کمپیوٹر کے استعمال کے دوران آنکھوں کیلئے ضروری احتیاطیں

 

کمپیوٹر وژن سنڈروم Computer vision syndrome

کمپیوٹر وژن سنڈروم کیا ہوتا ہے؟

اس کیفیت میں مریض کو مختلف ایسی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے؛ جن کا واضح تعلق کمپیوٹر کے استعمال جڑا ہوا معلوم ہوتا ہے۔

کمپیوٹر کے اِستعمال کرنے میں بے احتیاطی سے بہت سارے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اُن میں سے بہت سارے تو آنکھوں سے متعلق ہوتے ہیں لیکن بہت سارے تکالیف کا تعلق جسم کے باقی حصوں سے ہوتا ہے۔ مثلاً گردن میں درد ہونا، بازوؤں میں درد ہونا، کمر میں تکلیف ہونا وغیرہ۔ آنکھوں میں مختلف الّنوع تکالیف ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ اِن تکالیف کو بحیثیّتِ مجموعی کمپیوٹر وژن سنڈروم Computer Vision Syndrome کا نام دیا گیا ہے۔

کمپیوٹر وژن سنڈروم کی کونسی علامت ہوتی ہیں؟

اِس کی علامات بیماری کے مختلف مراحل پر مختلف ہوتی ہیں۔ اِسی طرح علامت کا اِس بات پر بھی انحصار ہے کہ کونسے کونسے عوامل کس مریض میں کارفرما ہیں۔ اگر ایک شخص نظر کمزور ہونے کے باوجود عینک کے بغیر کمپیوٹر استعمال کرتا ہے تو اُس کی علامات اِسی سے متعلق ہونگی۔ دوسرا شخص صحیح فرنیچر بھی اِستعمال نہیں کرتا تو اُس کی علامات اِن دونوں عوامل کے مجموعے سے بنیں گی۔ اور تیسرا شخص اِستعمال بھی 16 گھنٹے کرتا ہے اب اِس کی علامات کا طومار اور بلند ہو جائے گا۔ عام طور پر درجِ ذیل علامات موجود ہوتی ہیں:

  • روشنی میری آنکھوں کو چبھنے لگتی ہے۔ تیز روشنی آنکھوں کو بُری لگنے لگتی ہے۔ اس سے تکلیف ہوتی ہے۔
  • ایسے لگتا ہے جیسے آنکھیں خشک خشک رہتی ہیں۔
  • بعض اوقات یوں لگتا ہے جیسے آنکھوں میں کوئی چیز ڈل گئی ہے۔
  • کئی مرتبہ یوں لگتا ہے جیسے سامنے موجود الفاظ ہلنے لگے ہیںاُن پر توجہ مرکوز رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ الفاظ خود بخود ہی بڑے لگنے لگتے ہیں یا بڑے بڑے لگنے لگتے ہیں۔
  • آنکھیں سرخ رہنے لگتی ہیںخصوصاً جب کچھ دیر کمپیوٹر پر کام کریں تو سرخ ہونے لگتی ہیں۔
  • اسی طرح کمر درد، بازووٴں میں درد، گردن میں تکلیف کی شکایتیں عام ہیں۔

کمپیوٹر پر کام کرنے والے بہت سے لوگ اس طرح کے سوال پوچھتے نظر آتے ہین:

  • کیا کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے کوئی قسم کی عینک استعمال کرنی چاہئے؟ اگر فائدہ مند ہے تو کونسی عینک مناسب ہے؟
  • کچھ عرصہ سے روشنی میری آنکھوں کو چبھنے لگی ہے۔ تیز روشنی میری آنکھوں کو بری لگنے لگی ہے۔ اس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔
  • ایسے لگتا ہے جیسے میری آنکھیں خشک خشک رہتی ہیں۔ بعض اوقات یوں لگتا ہے جیسے میری آنکھوں میں کوئی چیز ڈل گئی ہے۔
  • کئی مرتبہ یوں لگتا ہے جیسے میرے سامنے موجود الفاظ ہلنے لگے ہیں اُن پر توجہ مرکوز رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ الفاظ خود بخود ہی بڑے لگنے لگتے ہیں یا بڑے بڑے لگنے لگتے ہیں۔
  • میری آنکھیں سرخ رہنے لگی ہیں خصوصاً جب کچھ دیر کمپیوٹر پر کام کرتا ہوں تو سرخ ہونے لگتی ہیں۔
  • اسی طرح کمر درد، بازووٴں میں درد، گردن میں تکلیف کی شکایتیں عام ہیں۔

