Excimer operation عینک اتارنے کا لیزر اپریشن

Excimer operation عینک اتارنے کا لیزر اپریشن

نظر کی کمزوری کا کیا عینک کے علاوہ بھی کو ئی علاج ہے؟

  • اگر تو آپ کے ذہن میں کوئی دوائی ہے یا ورزیشیں ہیں تو تلخ حقیقت یہ کہ نہیں۔ ابھی تک بہت تحقیقات کے باوجود ایسا کوئی ذریعہ علاج دریافت نہیں ہو سکا۔
  • بہت ہی کم تعداد میں بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی بینا ئی کسی وقتی وجہ سےکم ہو ئی ہو تی ہے یا نظر کی کمزوری کی کوئی ایسی وجہ ہوتی ہے جو قابلِ علاج ہوتی ہے مثلاً شوگر کے نا منا سب علاج کے با عث نظر کا کم ہو جان، کا لا مو تیا کے با عث نظر کا متاثر ہو جانا،قر نیہ میں سو جھن کے باعث خصوصاً Limbal conjuctivitis [یہ الرجی کی ایک قسم ہے] کے باعث۔ ایسے لوگوں کو یقیناً دوا ئی سے فا ئدہ ہو تا ہے۔
  • میری پریکٹس اس وقت تیسرے عشرے میں ہے اس طویل عرصے کے دوران مجھے کو ئی ایسا شخص نہیں ملا جس کی عینک وا قعی کسی ہو میو پیتھک یا کسی اور نسخے سے اُتر گئی ہو۔ کئی لوگ آئے ہیں کہ میں نے علاج کروایا ہے دیکھیں کتنا فرق پڑا ہے؟ جب چیک کیا ہے تو جتنا نمبر پہلے لگتا تھا اُتنا ہی لگ رہا ہو تا البتّہ علا ما ت ضرور دب چکی ہو تی ہیں۔
  • عینک یا کنٹیکٹ لینز کے علاوہ اِس مسئلے کا علاج صرف اور صرف آنکھ کی سا خت میں تبد یلی لا نے سے ممکن ہے جو کئی طر یقوں سے ممکن ہے مثلاً
    • لیزر لگا نے سے،
    • فیکو اپریشن سے،
    • Phakic IOL سے،
    • قرنیہ کے اندر فٹ ہونے والے Corneal rings سے۔

تاہم حقیقت یہی ہے کہ سب سے زیا دہ اِستعمال ہو نے والا اور سب سے زیادہ موثر اور آزمودہ طریقہ لیزر ہی ہے.

لیزر اپریشن میں آنکھ کے اندر کیا تبدیلی لائی جاتی ہے؟

چونکہ قرنیہ کی گولا ئی کو تبدیل کرنے سے اُس کی روشنی کو فوکس کرنے کی طاقت تبدیل کی جا سکتی ہے اِس لئے لیزر کے ذریعے قرنیہ کی بیرونی سطح کی گولائی کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ عینک کے نمبر کے حساب سے کِسی حصے کو زیادہ گول کر دیا جاتا ہے اور کسی حصےکی گولائی کو کم کر دیا جاتا ہے۔ اِس تبدیلی سے مختلف چیزوں سے منعکس ہو کر آنے والی روشنی آنکھ کے پردے پر صحیح طرح فوکس ہو نے لگتی ہے اور آنکھ کو بغیر کسی سہارے [یعنی عینک یا کنٹیکٹ لینز وغیرہ] کے صاف نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ درج زیل تصاویر میں اس اپریشن کے طریق کار کو سمجھانے کی کو شش کی گئی ہے۔

لیزر علاج کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں؟ اور کیا کرنا ہوتا ہے؟

صحت مند آنکھ میں یہ علاج بہت مفید ہوتاہے خصوصاً تھوڑے نمبروں تک تو علاج کے نتائج بہترین ہیں، البتّہ بہت زیادہ نمبر ہو مثلاً سولہ سترہ نمبر تو پھر لیزر کی بجائے متبادل طریقوں کو اختیار کرنا چاہئے۔۔ البتہ اگر کسی کی آنکھوں میں کوئی پہلے سے ایسی بیماری ہو جو مستقل طور پر صحیح نہ ہو سکتی ہو تو پھر ضرور نقصانات ہو سکتے ہیں مثلاً

  • قرنیہ کی کوئی پرانی بیماری خصوصاً قرنیہ مخروطیہ یعنی Keratoconus اس کیفیّت میں قرنیہ کا مرکزی حصّہ پتلا ہو چکا ہوتا ہے چنانچہ لیزر لگانے سے مزید پتلا ہو سکتا ہے جس سے بیماری مزید بگڑ سکتی ہے۔
  • قرنیہ میں اگر مسلسل سوزش رہتی ہو۔
  • Corneal opacity یعنی قرنیہ کے اندر داغ جس سے قرنیہ کی شفّافیّت متاثر ہو جاتی ہے اور فوکس کا نقص ٹھیک ہو جانے کے باوجُود نظر مکمل ٹھیک نہیں ہو پاتی۔

حقیقت ہے کہ یہ علاج بہت سادہ اور محفوظ ہے مہنگا اِس لئے نہیں کہ خطرناک ہے بلکہ اس لئے ہے کہ اس کی مشینیں اور دیگر لوازمات بہت مہینگے ہیں علاوہ ازیں اس ٹیکنیک کے ما ہرین کم ہیں خصوصاً Epi-LASIK کے۔

لیزر اپریشن سے پہلے کیا کرنا ہوتا ہے؟ کتنا وقت پہلے تیاری کے لئے چاہئے ہوتا ہے؟ کیا پہلے معائنہ ضروری ہوتا ہے؟

  • اس کے لئے کیا چا ہئے؟ 18 سے 40 سال عمر ہونی چاہئے، ارادہ کر لیں، اپنی ترجیحات میں اس کو اوّلین اہمیت دیں۔
  • ایک دفعہ تفصیلی معائنہ ہونا چاہئے تاکہ ممکنہ نقصانات یا Risk factors کا پتہ چلایا جا سکے۔ اور کسی چیز کا پہلے سے علاج ضروری ہو تو کیا جا سکے۔
  • علاج سے پہلے بہتر ہوتا ہے کہ تین دن تک Antibiotic قطرے استعمال کئے جائیں تاکہ بعد از اپریشن انفیکشن کا سدّباب کیا جا سکے۔
  • اپریشن کا وقت آدھے گھنٹے کے قریب ہوتا ہے- جس کے دوران مریض کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی بلکہ وُہ ڈاکٹر سے باتیں کرتا رہتا ہے، سُن کرنے والے قطرے ڈالے جاتے ہیں کوئی انجیکشن وغیرہ استعمال نہیں کیا جاتا۔
  • اپریشن کے فوری بعد کُچھ نہ کُچھ تکلیف بہرحال محسُوس ہوتی ہے جو دوسرے دن عموماً ختم ہو جاتی ہے۔ آنکھوں میں جلن اور چبھن محسوس ہوتی ہے۔ پانی آتا ہے اور کئی لوگوں سے روشنی برداشت نہیں ہوتی۔
  • اپریشن کے بعد پہلے کُچھ نہ کُچھ دُھندلا نظر آتا ہے خصوصاً اُن لوگوں کو جن کا نمبر کافی زیادہ ہو۔ دوسرے دن عموماً دُھندلاپن نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔
  • نظر کی بہتری بہت حد تک ابتدائی چند دنوں میں ہو جاتی تاہم یہ عمل تین ماہ تک جاری رہتا ہے۔ خصوصاً جن کا نمبر زیادہ ہو۔ ایسے لوگوں کو شروع کے دنوں میں قریب دیکھنے میں مشکل پیش آتی ہے جو کہ دراصل قرنیہ میں سوزش کے باعث ہوتی ہے۔ جُوں جُوں سوزش بہتر ہوتی جاتی ہے یہ تکلیف بھی بہتر ہوتی جاتی ہے۔

شروع کے دو دن تو کام پہ واپسی مشکل ہوتی ہے اُس کے بعد اپنے کام پہ جایا جا سکتا ہے۔