سفید موتیا کا اپریشن اور اس کے متعلق سوالات

سفید موتیا کے اپریشن کے متعلق سوالات

ا پر یشن کے لئے کونسا موسم زیادہ صحیح ہوتا ہے؟

دیکھیں جی موسم سے وابستہ حقیقیتیں اگرچہ تلخ ہیں تاہم ہیں یہ حقیقت۔ زیادہ تر لوگوں میں سفید موتیا کا اپریشن ایمرجینسی اپریشن نہیں ہوتا۔ ایسے مریضوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے جن میں ایمرجینسی طور پر یہ اپریشن کرنا ضروری ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے سفید موتیا کا معیاری علاج ایک مہنگا علاج ہے جس کے لئے خاصی معقول رقم کا انتظام کرنا پڑتا ہے اور ظاہر ہے ہمارے بہت سارے لوگوں کی آمدن براہِ راست یا بالواسطہ فصلوں سے وابستہ جن کا بہرحال موسم ہوتا ہے۔ اِسی طرح گرمی کا موسم اور اُس میں آنے والا پسینہ ہر ایک کے دل میں خوف پیدا کر دیاتا ہے کہ کہیں زخم خراب نہ ہو جائے۔ غرین آدمی تو ظاہر ہے ہمارے ہاں اےسی کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن اب تو لوڈشیڈنگ کی اذیت نے امیروں کے لئے بھی زندگی خاصی اجیرن ہو گئی ہے۔ اِس لئے گرمی اور حبس کے موسم میں لوگوں میں اپریشن نہ کروانے کا رُجحان ابھی بھی موجود ہے۔ پھر بچوں کی اور ملازمت پیشہ لوگوں کی اپنی چُھٹیاں بھی اِس فیصلے میں حصہ ڈالتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر لاکھ کہتے رہیں کہ مو سم کی باتیں اب پُرانی ہو چکی ہیں لیکن لوگ اپنے مخصوص موسموں میں ہی اپریشن کرواتے ہیں۔

لیکن بہرحال یہ بھی ایک حقیقت ہی ہے کہ دراصل چونکہ پہلے اپریشن کی ٹیکنالوجی اِ تنی اچھی نہیں تھی اِس لئے بہت سارا خطرہ ہوتا تھا کہ کہیں خرابی نہ پیدا ہو جائے پھِر بہترین اپریشن کے بھی نتا ئج بہت اچھے نہیں ہوتے تھے اور اچھی اینٹی بائیوٹِکس میسّر نہ ہو نے کی وجہ سے انفیکشن کی تلوار بھی سر پر لٹکتی رہتی تھی اِس لئے گرم اور مرطوب موسموں میں اپریشنوں کو ملتوی کرنے کی کو شش ہی کی جا تی تھی؛ اب ایسی کِسی اِ حتیاط کی ضرورت نہیں رہی۔ اب موسموں کا لحاظ کرنا طبی نکتہنظر سے اہم نہیں رہا۔

سفید موتیا کا کب اپریشن کروانا چاہئے؟ ابھی تو مجھے کافی نظر آتا ہے میں کیوں اپریشن کرواؤں؟

اپر یشن کروانے کے وقت کے حوا لے سے اب یہ عمومی اصول طے ہو چکا ہے کہ اپر یشن کا فیصلہ مریض کی معذوری کی بنیاد پر کِیا جا ئے گا۔ چنا نچہ ایک مریض جو کم عمر ہے ، اُسے گا ڑی چلا نی ہے، اور اُسے کمپیوُ ٹر پر کام بھی کر نا ہے اُسے بہت اچھی نظر کی موجودگی میں بھی یہی مشورہ دیا جائے گا کہ آپ فوراً اپر یشن کروا لیں ؛ اِس کے مقا بلے میں ایک امّاںجی جو بو ڑھے اور کمزور ہیں، پڑ ھے لکھے بھی نہیں اور سوائے چھو ٹی مو ٹی گھر یلو ضرو ریات کے کو ئی خاص مصروفیّت بھی نہیں اُن کی اچھی خاصی کمزور نظر کے با وجود بھی شاید ڈاکٹر اپریشن پر بہت زیادہ اصرار نہ کرے۔ اور اُن کو یہی مشورہ دے کہ آپ اگر ابھی گذارہ کرنا چاہتی ہیں تو بے شک کرلیں اور اگر اپریشن کروانا چاہتی ہیں تو بےشک آج ہی اپریشن کروا لیں۔ زیادہتر ایسے بزر گوں کی اپنی خوا ہش بھی یہی ہوتی ہے کہ ابھی مجھے نظر آتا ہے اِس لئے ا بھی میرا اپر یشن نہ کریں۔