​یہ تکالیف دراصل کمپیوٹر وژن سنڈروم کی علامات ہیں۔

جب مریض کی ہسٹری لیں تو درجِ ذیل پہلو نمایاں طور پر موجود ہوتے ہیں:

  • کمپیوٹر کا روزانہ استعمال اوسطاً تین گھنٹے یا زیادہ کرنا۔
  • خاص طور پر کمپیوٹر کو مسلسل استعمال کرنا۔
  • کمپیوٹر وژن سنڈروم میں مریض کو مختلف ایسی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے؛ جن کا واضح تعلق کمپیوٹر کے استعمال جڑا ہوا معلوم ہوتا ہے۔

کیا ہر کمپیوٹر اِستعمال کرنے والا اِن مسائل کا شکار ہو جاتا ہے؟ اور کیا ہر ایک کو

اِن سب تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

بہت سارے سروے کئے گئے ہیں اور بہت سارے ہسپتالوں کے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اِسی طرح مختلف گھروں اور دفتروں میں کمپیوٹر استعمال کرنے والوں کے انٹرویو کئے گئے ہیں جن سے پتہ چلا کہ لمبے عرصہ سے کمپیوٹر استعمال کرنے والوں کی اکثریت ذیل کی تکالیف میں سے کسی نہ کسی میں مبتلا ہو جاتی ہے۔  تکالیف کا درجِ ذیل تناسب سامنے آیا ہے:

  • 46% مریضوں میں سردرد۔
  • 48% مریضوں میں آنکھوں کا کھچاوٴ اور تھکن۔
  • 44% مریضوں میں آنکھوں اور گردن سے متعلق مسائل۔
  • 28% مریضوں میں بازووٴں اور ٹانگوں میں تکالیف۔
  • 31% مریضوں میں نظر کا دھندلانا یا نظر مرکوز کرنے سے متعلق تکالیف۔
  • 38% مریضوں میں سرخی، خشکی محسوس ہونا۔

کیا کمپیوٹر کے تھوڑے بہت استعمال سے بھی یہ تکلیف ہو جاتی ہے؟

​اصل میں ایک بہت اہم غلطی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم  کمپیوٹر کے بڑے محدود تصور تک اس تکلیف کو جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ہماری زندگیوں میں کمپیوٹر کا استعمال بہت ہی زیادہ بڑھ چکا ہے۔ موبائل کا استعمال بھی تو دراصل کمپیوٹر کا استعمال ہے بالخصوص جدید موبائل، اسی طرح گیمیں، مختلف قسم کی پیشہ ورانہ مشینیں ، وغیرہ وغیرہ۔ اِن سب کے استعمال کے اثرات وہی ہیں جو عرفِ عام میں کمپیوٹر کے استعمال کے ہیں۔ ٹی وی کے استعمال کو تو ہم بالکل ہی بھول جاتے ہیں۔

اس کے متاثرین  میں طلبہ، دفتروں میں کام کرنے والے اور خواتین سب شامل ہیں۔ لیکن ایک خطرناک حقیقت یہ ہے کہ بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس سے متاثر ہو رہی ہے۔  جدید تحقیقات تو اس طرف بھی اشارہ کر رہی ہیں کہ بچوں کی نظر کی کمزوری میں اس بات سے بھی اثر پڑتا ہے کہ وہ کمپیوٹر پر کتنا وقت صرف کرتا ہے اور کیسے صرف کرتا ہے۔

آئی سپشلسٹوں کے پاس آنے والے مریضوں کی ایک بہت بڑی تعداد دراصل متاثرینِ کمپیوٹرز پر مشتمل ہوتی ہے اگرچہ اس حوالے سے تشخیص ہو یا نہ ہو۔

یہ تکالیف پیدا کیوں ہوتی ہیں؟ کیا کمپیوٹر سے کوئی مضر شعاعیں نکلتی ہیں یا کوئی اور چیز اس بیماری کا سبب بنتی ہے؟ 

شعاعوں وال فلسفہ تو دراصل ایک غلط العام تصور ہے۔ دراصل اس تکلیف کو پیدا کرنے میں متفرق محرکات حصہ لیتے ہیں۔ بالخصوص درجِ ذیل قابلِ ذکر ہیں:

  • کچھ ناگزیر احتیاطوں کو اختیار نہ کرنا مثلاً لمبے عرصے کے لئے آنکھوں کو نہ جھپکنا، پنکھے کی ہوا اس سمت میں ہونا کہ آنکھیں خشک ہو جاتی ہوں۔
  • نظر کی کمزوری کی بروقت اور موزوں طریقے سے تلافی نہ کرنا یعنی آنکھوں کو بلا وجہ مشقت میں مبتلا کرتے چلے جانا۔ آنکھیں عینک کی محتاج ہیں لیکن ہم پر بہادر بننے کا خبط سوار ہے۔
  • لمبے عرصے کے لئے مسلسل قریب دیکھتے چلے جانا۔
  • جسم کے اعضاء کا غیر متوازن استعمال اور اُن کو موزوں آرام فراہم نہ کرنا۔
  • یٹھنے کے غیر موزوں انداز، ناموزوں روشنی، چمکدار روشنیوں وال ماحول جو آنکھوں کو چندھیانے کا باعث بنتا ہو۔
  • اگر آنکھوں کو کوئی تکلیف ہو گئی ہیں تو اُن کا علاج نہ کرنا اور بیماری کو لٹکاتے چلے جانا۔
  • بعض ادویات اور بیماریاں بھی ایسی ہیں جو آنکھوں میں بہت زیادہ خشکی پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔
    • تھائیرائید کی بیماری
    • جوڑوں کی بیماری
    • مینوپاز یعنی بڑی عمر کے تحت ماہواری کا بند ہو جانا۔
    • Parkinson disease
    • مختلف ادویہ مثلاً anticholinergics, antihistamines, antidepressants, diuretics

اس بیماری سے بچاوٴ اور علاج کے لئے کیا کرنا چاہئے؟

ذیل میں مختلف وجوہات کو باری باری ڈسکس کیا گیا ہے اور ہر وجہ کے مختلف مراحل اور اُن مراحل کے متعلق علاج بتانے کی کوشش کی گئی ہے:

اپنی آنکھوں کو سمجھنے کی کوشش کریں

اپنی آنکھوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر ہو سکے تو آنکھوں کی ساخت، اُن کے کام کرنے کے طریقے اور آنکھوں کے مسائل سے متعلق عمومی مسائل کا مطلعہ کرکے اپنی آنکھوں کے ممکنہ مسائل کا تعین کرنے کی کوشش کریں۔

نظر کی کمزوری کا صحیح طرح اور اہتمام سے علاج کریں

عینک کی ضرورت ہو لیکن بغیر عینک کے کام چلانے کا رُجحان کمپیوٹر کے کام کے دوران مشکلات کا باعث بنتا ہے۔

  1. کئی عینک استعمال ہی نہیں کرتے، جس سے Accommodative spasm کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اِس کیفیت میں آنکھوں کے پٹھے تشنج کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس سے سردرد اور دیگر تکالیف ہوتی ہیں۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے اس دوران عینک کا صحیح نمبر معلوم کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ کمپیوٹر بھی غلط نمبر دیتا ہے اور مریض کو بھی جب شیشے لگا کر چیک کیا جاتا ہے تو وہ غلط نمبروں پر مطمئن ہو جاتا ہے لیکن جب عینک استعمال کرتا ہے تو وہ سیٹ نہیں آتی۔ اِس کا علاج یہ ہے کہ صحیح نمبر چیک کیا جائے اور صحیح طریقے سے عینک کو استعمال کیا جائے۔
  2. کُچھ لوگ عینک کا استعمال صحیح طرح نہیں کرتے۔ مثلاً جو عینک ہر وقت لگانی ضروری وہ صرف قریب کا کام کرتے ہوئے استعمال کرتے ہیں۔
  3. خصوصاً چالیس سال کی عمر کے بعد لوگوں کو کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اِس عمر میں قریب اور دور کی عینک علیحدہ علیحدہ ہو جاتی ہے لیکن کمپیوٹر کا فاصلہ عموماً نہ قریب والی عینک کے مطابق ہوتا ہے [جو عموماً 15 انچ ہوتا ہے] اور نہ ہی دور والی عینک کے مطابق [جو عموماً 20 فٹ ہوتا ہے]۔ چنانچہ کسی عینک سے بھی آنکھوں کو سکون نہیں ملتا۔اِس کا حل یہ ہوتا ہے کہ ایک تیسری عینک بنائی جائے جو کمپیوٹر کے فاصلے کے مطابق ہو یا پھر دوسرا حل یہ ہوتا ہے کہ Progressive شیشوں والی عینک استعمال کی جائے جس میں مختلف فاصلوں کے لئے مختلف فوکس موجود ہوتے ہیں۔

کام کے دوران آنکھوں کو جھپکنا نہ بھولیں۔

  1. آنکھیں مچھلی کی طرح ہوتی ہیں؛ جیسے مچھلی کو خشک ہوجانے سے تکلیف ہوتی ہے۔ اُس کا سکون اِسی میں ہے وہ گیلی رہے۔ آنکھوں کا بار بار جھپکنا اِن کو باربار گیلا کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔
  2. جب آپ مسلسل کام کر رہے ہوتے اور ذہنی طور پر بھی کہیں گہرائی میں اُترے ہوئے ہوتے ہیں تو نہ آپ کو یاد رہتا ہے اور نہ ہی آپ کے دماغ کو؛ چنانچہ پلکوں کو جھپکنے کے درمیان کا وقفہ لمبا ہو جاتا ہے۔ عموماً ایک منٹ میں ۸ا مرتبہ پلکوں کو جھپکا جاتا ہے لیکن اِس کیفیت میں بعض اوقات 4 مرتبہ سے بھی کم جھپکتے ہیں۔ اس سے قرنیہ نسبتاً خشک رہنا شروع کر دیتا ہے۔ جتنا عرصہ گزرتا جاتا ہے قرنیہ کی ساخت خراب ہوتی رہتی ہے اور علامات شدّت اختیار کرتی جاتی ہیں۔
  3. کام کے دوران اِس بات کا اہتمام کریں کہ آنکھیں مسلسل کھُلی نہ رہیں۔ اِس کے لئے بہتر ہو گا کہ شعوری طور پر آنکھوں کو جھپکنے کی کوشش کریں۔

تھوڑی تھوڑی دیر بعد آنکھوں کو دور کسی چیز پر مرکوز کریں۔

  1. کمپیوٹر کے کام کے دوران آنکھوں کو مسلسل قریب کے فاصلے پر مرکوز کرنا پڑتا ہے۔
  2. اس سے Convergence معمول سے بہت زیادہ کرنی پڑتی ہے۔ یعنی دونوں آنکھیں ناک کے قریب آجاتی ہیں اور پھر لمبے عرصے تک اسی طرح رہتی ہیں۔  آنکھوں کے وہ پٹھے جو اس عمل میں حصہ لیتے ہیں اُن پر کام کا بہت زیادہ دباو آجاتا ہے۔
  3. اسی طرح آنکھوں کے وہ چھوٹے چھوٹے عضلات جو قریب کی چیز کو واضح طور پر دیکھنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں اُن کو بھی معمول سے بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ اسے Accommodation کہا جاتا ہے۔
  4. اس سب غیر معمولی اور غیر فطری مصروفیت کے باعث آنکھیں سخت دباوٴ میں آجاتی ہیں۔

