی ہے اور جو حصّے بہت زیادہ سفید نظر آرہے ہیں ان میں موجود نالیاں لیک کر رہی ہیں چنانچہ یہ حصّے سوجھ چکے ہین اور ان کی روشنی کو محسوس کرنی کی صلاحیّت بہت متاثر ہو چکی ہے۔

ان تصاویرمیں پردہ بصارت کی خون کی نالیوں میں خرابی کے نتیجے میں بننے والی جھلّیوں کے ابتدائی مراحل نظر آرہے ہیں۔ ان جھلّیوں کی سب سے بُری خصوصیّت یہ ہے کہ ان کی کوئی نہ کوئی نالی پھٹ جاتی ہے اور آنکھ کے اندر خون اکٹھا ہو جاتا ہے۔ ان تصویروں میں پردہ کے سامنے خون کی تہہ جمع ہو گئی ہے۔ کئی دفعہ پوُری آنکھ خُون سے بھر جاتی ہے۔ اس سے پردے کی روشنی کو محسوس کرنے کی صلاحیّت بہت متاثر ہو جاتی ہے۔

اس تصویر میں جھلّیوں کی وہ قسم نظر آرہی ہے جو سب سے خطرناک ہوتی ہے اور جسے NVD کا نام دیا گیا ہے۔

ان تصاویرمیں پردہ بصارت کی خون کی نالیوں میں خرابی کے نتیجے میں بننے والی جھلّیوں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ ان جھلّیوں کی وجہ سے پردہ اپنی جگہ سے کھنچ کر آگے آگیا ہے۔ درمیانی تصویر جھلیوں کی ایک موٹی تہہ نظر آرہی ہے۔ بائیں تصویر میں سارا پعدہ متاثر ہو چکا ہے اور اُکھڑ کر آگے آچکا ہے۔ اس طرح پردے کی روشنی کو محسوس کرنے کی صلاحیّت بہت متاثر ہو جاتی ہے۔ اور پردہ مکمل طور پر ناکارہ بھی ہو جاتا ہے۔