لیکن آئیڈیل طریقہ یہی ہونا چاہئے کہ جتنی جلد ممکن ہو اپریشن کروا لینا چاہئے۔ اب اتنے اچھے طریقے سے اپریشن کیا جاتا ہے کہ صرف چند منٹ میں اپریشن مکمل ہو جاتا ہے۔ بعد میں بہت زیادہ احتیاطیوں کی بھی اب ضرورت نہیں ہوتی۔ اور اب اپریشن کے رزلٹ بھی مریضوں کی اکثریت میں بہت اچھے ملتے ہیں۔ پھر ایک انتہائی اہم بات یہ ہے کہ لیٹ کرنے سے اکثر اوقات مختلف پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں، ڈاکٹر کو اپریشن کرنے میں دقت ہوتی ہے اور بہت سارا خطرہ ہوتا ہے کہ رزلٹ بہت اچھے نہیں مل سکیں گے۔ ایمرجنسی میں اپریشن کروانے کی ضرورت نہیں لیکن بلاوجہ لمبے عرصے کے لئے ٹالتے رہنا اکثر اوقات نقصاندہ ثابت ہوتا ہے۔

کیا لینز ڈلوانا ضروری ہے؟ کیا لینز کے بغیر اپریشن نہیں کروایا جا سکتا؟

آج سے پچیس تیس سال پہلے تک تو اپریشن کا طریقہ یہ تھا کہ خراب عدسے کو نکال دیا جاتا تھا اور اُس کی جگہ خالی چھوڑ دی جاتی تھی لینز نہیں ڈاالا جاتا تھا چنانچہ اُس عدسے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے مو ٹے موٹے شیشوں والی عینکیں استعمال کی جاتی تھیں۔ اِن موٹے شیشوں والی عینکوں کے ذریعے نظر تو واپس آ جاتی تھی لیکن اُس کی کوالٹی اتنی اچھی نہیں ہوتی تھی۔ نابینا اور معذور شخص کو جتنی بھی نظر مل جاتی وہ خوش ہو جاتا تاہم یہ عینکیں بذاتِ خود معذوری کا با عث ہوتی تھیں.

لیکن اب مدت ہائے دراز سے یہ طریقہ متروک ہو گیا ہے۔ اب خراب قدرتی عدسے کو نکالنے کے بعد اُس کا ایک مصنوعی متبادل عدسہ ڈال بھی دیا جاتا ہے۔ یہ مصنوعی عدسہ اُسی جگہ پر فٹ کر دیا جاتا ہے جو قدرتی عدسہ کے نکلنے سے خالی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے اپریشن کے بعد نظر کی کوالٹی قدرتی نظر کے بہت قریب ہوتی ہے۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ بالکل قدرتی نظر واپس آ جاتی ہے لیکن پرانے طریقِ کار سے اگر موازنہ کیا جائے تو یقیناً زمین آسمان جیسا فرق واضح طور پر نظر آتا ہے۔ خاص طور پر ماضی قریب میں مارکیٹ میں آنے والے عدسات سے تو بہت ہی زیادہ بہتری آ گئی ہے۔ لینز کے بغیر اپریشن کروانا تو اب ایسے ہی ہے جیسے ایک آدمی کے پاس کار پر سوار ہو کر لاہور سے اسلام آباد جانے کی سہولت ہو لیکن وہ فیصلہ کرے کہ میں نے پیدل جانا ہے۔ حالانکہ اب تو ہوائی جہاز کی سہولت بھی موجود ہے۔

لینز کے بغیر اپریشن اور لینز کے ساتھ اپریشن میں اِتنا زیادہ فرق ہے کہ اب تقریبا ً اِس بات پر سب اتھارٹیز کا اِتفاقِ رائے ہو چکا ہے کہ اگر لینز کا نمبر زیرو بھی نکل رہا ہو تو پھِر بھی لینز کے بغیر اپر یشن نہیں ہونا چاہئے بلکہ زیرو نمبر کا لینز ڈالا جانا چاہئے۔

سُنا ہے کہ لینز کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں لینز ڈلوانے کے بعد بہت سے لوگ مصیبت میں پھنس جاتے ہیں۔ کیا یہ حقیقت ہے؟

اپر یشن کے بعد پیدا ہو جانے وا لے اکثر مسا ئل کو عمو ماً لینز کے ساتھ جو ڑ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ دراصل ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ ہزاروں میں سے شاید کوئی ایک ہی ایسا ہو گا جس کے مسائل کی وجہ لینز ہوتا ہے۔

اپریشن کے بعد عمومی طور پر مریضوں کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ یہ ہیں: اپر یشن کے بعد مسلسل درد کا رہنا، پانی کا بہتے رہنا، آ نکھ کے اندر سُرخی کا نہ ختم ہو نا ،نظر کا صحیح طرح بحا ل نہ ہو نا ۔

حقیقت میں شاید اِن میں سے کِسی ایک کا بھی حقیقی تعلق لینز کی موجودگی سے نہیں ہے بلکہ ان کا تعلق اپریشن کی کوالٹی سے ہے۔ اصل میں اپریشن اچھا نہیں ہوا ہوتا یا کوئی پیچیدگی ہو چکی ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ تکالیف ہو رہی ہوتی ہیں۔ لینز کی مختلف اقسام کا تعلُّق نظر کی کوالٹی سے تو یقیناً ہوتا ہے لیکن مذکورہ بالا مسائل سے نہیں۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ اپر یشن جہاں سے مرضی اور جِس سے مر ضی کر وا لو بس لینز اچھا ہو نا چا ہئے حا لا نکہ یہ با لکل غلط سوچ ہے۔ لینز کی کوالٹی پہ تھوڑا بہت کمپرومائز کر لیا جائے تو اتنا نقصان دہ نہیں ہوتا جتنا اپریشن کی کوالٹی پر کمپرومائز کرنے سے ہوتا ہے۔ اپریشن کروانے سے پہلے ضروری ہے کہ:

  • سب سے پہلے اپر یشن کر نے والےسرجن کے بارے میں غور ہو نا چا ہئے کہ اُس کی صلا حیّت کیسی ہے اور اُس کے اپر یشن کے دوران پیچید گی کے امکانات کِتنے ہو نگے؟
  • پھر اپر یشن تھیٹر کی کو الٹیپر غور کرنا چا ہئے۔ اِس اپریشن تھیٹر میںٹیکنالو جی کس لیول کی ہے کیو نکہ ایک اچھا سر جن بھی گھٹیا کوا لٹی کی مشینوں سے شا ید اچھا اپر یشن نہیں کر سکے گا اورایک درمیانی صلا حیّت کا سرجن بھی اچھی مشینوں پر زیادہ امکان ہے کہ بہتر اپر یشن کر لے گا۔ پھر اُس میں انفیکشن کنٹرول کا معیار کیسا ہے؟ بہترین مشینیں ہوں لیکن آنکھ میں انفیکشن ہو جائے تو اپریشن کے نتائج کبھی اچھے نہیں ملتے۔  اگر کوئی پیچیدگی ہو جائے تو کیا اُس کو ڈیل کرنے کا انتظام موجود ہے؟

کیا لینز ڈلوانے کے بعد بھی عینک اِستعمال کرنی پڑے گی؟ اگر لینز ڈلوانے کے بعد بھی عینک ہی لگانی ہے تو پھر لینز کا کیا فائدہ ہوا؟

بلاشبہ لینز کی وجہ سے موٹے موٹے شیشوں والی عینکوں سے نجات مل گئی ہے لیکن اکثر لوگوں کو کُچھ نہ کُچھ ہلکے سے نمبر والی عینک لگا نی ہی پڑتی ہے۔خاص طور پر قریب کا کام کر نے کے لئے تو تقر یباً سب کو ہی عینک کی ضرورت پڑ تی ہے۔ اپریشن کے بعد عینک لگنے کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں چند کا مختصراً تذکرہ ذیلی سطور میں کیا جاتا ہے:

