Corneal cross-linking علاج کا جدید طریقہ

جدید طریقہ Corneal cross-linking کیا ہے؟

کیا اِس بیماری کا علاج ممکن ہے؟

اِ س با ت کا انحصا ر علا ج شروع کر نے کے وقت بیما ری کی سٹیج پر ہو تا ہے؛ عینک، انٹیکٹس اور سخت کنٹیکٹ لینز کا فی مدد گار ثابت ہو تے ہیں۔ جب قرنیہ بہت ہی زیا دہ پتلا ہو جائے یا غیر شفّاف ہو جائے تو قرنیہ کی پیوندکاری کی جا تی ہے ۔ تاہم اس کے علاج کیلئے جدید ترین طر یقہ CXR یا C3R  ہے اِ س کے ذریعے بیما ری کا بہت ابتدا ئی مرا حل میں ہی علاج ممکن ہو گیا ہے۔ اس طریقے سے بیماری کی وجہ کا علاج کرنا  کافی حد تک ممکن ہو گیا ہے۔

اِس اپریشن میں کیا کیا جاتا ہے؟ اور اس کا کردار کس حد تک موثر ہے؟

قر نیہ پروٹین کی ایک قسم کولیجن Collagen ہے۔ یہ دھاگوں کی شکل میں پائی جاتی ہے۔ ان دھا گوں کا جال بنا ہوا ہوتا ہے۔ قرنیہ مخروطیہ کی بیماری میں مبتلا مریضوں کے قرنیہ کے ان دھاگوں کے آپس میں جُڑنے میں کمزوری آ جاتی ہے۔ جب دھاگوں کا آپس کا تعلق کمزور ہو جاتا ہے تو اس سے جال کے سُوراخ  بڑے ہو نا شروع ہو جا تے ہیں اور قر نیہ پتلا ہو نا شروع ہو جا تا ہے۔

اِس طریقۂ علاج میں جو بنیادی طور پر کولیجن کے دھاگوں کو ایک دوائی Riboflavin سے رنگ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ایک خاص قسم کی الٹرا وائیلٹ شعاعوں کی مدد سے آپس میں مضبوطی سے دوبارہ  جوڑ دیا جا تا ہے۔

اس سے کو لیجن کے دھاگے دوبارہ ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔ دھاگوں کے جال کے سُوراخ دوبارہ چھوٹے ہو جاتے ہیں اور قرنیہ دوبارہ موٹا ہو جاتا ہے۔

یہ دوائی اور شعائیں لگانے والی مشین چونکہ دونوں ابھی مہنگی ہیں اور ابھی بہت کم جگہوں پر اِس کا مہیّا ہونا ممکن ہوتا ہے اِس لئے یہ طریقۂ علاج ابھی مہنگا ہے.

نیچے کی تصاویر میں اس اپریشن کے مختلف مراحل دکھائے گئے ہیں:

قرنیہ مخروطیہ کے اپریشن کی کچھ تصاویر

آنکھوں کے بارے میں اپنے سوال کو لکھیں اور ہمیں بھیجھیں انشاء اللہ آپ کی رہنمائی کی جائے گی۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: