Keratoconus قرنیہ مخروطیہ: وجوہات، علاج

قرنیہ مخروطیہ کیا ہوتا ہے؟

بعض لوگوں کے قرنیہ میں یہ کمزوری ہوتی ہے کہ درمیان میں سے پتلا ہونا شروع ہو جاتا ہے، جس سے قرنیہ کا مرکزی حصہ آہستہ آہستہ آگے کو اُبھرنے لگتا ہے اور قرنیہ کی شکل مخروطی ہوتی چلی جاتی ہے۔ اِس بیماری کو قرنیہ مخروطیہ کی بیماری کہتے ہیں۔ قرنیہ کا مرکزی حصہ کئی لوگوں میں اس حد تک پتلا ہو جاتا ہے کہ بالآخر پھٹ جاتا ہے اور قرنیہ کے درمیان میں سوراخ ہوجاتا ہے۔ قرنیہ مخروطیہ والی آنکھوں کی چند تصاویر ذیل میں دکھائی گئی ہیں۔

ذیل میں سمجھایا گیا ہے کہ کس طرح آہستہ آہستہ قرنیہ کا درمیان والا حصہ بتدریج پتلا ہوتا چلا جاتا ہے۔ اِس سے قرنیہ درمیان سے اُبھرتا چلا جاتا ہے۔

قرنیہ کے اندر یہ خرابی کیوں پیدا ہوتی ہے؟

زیادہ تر مریضوں میں بیماری کے سبب کا تعین کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ تاہم درجِ ذیل وجوہات بہت سے مریضوں میں سامنے آتی ہیں:

  • بہت سے مریضوں کے وراثتی نقشے میں اِسی طرح کا قرنیہ بنانے کے احکامات ہوتے ہیں۔
  • کئی لوگوں میں لاسک اپر یشن کے بعد بطور پیچیدگی کے یہ خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔
  • قرنیہ کے اندر اگر بڑا زخم بن جائے اور لمبے عرصہ تک اُس میں سوزش چلتی رہے یا کسی اور وجہ سے قرنیہ مسلسل متورّم رہے تو اِس سے بھی اس کیفیت کے سامنے آنے کے امکانات ہوتے ہیں۔
  • بہت سے لوگوں کی آنکھوں میں مسلسل لمبے عرصہ تک الرجی رہتی ہے۔ جو لوگ علاج کرنے میں سُستی کرتے ہیں اور اُن کی آنکھوں میں علامات مسلسل چلتی رہتی ہیں خصوصاً خارش کی تکلیف اُن لوگوں میں سے کئی لوگوں کی آنکھوں میں قرنیہ خراب ہو کر مخروطی ہونا شروع کر دیتا ہے۔ 

اِس کی علامتیں کیا ہیں؟  

قرنیہ مخروطیہ کی کی علامات مختصراً ذیل میں درج کی جاتی ہیں:

  • نظر مسلسل کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہے اور تھو ڑے ہی عرصے میں یہ حالت ہو جاتی ہے کہ کسی بھی عینک سے نظر پوری ظرح صاف نہیں ہو پاتی ۔ عینک کے نمبر کا بڑا حصہ سلنڈر کی قسم کا ہوتا ہے۔
  • جب بیماری کافی آگے بڑھ چُکی ہو تو آ نکھ میں درد محوس ہونا شروع ہو جاتا ہے،
  • پانی آنے لگتا ہے، اور
  • آ نکھ سرخ رہنا شروع ہو جاتی ہے۔
  • اِ س کے علا وہ بھی بعض ایسی علامات ہوتی ہیں جو ڈاکٹر صاحبان کو ہی نظر آ سکتی ہیں ۔

اِس کی تشخیص کے لئے کونسا ٹسٹ کیا جاتا ہے؟

اِس کی تشخیص میں آنکھوں کا معائنہ سے بہت مدد ملتی ہے۔

قرنیہ مخروطیہ کی تشخیص کیلئے کارنِئل ٹوپوگرافی Corneal Topography ٹسٹ بہت مددگار ہوتا ہے۔

ایک بہت جدید مشین سے قرنیہ کی سطح کی تصویریں لی جاتی ہیں اور اُس کے مختلف حصوں کی اونچائی کا باہمی موازنہ کیا جاتا ہے۔

قرنیہ کی سطح کی تصاویر بناتے ہوئے

اِس ٹیسٹ کی کچھ تصاویر ذیل میں دکھائی گئی ہیں:

کیا اِس بیماری کا علاج مم
کن ہے؟

اِس بات کا انحصار علاج شروع کرنے کے وقت بیماری کی سٹیج پر ہوتا ہے.

  • ابتدا میں تو عینک لگا کر نظر کو صاف کیا جاتا ہے اور وقتاً فوقتاً معائنہ کیا جاتا ہے تاکہ اگر پیچیدگی کی علامات سامنے آنے لگیں تو اُن سے بچاؤ کی تدابیر اِختیار کی جا سکیں۔
  • اِس سٹیج پر انٹیکٹس کے ذریعے کافی بہتری آ جاتی ہے۔
  • جب نظر میں بہت زیادہ بہتری نہ ہو رہی ہو تو سخت کنٹیکٹ لینز کافی مددگار ثابت ہوتے ہیں اِن کی مدد سے قرنیہ کا اُبھار کم ہو جاتا ہے اور اُس کے پھٹنے کا خدشہ بھی کم ہو جاتا ہے اور ملتوی ہو جاتا ہے۔
  • جب قرنیہ بہت ہی زیادہ پتلا ہو جائے یا غیرشفّاف ہو جائے تو قرنیہ کی پیوندکاری کی جاتی ہے ۔
  • اِس وقت ایک جدید طریقہ کراس لِنکنگ Cross-Linking اپریشن کا بھی بہت کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسے CXR  یا CR3 بھی کہا جاتا ہے اِس سے بیماری کے بہت ابتدائی مراحل میں ہی علاج ممکن ہو گیا ہے۔

 

کراس لِنکنگ Cross-Linking اپریشن میں کیا کیا جاتا ہے؟ اور اِس کا کردار کس حد تک موثر ہے؟

قرنیہ پروٹین کی ایک قسم کولیجن Collagen کے دھاگوں کا جال ہوتا ہے، ان دھاگوں کے آپس میں جُڑنے میں کمزوری آ جاتی ہے جِس سے جال کے سُوراخ بڑے ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور قرنیہ پتلا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

اِس طریقۂ علاج میں بنیادی طور پر کولیجن کے دھاگوں کو ایک دوائی رائبوفلیوِن اور ایک خاص قسم کی الٹراوائیلٹ شعاعوں کی مدد سے آپس میں مضبوطی سے جوڑا جاتا ہے جِس سے کولیجن کے دھاگے دوبارہ ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں، اور مضمبوطی سے آپس میں دوبارہ جُڑ جاتے ہیں۔ اِس دھاگوں کے ایک دوسرے کے قریب آنے سے دھاگوں کے جال کے سُوراخ دوبارہ چھوٹے ہو جاتے ہیں اور قرنیہ دوبارہ موٹا ہو جاتا ہے۔ اِس عمل کو Cross-Linking کہتے ہیں۔ اس اپریشن کو CXR  یا CR3 اپریشن بھی کہا جاتا ہے.

یہ دوائی اور شعائیں لگانے والی مشین چونکہ دونوں ابھی مہنگی ہیں اور ابھی بہت کم جگہوں پر اِس کا مہیّا ہونا ممکن ہوتا ہے اِس لئے یہ طریقۂ علاج ابھی مہنگا ہے.

 

اگرآپ قرنیہ مخروطیہ سے متعلق مزید کوئی سوال پوچھنا چاہتے ہوں تو اُس کو کمنٹ کے خانے میں لکھ کر پوسٹ کر دیں انشاءاللہ انہی صفحات میں جواب دینے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی طرح اپنی رائے، تبصرہ یا تجویز کو بھی کمنٹ میں لکھ کر پوسٹ کردیں میں بہت ممنون اور مشکور ہوں گا۔

21 Replies to “Keratoconus قرنیہ مخروطیہ: وجوہات، علاج”

  1. میری عمر 33 سال ہے. مجھے keratoconus ہے. میری دونوں آنکھیں بری طرح متاثر ہو چکی ہیں تاہم میرے دونوں قرنیہ ابھی تک صاف ہیں گدلے نہیں ہوئے. مہربانی کرکے مجھے مشورہ دیں کہ مجھے کیا کرنا چاہئے؟

  2. السلام علیکم سر میری بیگم کو Kertocnus ہے میں اس کا علاج کروانا چاہتا ہوں مگر میں غریب آدمی ہوں جبکہ میں نے سنا ہے کہ یہ علاج کافی مہنگا ہے۔ مہربانی کرکے میری رہنمائی فرمائیں۔

    1. محترم شعیب صاحب یہ علاج حقیقتاً مہنگا ہے۔ جو دوائیاں استعمال ہوتی ہیں خاص طور پر riboflavin اس کی ایک vial جو سرنج کی شکل میں ملتی ہے 10000 ہزار روپے تک مل رہی ہے جو کہ کئی دفعہ تین بھی ہو جاتی ہیں۔ پھر دیگر ادویات اور اپریشن تھیٹر کے اخراجات ہوتے ہیں۔ اور ابھی تک سرکاری ہسپتالوں یا ٹرسٹ ہسپتالوں میں یہ سہولت میسر نہیں آ سکی شاید ایک آج جگہ پر ہے بھی تو وہاں باری لمبے عرصے بعد آتی ہے۔
      میں تو یہی گذارش کر سکتا ہوں کہ سوچیں کہ اگر آنکھ ختم ہی ہو جائے تو پھر آپ کو آنکھ کتنے میں ملے گی؟ اگر خدانخواستہ نابینا بیوی کو سنبھالنا پڑا تو کیا وہ آسان کام ہو گا؟ میں تو اپنی فیس پر اختیار رکھتا ہوں اُس میں خصوصی رعایت کر دوں گا۔ لیکن پہلے تو آنکھ کا معائنہ ہونا چاہئے کہ خرابی کی پوزیشن کیا ہے؟

  3. ڈاکٹر صاحب کیا قرنیہ مخروطیہ کے لئے کوئی دوائی ہوتی ہے؟

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.