Some suggestions

کُچھ قیمتی تجاویز

آنکھیں اللہ کی بڑی نعمت ہیں، ان کی قدر کیجئے

  • Retinopathy of prematurity, Amblyopia, Juvenile Glaucoma اور بھینگا پن ایسی بیماریاں ہیں جو ابتدائی مراحل میں بڑی حد تک قابل علاج ہوتی ہیں لیکن جب آخری مراحل میں داخل ہو جاتی ہیں تو لا علاج ہو جاتی ہیں اور بچوں کو مستقل طور پر نابینا بنا دیتی ہیں۔ ان سے بچاؤ کے لئے ضروری ہے کہ کم از کم ایک دفعہ بچوں کا تفصیلی معائنہ کسی ماہرامرض چشم سے ضرور کروائیں۔
  • عمر کے ابتدائی سالوں میں سامنے آنے والی نظر کی کمزوری زیادہ تر آنکھوں کی غیرمعمولی بناوٹ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جس بچے کی آنکھ نارمل سے لمبی بن جاتی ہے اُسے منفی نمبر کی عینک اور جس بچے کی آنکھ نارمل سے چھوٹی بن جاتی ہے اُسے مثبت نمبر کی عینک لگانی ہوتی ہے۔ ساخت کے نقص کا علاج نہ دوائیوں سے ہو سکتا ہے اور نہ ہی عینک لگانے سے آنکھ کی ساخت تبدیل ہو سکتی ہے۔ عینک تو صرف بیماری کی علامتوں اور پیچیدگیوں کا علاج کرتی ہے۔ البتّہ لیزر کے ذریعے ساخت کا یہ نقص دور ہو سکتا ہے۔ عینک کو با قاعدگی سے استعمال نہ کرنے سے بہت سے مسائل سامنے آتے ہیں اس لئے اگر یہ فیصلہ ہو جائے کہ عینک کی ضرورت ہے تو پھر حقیقت کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہوئے عینک کو زندگی کا حصہ تصور کر لیں اور دی گئی ہدایات کے مطابق صحیح طریقے سے استعمال کریں۔
  • بہت سے لوگوں کے مستقل نابیناپن کا باعث شوگر اور کالاموتیا کی بیماریاں بنتی ہیں۔ ابتدائی مراحل میں یہ دونوں بیماریاں قابلِ علاج ہوتی ہیں لیکن بعد میں یہ ناقابلِ علاج ہو جاتی ہیں۔ ان کے نقصانات سے بچنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ شوگر کا با قاعدگی سے علاج کیا جائے، آنکھوں کا بروقت معائنہ کروایا جائے، اور اگر آنکھوں میں شوگر کے اثرات کی تشخیص ہو جائے تو پھر بلاوجہ علاج میں ٹال مٹول سے کام نہ لیا جائے۔
  • سفید موتیا کا مرض اگر لاحق ہو جائے تو اُس کے علاج میں بلاوجہ تاخیر نہ کرتے رہیں کیونکہ جتنی تاخیر سے علاج ہوتا ہے اُتنے ہی پیچیدگیوں کے امکانات بڑھتے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ بات یاد رکھیں کہ ہمارے ہاں اپریشن کے بعد سامنے آنے والی نوے فیصد خرابیوں کا تعلق اپریشن کوالٹی سے ہوتا ہے جبکہ سمجھا یہ جاتا ہے کہ اس کا تعلق لینز کی کوالٹی سے ہے۔ آپ اچھا لینز ڈلوانے پر ضرور غور کریں لیکن زیادہ زور اپریشن کی کوالٹی پر دیں جس کا تعلق سرجن کی صلاحیت، مشینوں کی کولٹی، اور اپریشن تھیٹر کے معیار پر ہوتا ہے۔

بچوں میں نابینا پن سے بچاؤ کیلئے عالمی ادارۂ صحت   (WHO) کے خصوصی پیغامات

  1. جب بچہ پیدا ہو تو اُس کی آنکھوں کی صفائی کرکے  Tetracyclin مرہم اُس کی آنکھوں میں ڈال دیں۔
  2. جب بچہ پیدا ہو تو اُسی وقت ماں کو وٹامن A کی ایک خوراک دے دیں ۔ یہ خوراک 2 لاکھ ینٹرنیشنل یونٹس ہو گی۔
  3. بچے کی ماں کو متوازن غذا کھانے اور اپنے بچے کو اپنا دودھ پلانے کی تلقین کی جائے۔
  4. بچے کو پولیو کی قومی مہم کے دوران سال میں دو دفعہ وٹامن A کے قطرے بھی پلائے جائیں۔
  5. بچے کا چہرہ اور ہاتھ باقاعدگی سے دھونے کی تلقین کی جائے۔
  6. جن بچوں کی نشوونما کمزور ہو یا جو بچے خسرہ کی بیماری میں مبتلا ہوں انھیں وٹامن A کے قطرے بلحاظ عمر بھی دیئے جائیں۔
  7. ایسا بچہ جو اچھی طرح دیکھ نہ سکتا ہو اُسے جلد از جلد قریبی آنکھوں کی نگہداشت کے مرکز میں معائنہ کیلئے بھیجا جائے۔
  8. جس بچے کی آنکھ کی پتلی میں سفیدی نظر آ رہی ہو یا اگر بچے کی آنکھ میں کوئی غیر معمولی چیز یا کوئی معذوری نظر آ رہی ہو تو اُسے فوری طور پر قریبی آنکھوں کی نگہداشت کے مرکز میں معائنہ کیلئے بھیجا جائے۔
  9. بچے کی آنکھ میں شدید چوٹ آ جائے یا آنکھ بہت زیادہ سرخ ہو جائے تو فوری طور پر قریبی آنکھوں کی نگہداشت کے مرکز میں معائنہ کیلئے بھیجا جائے۔
  10. بچے کی آنکھوں میں روایتی ادویات (شہد، عرق، سرمہ وغیرہ) ڈالنے سے پرہیز کیا جائے۔

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