  • اپریشن کرتے ہوئے سرجن کے لئے بہت اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ کتنے نمبر کا لینز ڈالنا ہےبالکل اُسی طرح جیسے عینک کے لئے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کتنے نمبر کی عینک لگے گی۔ لینز کا نمبر نکالنے کے مختلف مراحل ہوتے ہیں جن میں کئی مواقع پر غلطی کا امکان ہوتا ہے۔ یا تو مشین غلطی کر جاتی ہے یا پھر مشین کو استعمال کرنے والے سے غلطی ہو جاتی ہے۔ جتنی اچھی مشینیں استعمال کی جائیں گی اُتنا ہی غلطی کا امکان کم ہوتا جائے گا۔ اِس طرح جتنا سرجن کو زیادہ مہارت ہو گی اُتنا ہی غلطی کا امکان کم ہوتا جائے گا۔
  • اپریشن کے دوران پیچیدگی ہو جائے تو لینز کی فٹنگ میں کچھ فرق رہ جائے تو صحیح نمبر کا لینز بھی صحیح کام نہیں کرتا اور کچھ نہ کچھ عینک کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔
  • جب لینز کا نمبر نکالا جاتا ہے تو اُس نمبر کا فیصلہ کرنے میں یہ بات بہت اہم ہوتی ہے کہ مریض کی ضروریات کی نوعیت کا ہے؟ اُ سکے حساب سے سرجن فیصلہ کرتا ہے وہ لینز کا نمبر کیسے سیٹ کرے۔ مثلاً
  1. دور کی نظر کا استعمال اگر زیادہ ہے تو وہ دور کے لئے نظر کو 6/6  رکھنے کی کوشش کرے گا، اِس صورت میں نزدیک کی عینک لازمی ہو جائے گی۔
  2. جو لوگ نظر کی بہت زیادہ مصروفیات نہیں رکھتے مثلاً عمررسیدہ لوگ تو ایسے لوگوں کو عموماً ایسے نمبر کا لینز دیا جاتا ہے کہ جس سے اُن دور کا بھی سارا کام چلتا رہتا ہے اور قریب کا بھی حالانکہ اُن کو دور کی بھی ہلکی سی عینک لگتی ہے اور قریب کی بھی لیکن چونکہ وہ بہت باریکی کا کام نہ دور کا کرتے ہیں اور نہ ہی قریب کا اِس لئے اُن کو محسوس نہیں ہوتا۔
  3. بعض ڈاکٹر بھی اور بعض مریض بھی اِس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ایک آنکھ کی دور کی نظر مکمل طور پر صحیح کر دی جائے اور دوسری آنکھ کی قریب کی۔ اِس طرح عملاً سارا کام عینک کے بغیر ہوتا رہتا ہے اور عینک کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔
  4. ایک اہم مسئلہ جو ڈاکٹر کے لئے بڑی پریشانی کا باعث ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک آنکھ کا پہلے سے اپریشن ہو چکا ہے اور اُس میں نظر صحیح نہیں ہے اب اُسے نمبر کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ دوسروں آنکھوں کی نظر میں توازُن نہ خراب ہو جائے۔ مثلاً بعض اوقات اپریشن کے بعد دو دو نظر آنے لگ جاتے ہیں، یا ایک آنکھ سے چیزیں ذرا بڑی اور دوسری انکھ سے ذرا چھوٹی نطر انے لگتی ہیں۔
  5. ایک بڑا اہم مسئلہ اُس وقت سامنے اتا ہے کہ جب ایک آنکھ کا اپریشن ضروری ہو جائے لیکن دوسری آنکھ کی نظر ابھی بہت اچھی ہو اور مستقل قریب میں اُس کا اپریشن ہونے کی ضرورت نظر نہ ارہی ہو۔ اب اگر دوسری آنکھ میں بڑے نمبر کی منفی یا مثبت نمبر کی عینک لازمی ہو اور سرجن اپریشن کے زریعے اِس آنکھ کو نارمل کر دے جو کہ بغیر عینک کے دیکھ سکتی ہو تو دونوں آنکھوں کا توازن نہیں بن پائے گا۔ مریض اپریشن کے بعد بھی ایک آنکھ ہی استعمال کرنے پر مجبور رہے گا چنانچہ دوسری آنکھ کے حساب سے حقیقی نمبر سے کچھ زیادہ یا کم نمبر کا لینز ڈالنا پڑتا ہے۔
  • غیر معیاری کمپنوں کے بارے میں یہ رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ پیکنگ کے اوپر لینز کا جو نمبر لکھا ہوتا ہے اندر لینز اُس نمبر کا نہیں ہوتا سرجن تو کسی اور نمبر کا لینز ڈال رہا ہوتا ہے لیکن حقیقتاً کسی اور نمبر کا لینز ڈال دیا جاتا ہے۔ جس سے مریض کو پھر عینک استعمال کرنی پڑتی ہے۔
  • بعض اوقات اپریشن تھیٹر میں مختلف نمبروں کے لینز اکٹھے پڑے ہوتے ہیں جن میں سے غلطی سے غلط نمبر کا لینز ڈال دیا جاتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں عینک لگانا مجبوری بن جاتی ہے۔
  • اگر کسی کی آنکھ میں سلنڈر نمبر کی عینک لگتی ہے تو یہ کمی لینز کے ذریعے سے عام طور پر دور نہیں ہوتی۔ اب جدید لینز ایسے آ گئے ہیں جنیں ٹورک لینز کہتے ہیں اُن سے کافی حد تک یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے لیکن یہ بہت مہنگے لینز ہیں جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں چنانچہ زیادہ لوگوں میں اپریشن کے بعد بھی سلنڈر نمبر کی عینک لگانی ضروری ہوتی ہے۔
  • کئی لوگوں میں گلیئر کا مسئلہ ہوتا ہے جو کہ بہت سے لوگوں میں پردہ بصارت کی خرابی کے باعث ہوتا ہے تو اُن کو اِس مسئلے کے لئے عینک استعمال کرنا پڑتی ہے۔

