سفید موتیا کیا ہوتا ہے؟

سفید موتیا کیا ہوتا ہے؟

سفید مو تیا کیا ہوتا ہے ؟

ہر آنکھ میں ایک عدسہ ہوتا ہے جو بالکل شفاف ہوتا ہے اور نظر آنے والی چیزوں کی تصویر پردہ بصارت پر بناتا ہے مختلف وجوہات کے باعث یہ بے رنگ اور شفاف عدسہ گدلا ہو کر سفید موتی کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس سے بینائی متاثر ہو جاتی ہے بینائی اسی تناسب سے متاثر ہوتی رہتی ہے جس تناسب سے شفافیت کم ہوتی جاتی ہے۔اِسی بیما ری کا نام سفید مو تیا ہے۔ ذیل میں دئیے گئے آنکھ کے تراشے کو دیکھیں؛ دائیں طرف کا عدسہ شفاف ہے جبکہ بائیں طرف کا عدسہ گدلا ہو چکا ہے:

مریض کو کِن علا متوں سے پتہ چل سکتا ہے کہ اُسے سفید مو تیا ہے؟

  • بنیا دی اور سب سے نمایاں علا مت تو نظر کی کمز وری ہے۔ بہت سے لوگوں کی پہلے دُور کی نظر کمزور ہوتی جبکہ نزدیک کی نظر کافی زیادہ موتیا بن جانے کے باوجود بھی کافی بہتر ہوتی ہے۔
  • سفید موتیا کی وجہ سے سردرد نہیں ہو تا؛ نہ ہی آنکھ میں درد ہوتا ہے۔ البتہ کئی لوگوں کی نظر ابتداً اِس طرح کمزور ہوتی ہے کہ عینک لگانے سے اُن کو فائدہ ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اگر عینک استعمال نہ کریں تو اُنمیں سے بہت سوں کو سردرد ہونے لگتی ہے۔ یہ درد دراصل نظر کی کمزوری کے سبب ہوتی ہے نہ کہ سفید موتیا کے باعث۔
  • کئی مریضوں کی شکایت ہوتی ہے کہ چیزیں پھیلی پھیلی نظر آ تی ہیں اور بہت زیادہ چمک محسوس ہوتی ہے۔ خاص طور پر رات کو ڈرائیونگ کرتے ہوئے روشنیاں پھیلتی ہیں جس سے اُن کے لئے گاڑی چلانا مشکل ہو جاتا ہے حتی کہ بعض بےچارے حادثے کروا بیٹھتے ہیں۔ موٹرسائکل چلانا ایک عذاب بن جاتا ہے۔ بزرگوں کے لئے رات کو گھر سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔
  • بعض اوقات کسی چیز کو د یکھتے ہیں تو اُس کے سا تھ ایک یا زیا دہ سا ئے سے نظر آنے لگتے ہیں۔ چاند دو دو نظر آتے ہیں۔ چیزوں پر دھبے نظر آتے ہیں۔ نزدیک کی چیزوں پر نظر مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

مر یض کی آ نکھ کی شکل میں بھی ایک خا ص تبد یلی ظا ہر ہو تی ہے۔ جب آ نکھ کو غور سے دیکھیں تو آ نکھ کی پُتلی کا ر نگ سفید نظر آ نے لگتا ہے۔ درجِ تصاویر کو دیکھیں یہ نارمل آنکھیں اور اِن کا موازنہ بعد والی تصاویر سے کریں:

جس آنکھ میں سفید موتیا ہوتا ہے وہ اِس طرح نظر آتی ہے:

مریض کو کِن علا متوں سے پتہ چل سکتا ہے کہ سفید مو تیا بہت زیا دہ پک گیا ہے؟

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اِس طرح کے سوالات کہ کیا موتیا پک گیا ہے؟ اور کیا زیادہ پک گیا ہے؟ اب کوئی اتنے اہم نہیں رہے۔ کیونکہ پہلے لوگ اِس لئے اِن سوالوں کے پیچھے پڑے ہوتے تھے کہ جب موتیا پکے گا تو پھر اپریشن کرانا ہے اور اِس بات کا خیال رکھنا ہے کہ کہیں زیادہ نہ پک جائے۔ اب تو اصول یہ ہے جلد از اپریشن ہو جانا چاہئے۔ لیٹ کرنے کا نقصان ہی نقصان ہے۔ بہرھال ابھی بھی کئی ایسے “سیانے” موجود ہیں جو اپریشن کے معاملے کو لٹکاتے رہتے ہیں چنانچہ اُن لوگوں کے لئے عرض ہے کہ جب مو تیا بہت زیا دہ پک جائے تو درجِ ذیل علامت پیدا ہونے لگتی ہیں:

  • کئی لوگوں کی آ نکھ میں سوزش رہنے لگتی ہے جس سے آ نکھ سُرخ ہو جا تی ہے.
  • آ نکھ میں درد ہو نے لگتی ہے. یہ Uveitis کی ایک قسم ہے۔
  • پانی بہنے لگتا ہے۔

آنکھ کا دباؤ بڑھنے لگتا ہے، اِس صورت میں درد بہت شدید ہوتا ہے۔ یہ کالا موتیا کی ایک قسم ہے۔ جب یہ کیفیت پیدا ہو جائے تو آنکھ میں درج ذیل علامات نظر آنے لگتی ہیں:

آنکھوں کے بارے میں اپنے سوال کو لکھیں اور ہمیں بھیجھیں انشاء اللہ آپ کی رہنمائی کی جائے گی۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: