پریشانیوں کو حل کرنے کیلئے کیا اسلام میں بھی کوئی رہنمائی موجود ہے؟

پریشانیوں کو حل کرنے کیلئے کیا اسلام میں بھی کوئی رہنمائی موجود ہے؟

کسی بھی آدمی کی پریشانیوں کی اگر فہرست بنائی جائے اور اُس کا تجزیہ کیا جائے تو مندرجہ ذیل صورت حال سامنے آتی ہے:

  • 10 فیصد یا اس سے بھی کم کا تعلق موجودہ حالات سے ہوتا ہے۔ یعنی وہ مسائل جو فوری حل طلب ہوتے ہیں۔
  • 40 فیصد کا تعلق ماضی کے واقعات سے ہوتا ہے۔ ماضی کی یادیں، کسی سے شکوہ، کسی سے نفرت، کاش ایسے نہ ہوتا، کاش میرے ساتھ فلاں یوں نہ کرتا، وغیرہ۔ قرآن میں اس کے لئے حزن کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔
  • 50 فیصد یا اس سے بھی زیادہ کا تعلق مستقل کے خدشات سے ہوتا ہے۔ قرآن میں اس کے لئے خوف کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔

حل کرنے کے سنہری طریقے

ماضی سے متعلق پریشانیاں

جہاں تک ماضی کی پریشانیوں یعنی حزن کا تعلق ہے ان کو یاد کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

ان کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنا چاہئے اور واضح الفاظ میں لکھ لینا چاہئے کہ کس واقعے میں کیا غلطی ہوئی تھی۔ اس تجزئے پر محنت کرنی چاہئے۔

اور پھر تہیہ کرلینا چاہئے کہ اگر اسی طرح کے حالات دوبارہ پیش آئے تو یہی غلطی دوبارہ نہیں کروں گا۔

بار بار ماضی کے واقعات کو دہرانے سے صرف حسرت پیدا ہوتی ہے اور پھر حسرت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔

اس لئے ان پریشانیوں کو شعوری کوشش کرکے ذہن سے جھٹک دینا چاہئے یعنی بھلانے کی شعوری کوشش کرنی چاہئے۔ ماضی کو دفن کر دینا چاہئے۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جو میرے بس میں نہیں تھا وہ میرا نصیب تھا۔ اور نصیب اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اللہ کا ہر فیصلہ حکمت پر مبنی ہوتا ہے البتہ وہ حکمت بہت دفعہ کافی عرصہ بعد سمجھ میں آتی ہے۔ یہ اللہ کی رضا ہے اور اس پر راضی رہنے سے اللہ خوش ہوتا ہے اور مزید عطا کرتا ہے۔

مستقبل سے متعلق پریشانیاں

  • جہاں تک مستقبل کے خدشات یعنی خوف کا تعلق ہے ان میں سے بہت زیادہ خدشات کا تعلق حقیقت سے نہیں ہوتا۔
  • آپ آج اپنے خدشات کی فہرست بنا کر کہیں محفوظ کر لیں۔ چھ مہینے بعد اسے پڑھیں آپ حیران ہو جائیں گے کہ میں کتنے غیر حقیقی خدشات کی وجہ سے پریشان تھا۔ آپ جن حالات سے ڈر رہے تھے وہ حالات پیدا ہی نہیں ہوئے اور کئی ایسے اسباب مسب الاسباب نے پیدا کر دئے جو آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھے۔
  • ان خدشات کو ذہن پر سوار کرنے کی بجائے ممکنہ حالات کے لئے اپنا پورا زور لگا کر تیاری کرنی چاہئے پھر نتیجہ کے بارے میں اللہ پر بھروسہ کرنا چاہئے اور اس سے مدد کی دعا کرنی چاہئے۔
  • ہر کام خود کرنے کی بجائے بہت معاملات کو اللہ کے سپرد کر دینا چاہئے۔ وہ آپ سے زیادہ عقلمند ہے اور آپ کا آپ سے زیادہ خیر خواہ ہے۔

موجودہ حالات سے کیسے نبٹا جائے؟

اب اگر ماضی کو دفن کر دیا جائے اور مستقبل کی حسب استطاعت تیاری کرکے انجام اللہ پر چھوڑ دیا جائے تو پھر باقی صرف 10 فیصد پریشانیاں بچتی ہیں جن کا تعلق موجودہ حالات سے ہے جن کا فوری مقابلہ کرنا ہے۔ عام طور پر ان سے نپٹنے کی اہلیت ہر شخص میں ہوتی ہے۔ بشرطیکہ:

  • اپنی چادر دیکھ کر اپنے پاٶں پھیلائیں۔
  • دوسروں سے وہ توقعات وابستہ کریں جو حقیقی ہوں۔
  • اپنا جائزہ لے کر اپنی غلطیوں کو معلوم کرے اور ان کا کھلے دل دے اعتراف کرے۔
  • انسان یاد رکھے کہ وہ خدا نہیں ہے اور اس سے بر تر ایک ہستی اس کو کنٹرول کر رہی ہے۔ چنانچہ ناگزیر سے تعاون کریں اور حقائق کو قبول کریں۔
  • اپنے سے نیچے کی طرف دیکھیں کہ کتنے لوگ اسسے بھی بد تر حالات میں جی رہے ہیں۔ اگرچہ یہ نعمت آپ کو میسر نہیں ہو سکی لیکن کتنی ہی ایسی نعمتیں آپ کو میسر ہیں جو بے شمار لوگوں کو میسر نہیں۔
  • اگر آپ ناکام ہو گئے ہیں اور آپ کو بالفرض نکمی ترین چیز مثلاً ایک لیموں ہی ملا ہے تو اسے بھی ضائع کرنے کی بجائے اس کی شکنجبین بنائیں اور مزے لیکر پی جائیں۔
  • ماضی کو بھول کر اور مستقبل کے حوالے سے اللہ پر توکل کرکے آپ 90 فیصد پریشانیوں پر قابو پا سکتے ہیں اور تازہ دم ہو کر باقی دس فیصد سے احسن طریقے سے نبٹ سکتے ہیں۔
  • آج کو گزاریں کل اپنی فکر آپ کر لے گا۔
  • ہم زندہ رہنے کو ملتوی کرتے رہتے ہیں۔
  • جتنا اچھا آپ اپنے حال کو گزاریں گے ویسا ہی آپ کا مستقبل ہوگا کیونکہ جو آپ آج بوئیں گے وہی کل کاٹیں گے۔ اگر آپ اپنے حال کے مسائل کو اچھی طرح حل نہ کر سکے تو وہی آپ کا مستقبل بن جائیں گے۔