لینز کی کو نسی اقسام ہیں اور کس قسم کا لینز زیا دہ بہتر ہو تا ہے؟

ساخت کے اعتبار سے پر دو قسمیں ہیں : Foldable IOL· اور Non-foldable IOL

NonFoldable لینز

یہ لینز سخت ساخت کے ہوتے جن کو ڈالنے کے لئے ایک بڑے سائز کا چیرا دیا جاتا ہے۔ اب زیادہ تر متروک ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے اس راستے کو بند کرنے کے لئے ٹانکے لگانے ضروری ہوتے ہیں۔

 Foldable IOLلینز

یہ وہ لینز ہیں جو نرم میٹریل کے بنے ہوتے ہیں۔ آنکھ میں چھوٹا سا چیرا دیا جاتا ہے۔ اِس لینز کو دُہرا کرکے  اِس چھوٹے سے راستے میں سے آنکھ کے اندر داخل کر دیا جاتا ہے۔ اندر جا کر یہ کھُل کر بڑے ہو جاتے ہیں چنانچہ اُن کو مطلوبہ جگہ پر فٹ کر دیا جاتا ہے۔ فولڈایبل لینزز کی چند اپم  اقسام کا تعارف ذیل میں درج ہے:

Aspheric IOL لینز

نرم عد سوں میں اب Aspheric آ گئے ہیں اِن سے نظر کی کوا لٹی بہت بہتر ہو جا تی ہے اور کئی قسم کی مشکلات جِن سے ذ ہین لوگوں کو سا منا کر نا پڑتا تھا اَب کم ہو گئی ہیں۔ اس سے نظر بہت حد تک قدرتی عدسہ جیسی حا صل ہو جا تی ہے۔ جدید جتنے بھی لینز آ رہے ہیں وہ سب Aspheric ہیں۔

Toric IOL لینز

سفید موتیا کو آنکھ سے نکالنے کے بعد جو پہلے جو لینز ڈالتے تھے وہ spheric ہوتے تھے چنانچہ اپریشن ہونے کے بعد مریض کو سلنڈر نمبر کی عینک لازما لگانی پڑتی تھی۔ اب ان لینزز کی وجہ سے یہ ممکن ہو گیا ہے اپریشن کے بعد مریض عینک سے مکمل نجات حاصل کر سکے۔

Multifocal IOL لینز

ملٹی فوکل Multifocal لینز انسانیت کے لئے وا قعتا ایک بڑی نعمت ہے ۔ اِس لینز کا مقصد ہے کہ اِس کے ذریعے دوُر اور نزدیک سب بغیر عینک کے دیکھا جا سکے۔ دوُسری ساری اقسام کے لینز لگنے کے بعد دوُر کی نظر کیلئے تو عموما عینک کی ضرورت ختم کی جا  سکتی ہے، لیکن قریب کی عینک استعمال کرنی ضروری ہوتی ہے۔  در میانے فا صلے کی نطر میں کُچھ نہ کُچھ مشکل بہرحال پیش آتی ہے،کیونکہ یہ لینز دراصل Bifocal ابھی تک صحیح معنوں میں ملٹی فوکل نہیں بن سکے۔ اِس لینز کی ایجاد سے یہ بات کا فی حد تک حا صل ہو گئی ہے کہ تمام فا صلوں پر عینک کے بغیر دیکھا جا سکتا ہے۔ اور صاف اور اعلی کوالٹی کی نظر حاصل کی جا سکتی ہے۔ اِس کی ایک بہت اہم بات یہ ہے کہ یہ دونوں آنکھوں میں ڈالنا ضروری ہوتا ہے اگر صرف ایک آنکھ  میں ڈالا جائے تو دیکھنے میں کافی مشکل پیش آتی ہے۔

نیچے کی تصاویر میں لینزز کی مختلف اقسام کو دکھایا گیا:

کیا سفید موتیا دوبارہ بھی بن جاتا ہے؟ کئی لوگوں کو بعد میں شعاعیں لگوانی پڑتی ہیں اِس کی کیوں ضرورت پیش آتی ہے؟

سفید مو تیا دوبارہ نہیں بنتا البتّہ بہت سے لوگوں کی آنکھ میں لینز کے پیچھے جھلّی بن جاتی ہے جس کی وجہ سے نظر دوبارہ کم ہو جاتی ہے۔ اِس جھلّی کے بننے کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں چند اہم مثالیں یہ ہیں:

  1. قدرتی عدسے کو جب نکالا جاتا ہے تو اُس کا غلاف نہیں نکالا جاتا بلکہ اُسے اندر ہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مصنوعی لینز کو اُسی غلاف کے اندر ڈالا جاتا ہے۔ یہ غلاف بہت سے لو گوں میں بعد میں مو ٹا ہو جاتا ہے جِس سے لینز کے پیچھے ایک جھِلّی بن جاتی ہے جو نظر کو کم کر دیتی ہے۔
  2. بعض مریضوں میں جب سفید موتیا کی صفائینامکمل کی جاتی ہے تو وہ سفید موتیا کے باقی رہ جانے والے ذرات اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ اُن کے خلاف جسم میں ردعمل ہوتا ہے۔ عموماً مسلسل سوزش کا ایک عمل شروع ہو جاتا ہے جس سے غلاف موٹا ہو جاتا ہے اور جھلّی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
  3. بعض لوگوں میں انفیکشن کی وجہ سے لمبے عرصہ تک ہلکی ہلکی سوزش رہنے کے باعث مواد بن جاتا ہے جو غلاف کے موٹا ہو جانے اور جھلّی بننے کا سبب بن جاتا ہے۔

اِس جھِلّی کا علاج لیزر شعاعیں لگا کر کیا جاتا ہے۔ شعاعوں سے جھِلّی میں دیکھنے کے لئے سوُراخ کر دیا جاتا جِس سے نظر دوبارہ بحال ہو جاتی ہے۔ درج ذیل تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ جھلی کس طرح نظر آتی ہے اور کس طرح لیزر کے ذریعے جھلی ختم کی جاتی ہے: