Refractive errors نظر کی کمزوری: وجوہات، علاج

نظر کیوں کمزور ہوتی ہے؟

نظر کی کمزوری کی مختلف وجو ہات ہوتی ہیں مثلاً بڑ ھاپا، چوٹ آ جانا، شو گر کی بیماری، وغیرہ لیکن چالیس سال کی عمر سے پہلے سب سے زیادہ لوگوں کی کمزوری کی بنیادی وجہ آنکھ کی ساخت میں تنوّع کا پایا جانا ہے۔

آپ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے اِس کائنات میں ہر لحاظ سے بہت زیادہ ورائیٹی پیدا کی ہے؛ اگر پھول ہیں تو رنگ برنگے، اگر پرندے ہیں تو طرح طرح کے۔ اِسی طرح آنکھوں کی ساخت بھی وہ سب کی ایک جیسی نہیں بناتا اس میں بھی تنوع پایا جاتا ہے۔

جب کوئی بچہ عمر کے ساتھ بڑا ہوتا ہے تو اُس کے جسم کے سارے اعضاء میں نمو کے باعث تبدیلیاں آتی ہیں؛ ہاتھ بڑے ہو جاتے ہیں پیر بڑے ہو جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اِسی نمو کے نظام کے زیرِ اثر آنکھیں بھی نشوونما کے عمل سے گزرتی ہیں۔

  • اس نشوونما کے دوران بعض بچوں کی آنکھ کے کرے کی لمبائی نارمل سائز سے زیادہ بڑی ہو جاتی ہے، جبکہ بعض بچوں کی آنکھوں کی لمبائی مطلوبہ سائز سے چھوٹی رہ جاتی ہے۔
  • اِسی طرح کئی بچوں کے قرنیہ کی اُفقی اور عمو دی گو لا ئی میں فرق ہو تا ہے۔
  • بعض بچوں کی آنکھ کا عدسہ نارمل سائز یا شکل کا نہیں ہوتا۔

اِن سب صورتوں میں آنکھ کا شعاعوں کو فوکس کرنے کا اندرونی نظام صحیح کام نہیں کر پاتا۔ اِن نقائص والی آنکھوں جو تصویر آنکھ کے پردے کے اوپر بنتی ہے وہ دُھندلی سی [آﺆ ٹ آف فوکس] ھوتی ہے۔ چنانچہ دماغ کو یہ فیصلہ کرنے میں مشکل ہوتی ہے کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے۔

  • اگر فوکس تھوڑا خراب ہو تو دماغ آنکھ کے فوکس کرنے کے نظام میں تبدیلیاں لا کر کافی حد تک فوکس کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ لیکن اِس صورتِ حال میں چونکہ لاشعوری سطح پر پٹھوں اور اعصاب کا زور لگ رہا ہوتا ہے اِس لئے آنکھوں پر دباوٴ محسوس ہوتا ہے، سر بھاری ہونے لگتا ہے، آدمی جلدی تھک جاتا ہے۔ 
  • اگر دھندلاپن بہت زیادہ ہو یا ایک آنکھ میں بہت زیادہ ہو تو پھر ایسے بچوں کی ایک آنکھ کام کرنا سیکھ ہی نہیں پاتی جس سے وہ پوری زندگی کے لئے عملاً ناکارہ ہو جاتی ہے۔ اِس کیفیت کو Amblyopia کہتے ہیں۔    
  • اس کے علاوہ اعصاب اور عضلات کے غیر متوازن استعمال سے بہت سے بچوں میں بھیگاپن پیدا ہو جاتا ہے۔

چونکہ فوکس کرنے کے نظام کے اِن نقائص کو مختلف طریقوں سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے جس سے صاف نظر آ نا شروع ہو جاتا ہے۔ اِس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ زیا دہ تر بچوں میں نظر کی کمزوری بیما ری نہیں کہلا سکتی بلکہ اس کو قدرت میں پائے جانے والے تنوع کی ایک شکل کہہ سکتے ہیں۔ یہ بالکل  ایسے ہی ہے جیسے کسی کے رنگ کے سانولا ہو نے کو ہم بیماری نہیں کہہ سکتے۔

نظر کا معائنہ کیا جا رہا ہے

عام خیال ہے کہ جب پڑھائی کا بوجھ پڑتا ہے تونظر کمزور ہونا شروع ہوجاتی ہے کیا یہ صحیح ہے؟ کیا پڑھائی بچوں کی آنکھوں کے لئے نقصان دہ ہے؟ کئی بچے بہت چھوٹی عمر بھی لگائے پھرتے ہیں۔ نظر کمزور ہونے کا کس عمر میں زیادہ خطرہ ہوتا ہے؟   

نظر کی کمزوری کا اِظہار پہلی دفعہ کب ہو گا یہ مختلف لو گوں میں مختلف ہو تا ہے۔ البتّہ چونکہ بچوں کی عمر کے دو حصّے ایسے ہیں جن میں اُن کا جسم تیزی سے بڑھنا شروع کر دیتا ہے؛ ایک تو 10 سے 12 سال کی عمر ہے اور دوسری 16 سے 18 سال کی عمر۔ چونکہ بچوں کی نظر کی کمزوری کا گہرا تعلق آنکھ کی گروتھ سے ہے یعنی انہی دنوں میں آنکھ بھی باقی جسم کی طرح تیزی سے بڑی ہوتی ہے۔ جب غیر متناسب گروتھ ہوتی ہے تب ہی پہلی دفعہ فوکس خراب ہونا شروع ہوتا ہے اور علامات پیدا ہونا شروع ہوتی ہیں چنانچہ بچوں کی عمر کے یہی دو حصے ایسے ہیں جن میں یا تو پہلی دفعہ نظر کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے یا اچانک اُس کی مقدار بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر تو عینک کا نمبر بڑھتا ہی ہے لیکن کئی بچوں کا خود بخود کم بھی ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ پڑھنے سے نظر کمزور نہیں ہوتی لیکن پڑھنے والے بچوں کی نظر کی کمزوری ظاہر ہو جاتی ہے کیونکہ جب وہ پڑھائی کرتا ہے تو علامات ولدین کو مجبور کر دیتی ہیں کہ بچے کو چیک کروائیں۔ جو بچے پڑھائی نہیں کرتے نظر اُن کی بھی کمزور ہوتی ہے لیکن اُن میں علامات پیدا نہیں ہوتیں اِس پتہ نہیں چلتا۔ البتہ جدید تحقیقات اِس بات کی تصدیق کر رہی ہیں کہ پڑھائی کے بعض ایسے طریقے ضرور ہیں جو نظر کی کمزوری کا باعث بن سکتے ہیں۔

