Retina پردۂ بصارت: خرابیاں، علاج

پردۂ بصارت: خرابیاں، علاج

آنکھ میں پردۂ بصارت کی وہی حیثیت ہے جو کیمرہ میں فلم اور کمپیوٹر میں ریم کارڈ RAM card کی ہوتی ہے؛ اس کے بغیر نظر آنا نا ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ کی انجیئرنگ کا ایک شاہکار ہے۔ یہ آنکھ کی اندرونی شطح پرایک لیمینیشن کی طرح جُڑا ہوتا ہے۔ لیمینیشن کی طرح کی اِس پتلی سی شفّاف جِھلّی کو پردۂ بصارت کہتے ہیں۔ 

آنکھ کا فوکسنگ سسٹم مختلف چیزوں سے آنے والے شعاعوں کو اِس پردے پر مرتکز کرتا ہے جس سے اُس چیز کی ایک شبیہ یعنی Image اِس پردے کے اوپر بنتی ہے۔ اِس شبیہ کا مختلف پہلوؤں سے اِس پردے میں تجزیہ کیا جاتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے کمپیوٹر کے رَیم کارڈ میں کیا جاتا ہے۔ تصویر کے سائز، اُس کی موٹائی، اُس کے رنگ، اُس کی چمک کی شدّت وغیرہ کا تجزیہ کرکے اُس کی تفصیلات کی کوڈنگ Coding کی جاتی ہے۔ اُن کوڈز کو برقی لہروں کی زبان میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اِن لہروں سے مخصوص سگنلز یعنی برقی اِشارات کی شکل میں آپٹک نرو Optic Nerve کے ذریعے دماغ کے مختلف حصوں کو بھیجا جاتا ہے۔ اِس پردے کو سمجھنے کیلئے ذیل کی تصویروں پر غور فرمائیں:

   

اِن تصاویر میں آنکھ کی ساخت دکھائی گئی ہے۔ جب مختلف آلات سے دیکھا جائے تو پردہ جیسا نظر آتا ہے وہ بائیں طرف والی تصویر میں نظر آ رہا ہے۔ 

اِن تصویروں کی مدد سے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ پردۂ بصارت کے مختلف حصوں کا آپس میں کیا تعلق ہوتا ہے۔ دائیں طرف کی تصویر میں آنکھ کے اندر کے مختلف حصوں کی پوزیشن نظر آ رہی ہے جبکہ بائیں طرف کی تصویر میں وہ پوزیشن ہے جو مشین سے دیکھنے سے نظر آتی ہے۔

اوپر کی تصویر میں جو پیلے رنگ کی تہہ نظر آ رہی ہے اُس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بالکل لیمینیشن کی طرح پوری اندرونی سطح پر پردۂ بصارت جُڑا ہوا ہوتا ہے۔ اندر شیشے کی طرح شفّاف ویٹریَس بھی نظر آ رہا ہے۔  نیچے کی تصاویر میں اِس پردے کی پیچیدہ ساخت کا آئیڈیا دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ 

ان تصاویر میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اتنے بڑے پردۂ بصارت کا چھوٹا سا حصہ نکال کر اگر اُس کا باریک بینی سے جدید خورد بینوں سے معائنہ کیا جائے تو وہ ایک انتہائی پیچیدہ مشینری کی شکل میں بنا ہوا نظر آتا ہے۔ اِس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کتنی تہہ در تہہ ساخت ہے اور قسما قسم کے سیل موجود ہوتے ہیں جو اپنی اپنی منفرد قسم کی ڈیوٹیاں ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ 

 اِس ساخت پر غور کرکے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اتنے پیچیدہ کام یہ پردہ کیسے کر لیتا ہے۔ 

پردہ ٔبصارت کی خرابی کی نوعیت کیا ہوتی ہے؟  

  • پردۂ بصارت کی دو پرتیں ہوتی ہیں جو ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جاتی ہیںاور اُن کے درمیان پانی بھر جاتا ہے، اِسے کہا جاتا ہے۔یہ ز یادہ تر پردۂ بصارت میں سوراخ ہو جانے یا پھٹ جا نے کے باعث ہو تا ہے۔ 
  • پردۂ بصارت میں موجود خون کی نالیاں خراب ہو جانے کے باعث پردے کے مختلف حصوں میں خون کے اجزاء رِس رِس کر پردے میں سوجن پیدا کر دیتے ہیں جس سے پردے کی حساسیت متاثر ہوتی ہے اور بینا ئی کم ہو جا تی ہے۔
  • پردے کا مرکزی حصہ یعنی میکولا Macula کے متاثر ہونے سے بالخصوص قریب کی نظر متاثر ہوتی ہے، چیزیں ٹیڑھی نظر آنے لگتی ہیں، علاوہ ازیں زیادہ خرابی کی صورت میں چیزوں کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے ۔
  • خون کی نالیوں کے خراب ہونے سے پردے کو خوراک نہیں ملتی خاص طور پر اس کی آکسیجن کی ضرورت پوری نہیں ہو پاتی جس سے پردے کے اوپر اور وٹیریس کے اندر جھلیاں بننی شروع ہو جاتی ہیں، جو نظر کو متا ثر کر تی ہیں۔
  • ان جھلیوں سے وقتاً فوقتاً خون کی کوئی نالی پھٹ جاتی ہے جس سے بعض اوقات پردے کے اوپر خون کی تہہ جم جاتی ہے اور بسا اوقات وٹیریس کا پورا خانہ خون سے بھر جاتا ہے اِس کیفیت کو کہا جاتا ہے۔
  • یہ جھلیاں آہستہ آہستہ پردے کے بعض حصوں کو اپنی جگہ سے اکھاڑ دیتی ہیں بعض اوقات پردے کا کوئی حصہ پھٹ بھی جاتا ہے جس سے پردہ اُکھڑ جاتا ہے۔  

ذیابیطس آنکھوں کو کیا نقصان پہنچاتی ہے؟  

میرے والد صاحب کو کافی عرصہ سے شوگر کی بیماری ہے۔ چند دن پہلے اچانک اُن کی نظر کم ہو گئی۔ ڈاکٹر صاحب کو دکھایا تو ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اُن کے پردے کی خون کی ایک نالی پھٹ گئی ہے۔ انھوں نے دوائیاں لکھ کر دی ہیں۔ نالی کیسے پھٹ جاتی ہے؟ کیا اِس مسئلے کا لیزر یا اپریشن سے علاج ہو سکتا ہے؟

ڈاکٹر کہتے ہیں شوگر کی وجہ سے پردہ خراب ہو گیا ہے۔ کیا میں اپریشن کرواؤں یا لیزر سے بھی علاج ہو سکتا ہے؟ جب شوگر سے آنکھیں خراب ہو جائیں تو کیا اُن کا علاج ہو سکتا ہے؟ ہم نے تو یہی سُنا ہے کہ جب ایک دفعہ شوگر سے آنکھیں خراب ہوجائیں تو پھر ٹھیک نہیں ہو سکتیں۔

  • ذیا بیطس ایک دیمک ہے، جوانسان کو آہستہ آہستہ اندر سے کھوکھلا کر کے رکھ دیتی ہے اس کا تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعے ہونے والے نقصان کا احساس بہت دیر بعد ہوتا ہے اور بالعموم جب احساس ہوتا ہے تو اس وقت بہترین علاج کر کے بھی بہت زیادہ فائدہ نہیں ہو پاتا۔
  • ذیابیطس آنکھ کے عدسہ کو نقصان پہنچاتی ہے جس سے عدسہ شفاف نہیں رہتا بلکہ گدلا ہو جاتا ہے اس خرابی کا عمومی نام سفید موتیا ہے۔
  • پردۂ بصارت میں موجود خون کی کئی نالیوں کی دیواریں ٹوٹ پھوٹ کر Leak ہونا شروع کر دیتی ہیں جس کے باعث پردے کے مختلف حصوں میں خون کے اجزا رِس رِس کر سُوجھن پیدا کر دیتے ہیں ۔جس سے پردے کی حساسیت متاثر ہوتی ہے اور نظر متاثر ہو جاتی ہے ۔ عینک سے بھی عموماً فائدہ نہیں ہو پاتا۔
  • خون کی کئِ نالیاں کے خراب ہونے سے باعث بند ہو جاتی ہیں جس سے پردے کے کئی حصّوں کو خوراک نہیں ملتی خاص طور پر اُن کی آکسیجن کی ضرورت پوری نہیں ہو پاتی جس سے پردے کے اوپر اور وٹیریس کے اندر جھلیاں بننی شروع ہو جاتی ہیں۔
  • ان جھلیوں سے وقتاً فوقتاً خون کی کوئی نالی پھٹ جاتی ہے جس سے بعض اوقات پردے کے اوپر خون کی تہہ جم جاتی ہے اور بسا اوقات وٹیریس کا پورا خانہ خون سے بھر جاتا ہے۔یہ جھلیاں آہستہ آہستہ پردے کے بعض حصوں کو اپنی جگہ سے اکھاڑ دیتی ہیں بعض اوقات پردے کا کوئی حصہ پھٹ بھی جاتا ہے جس سے پردے کے اندر پانی بھر جاتا ہے۔ 

ان تصاویرمیں پردہ بصارت کی خون کی نالیوں میں خرابی کے باعث ہونے والی Leakage اور سوجھن کی علامات نظر آرہی ہیں بالخصوص Macula بہت خراب ہو چکا ہے۔

ان تصاویرمیں پردہ بصارت کی خون کی نالیوں میں خرابی کے باعث ہونے والی Leakage اور سوجھن کی علامات ُس طرح نظر آرہی ہیں جس طرح FFA ٹسٹ میں نظر آتی ہیں۔ جو حصّے سیاہ ہیں ان کی خون کی نالیاں بند ہو چکی ہیں جس سے ان حصوں تک خون کی سپلائی ختم ہو گئی ہے اور جو حصّے بہت زیادہ سفید نظر آرہے ہیں ان میں موجود نالیاں لیک کر رہی ہیں چنانچہ یہ حصّے سوجھ چکے ہین اور ان کی روشنی کو محسوس کرنی کی صلاحیّت بہت متاثر ہو چکی ہے۔

ان تصاویرمیں پردہ بصارت کی خون کی نالیوں میں خرابی کے نتیجے میں بننے والی جھلّیوں کے ابتدائی مراحل نظر آرہے ہیں۔ ان جھلّیوں کی سب سے بُری خصوصیّت یہ ہے کہ ان کی کوئی نہ کوئی نالی پھٹ جاتی ہے اور آنکھ کے اندر خون اکٹھا ہو جاتا ہے۔ ان تصویروں میں پردہ کے سامنے خون کی تہہ جمع ہو گئی ہے۔ کئی دفعہ پوُری آنکھ خُون سے بھر جاتی ہے۔ اس سے پردے کی روشنی کو محسوس کرنے کی صلاحیّت بہت متاثر ہو جاتی ہے۔

اس تصویر میں جھلّیوں کی وہ قسم نظر آرہی ہے جو سب سے خطرناک ہوتی ہے اور جسے NVD کا نام دیا گیا ہے۔

ان تصاویرمیں پردہ بصارت کی خون کی نالیوں میں خرابی کے نتیجے میں بننے والی جھلّیوں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ ان جھلّیوں کی وجہ سے پردہ اپنی جگہ سے کھنچ کر آگے آگیا ہے۔ درمیانی تصویر جھلیوں کی ایک موٹی تہہ نظر آرہی ہے۔ بائیں تصویر میں سارا پعدہ متاثر ہو چکا ہے اور اُکھڑ کر آگے آچکا ہے۔ اس طرح پردے کی روشنی کو محسوس کرنے کی صلاحیّت بہت متاثر ہو جاتی ہے۔ اور پردہ مکمل طور پر ناکارہ بھی ہو جاتا ہے۔

مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ کی آنکھ کا Macula خراب ہو گیا ہے جس کا علاج ممکن نہیں ہے۔ یہ کیا بیماری ہے؟ کیا آپ مجھے سمجھا سکتے ہیں؟ کیا اِس بیماری کا کوئی علاج ممکن ہے؟

پردۂ بصارت کا مرکزی حصہ یعنی میکولا Macula کہلاتا ہے۔ اِس حصے میں مختلف وجوہات سے خرابی پیدا ہو جاتی ہے مثلاً

  • اِس حصے میں سوزش ہو جاتی ہے۔ 
  • اِس حصے میں سُوراخ ہو جاتا ہے۔ 
  • میکیولا کے اوپر خون جمع ہو جاتا ہے۔
  • اِس کے اوپر جِھلّیاں بن جاتی ہیں۔
  • کئی بچوں میں پیدائشی طور پر ہی خراب ہوتا ہے۔ اِس کی بناوٹ ہی نارمل نہیں ہوتی۔
  • کئی بچوں میں اِس کو کام کرنے کا موقع نہ ملنے کی وجہ سے دیکھنے کی صلاحیّت ہی نہیں پیدا ہو پاتی۔ اِس کیفیّت کو Amblyopi کہتے ہیں۔    

میکیولا جب صحیح طریقے سے کام نہیں کرتا تو اُس سے نظر کا بحران پیدا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ دیکھنے کے عمل میں میکیولا کا 70 فیصد سے بھی زیادہ حصہ ہوتا ہے۔ میکیولا کی خرابی کی اہم علامات سے درجِ ذیل ہوتی ہیں:

  • قریب کی نظر بہت زیادہ متاثر ہو جاتی ہے۔ باریک چیز کو پہچاننا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ 
  • مرکزی نظر خراب ہو جاتی ہے یعنی جب مریض سامنے دیکھتا ہے تو سامنے کی چیز کو نہیں دیکھ سکتا البتہ اوپر نیچے، دائیں بائیں سے نظر آتا ہے۔ مثلاً سامنے والے شخص کا چہرہ نظر نہیں آئے گا لیکن اُس کے پاؤں نظر آئیں گے۔ اِسی وجہ سے مریض عموماً چل سکتا ہے۔
  • چیزیں ٹیڑھی نظر آنے لگتی ہیں۔
  • یُوں محسُوس ہوتا کہ جیسے چیزیں چھوٹی نظر آرہی ہیں یا بڑی نظر آرہی ہیں۔
  • بعض دفعہ مریض بہت زیادہ ہی پریشان ہوجاتا ہے کیونکہ کسی چیز کا کُچھ حصّہ بڑا نظر آتا ہے اور کُچھ حصّہ چھوٹا۔

میکیولا کی خرابی کے صحیح ہونے کا انحصار اِس بات پر ہے کہ خراب ہونے کا سبب کیا ہے۔ بعض سبب قابلِ علاج ہوتے اور بعض ناقابلِ علاج۔ اِس کے علاوہ ایک اور اہم چیز یہ ہے کہ علاج کب کیا جاتا ہے۔ تاخیر سے علاج شروع ہو تو اکثر اوقات علاج مشکل ہو جاتا ہے۔

میرے والد صاحب کچھ عرصہ سے محسوس کررہے ہیں کہ اُن کی نظر بہت تیزی سے گر رہی ہے۔ ان کو شوگر بھی اور وہ سمجھتے ہیں کہ نظر اسی وجہ سے خراب ہو رہی ہے۔ کیا یہ صحیح ہے؟ کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ شوگر کی وجہ سے نظر کیوں کم ہو جاتی ہے؟

 شوگر کو اگر صحیح طرح کنٹرول کیا جائے اور مسلسل کنٹرول میں رکھا جائے تو نظر پر اُس کا اثر بہت ہی کم ہوتا ہے۔ اور وہ بھی بڑھاپے میں کیونکہ اِس عمر میں پردے اور خون کی سپلائی کا نظام ویسے بھی کمزور ہو جاتا ہے اور شوگر بھی چونکہ یہی کام کرتی ہے اِس لئے خرابی کی رفتار ذرا تیز ہو جاتی ہے۔ 

البتہ اگر شوگر کا صحیح طرح علاج نہ کیا جائے تو پھر آنکھ کئی طریقوں سے متأثر ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ آنکھ کا عدسہ اور پردۂ بصارت متأثر ہوتے ہیں جن سے نظر کم ہو جاتی ہے۔ آنکھ کا عدسہ خراب ہونے سے سفید موتیا بن جاتا ہے۔ اور پردۂ بصارت خراب ہونے سے نظر کا نظام صحیح طرح کام نہیں کر سکتا۔ پردے کے اوپر جھلیاں نظر کو کم کر دیتی ہیں۔ اسی طرح خون کی نالیاں پھٹنے سے نظر کم ہو جاتی ہے۔ اوپر کے ایک پیراگراف میں خراب ہونے کی کی مختلف سٹیجیں بتائی جا چکی ہیں۔   

ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ میری آنکھوں میں Retinitis Pigmentosa کی بیماری ہے۔ کیا آپ اِس بیماری کے بارے میں کُچھ بتا سکتے ہیں؟

اِس بیماری میں پردۂ بصارت کا زیادہ تر حصہ بتدریج خراب ہوتا جاتا ہے اور کام کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ یہ بیماری پردے کے مرکزی حصے کو عموماً متأثر نہیں کرتی۔ اگر کرے تو بیماری کی بہت آخری سٹیج پر جا کر کرتی ہے۔ پردے کے کناروں کی طرف سے خرابی شروع ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ مرکزی حصے کی آتی ہے۔ نیچے کی تصویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پردۂ بصارت خراب ہو رہا ہے:

 

نیچے کی تصاویر میں پردہ بہت ہی زیادہ خراب ہو چکا ہے:

اِس بیماری میں مریض کی نظر کا پھیلاؤ سُکڑتا جاتا ہے۔ یعنی آہستہ آہستہ نظر کا میدان سُکڑنے لگتا ہے۔ مریض جب سامنے دیکھ رہا ہوتو اُس کو دائیں یا بائیں سے گذرنے والے شخص یا گاڑی کا اندازہ نہیں ہو سکے گا۔ جب وہ چہرہ گھما کر ادھر دیکھے گا تو پھر ہی اُسے پتہ چلے گا کہ کوئی اُس کے دائیں طرف ہے یا بائیں طرف سے گذر رہا ہے۔ نیچے کی تصویر سے آپ سمجھ جائیں گے کہ مریض کو سامنے کا منظر کیسے نظر آئے گا:  

جب پردہ زیادہ خراب ہو جاتا ہے تو اُس وقت صرف وہ چیز نظر آتی ہے جو بالکل سامنے ہو۔ اِسے Tubular Vision کہتے ہیں۔ نیچے کی تصویر کو دیکھیں:

  

کیا Retinitis Pigmentosa کا علاج ہو سکتا ہے؟ میں نے سُنا ہے کہ اِس کا کوئی جدید علاج دریافت ہو گیا ہے؟ سُنا ہے کمپیوٹر چپ آنکھ میں نصب کر دیا جاتا ہے جس سے نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ بعض لوگوں نے مجھے یہ بھی بتایا ہے کہ امریکہ میں آنکھ کا پردہ تبدیل کر دیتے ہیں جس سے نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ کیا یہ صحیح ہے؟ اگر کسی کی ریٹینا خراب ہو جائے تو کیا ریٹینا تبدیل ہو سکتی ہے؟

یہ بیماری دراصل اِس لئے ہوتی ہے کہ مریض پردے کو کنٹرول کرنے والے بعض جینز خراب ہوتے ہیں۔ جینز تو وراثت میں انسان کو ملتے ہیں۔ چناچہ ابھی تک یہ ممکن نہیں ہو سکا کہ اِس بیماری کو ظاہر ہونے اور پردے کو خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ڈاکٹر اور مریض دونوں مجبور اور بے بس ہو کر نظر کو ڈوبتا ہوا دیکھتے رہتے ہیں لیکن ڈوبنے سے بچا نہیں سکتے!!

