فلوٹرز کیا ہوتے ہیں؟

فلوٹرز کیا ہوتے ہیں؟

فلوٹرز

کئی لوگوں کی شکائت ہوتی ہے کہ اُن کی آنکھوں کے سامنے نکتے سے چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ بعض لوگوں کو دھاگے سے بھی نظر آتے ہیں۔ کئی لوگوں کو حرکت کرتا ہوا  دائرہ سا نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فلوٹرز کی پریشانی کی وجہ سے ڈاکٹرز کے پاس آنے والے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔  درج  ذیل چند تصویروں مریضوں کی بیان کردہ شبیہیں دکھائی گئی ہیں:

اِن کی کیا وجوہات ہوتی ہیں؟

فلوٹرز اُس وقت نظر آتے ہیں جب وِٹریَس Vitreous میں کوئی ایسی چیز آ جاتی ہے جو مکمل شفّاف نہیں ہوتی ۔ ایسی چیز کا سایہ پردہٴ بصارت پر بننے لگتا ہے جو پھر ہمیں نظر آنے لگتا ہے۔ اور وِٹریَس چونکہ جَیلی کی طرح کا ہوتا ہے یا پھر گاڑھے محلول کی شکل اِختیار کر لیتا ہے اِس لئے جو چیز اِس میں ہوتی ہے وہ حرکت کرتی رہتی ہے بلکہ صحیح الفاظ میں تیرتی رہتی ہے اِس لئے اِس کا نام فلوٹرز رکھا گیا ہے یعنی “تیرنے والے”۔ اور چونکہ یہ اَشیاء بہت چھوٹی یعنی خوردبینی سائز کی ہوتی ہیں اِس لئے اِن کی شکلیں بھی مشکل قسم کی ہوتی ہیں اور اکثر بدلتی بھی رہتی ہیں۔

پردہٴ بصارت کے آگے جو چھوٹے چھوٹے ذرات  نظر آ رہے ہیں اِن کا سایہ پردے پر بنتا ہے جو انسان کو نظر اتا ہے

اِس تصویر ایک بہت بڑا فلوٹر نظر آرہا ہے، اِس طرح کے فلوٹر نظر پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں

  • سب سے زیادہ عام وجہ تو یہ ہے کہ وٹریَس کی ساخت میں خرابی ہو جاتی ہے۔ سارا وٹریَس یا اُس کے کُچھ حصے خراب ہو کر جَیلی کی بجائے  گاڑھا محلول بن جاتے ہیں۔ اُس محلول میں جو ذرات یا  پروٹین کے دھاگے ہوتے  ہیں وہ مختلف شکلوں میں نظر آنے شروع ہو جاتے ہیں۔

دوسری بڑی اہم وجہ پی وی ڈی PVD ہے۔ یہ وہ کیفیّت ہے جس میں وٹریَس سکڑ  کر آگے کی طرف آجاتا ہے اور پردے سے اُکھڑ جاتا ہے۔ جیسا کہ نیچے کی تصاویر میں نظر آ رہا ہے۔

اِس تصویر میں وِٹریَس کے اُکھڑنے کا آغاز ہو گیا ہے.

اِس تصویر میں تقریباً سارا وِٹریَس سکڑ کر آگے آگیا ہے.

  • عموماً درجِ ذیل حالات میں PVDہو جاتی ہے:

o        سفید موتیا کے اپریشن کے بعد

o        لیزر لگنے کے بعد

o        شوگر ہو جانے کے بعد

o        جن لوگوں کی عینک کا منفی نمبر کافی زیادہ ہو

  • عمر کے بڑھنے سے جیسے جسم  کے سارے حصوں میں تبدیلیاں آتی ہیں اِسی طرح وِٹریَس بھی بزرگی اختیار کرنے لگتا ہے۔ یا یوں کہیے کہ جس طرح اللہ رب العزت باقی امانتیں واپس لینی شروع کر دیتا ہے اُسی طرح آنکھوں کی نعمتوں کی آہستہ آہستہ واپسی شروع ہو جاتی ہے۔
  • مختلف قسم کی چوٹیں  آنے کے بعد اکثر فلوٹرز بھی ظاہر ہو جاتے ہیں۔
  • آنکھ اندر خون کا رِس آنافلوٹرز کا ایک اہم سبب ہے۔ اِس کی وجہ چوٹ بھی ہو سکتی ہے، اور جسم کی مختلف بیماریاں بھی۔ اِن میں سے سب سے اہم بیماری شوگر کی بیماری ہے۔ اِ س بیماری میں پردہٴ بصارت کی خون کی نالیاں بیمار ہو جاتی ہیں جس سے اُن کے اندر سے خون لیک ہو کر وِٹریَس کے اندر آجاتا ہے جو کہ اصل میں شفاف ہوتا ہے۔ یہ خون مختلف شکلوں میں نظر اتا ہے۔ اگر انتہائی قلیل مقدار میں ہو تو صرف اُس کے سیل ذرات کی شکل میں نظر آتے ہیں، اِس سے زیادہ ہوتو بڑے دھبوں کی شکل میں ، اگر بہت زیادہ تو سُرخ دھند کی شکل میں ، اور اگر پورا وِٹریَس ہی بھر گیا ہو تو بالکل نظر ہی نہیں آتا۔

آنکھ کے اندرونی حصوں کی سوزش فلوٹرز کا اہم اور عام سبب ہے۔ خاص طور پر   Uveitis اِس کا اہم  سبب ہے۔  سوزش  کی  یہ قسم بڑی مدھم رفتار سے آگے بڑھتی ہے اور مختلف سائزوں کا سبب بنتی ہے۔