  • اِن میں سب سے اہم کمپیوٹر کا بہت زیادہ استعمال ہے۔
  • اِسی طرح جو بچے حفط کرتے ہوئے لمبے لمبے عرصے کے لئے نزدیک نظر کو مرکوز کیے رکھتے ہیں اُن میں نظر کمزور ہو جانے کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے۔
  • جو بچے گھنٹوں ٹی وی کے سامنے بیٹھے کارٹون دیکھتے رہتے ہیں اُن میں بھی ی خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے کہ اُن کی نظر کمزور ہو جائے گی۔  

بعض بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی پیدا ہوتے وقت ہی نظر بہت زیادہ کمزور ہوتی ہے یا ابتدائی ایام میں ہی بہت زیادہ کمزور ہو جاتی ہے۔ ایسے بچوں کو نابینا ہونے سے بچانے کے لئے عینک ناگزیر ہوتی ہے۔ 

اِس لئے اِس بارے میں کچھ نیہں کہا جا سکتا کہ کس عمر میں بچے کی نظر کمزور ہونے کا خطرہ زیادہ ہے۔ یہ قسمت کی بات ہے۔ اِسی لئے جہاں ممکن ہو وہاں یہ اہتمام کیا جاتا ہے کہ بغیر علامات کے بھی بچوں کی نظر کا معائنہ کیا جائے۔ نظر تو پہلے کمزور ہوتی ہے علامات تو بہت بعد میں پیدا ہوتی ہیں۔ اور بعض کیفیات مثلاً Amblyopia، بھینگا پن کو پیدا ہونے سے بچایا تو جا سکتا ہے لیکن جب پیدا ہو جائیں تو علاج بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اور اِن سے بچانا تب ہی ممکن ہے جب نظر کی کمزوری بالکل شروع شروع میں ہی پکڑی جائے۔  

بچوں کے معاملے میں کونسی احتیاطیں کی جائیں کہ اُن کی نظر بھی کمزور نہ ہو اور اُن کی پڑھائی بھی متاثر نہ ہو؟

اصل میں نظر کو کمزور ہونے سے بچانے کے لئے تو وہی احتیاطیں ہو سکتی ہیں جو ابھی بتائی گئی ہیں کہ اُن حالات سے بچوں کو بچایا جائے جن سے نظر کمزور ہو جانے کا خدشہ زیادہ ہو جاتا ہے مثلاً کمپیوٹر چلانے، گیمیں کھیلنے، اور کارٹون فلمیں دیکھنے پر غیر متوازن وقت صرف نہیں ہونا چاہئے۔ اور جب بچے یہ کام کریں تو اِس بات سختی سے اہتمام کیا جائے کہ وہ یہ کام وقفوں سے کریں۔ یہ وقت بغیر موزوں وقفوں کے یا بہت طویل نہیں ہونا چاہئے۔ اِسی ویبسائیٹ پر کمپیوٹر کے استعمال کے دوران ضروری احتیاطوں کا مضمون موجود ہے اُس کا مطالعہ کریں۔  

اِس سے بھی زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ جب معلوم ہو جائے کہ بچے کی نظر کمزور ہے تو پھر عینک کے استعمال میں بےاحتیاطی نہ کی جائے تاکہ نظر کے مزید کمزور ہونے، سردرد اور عدمِ ترکیز جیسی علامات، اور نئی بیماریوں مثلاً بھینگا پن اور Amblyopia سے بچے کو بچایا جا سکے۔ اِن تکالیف سے بچے کی پڑھائی کو بھی خراب ہونے سے بچایا جا سکتا ہے اور بچے کی ذہنی صحت کی نارمل گروتھ  کے لئے بھی اِن سے بچاوٴ بہت ضروری ہے۔   

اگر ہم بچے کو ہر وقت عینک لگانا شروع کر دیں تو اُس کی نظر تو بہت جلد بہت زیادہ کمزور ہو جائے گی؛ کیا یہ بہتر نہیں کہ بچہ کبھی کبھی لگا لیا کرے مثلاً پڑھتے وقت؟ 

یہ ایک بڑی عام غلط فہمی ہے کہ عینک کو استعمال کرنے سے نظر مزید کمزور ہو جاتی ہے اور تیزی سے کمزور ہو جاتی ہے۔ دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ عینک یا تو قریب کا کام کرنے کے لئے ہوتی ہے یا دُور دیکھنے کے لئے۔ حقیقت یہ ہے کہ عینک استعمال کرنے سے نہ تو نظر کی کمزوری ختم ہوتی ہے اور نہ ہی زیادہ ہوتی ہے۔

  • اصل بات صرف اتنی ہے کہ جن کی نظر کی کمزوری ہلکی مقدار میں ہوتی ہے وہ لاشعوری طور پر زور لگا کر عینک کے بغیر بھی دیکھ سکتے ہیں اگرچہ اِس سے اُن کو تکلیف ہوتی ہے۔ لیکن جب عینک کے استعمال سے آنکھیں نارمل ہو جاتی ہیں تو تکلیف تو ٹھیک ہو جاتی ہے لیکن اب آسانی سے عینک کے بغیر فوکس نہیں کر پاتیں جس سے وہ سمجھتے ہیں کہ اب اُن کی نظر پہلے سے زیادہ کمزور ہو گئی ہے۔
  • دوسری اہم بات یہ ہے کہ بچوں کی عینک خواہ وہ منفی نمبر کی ہو خواہ مثبت نمبر کی اُس کو ہر وقت لگانا ضروری ہوتا ہے۔ بچوں کی عینک صرف دور کے لئے یا صرف نزدیک کے لئے نہیں ہوتی بلکہ ہر وقت استعمال کے لئے ہوتی ہے۔ اگر ہر وقت استعمال نہ کیا جائے تو آنکھوں کو مطلوبہ ریسٹ میسر نہیں آتا جس سے مطلوبہ فوائد حاصل نہیں ہتے۔ 

ہمارا بچہ تو عینک کے بغیر بھی پڑھ لیتا ہے ہم کیوں بچے کو عینک کی مصیبت میں ڈالیں؟

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ہے کہ ہلکے منفی نمبر کی عینک، مثبت نمبر کی عینک، اور سلنڈر نمبر کی عینک کی صورت میں یہ دھوکہ ہوتا ہے کہ چونکہ عینک کے بغیر بھی زیادہ تر کام چل جاتا ہے اِس لئے مریض اور مریض کے لواحقین اِس بات پر قائل نہیں ہو پاتے کہ عینک اُن کے لئے ضروری ہے۔ حالانکہ 

پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر عینک استعمال نہ کریں گے تو تکالیف ختم نہیں ہوںگی۔ کبھی کبھار استعمال کرنے سے کبھی آرام آ جائے گا اور کبھی تکلیف شروع ہو جائے گی۔

دوسری انتہائی بات یہ کہ عینک بعض انتہائی خطرناک مسائل سے بچاوٴ کے لئے تجویز کی جاتی ہے۔ اگر عینک باقاعدگی سے استعمال نہیں کی جائے گی تو اُن تکالیف سے بچاوٴ ناممکن ہو جائے گا۔ بجائے اِس کے کہ وہ تکالیف آجائیں اور پھر اُن کا علاج کیا جائے اِس سے بہتر ہے کہ اُن کو آنے سے روکا جائے جس کا واحد طریقہ عینک کا صحیح طریقے سے استعمال کرنا ہے۔  

کیا یہ حقیقت نہیں آجکل بچوں میں نظر کی کمزوری زیادہ ہو گئی ہے پہلے تو اتنے زیادہ بچوں کی نظر کمزور نہیں ہوا کرتی تھی؟

اصل میں بچوں میں نظر کی کمزوری کا تناسب زیادہ نہیں ہوا بلکہ لوگوں میں بیماریوں کے بارے میں شعور میں اضافہ ہوا ہے۔ علاوہ ازیں تعلیم کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے جس سے تشخیص کا تناسب بہتر ہو گیا ہے۔ پہلے بےشمار بچوں کے بارے میں پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ ان کی نظر کمزور ہے۔

کسی کو مثبت نمبر کی عینک لگتی ، کسی کو منفی نمبر کی، جبکہ کئی لو گوں کو کسی خا ص زاویے پر نمبر لگتا ہے اِس کا کیا مطلب ہے؟

اِس بات کا تعلق اِس بات سے ہے کہ آنکھ مہں نقص کونسا ہے؟ جس کی آنکھ سٹینڈرڈ سا ئز سے چھوٹی ہو اس کو مثبت نمبر کی عینک لگانے سے اور جس کی آنکھ بڑی ہو اس کو منفی نمبر کی عینک لگانے سے صاف نظر آنے لگتا ہے۔ جن کے قرنیہ کی اُفقی اور عمودی گولائی میں فرق ہو تا ہے اُن کو کسی خا ص زاویے پر نمبر لگانے سے [جسے سلنڈر نمبر کہتے ہیں] صاف نظر آتا ہے۔ 

Myopia  یا قریب نظری

نظر کی کمزوری کی یہ وہ قسم ہے جس میں آنکھ کے کُرّے کا سائز نارمل کی نسبت لمبا ہوتا ہے۔ جس سے آنکھ کا فوکس کرنے کا نظام شبیہ پردہ بصارت پر نہیں بنا پاتا۔ اِس کی وجہ سے دور کی چیزیں دھندلی نظر آتی ہیں۔ اِن مریضوں کو منفی نمبر کی عینک لگتی ہے۔ اِس نقص کو سمجھنے کے لئے ذیل کی تصویر ملاحظہ کریں: 

اِسی بات کو اِس تصویر میں دیکھیں کہ فوکس کرنے کا نظام درخت کی تصویر کو پردے پر بنانے کی بجائے آنکھ اندر کہیں بنا رہا ہے اور جو شبیہ پردے پر جاکر بن رہی ہے وہ دھندلی ہے، ظاہر اِس کا تو فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ جب تک تصویر پردے کے اوپر نہیں بنے گی دماغ کو نظر نہیں آئے گی۔  

عینک اور کنٹیکٹ لینز کی مدد سے شعاعوں کو پھیلا کر پیچھے لے جایا جاتا ہے جس سے واضح اور صاف شبیہ پردے کے اوپر بنا شروع ہو جاتی ہے اور آدمی کو نظر آنا شروع ہو جاتا ہے اور جونہی عینک کو اُتارا جاتا ہے نظر پھر دھندلی ہو جاتی ہے۔ یہ چیز آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں:

اِس نقص کے مریض عموماً نزدیک دیکھنے میں مشکل محسوس نہیں کرتے لیکن دور کی چیزوں کو نہیں دیکھ سکتے۔ جن لوگوں کی نظر تھوڑی کمزور ہوتی ہے وہ زور لگا کر دیکھ لیتے ہیں لیکن پھر سر درد اور آنکھوں کی تکالیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔  

Hypermetropia یا بعیدنظری

نظر کی کمزوری کی یہ وہ قسم ہے جس میں آنکھ کے کُرّے کا سائز نارمل کی نسبت چھوٹا ہوتا ہے۔ جس سے آنکھ کا فوکس کرنے کا نظام شبیہ پردہ بصارت پر نہیں بنا پاتا۔ اِن مریضوں کو مثبت نمبر کی عینک لگتی ہے۔ اِس کی وجہ سے دور اور نزدیک تمام چیزیں دھندلی نظر آتی ہیں۔ تاہم دھندلاپن نزدیک کی چیزوں کو دیکھتے ہوئے زیادہ محسوس ہوتا ہے جیسا کہ اِس تصویر میں دور کا منظر تو کافی حد تک صاف ہے لیکن قریب کا چہرہ صاف نظر نہیں آ رہا:

 

اِس نقص کو سمجھنے کے لئے ذیل کی تصویر ملاحظہ کریں: 

اِسی بات کو اِس تصویر میں دیکھیں کہ فوکس کرنے کا نظام چارٹ کی تصویر کو پردے پر بنانے کی بجائے آنکھ کے پیچھے ایک خیالی جگہ پر بنا رہا ہے اور جو شبیہ پردے پر جاکر بن رہی ہے وہ دھندلی ہے، ظاہر اِس کا تو فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ جب تک تصویر پردے کے اوپر نہیں بنے گی دماغ کو نظر نہیں آئے گی۔  

عینک اور کنٹیکٹ لینز کی مدد سے شعاعوں کو پھیلا کر پیچھے لے جایا جاتا ہے جس سے واضح اور صاف شبیہ پردے کے اوپر بنا شروع ہو جاتی ہے اور آدمی کو نظر آنا شروع ہو جاتا ہے اور جونہی عینک کو اُتارا جاتا ہے نظر پھر دھندلی ہو جاتی ہے۔ یہ چیز آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں: 

Astigmatism یا چندھیا پن

یہ نظر کی کمزوری کی وہ کیفیّت ہے جس میں قرنیہ کی سطح غیر ہموار ہوتی ہے بالخصوص اُفقی اور عمودی سطحوں کی گولائی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ جیسے درج ذیل تصویرمیں نظر آ رہا ہے:

جس کے باعث آنکھ کے پردے پر شعاعیں ایک جگہ پر فوکس ہونے کی بجائے دو یا زیادہ مقامات پر مرتکز ہوتی ہیں۔ چنانچہ جس چیز کو آدمی دیکھتا ہے اُس کی شبیہ واضح نہیں بنتی، یا اُس کی شکل بگڑی ہوئی ہوتی ہے۔ نظر کی یہ کمزوری دور کرنے کے لئے سلنڈر شیشے عینک میں لگائے جاتے جن کا مخصوص زاویے پر فٹ ہونا بہت ایہم ہوتا ہے۔ اِس نقص کی وجہ سے نزدیک اور دور دونوں جگہ پر دھندلاپن ہوتا ہے۔ سلنڈر شیشے مثبت بھی ہو سکتے ہیں اور منفی بھی۔ نیچے کی تصاویر پر غور کریں بعض چیزیں دُھندلائی ہوئیں نظر آتی ہیں تو نظر چیک کرنے والے چارٹ کی شکل ہی بگڑ گئی ہے:

زیادہ نقص والے مریض کو دیکھ ہی پہچانا جا سکتا ہے کہ اِس کی آنکھ میں سٹگماٹزم ہے جیسا کہ اِس مریض کی تصویر کو دیکھ کر ہی پتہ چل رہا ہے کہ یہ فوکس کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس طرح کی شکلوں کے باعث اس مرض کو چندھیاپن کہتے ہیں:

 

پردہ بصارت پر شعاعیں کیسے فوکس ہوتیں ہیں دیکھئے:

ذرا سادہ انداز میں سمجھنے کے لئے اِس تصویر پر غور فرمائیں:

عمودی سطح کو سُرخ دکھایا گیا ہے جبکہ اُفقی سطح کو نیلے رنگ میں دکھایا گیا ہے۔ دونوں سطحوں کی گولائی میں بڑا واضح فرق دکھائی دے رہا ہے۔ نیلے رنگ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ شعاعوں کو ضرورت سے زیادہ قریب فوکس کر دیا گیا ہے جبکہ سُرخ رنگ کی سطح کی گولائی تھوڑی ہونے کے باعث وہ شعاعوں کو پردے پر فوکس کرنے میں ناکام ہے۔ اِس طرح عملاً دو تصویریں بن رہی ہیں جیسا کہ نیچے والی تصویر میں نظر آ رہا ہے:

اِن دو یا زیادہ بننے والی تصاویر کو باہم ضم کرنے کی کوشش کرنے کے لئے آنکھیں زور لگاتی ہیں، جس سے آنکھوں کی خاص شکل بنتی ہے اور جس سے سردرد اور دیگر تکالیف پیدا ہوتی ہیں۔

کیا عینک با قا ئدگی سے اِستعمال کر نے سے نمبر ایک جگہ رُک جاتا ہے یا پھر بھی بڑھتا رہتا ہے؟

عینک چونکہ بیما ری کی وجہ دُور نہیں کر تی بلکہ صرف علا متوں کا علا ج کر تی ہے اِس لئے یہ غلط مشہور ہو گیا ہے کہ عینک باقائدگی سے اِستعمال کر نے سے نمبر ایک جگہ رُک جاتا ہے ۔  

  • · آنکھ کی ساخت میں عموماً 18 سال کی عمر تک تبدیلیاں آتی رہتی ہیں کئی بچوں کی آنکھوں کی گروتھ بیس، اکیس، یا بعض بچوں کی گروتھ چوبیس سال کی عمر میں بھی رُکتی ہے۔ چنانچہ جب تک گروتھ ہوتی رہتی ہے اس وقت تک عینک کا نمبر بدلتا رہتا ہے خواہ عینک جتنی مر ضی با قا ئدگی سے اِستعمال کریں۔ جب آنکھوں کی گروتھ  رُک جاتی ہے اُس وقت عینک کا نمبر بھی ایک جگہ پر رُک جاتا ہے۔ عینک لگانے یا نہ لگانے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔  

  • چونکہ بچپن کے دوران یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے اس لئے عینک کا نمبر بھی بدلتا رہتا ہے۔ اسی لئے بچوں کی عینک کا نمبر وقتاً فوقتاً چیک ہوتا رہنا چاہیے تاکہ ساخت میں جتنی جتنی تبدیلی آتی جائے اُتنا اُتنا عینک کا نمبر بھی تبدیل کیا جاتا رہے۔

  • اِسی طرح چالیس سال کی عمر کے بعد پھر سے عموماً جسم میں تبد یلیاں آنی شروع ہو جا تی ہیں جیسے با ل سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں اِسی طرح اِس عمر کے بعد ایک دفعہ نظر میں تبدیلیاں آنے لگتی ہیں؛ یا اگر پہلے عینک نہیں لگتی تھی اب ضرورت پڑ سکتی ہے، پہلے والی عینک کا نمبر بدلنا شروع ہو جاتا ہے، یا پھر دور اور نزدیک کا نمبر مختلف ہو جاتا ہے۔ اس سے پہلے ایک ہی عینک سے سارے کام ہو جاتے تھے اب نہیں ہوتے۔

وہ کونسے مسائل ہیں جو عینک باقائدگی سے استعمال نہ کرنے سے سامنے آتے ہیں؟

عینک باقاعدگی سے اِستعمال نہ کرنے سے بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن سے عینک کے صحیح استعمال کے ذریعے بآسانی نجات حاصل لی جا سکتی ہے۔ چند مسائل ذیل میں درج کیے جا رہے ہیں:

  • ٹی وی دیکھتے ہوئے، ڈرائیونگ کرتے ہوئے، یا پڑھتے ہوئے صاف نظر نہیں آتا؛ اور چونکہ صاف نظر آئے بغیر کام نہیں چل سکتا اِس لئے آنکھوں کو غور کرنا اور زور لگانا پڑتا ہے۔ جس سے آنکھیں بھاری بھاری محسوس ہوتی ہیں، تھک جاتی ہیں، سُرخ ہونے لگتی ہیں، اور الفاظ پر توجہ مرکوز رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ 

  • بچوں کی پڑھائی اور دیگر کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ نفسیاتی مسائل پیدا ہوتے ہیں سردرد ہوتی ہے جو بچوں میں بعض اوقات اتنی شدید ہوتی ہے کہ ساتھ اُلٹیاں بھی انے لگتی ہیں۔

  • کام کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ ایسے کام چھوڑ دیتے ہیں جن پر نظر لگانی پڑتی ہے اور یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ “بس جی اب ہم بوڑھے ہو گئے ہیں”۔ حالانکہ اِس بڑھاپے پر بآسانی قابو پیایا جا سکتا ہے۔  

  • اگر کسی بچے کی ایک آنکھ کی نظر دوسری آنکھ کی نسبت کافی زیادہ کمزور ہو تو زیادہ کمزور آنکھ کی نشوونما ناقص رہ جاتی ہے۔ کیونکہ اُس آنکھ سے حاصل ہونے والی معلومات کی دماغ توجیہ نہیں کر پاتا اور بالآخر دماغ کے اُس حصّے کی بھی نشوونما ناقص رہ جاتی ہے اس کیفیت کا نام Amblyopia  ہے۔ اگر چھوٹی عمر میں اس تکلیف کا پتہ چل جا ئے تو تقریباً سو فیصد علاج ممکن ہوتا ہے لیکن بعد میں اس کا علاج نا ممکن ہو جاتا ہے۔ اور یہ آنکھ مستقل طور پر نابینا ہو جاتی ہے۔ پھر کسی دوائی یا اپریشن سے بھی اس کا علاج ممکن نہیں رہتا۔ پہلے تو بارہ سال کی عمر کو اِس کی حد قرار دیا جاتا تھا لیکن اب اِس میں کافی اختلاف ہے۔ زیادہ تر تحقیقات آٹھ یا نو سال کی حد مقرر کر رہی ہیں۔  

  • بہت سارے بچوں میں آنکھوں کے ٹیڑھا پن کی وجہ نظر کی کمزوری ہوتی ہے۔ 

    • جس انکھ میں یہ نقص ہوتا ہے بہت سارے لوگوں میں وہ آنکھ ٹیڑھی [بھینگی] ہو جاتی ہے۔ یہ نقص بچپن میں بھی سامنے آ سکتا ہے بڑی عمر میں بھی۔

    • اِس کے علاوہ جن بچوں کی نظر زیادہ کمزور ہو وہ اگر عینک استعمال نہ کریں تو اُن کی آنکھوں میں ٹیڑھا پن آنے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ خصوصاً جو آنکھ زیادہ کمزور ہو وہ ٹیڑھی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ 

  • کئی لوگوں میں نفسیاتی مسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔  

  • نظر کی کمزوری کی وجہ سے سردرد بہت عام تکلیف ہے۔  

عینک کب اِستعمال کر نی چا ہئے؟ نزدیک کا کام کر تے ہو ئے یا دُور کا کام کر تے ہو ئے؟

یہ بھی ایک بڑی عام غلط فہمی ہے؛ لوگ سمجھتے ہیں کہ عینک یا تو دور کے کام کے لئے ہوتی ہے یا نزدیک کا کام کرنے کے لئے۔ حالانکہ مریضوں کی اکثریت کو جو عینک لگتی ہے وہ ہر وقت لگانے کے لئے ہوتی ہے۔ دور کے لئے بھی ضروری ہوتی ہے اور نزدیک کے لئے بھی۔ اگر اِس طرح استعمال نہ کیا جائے تو عینک کا عملاً کوئی فائدہ ہی نہیں ہوتا۔ خاص طور پر چالیس سال کی عمر سے پہلے تو سب کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ہر وقت عینک استعمال کریں تاکہ آنکھوں پر جو بوجھ پڑتا ہے اُس سے بچا جا سکے۔ چنانچہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ 

  • چا لیس سال کی عمر سے پہلے جو بھی نمبر لگے ﴿خواہ مثبت ،منفی، یا سلنڈر﴾ وہ ہر وقت اِستعما ل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

  • چا لیس سال کی عمر کے بعد دُور اور نزدیک کے نمبر مختلف ہو جاتے ہیں اُس وقت ممکن ہے صرف دُور کے لئے ضرورت ہو یا صرف نزدیک کے لئے۔

اگر دور اور نزدیک کے لئے علیحدہ علیحدہ نمبر تجویز کیے گئے ہوں تو اِس صورت میں دُور اور نزدیک کی عینک اکٹھی بنوانی چا ہئے یا علیحدہ علیحدہ؟

اِس کا فیصلہ عموماً اتنا آسان نہیں ہوتا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف عوامل کو دیکھتے ہوئے ہی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ جن میں سے چند درجِ ذیل ہیں: 

  • زیادہ عمر کے لوگوں کی ضرورت عموماً بہت زیادہ باریکی کے کاموں کی نہیں ہوتی۔ اور اُن کی زندگی بھی شدید مصروفیات والی نہیں ہوتی، پھر عموماً اُن کی عینکوں کے نمبر اکثر بڑے ہوتے ہیں اِس لئے وہ بھی علیحدہ علیحدہ عینکوں کو ترجیح دیتے ہیں اور ڈاکٹر بھی اِسی کی ترغیب دیتے ہیں۔
  • کم پڑھے ہوئے لوگوں کی ضروریات بھی عموماً ایسی ہوتی ہیں کہ وہ بھی زیادہ تر علیحدہ علیحدہ عینکیں بنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
  • جو لوگ زیادہ تر وقت قریب کے کام میں مصروف رہتے ہیں اُن کے لئے بھی ڈبل شیشوں والی عینک زیادہ آرام دہ نہیں ثابت ہوتی۔ وہ علیحدہ علیحدہ عینکیں بنوانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ 
  • منفی نمبر کے عدسوں والی عینک والے لوگ عموماً نزدیک کے کام میں عینک کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اِس لئے وہ بھی علیحدہ عینک بنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جن لوگوں کو مثبت نمبر کی عینک لگتی ہے اُن کا نمبر اگر بہت زیادہ نہ ہو تو اکٹھی عینک بنانے میں سہولت محسوس کرتے ہیں۔ اگر عینک کا نمبر کافی زیادہ ہو تو پھر اکٹھی عینک تنگ کرتی ہے اس لئے علیحدہ علیحدہ عینکیں ہی اُن کے لئے بہتر رہتی ہیں۔ 
  • وہ پڑھے لکھے لوگ جنھیں اکثر کمپیوٹر پر مصروف رہنا ہوتا ہے۔ یا جنھیں لیکچرز دینے یا سننے جیسی مشغولیت ہوتی ہے ایسے لوگوں کے لئے ملٹی فوکل عدسے بہترین ثابت ہوتے ہیں۔ 

عینک کا نمبر اگر بہت زیادہ نہ ہو تو اکثر لوگوں کے لئے اکٹھی عینک ہی زیادہ بہتر ہو تی ہے۔ تاہم یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اِس کے کچھ اپنے مسائل بھی ہوتے ہیں جن کے ساتھ زندہ رہنا سیکھنا پڑتا ہے۔ 

دور و نزدیک اکٹھی عینکیں مختلف قسم کی مارکیٹ میں دستیاب ہیں اُن میں سب سے اچھی کون سی قسم ہے؟

مختلف فاصلوں پر کام کرنے والی عینک تین قسم کی ہوتی ہے:

  • با ئیفوکل

  • ٹرائیفوکل 

  • ملٹی فوکل  

عینک کے بائیفوکل Bifocal شیشے

یہ عینک میں لگائے جانے والے وہ عدسات ہیں جن کے دو حصّے ہوتے ہیں ایک حصّے کو عام سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ دوسرے حصّے میں سے دیکھ کر نزدیک کے کام کیے جاتے ہیں۔ اِن عدسات کو بہت سے لوگ پسند کرتے ہیں اگرچہ بہت سے اِن سے مطمئن نہیں ہوتے۔ کیونکہ اُن کو اِن کو استعمال کرتے ہوئے دقّت محسوس ہوتی ہے۔ نیچے تصویر میں اِسی قسم کی عینکیں نظر آ رہی ہیں۔

 

عینک کے ٹرائی فوکل Trifocal شیشے

یہ عینک میں لگائے جانے والے وہ عدسات ہیں جن کے تین حصّے ہوتے ہیں ایک حصّے کو عام سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے استعمال کیا جاتا ہے دوسرے حصّے کو کمپیوٹر پر کام کرنے یا اِسی طرح کے درمیانے فاصلے پر ہونے والے کام کیے جاتے ہیں جبکہ تیسرے حصّے میں سے دیکھ کر نزدیک کے کام کیے جاتے ہیں۔ اِن عدسات کو زیادہ لوگ پسند نہیں کرتے کیونکہ اِن کو استعمال کرتے ہوئے کافی دقّت محسوس ہوتی ہے اور اِن سے فائدہ اُٹھانے کے لئے کافی پریکٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیچے تصویر میں اِسی قسم کی عینک نظر آ رہی ہے۔

عینک کے ملٹی فوکل Multifocal شیشے

یہ عینک میں لگائے جانے والے وہ عدسات ہیں جن کے کئی حصّے ہوتے ہیں سب سے اوپر والے حصّے کو عام سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے استعمال کیا جاتا ہے درمیان والے حصّے کو کمپیوٹر پر کام کرنے یا اِسی طرح کے درمیانے فاصلے پر ہونے والے کام کیے جاتے ہیں۔ اِس حصّے کی یہ خصوصیّت ہوتی ہے کہ اِس میں نمبر بتدریج بدلتا ہے اور مختلف فاصلوں پر دیکھنے کیلئے مختلف نمبر میسّر آ جاتے ہیں۔ جبکہ تیسرے حصّے میں سے دیکھ کر نزدیک کے کام کیے جاتے ہیں۔ درمیانے حصّے کے دونوں طرف کچھ ایریا ایسا ہوتا ہے جس میں کوئی نمبر نہیں ہوتا۔ یہ حصّے اکثر لوگوں کے لئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ اِن عدسات کو بہت زیادہ لوگ پسند کرتے ہیں کیونکہ اِن کو استعمال کرتے ہوئے کافی آسانی ہوتی ہے اگرچہ اِن سے فائدہ اُٹھانے کے لئے کافی پریکٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن پڑھے لکھے لوگوں اِس کی وجہ سے بار بار عینکیں بدلنے کی کوفت سے نجات مل جاتی ہے۔ نیچے تصویر میں اِس قسم کی عدسوں کے مختلف حصوں کی تقسیمِ کار دکھائی گئی ہے:

اور نیچے والی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ اِن شیشوں میں سے کیسے نظر آتا ہے یا اِن کے مختلف حصّے کیسے کام کرتے ہیں۔

اب تک جو عینکیں مارکیٹ میں میسّر ہیں اُن میں یہ سب سے اچھی قسم کے شیشے ہیں۔ اِن کے ذریعے بہت حد تک ساری سرگرمیاں ایک ہی عینک سے انجام دی جا سکتی ہیں۔ خاص طور پر یہ اُن لوگوں کے لئے بہت موزوں ہیں جن کو کئی کمپیوٹر پہ کام کرنا ہوتا ہے، کبھی کتاب پڑھنی یا کسی رجسٹر پہ لکھنے یا پڑھنے کا کام کرنا پڑتا ہے، کبھی پروجیکٹر پہ کوئی پریزینٹیشن دیکھنی ہوتی ہے اور ڈرائیونگ کرنی ہوتی ہے۔    

نظر کی کمزوری کا کیا عینک کے علاوہ بھی کو ئی علاج ہے؟

  • اگر تو آپ کے ذہن میں کوئی دوائی ہے یا ورزیشیں ہیں تو تلخ حقیقت یہ کہ نہیں۔ ابھی تک بہت تحقیقات کے باوجود ایسا کوئی ذریعہ علاج دریافت نہیں ہو سکا۔ 

  • بہت ہی کم تعداد میں بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی بینا ئی کسی وقتی وجہ سے کم ہو ئی ہو تی ہے یا نظر کی کمزوری کی کوئی ایسی وجہ ہوتی ہے جو قابلِ علاج ہوتی ہے مثلاً شوگر کے نا منا سب علاج کے با عث نظر کا کم ہو جان، کا لا مو تیا کے با عث نظر کا متاثر ہو جانا،قر نیہ میں سو جھن کے باعث خصوصاً Limbal conjuctivitis [یہ الرجی کی ایک قسم ہے] کے باعث۔ ایسے لوگوں کو یقیناً دوا ئی سے فا ئدہ ہو تا ہے۔

  • میری پریکٹس اس وقت تیسرے عشرے میں ہے اس طویل عرصے کے دوران مجھے کو ئی ایسا شخص نہیں ملا جس کی عینک وا قعی کسی ہو میو پیتھک یا کسی اور نسخے سے اُتر گئی ہو۔ کئی لوگ آئے ہیں کہ میں نے علاج کروایا ہے دیکھیں کتنا فرق پڑا ہے؟ جب چیک کیا ہے تو جتنا نمبر پہلے لگتا تھا اُتنا ہی لگ رہا ہو تا البتّہ علا ما ت ضرور دب چکی ہو تی ہیں۔

  • عینک یا کنٹیکٹ لینز کے علاوہ اِس مسئلے کا علاج صرف اور صرف آنکھ کی سا خت میں تبد یلی لا نے سے ممکن ہے جو کئی طر یقوں سے ممکن ہے مثلاً

    • لیزر لگا نے سے،

    • فیکو اپریشن سے،

    • Phakic IOL سے،

    • قرنیہ کے اندر فٹ ہونے والے Corneal rings سے۔

تاہم حقیقت یہی ہے کہ سب سے زیا دہ اِستعمال ہو نے والا اور سب سے زیادہ موثر اور آزمودہ طریقہ لیزر ہی ہے.

لیزر اپریشن میں آنکھ کے اندر کیا تبدیلی لائی جاتی ہے؟

چونکہ قرنیہ کی گولا ئی کو تبدیل کرنے سے اُس کی روشنی کو فوکس کرنے کی طاقت تبدیل کی جا سکتی ہے اِس لئے لیزر کے ذریعے قرنیہ کی بیرونی سطح کی گولائی کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ عینک کے نمبر کے حساب سے کِسی حصے کو زیادہ گول کر دیا جاتا ہے اور کسی حصےکی گولائی کو کم کر دیا جاتا ہے۔ اِس تبدیلی سے مختلف چیزوں سے منعکس ہو کر آنے والی روشنی آنکھ کے پردے پر صحیح طرح فوکس ہو نے لگتی ہے اور آنکھ کو بغیر کسی سہارے [یعنی عینک یا کنٹیکٹ لینز وغیرہ] کے صاف نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ درج زیل تصاویر میں اس اپریشن کے طریق کار کو سمجھانے کی کو شش کی گئی ہے۔ 

لیزر علاج کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں؟ اور کیا کرنا ہوتا ہے؟

صحت مند آنکھ میں یہ علاج بہت مفید ہوتاہے خصوصاً تھوڑے نمبروں تک تو علاج کے نتائج بہترین ہیں، البتّہ بہت زیادہ نمبر ہو مثلاً سولہ سترہ نمبر تو پھر لیزر کی بجائے متبادل طریقوں کو اختیار کرنا چاہئے۔۔ البتہ اگر کسی کی آنکھوں میں کوئی پہلے سے ایسی بیماری ہو جو مستقل طور پر صحیح نہ ہو سکتی ہو تو پھر ضرور نقصانات ہو سکتے ہیں مثلاً

  • قرنیہ کی کوئی پرانی بیماری خصوصاً قرنیہ مخروطیہ یعنی Keratoconus اس کیفیّت میں قرنیہ کا مرکزی حصّہ پتلا ہو چکا ہوتا ہے چنانچہ لیزر لگانے سے مزید پتلا ہو سکتا ہے جس سے بیماری مزید بگڑ سکتی ہے۔ 

  • قرنیہ میں اگر مسلسل سوزش رہتی ہو۔

  • Corneal opacity یعنی قرنیہ کے اندر داغ جس سے قرنیہ کی شفّافیّت متاثر ہو جاتی ہے اور فوکس کا نقص ٹھیک ہو جانے کے باوجُود نظر مکمل ٹھیک نہیں ہو پاتی۔

حقیقت ہے کہ یہ علاج بہت سادہ اور محفوظ ہے مہنگا اِس لئے نہیں کہ خطرناک ہے بلکہ اس لئے ہے کہ اس کی مشینیں اور دیگر لوازمات بہت مہینگے ہیں علاوہ ازیں اس ٹیکنیک کے ما ہرین کم ہیں خصوصاً Epi-LASIK کے۔ 

لیزر اپریشن سے پہلے کیا کرنا ہوتا ہے؟ کتنا وقت پہلے تیاری کے لئے چاہئے ہوتا ہے؟ کیا پہلے معائنہ ضروری ہوتا ہے؟

  • اس کے لئے کیا چا ہئے؟ 18 سے 40 سال عمر ہونی چاہئے، ارادہ کر لیں، اپنی ترجیحات میں اس کو اوّلین اہمیت دیں۔

  • ایک دفعہ تفصیلی معائنہ ہونا چاہئے تاکہ ممکنہ نقصانات یا Risk factors کا پتہ چلایا جا سکے۔ اور کسی چیز کا پہلے سے علاج ضروری ہو تو کیا جا سکے۔

  • علاج سے پہلے بہتر ہوتا ہے کہ تین دن تک Antibiotic قطرے استعمال کئے جائیں تاکہ بعد از اپریشن انفیکشن کا سدّباب کیا جا سکے۔

  • اپریشن کا وقت آدھے گھنٹے کے قریب ہوتا ہے- جس کے دوران مریض کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی بلکہ وُہ ڈاکٹر سے باتیں کرتا رہتا ہے، سُن کرنے والے قطرے ڈالے جاتے ہیں کوئی انجیکشن وغیرہ استعمال نہیں کیا جاتا۔

  • اپریشن کے فوری بعد کُچھ نہ کُچھ تکلیف بہرحال محسُوس ہوتی ہے جو دوسرے دن عموماً ختم ہو جاتی ہے۔ آنکھوں میں جلن اور چبھن محسوس ہوتی ہے۔ پانی آتا ہے اور کئی لوگوں سے روشنی برداشت نہیں ہوتی۔

  • اپریشن کے بعد پہلے کُچھ نہ کُچھ دُھندلا نظر آتا ہے خصوصاً اُن لوگوں کو جن کا نمبر کافی زیادہ ہو۔ دوسرے دن عموماً دُھندلاپن نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔

  • نظر کی بہتری بہت حد تک ابتدائی چند دنوں میں ہو جاتی تاہم یہ عمل تین ماہ تک جاری رہتا ہے۔ خصوصاً جن کا نمبر زیادہ ہو۔ ایسے لوگوں کو شروع کے دنوں میں قریب دیکھنے میں مشکل پیش آتی ہے جو کہ دراصل قرنیہ میں سوزش کے باعث ہوتی ہے۔ جُوں جُوں سوزش بہتر ہوتی جاتی ہے یہ تکلیف بھی بہتر ہوتی جاتی ہے۔

  • شروع کے دو دن تو کام پہ واپسی مشکل ہوتی ہے اُس کے بعد اپنے کام پہ جایا جا سکتا ہے۔

لیزر اپریشن مختلف نام سننے میں ملتے ہیں ان کا کیا فرق ہے؟

درج ذیل طریقوں سے اپریشن کیا جاتا ہے:

  1. Surface PRK
  2. Epi-Lasik or LASEK
  3. LASIK or Femtosecond LASIK

ان تینوں طریقوں میں بنیادی اپریشن ایک ہی لیزر مشین کے ذریعے کیا جاتا ہے جسے Excimer Laser کہا جاتا ہے۔ اس لیزر کی مدد سے قرنیہ کی گولائی کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ ان میں فرق کیا ہوتا ؟ فرق یہ ہوتا ہے:

  1.  پہلی ٹیکنک Surface PRK میں قرنیہ کو چھیل کر اوپر سے گوشت کی ایک تہہ اتار دی جاتی ہے اور پھر نچلی تہوں پر لیزر لگائی جاتی ہے۔
  2. دوسری ٹیکنک Epi-LASIK میں قرنیہ کی اوپر کی تہیں بڑی احتیاط سے مخصوص اوزاروں کی مدد سے  ہٹائی جاتی ہیں اور ان کو بچا کر محفوظ رکھا جاتا ہے اور انہیں Corneal flap کہا جاتا ہے۔ نیچے والی تہوں پرلیزر لگانے کے یہ محفوظ شدہ تہیں دوبارہ اپنی جگہ پر فٹ کر دی جاتی ہیں انہیں ضائع نہیں ہونے دیا جاتا۔
  3.   تیسری ٹیکنک Femtosecond Laser میں قرنیہ کی اوپر کی تہیں ایک دوسری لیزر مشین جسے Femtosecond laser کہا جاتا ہے کی مدد سے ہٹائی جاتی ہیں اور ان کو بچا کر محفوظ رکھا جاتا ہے اور انہیں Corneal flap کہا جاتا ہے۔ نیچے والی تہوں پرلیزر لگانے کے یہ محفوظ شدہ تہیں دوبارہ اپنی جگہ پر فٹ کر دی جاتی ہیں انہیں ضائع نہیں ہونے دیا جاتا۔

آخری دونوں طریقے جدید ترین ہیں۔ ان میں سے ایک میں فلیپ مینوئل طریقے سے بنایا جاتا ہے دوسرے میں لیزر نائف کے ذریعے سے۔ یہ لیزر نائف چونکہ بہت مہنگا ہے اس لئے اس پر اخراجات بھی زیادہ آتے ہیں۔

Phakic IOL  کیا چیز ہے اور یہ اپر یشن کِس قسم کے مر یضوں کا کِیا جا تا ہے؟

یہ بھی ایک لینز ہوتا ہے جسے آپ کنٹیکٹ لینز بھی کہہ سکتے ہیں اور IOL بھی۔ اِسے اپر یشن کر کے آ نکھ کے اندر فِٹ کر دیا جا تا ہے لیکن اس کو فِٹ کر نے کے لئے قدرتی لینز کو نکا لا نہیں جا تا بلکہ اس اپریشن کے بعد مریض کی آنکھ میں دو لینز ہوتے ہیں ایک قدرتی اور دوسرا مصنوعی۔ اس کی دو قسمیں ہیں جو نیچے کی تصویر میں دکھا ئی گئی ہیں۔ یہ لینزاُن لو گو ں کے لئے بہتر ین ہے جِن کا عینک کا نمبر بہت زیادہ ہو تا ہے اور اُن کے لئے لیزر اپر یشن مناسب نہیں ہوتا کیونکہ باعثِ نقصا ن ہو سکتا ہے۔ 

اگرآپ نظر کی کمزوری سے متعلق مزید کوئی سوال میں پوچھنا چاہتے ہوں تو اُس کو کمنٹ کے خانے میں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اسی طرح اپنی رائے، تبصرہ یا تجویز کو بھی کمنٹ میں لکھ کر پوسٹ کردیں میں بہت ممنون اور مشکور ہوں گا۔

189 Replies to “Refractive errors نظر کی کمزوری: وجوہات، علاج”

  1. السلام علیکم
    ڈاکٹر صاحب مجھے 1 انکھ سے نظر نہیں آتا ۔میرا ایکسیڈنٹ ھوا
    تھا ۔اور علاج بھی کرایا ۔تو معلوم ہوا کہ انکھ کی جو رگ ہے اس میں خون جم چکا ہے۔ اس عرصے کو 6 سال ہو چکے ہیں ۔ لیکن اب تک اس انکھ سے نظر نہیں آتا ۔
    اس کے بارے میں کچھ بتائے گا۔ شکریہ

  2. ڈاکٹر میری آنکھ خراب ہے۔ دور کی چیزیں کافی دھندلی نظراتی ھیں۔ میری ڈیوٹی زنانہ لباس پہ سٹون لگانا ھے اب مے نزدیک کی  نظر کیلیے دور نظر کی عینک استعمال نہیں کر سکتا اس سے  بہت درد ہوتا ھے۔ آنکھیں لال ہو جاتی ہیں اور عینک پہننے سے وہ سٹون اور چمکتا ھے اس لئے بھی عینک نہیں استعمال کر سکتا۔ علاج بتائیے۔

  3. السلام علیکم و رحمۃ اللہ
    محترم ڈاکٹر صاحب
    مجھے دور والی چیز کافی دھندلی نظر آتی ہے اور نزدیک والی چیز بالکل صاف نظر آتی ہے
    لیکن کبھی سر میں درد وغیرہ بہت ہوتا ہے گزارش ہے کہ میری نظر بالکل ٹھیک ہوسکتی ہے یا کچھ بہتر اور دوسری بات میں حافظ قرآن ہوں حفظ کے تقریباً دو تین ماہ کے بعد آنکھوں کی بصارت متاثر ہونا شروع ہوئیں کوئی اچھا سا مشورہ دیجے بہتری کے لئے جزاک اللہ خیرا
    محمد اعظم مغل

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.