  • البتہ وٹامن A اور بعض دوائیاں ایسی ضرور ہیں جو پردے کے خراب ہونے کی رفتار کو کچھ نہ کچھ کم کر دیتے ہیں۔
  • اِسی طرح اگر شادی کیلئے رشتے جوڑتے وقت اِس بات کا اہتمام کیا جائے کہ جینز کی خرابی دونوں والدین میں نہ موجود ہو تو اِس سے بچوں میں اِس بیماری کے ظاہر ہونے کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں۔ 
  • ایک اور انتہائی اہم چیز یہ ہے کہ پیچیدگیوں کو پیدا نہ ہونے دیا جائے اور اگر کوئی پیچیدگی پیدا ہو جائے تو فی الفور اُس کا علاج کیا جائے۔ اِس سے مریض بالکل اندھے ہونے سے بچ سکتے ہیں۔ مثلاً
    • کئی مریضوں میں کالا موتیا کی بیماری بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ کالا موتیا کا صحیح طریقے سے اور مسلسل علاج کیا جائے۔ 
    • کئی مریضوں میں سفید موتیا بھی بن جاتا ہے۔ جب بنے تو اُس کا بروقت علاج کیا جائے۔
    • ایسے مریض کوئی ایسا پیشہ اختیار نہ کریں جس میں بہت زیادہ باریکی والا کام ہو ورنہ ایک بہت بڑا نقصان یہ ہو گا کہ اُنکو اپنی کم مائیگی اور محرومی کا مسلسل احساس ہوتا رہے گا جس سے وہ نفسیاتی مریض بن سکتے ہیں۔
    • اِس بیماری کے مریضوں کو ایسی جگہوں سے بچنا چاہئے جاں حادثے کا خطرہ ہوتا ہے کیونکہ اور نقصانات کے علاوہ ایک بڑا خطرہ یہ بھی ہے کہ اگر اِن کا پردۂ بصارت اُکھڑ گیا تو اُس کی بحالی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہو گا کیونکہ وہ پہلے ہی کمزور ہے۔    

جہاں تک پردے کی تبدیلی کی بات ہے یہ حقیقت نہیں ہے۔ ابھی تک ایسی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔ چپ لگانے کے تجربے کئے جا رہے ہیں لیکن ابھی تک ایسی کوئی کامیابی نہیں حاصل ہو سکی کہ اِسے بطور علاج اختیار کیا جا سکے۔ البتہ اِس کے حوالے سے بہت قوی توقعات ہیں۔

ایک انتہائی اہم علاج مستقبل قریب میں سامنے آنے کے قوی امکانات ہیں۔ وہ ہے Stem Cells کی مدد سے لیبارٹری میں پیدا کئے گئے Photoreceptors کی پیوند کاری کا طریقہ۔ یہ طریقہ بعض بیماریوں کے علاج میں بہت اچھے ناتئج دکھا چکا ہے۔ آنکھوں میں بھی قرنیہ کے علاج میں یہ طریقہ اِستعمال ہو رہا ہے۔  

CSR پردے کی کونسی بیماری ہے؟ کیا اِس کا علاج ہو جاتا ہے؟

اِس بیماری میں پردۂ بصارت کا مرکزی حصہ اچانک خراب ہو جاتا ہے۔ باقی پردہ مکمل طور پر صحیح ہوتا ہے۔ اِس سے مریض کی سامنے کی نظر اچانک کم ہوجاتی ہے۔ ایسے مریضوں کا پردہ نیچے کی تصویر میں دکھایا گیا ہے۔

اصل میں پردے کا درمیانی حصہ پانی جمع ہونے سے اُکھڑ جاتا ہے۔ جیاسا کہ نیچے کی تصویروں میں نظر آ رہا ہے:

 

دائیں جانب والی تصاویر میں OCT کے ذریعے واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ پردہ اُکھڑ کر آگے آ گیا ہے اور دونوں حصوں کے درمیان محلول جمع ہو گیا ہوا ہے۔ 

اِس آنکھ کو FFA کے ذریعے ٹیسٹ کیا جائے تو لیکیج نظر آتی ہے جیسے کہ نیچے کی تصویر میں نظر آ رہا ہے:

 

زیادہ تر مریضوں میں یہ محلول چند ہفتوں میں خود ہی واپس جذب ہو جاتا ہے اور پردہ دوبارہ جُڑ جاتا ہے۔ تاہم اِس کے علاج کے بارے میں مختلف تجربات کئے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے مختلف ڈاکٹروں آراء میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ مختلف دوائیاں بھی تجویز کی جاتی ہیں اور Anti-VEGF انجیکشن بھی لگائے جاتے ہیں۔ 

کئی لوگوں میں آپٹک ڈسک پر سوراخ مل جاتا ہے۔ اگر وہ ہو تو لیزر شعائیں لگانے سے بہت جلد پردہ ٹھیک ہو جات ہے۔ 

البتہ نظر کتنی بحال ہو گی اِس کے بارے میں یقین سے بتانا ممکن نہیں ہوتا تاہم زیادہ مریضوں میں تقریباً نارمل ہو جاتی ہے۔ 

AMD کونسی بیماری ہے؟

عمر بڑھنے کے جسم جو کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں یہ بیماری بھی انہی میں سے ہے۔ اِسی لئے یہ بیماری بڑی عمر کے لوگوں میں ہوتی ہے۔ اِس بیماری میں بھی پردۂ بصارت کا درمیانی حصہ خراب ہو جاتا ہے۔ شروع میں آنکھ کے پردے میں سفید دھبے بننا شروع ہوتے ہیں۔ دراصل کچھ کیمیاوی مادوے پردے کی تہوں میں جمع ہونے لگتے ہیں جو سفید یا ہلکے پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ اِن مادوں کے مجموعوں کو Drusen کہا جاتا ہے۔ نیچے کی تصویر میں بیماری کی ابتدائی سٹیج نظر آ رہی ہے:

   

نیچے کی تصویر میں وہ آنکھ دکھائی گئی ہے جس میں شروع سے ہی پردے کا درمیانی حصہ یعنی میکیولا خراب ہو رہا ہے: 

بہت سارے لوگوں میں آہستہ آہستہ پردے کا درمیانی حصہ سُوکھ جاتا ہے جسے انگریزی میں Atrophy ہو جانا کہتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے پتہ سُوکھ جاتا ہے۔ اِن کی بیماری کو Dry AMD کہا جاتا ہے۔ لیکن ایک بڑی ایسے لوگوں کی بھی ہوتی ہے جن میں پردہ کا درمیانی حصہ سُوجھ جاتا ہے۔ اور اُس میں ورم آ جاتا ہے۔ اِن لوگوں کی بیماری کو Wet AMD کہا جاتا ہے۔ اِن ورم والے پردوں میں پردۂ بصارت کے نیچے جِھلّیاں بننے لگتی ہیں جو نظر پر بہت زیادہ اثرانداز ہوتی ہیں۔ نیچے اِسی طرح کی آنکھوں کے پردے دکھائے گئے ہیں:

اِس پردے کا مرکزی حصہ نارمل نہیں رہا پیلاہٹ مائل سفید رنگ کی جھلیاں نظر آ رہی ہیں۔ اِن جِھلّیوں کے اندر خون کی ایسی نالیاں نظر آ رہی ہیں جو نارمل پردے میں نہیں ہوتیں۔ یہ نالیاں بڑی نازک سی ہوتی ہیں اور بعض اوقات اِن میں سے کوئی پھٹ بھی جاتی ہے جس سے پردۂ بصارت کے نیچے خون اکٹھا ہو جاتا ہے۔ نیچے تصاویرمیں جِھلّی کے ساتھ خون بھی نظر آ رہا ہے: 

   

AMD کا علاج

 اِس بیماری کے علاج کے سلسلے میں ایک بات تو یاد رکھنے کی یہ ہے کہ چونکہ اِس بیماری کا تعلق اُن تبدیلیوں سے ہے جو عمر زیادہ ہونے سے آتی ہیں اِس لئے اِس کا کوئی مستقل علاج شاید نہ ہی مل سکے۔ ابھی تک کوئی ایسا علاج نہیں ہے جو اِس بیماری کو مستقل اور مکمل طور پر صحیح کر دے۔ البتہ اِس بیماری کے اثراتِ بد کو کم کیا جا سکتا ہے اور اِس کی وجہ سے پیدا ہونے والی پریشانیوں میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ 

  • سب سے ضروری تو یہ ہے کہ عمومی صحت پر توجہ دی جائے۔ متوازن غذا لی جائے خاص طور پر وٹامنز کی کمی کو نہ پیدا ہونے دیا جائے۔ اور بالکل سُستی اور کاہلی والی زندگی نہ گذاری جائے۔ روزانہ معقول مقدار میں جسمانی سرگرمیوں میں وقت صرف کیا جائے مثلاً پیدل چلا جائے، وغیرہ۔ 
  • Antioxidents کا استعمال مناسب مقدار میں کیا جائے۔ اِس کیلئے آسان طریقہ یہ ہے کہ پھلوں کا استعمال کیا جائے۔ 
  • اگرنظر کی کمزوری کا نہ بھی شک ہو رہا ہو تو بھی آنکھوں کا معائنہ کرواتے رہنا چاہئے کیونکہ بڑی عمر کئی قسم کے مسائل ہوتے ہیں جن کو شروع میں پکڑ لیا جائے تو بڑی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ 
  • اگر نظر میں کمزوری محسوس ہونے لگے خصوصاً پڑھنے میں یا سامنے کی نظر میں تو چیک کروائیں۔ ہو سکتا ہے Wet AMD کا آغاز ہو رہا ہو۔
  • جب یہ بیماری شروع ہو جاتی ہے تو بعض مریضوں کو Anti-VEGF ٹیکوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ جو کئی مریضوں کو لمبی مدت تک لگوانے پڑتے ہیں۔
  • ایک طریقہ خاص قسم کی شعاعوں سے علاج کرنے کا بھی ہے جسے PTT کہتے ہیں۔ اِس میں خاص قسم کا انجیکشن لگا کر مخصوص شعاعیں لگائی جاتی ہیں۔ کئی مریضوں میں یہ مفید ہوتا ہے۔   
  • اگر اچانک نظر بہت زیادہ کم ہو جائے تو چیک کروائیں ہو سکتا ہے پردے کے نیچے خون آ گیا ہو۔ اِس صورت میں مختلف طریقوں سے علاج کیا جاتا ہے۔ اُن میں ایک طریقہ Retinopexy  یعنی گیس کا ٹیکہ آنکھ میں لگانے کا بھی ہے۔ اُس کے پریشر سے خون جلدی جذب ہو جات ہے۔
  • جن مریضوں جھلّیوں کا مسئلہ ہو جائے اُن کے لئے بعض اپریشن بھی مفید ہوتے ہیں۔ 

آپٹک نرو کہاں ہوتی ہے؟ آپٹک نرو اور پردۂ بصارت میں کیا تعلق ہے؟

پردۂ بصارت سے معلومات کو دماغ تک پہنچانے والے عصب کو آپٹک نرو Optic Nerve کہتے ہیں۔ یہ آنکھ کے پیچھے جُڑا ہوا ہوتا ہے اور جہاں سے یہ شروع ہوتا ہے وہ حصہ آنکھ کے اندر سے نظر آتا ہے کیونکہ وہ پردۂ بصارت کے مرکز کے بالکل ساتھ ہوتا ہے۔ اُسے Optic Disc کہتے ہیں۔ نیچے کی تصویر میں اِن دونوں کے آپس کے تعلق کو دکھایا گیا ہے: 

Optic Nerve

  آنکھ کے پیچھے پیلے رنگ کی موٹی سی تار Optic Nerve ہے۔ اِ سکا معائنہ جب کلینک میں آلات سے کیا جاتا ہے تو اُس کا تعلق حقیقی پوزیشن کیا ہوتا ہے نیچے کی تصویر میں دیکھیں:

دونوں آنکھوں سے آنے والی نروز آپس میں جڑ جاتی ہیں اور پھر ایک نیا نظام بنتا ہے جسے Optic Radiation کہتے ہیں۔ اِس پیچیدہ نظام کیا ایک جھلک نیچے کی تصویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں جب دماغ کو نیچے نیچے سے دیکھا جائے تو اِس طرح نظر آتا ہے:

  

چونکہ یہ بھی آنکھ کے پچھلے حصے میں ہوتی ہے اِس لئے آپٹک نرو کی تکلیف کو بھی لوگ پردے کی بیماری ہی سمجھتے ہیں۔ جب اِس میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو اُس سے بھی نظر کم ہو جاتی ہے۔ اکثر مریضوں میں ایک اہم علامت یہ ہوتی ہے کہ سامنے سے نظر نہیں آتا لیکن زیادہ تر نظر پر عمومی اثر پڑتا ہے۔ چونکہ اِس کے اسباب مختلف ہوتے ہیں اِس لئے اِس کا علاج بھی مختلف النوع ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ضروری ہوتا ہے کہ بیماری کے سبب کی تشخیص کی جائے۔ 

ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے کہ آپ کی آنکھ کے پردے میں سُوراخ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے پردہ اُکھڑ گیا ہے۔ پردہ اُکھڑ جانے کا کیا مطلب ہے؟ 

کئی لوگوں کا سوال یہ کہنا ہوتا ہے کہ آنکھ یا سر میں چوٹ آ گئی جس کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ آنکھ کا پردہ اُکھڑ گیا ہے۔

اور کئی لوگ بتاتے ہیں کہ نظر اچانک کم ہو گئی تھی ڈاکٹر کے پاس گئے تو اُس نے کہا ہے کہ پردہ اُکھڑ گیا ہے۔ 

پردۂ بصارت اصل میں دو پردوں کا مُرکَّب ہوتا ہے۔ پچھلے پردے کا نام RPE ہے۔ اِن دونوں کے درمیان خلا نہیں ہوتا لیکن یہ دونوں آپس میں اِس طریقے سے جُڑے ہوئے ہوتے ہیں کہ اِن کو علیحدہ علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔ اِسی جوڑ کا اُکھڑ جانے کو پردے کا اُکھڑ جانا کہتے ہیں۔ یا تو اِن دونوں کے درمیان محلول جمع ہوجاتا ہے یا اندر والے پردے پر بننے والی جھلیاں اُس کو اندر کھینچ لیتی ہیں۔ اِس بیماری کے پیدا ہونے کے طریقِ کار کو درجِ ذیل کی تصاویر کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کریں: 

 اِن دونوں تصاویر میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ اندر کی تہہ میں پھٹنے کی وجہ سے سوراخ ہو گیا ہے جہاں سے محلول اندر داخل ہو کر دونوں تہوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر رہا ہے۔ نیچے کی تصاویر میں پردہ اُکھڑ چکا ہے۔

  

نیچے کی تصویر میں سوراخ نہیں ہوا بلکہ اندرونی سطح پر جھلیاں بنی ہوئی ہیں جنھوں نے پردے کو کھینچ کر اکھیڑ دیا ہے۔ 

آنکھ کا پردہ کیوں خراب ہو جاتا ہے؟

مختلف مریضوں میں پردہ خراب ہونے کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں۔ پردۂ بصارت کے خراب ہو جانے کی مختلف النّوع قسم کی وجوہات نوٹ کی گئی ہیں۔ زیادہ مریضوں میں جو وجوہات دیکھنے میں آتی ہیں وہ ذیل میں درج کی جا رہی ہیں:

  •  بہت سارے مریضوں کی آنکھوں کے پردے مختلف وجوہات سے کمزور ہو جاتے ہیں۔ یہ پردے جو پہلے ہی کمزور ہوتے ہیں اُن میں یا تو پتلا ہوجانے کی وجہ سے سوراخ ہو جاتا ہے یا کسے جھٹکا وغیرہ لگنے سے سوراخ ہو جاتا ہے۔ اِسی سوراخ میں آہستہ آہستہ پانی کی طرح کا محلول رِس رِس کر پیچھے چلا جاتا ہے اور یوں دونوں پرتوں کو علیحدہ کر دیتا ہے۔ قریب نظری Myopia کے مریضوں کے پردے عموماً بہت ہی کمزور ہوتے ہیں۔ اور بہت ہی زیادہ پتلے اور بھربھرے ہو جاتے ہیں۔ جن مریضوں کے پردے اُکھڑتے ہیں اُن میں بہت زیادہ تعداد اِس بیماری کے مریضوں کی ہوتی ہے۔ 
  • جب کسے کی آنکھ یا سر میں چوٹ آتی ہے تو ایسے کمزور پردے یہ جھٹکا برداشت نہیں کر پاتے اور کہیں سے پھٹ جاتے ہیں۔ اور وہاں سے محلول داخل ہو کر پردے کو اکھیڑ دیتا ہے۔
  • مریضوں کی ایک بہت بڑی تعداد اُن مریضوں کی ہوتی ہے جن میں مختلف وجوہ سے پردے کی سطح پر جھِلّیاں بن جاتی ہیں۔ یہ جھِلّیاں آہستہ آہستہ سُکرتی ہیں تو پردے کو بھی کھینچتی ہیں۔ اٰس کھچاؤ کی وجہ سے پردہ اُکھڑ جاتا ہے۔ اور بعض مریضوں کا پردہ پھٹ بھی جاتا ہے۔ 
  • کئی لوگوں کو چاقو یا گولی وغیرہ سے چوٹ لگ جاتی ہے جس کی وجہ صحیح اور نارمل پردہ بھی پھٹ جاتا ہے۔  

پردہ اُکھڑنے کا زیادہ خطرہ کن کو ہوتا ہے؟ 

درجِ ذیل لوگوں کا پردہ اُکھڑنے خطرہ زیادہ ہوتا ہے:

  • بہت ہی بڑے منفی نمبر کی عینک جن کو لگتی ہے مثلاً 10.00- یا -18.00- کی عینک وغیرہ۔
  •  ایسے مریض جن کی ایک آنکھ کا پردہ اُکھڑ چکا ہو اُن دوسری آنکھ کے پردے کے اُکھڑنے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ 
  • ایسے مریض جن کے قریبی رشتےداروں میں پردہ اُکھڑنے کے واقعات ہو چکے ہوں۔ 
  • ایسے مریض جن کا سفید موتیا کا اپریشن ہو چکا ہو۔ 
  • ایسے مریض جن کی آنکھوں میں کوئی اور بیماری موجود ہو مثلاً Uveitis، پردے کی کوئی بیماری [lattice degeneration, retinoschisis]، وغیرہ۔ 
  • سر کو یا آنکھ کو چوٹ آ گئی ہو۔ 

کیا کوئی احتیاطی تدابیر ہوتی ہیں جن سے پردے کو خراب ہونے سے بچایا جا سکتا ہو؟

اِحتیاطی تدابیر دو قسم کی ہیں ایک تو یہ ایسے اسباب نہ پیدا ہونے دیا جائے جو پردے کے اکھڑنے کا باعث بنتے ہیں۔ مثلاً شوگر کی بیماری کو اتنا خراب نہ ہونے دیا جائے کہ وہ پردے کو خراب کرنے لگے۔ 

دوسرا یہ کہ اگر کسی وجہ سے یہ تکلیف ہو جائے تو جلد ازجلد اُس کا علاج کروایا جائے تاکہ پردہ مزید اُکھڑنے اور غیر مؤثر ہو جانے سے بچ جائے۔  

بیماری کی تشخیص اور امپروومنٹ کی پراگریس چیک کرنے کیلئے کونسے ٹیسٹ ہوتے ہیں؟

مختلف قسم کے ٹیسٹ پردے کی خرابی کی تشخیص کرنے اور پھر اُس علاج کی پروگریس دیکھنے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ لیکن ایک ٹیسٹ جو عموماً مریض کو خود ہی کرنے کیلئے کہا جاتا ہے وہ Amsler’s Grid کے ذریعے ٹیسٹ کرنے کا طریقہ ہے۔ اِس میں درجِ ذیل قسم کے کارڈ مریض دیئے جاتے ہیں اور وہ چیک کرتا ہے کہ کیا لائنیں اُس کو یہ جیسے ہیں ویسے ہی نظر آتی ہیں یا لائنوں کی بناوٹ بگڑی ہوئی نظر آتی ہے۔ ایک قسم  کے چارٹ ذیل میں دکھائے گئے ہیں: 

مریض اپنی نگاہ اِس چارٹ کے مرکزی نقطہ پر مرکوز رکھتا ہے اور اِس دوران یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ کیا لائنیں اُس سیدھی نظر آتی ہیں۔ اگر پردے کے مرکزی حصے میں خرابی ہو تو اُس کو لائنیں ٹیڑھی میڑھی نظر آتی ہیں جیسے کہ نیچے کے چارٹ میں نظر آ رہی ہیں۔ 

خرابی کی ایک نوعیّت نیچے کی تصویر میں موازنے کے ساتھ دکھائی گیہ ہے۔ 

 

  • پردے کا معائنہ کیسے کیا جاتا ہے؟

مختلف قسم کے ٹیسٹ پردے کی خرابی کی تشخیص کرنے اور پھر اُس علاج کی پروگریس دیکھنے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ مثلاً

  • نظر کا معائنہ 
  • Slit Lamp اور Direct Ophthalmoscope اور Indirect Ophthalmoscope اور مختلف عدسات کی مدد سے معائنہ
  • رنگ پہچاننے کی استطاعت ماپنے کے ٹیسٹ
  • Amsler’s Grid کی مختلف اقسام 
  • ٖFFA ٹیسٹ
  • OCT ٹیسٹ  

کیا آنکھ کے پردے کا آپریشن کامیاب ہو جاتا ہے؟ ہمیں تو لوگ ڈرا رہے ہیں کہ پردے کا اپریشن نہ کرواؤ جو نظر ہے وہ بھی ختم ہو جائے گی۔ یہی سُنا ہے کہ پردۂ بصارت کی خرابی لاعلاج ہوتی ہے؟

پاکستان میں پردۂ بصارت کی خرابیوں کا مسئلہ بہت اہم ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کے علاج کی سہولتیں بھی بہت کم جگہوں پر موجود ہیں اور اس کے علاج کے لئے تربیت یافتہ ڈاکٹرز بھی بہت کم تعداد میں موجود ہیں۔ اس کےنتیجے میں لوگوں میں علاج کے حوالے سے مایوسی اور لاپرواہی کا رویہ جنم لیتا ہے، چنانچہ علاج کے لئے جب رابطہ کرتے ہیں تب تک بیماری بہت آگے بڑھ چکی ہوتی ہے۔ اصل میں علاج شروع کرنے میں تاخیر اِسے لاعلاج بنا دیتی ہے۔ تاہم بعض خرابیاں ضرور ایسی ہیں جن کا کوئی بھی علاج ممکن نہیں لیکن اُن میں سے بھی بہت سی کیفیتوں میں کم ازکم معذوری کی مقدار میں کمی کرنا ممکن ہوتا ہے۔ 

علاج کے جدید طریقے آ جانے کے بعد اب پردہ اُکھڑنے کے 90 فیصد مریضوں کا کامیاب علاج کیا جا سکتا ہے جس سے پردہ اپنی جگہ پر جُڑ جاتا ہے تاہم اِن میں سے کئی کا اپریشن دوسری یا تیسری مرتبہ بھی کرنا پڑتا ہے۔ البتہ نظر کتنی بحال ہو گی اِس کے بارے میں پیشین گوئی بہت کرنا انتہائی محال ہے۔

پردۂ بصارت کی بیماری کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟ کیا آنکھ میں ٹیکے لگوانے سے پردہ ٹھیک ہو جائے گا؟ 

اصل میں علاج تو تب ہوسکتا ہے جب بیما ری کی وجہ دور ہو سکے۔ بہت سارے مریضوں میں بیماری کی وجہ کو دور کرنا اِس لئے ممکن نہیں ہوتا مریض بروقت علاج شروع نہیں کرتے بلکہ بہت تاخیر سے شروع کرتے ہیں۔ 

پردۂ بصارت کی خرابیوں کا علاج کرنے کیلئے بہت سے مختلف طریقے اختیار کئے جاتے ہیں۔ اہم کا ذکر ذیل میں کیا گیا ہے:

  • مختلف قسم کی دوائیں جو قطروں کی شکل میں بھی استعمال کی جاتی ہیں اور کھلائی بھی جاتی ہیں۔ 
  • بعض ادویہ انجیکشز کی شکل میں دی جاتی ہیں۔ یہ ٹیکے آنکھ کے سطحی پردوں کے نیچے بھی لگائے جاتے ہیں اور بعض ٹیکے آنکھ کے اندر آنکھ کے اندر تک بھی دوائی پہچاتے ہیں۔ 
  • لیزر شعائیں بھی پردے کے علاج کا ایک اہم اور مفید ذریعہ ہیں۔
  • بعض ایسے اپریشن بھی کئے جاتے ہیں جن کی مدد سے پردہ کو ویلڈ کر دیا جاتا ہے اور پھر باہر سے ایک پٹہ نما چیز Silicon band آنکھ کے گرد لپیٹ دی جاتی ہی جس سے پردہ دوبارہ نہیں اآکھڑتا۔  
  • ایک اور بہت ہی اہم طریقۂ علاج ویٹریکٹومی اپریشن Vitrectomy Operation ہے جس میں آنکھ کے اندر سے صفائی کرکے مختلف جھِلّیاں اور خون وغیرہ نکال دیا جاتا ہے اور جہاں ضروری ہو وہاں سے لیزر لگا دی جاتی ہے۔ 

کیا لیزر شعاعوں سے پردہ جُڑ جاتا ہے؟ 

لیزر شعاعوں کی مدد سے سوراخ کو بند کیا جا سکتا ہے جس سے لیکیج بند ہو جاتی ہے جس سے سوجھن ٹھیک ہو جاتی ہے۔ لیزر اس لئے بھی لگائی جاتی ہے کہ پردہ اُکھڑنے سے بچ جائے۔ 

پردے میں ہونے والی لیکیج کے علاج کے لئے لیزر شعاعیں لگائی جا رہی ہیں

شعاٰیں لگنے کے بعد پردہ اس طرح نظر آتا ہے

  • لیزر کے ساتھ بعض ادویہ کے آنکھ کے اندر ٹیکے لگانے سے جھلیاں بننے کے عمل کو روکا جا سکتا ہے۔ اور اِس طرح لیزر کی افادیّت بڑھائی جا سکتی ہے۔  

ویٹریکٹومی اپریشن کیسے کیا جاتا ہے؟ اِس اپریشن پر اتنے زیادہ اخراجات کیوں آتے ہیں؟

پردۂ بصارت جب اپنی جگہ سے اُکھڑ جاتا ہے تو اپریشن کر کے اُسے دوبارہ جوڑا جا سکتا ہے۔ اِس کیلئے مختلف طریقے اِستعمال کئے جاتے ہیں۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آنکھ کے گرد ایک سیلیکون کی پٹی مستقل طور پر باندھ دی جائے جو آنکھ کو باہر سے دبا کر رکھتی ہے جس سے دونوں پرتیں آپس میں جُڑ جاتی ہیں اور پھر مسلسل پریشر سے مسلسل جُڑی رہتی ہیں دوبارہ نہیں اُکھڑتیں۔ جیسا کہ ذیل کی تصویر میں نظر آ رہا ہے: 

  

دوسرا انتہائی جدید اوزارا اور مشینیں استعمال کرکے خرابی کے سبب کو دار کرنے کے بعد محلول کو نکال کر سوراخ یا پھٹنے کی جگہ کو لیزر کے زریعے ویلڈ کردینے کا طریقہ ہے۔ اِس طریقے کا نام ویٹریکٹومی Vitrectomy اپریشن ہے۔ 

اپریشن کا یہ طریقہ آج کے دور کی دریافتوں میں سے ایک ایسی دریافت ہے جس پر ا للہ تعالی کا بھی شکرگذار ہونا چاہئے اور اُن محقیقن کا بھی جن کی محنتوں کے نتیجے میں یہ نعمت انسان کے علم میں آئی اور مسلسل ترقی کر رہی ہے۔ یہ طریقۂ علاج ایک عظیم نعمت ہے ۔ کسی زمانے میں اِس اپریشن پر دس دس گھنٹے صرف ہو جایا کرتے تھے لیکن اب وہی کام بعض اوقات صرف ایک گھنٹے میں اُس سے بہتر معیار کے ساتھ ہو جاتا ہے۔ پھر کسی قسم کے ٹانکے بھی نہیں لگانے پڑتے اور نہ ہی مریض کو بیہوش کرنا پڑتا علاوہ ازیں بینا ئی بھی صرف چند دنوں میں بحال ہو جاتی ہے۔

اِس اپریشن میں کیا طریقۂ کار اختیار کیا جاتا ہے اِس کو سمجھنے کیلئے ذیل کی تصویر کو دیکھیں: 

اِس میں دکھایا گیا ہے کہ آنکھ کے اندر مختلف اوزار داخل کرکے جما ہوا خون نکالا جا رہا ہے۔ اُسی منظر کو اگر اوپر سے دیکھیں تو ایسے نظر آتا ہے: 

حقیقی اپریشن میں اوزار کیسے موجود ہوتے ہیں ذرا قریب سے دیکھیں: 

اپریشن کے پہلے مرحلے میں آنکھ کے اندر کی صفائی کرکے اب جہاں سے پردہ پھٹا ہوا تھا اُس کے کناروں پر لیزر لگائی جا رہی ہے تاکہ وہاں پر ایک طرح سے ویلڈنگ ہو جائے: 

نیچے کی تصاویر میں اپریشن کرنے کے مناظر ملاحظہ فرما سکتے ہیں: 

 

Storz کمپنی کی  Millinuimوٹریکٹومی مشین، Zeiss کمپنی کی Lumera ماڈل اپریشن مائیکروسکوپ اور BIOM استعمال کرکے 23-G وٹریکٹومی اپریشن کیا جا رہا ہے۔ اس جدید طریقے میں نہ ٹیکا لگانے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ٹانکے لگانے کی۔ 

اگرآپ پردہ بصارت کی تکالیف سے متعلق مزید کوئی سوال پوچھنا چاہتے ہوں تو اُس کو نیچے کمنٹ کے خانے میں لکھ کر پوسٹ کر دیں

انشاءاللہ انہی صفحات میں جواب دینے کی کوشش کی جائے گی۔

اسی طرح اپنی رائے، تبصرہ یا تجویز کو بھی کمنٹ میں لکھ کر پوسٹ کردیں میں بہت ممنون اور مشکور ہوں گا۔

67 Replies to “Retina پردۂ بصارت: خرابیاں، علاج”

  1. اگر بچوں میں آنکھ کا پردہ ابھی ُُُُُُُُاکھڑنا شروع ہی ہوا ہو تو کیا پھر بھی وہی علاج ہے جو آپ نے اوپر بیان کیا ہے؟ کیا بچوں میں کم عمری کی وجہ سے پردے کےجڑنےکے امکان زیادہ نہیں ہوتے؟

    1. وعلیکم السلام علاج تو بچوں بڑوں سب کا ایک ہی ہوتا ہے، البتہ بچوں میں واقعی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے تاہم زیادہ اہم بات یہ ہے جتنی جلدی علاج شروع ہو جائے اتنا ہی فائدہ ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

  2. سر میری آنکھ کے پردے میں سوراخ ہے
    اس کا علاج اب صرف آپریشن ہے OCT کروایا تھا میری عمر 26سال ہے
    مجھے اس آنکھ سے بہت کم نظر آتا ہے

  3. میری عمر 64 سال پے. آنکھوں میں موتیا آنے پر ڈاکٹر نے دونوں آنکھوں میں لینز ڈالے. کچھ عرصہ بعد نظر میں کمزوری آ جانے کی وجہ سے ڈاکٹرنے لیزرسے صفائی کی، لیکن فائدہ نہیں ہؤآ. بلکہ بائیں آنکھ کی نظر تو بالکل ختم ہو گئی. دوسرے ڈاکٹر نے چیک اور ٹیسٹ کے بعد بتایا کہ جس ڈاکٹر نے لیزر سے صفائی کی انہوں نے لیزر کے شاٹ زیادہ مارے جسکی وجہ سے آنکھ کا پردہ پھٹ گیا ہے اب اسکا علاج نا ممکن ہے. ٹیکسلا کرسچین ہاسپٹل کے ڈاکٹر نے بھی یہی کہا. اس بارہ میں آپ کیا کہتے ہیں کہ کیا اس کا علاج ممکن ہے.

    1. وعلیکم السلام اکثر اوقات ڈاکٹر کچھ اور بتا رہے ہوتے ہیں آپ کچھ اور سمجھ رہے ہوتے ہیں ۔اگر شاٹ زیادہ لگنے سے لینز خراب ہو جائے تو لینز تبدیل ہو جاتا ہے مگر اکثر تو آنکھ کا پردہ خراب ہوتا ہے اس کو بھی اکثر اوقات صحیح کرنا ممکن ہوتا ہے ۔آپ کسی اور سینئر ڈاکٹر کو پرائیویٹ چیک کروا لیں مجھے تو ایسی کوئی بہت زیادہ مایوسی والی بات نہیں لگ رہی۔

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.