​20-20-20 کا سنہری اصول

یہ ایک آزمودہ اور ماہرین میں مقبول عام اصول بن چکا ہے کہ  ہر بیس منٹ کے بعد بیس سیکنڈ کے لئے بیس فٹ دور دیکھتے رہیں۔ اس سے قرنیہ اور کنجیکٹائیوا کے خشک ہو جانے کا احتمال بھی کم ہو جات ہے اور عضلات پر پڑنے والے بوجھ میں بھی کمی آ جاتی ہے۔

کمپیوٹر کی سیٹنگز کے ساتھ ضرور کشتی کریں

ہمارے اکثر دوست کمپیوٹر یا موبائل کی سیٹنگز کو مقدر سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔ حالانکہ بہت ساری ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن کو ہر کوئی اپنی ضرورت کے مطابق تبدیل کر سکتا ہے اور پھر وقتاً فوقتاً ایڈجسٹ کر سکتا ہے مثلاً الفاظ کا سائز، سکرین کا مدھم یا تیز ہونا، وغیرہ۔ اِن کو بدلنا سیکھیں اور حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرتے رہا کریں۔

درج ذیل مناظر اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں جو انسان کو بالآخر کمپیوٹر وژن سنڈروم کی طرف دھکیل دیتے ہیں:

متفرق اقدامات

  1. اس کی علامات قدم بہ قدم بڑھتی ہیں۔ آنکھوں میں جلن کا اِحساس رہنے لگتا ہے۔ اگرچہ قرنیہ خشکی کی طرف مائل ہوتا ہے لیکن آنکھوں سے پانی آتا ہے اور تھوڑی سرخ بھی ہونے لگتی ہیں۔ سردرد، نظر کے ارتکاز میں مشکل ہونے لگتی ہے، تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے، کبھی دو دو نظر آنے لگتے ہیں، دھندلا پن محسوس ہوتا ہے، بہت سے لوگوں میں تکلیف اتنی بڑھ جاتی ہے کہ روشنی برداشت نہیں ہوتی۔
  2. اگر CVS کی علامات شروع ہو جائیں تو پھر بہتر ہوگا کہ آپ مصنوعی آنسو اِستعمال کریں۔
  3. آنکھوں کے مسلز کے لئے ورزش کریں: آنکھیں بند کرکے گھمائیں دور دیکھیں۔ چند گھنٹوں کے کام کے بعد کچھ دیر کمرے سے باہر کھلی فضا میں چلے جا ئیں اور وہاں کچھ دیر گزاریں۔
  4. پنکھے اور اےسی کی ہوا کا رخ اس طرح رکھیں کہ ہوا آنکھوں میں کم سے کم جائے۔
  5. خارش سے یا خشکی سے قرنیہ پر موجود باریک اعصاب میں تکلیف ہونا شروع ہو جاتی ہے جس سے آنکھیں روشنی نہیں برداشت کر پاتیں۔  اِس صورت میں دوائی کے ساتھ ساتھ  رنگدار عینک بھی استعمال کریں۔
  6. رنگدار عینک جس پر Anti-reflecting coating ہو اُس کو استعمال کرنے سے تکلیف میں کمی ہو سکتی ہے۔

یہ سنڈروم اُن لوگوں میں زیادہ سامنے آتا ہے اُس کی شدت زیادہ ہوتی جن میں پہلے سے قرنیہ کی سطح کی نمی ناقص ہوتی ہے۔

آنکھوں کے بارے میں اپنے سوال کو لکھیں اور ہمیں بھیجھیں انشاء اللہ آپ کی رہنمائی کی جائے گی۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: