Glaucoma کالا موتیا

کالا موتیا کونسی بیماری کو کہتے ہیں؟ 

بہت سے لوگوں کے نابینا ہونے کا سبب کالا موتیا ہوتا ہے، کالا موتیا بنیادی طور پر وہ بیماری ہے جس میں آنکھ کا دماغ کے ساتھ رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔ اصل میں وہ اعصاب کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں جو معلومات کو آنکھ کے پردہ بصارت سے دماغ تک منتقل کرتے ہیں۔ یہ پردہ بصارت کے اندر بھی موجود ہوتے ہیں اور آپٹک نرو Optic Nerve اندر بھی۔ 

آ نکھ کے اندرونی دباؤ سے کیا مراد ہے؟ اور آ نکھ کا دباؤ عام طور پر کتنا ہونا چاہئے؟

کالا موتیا کی تشخیص اور علاج کے حوالے سے آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش بہت زیادہ اہمیّت کی حامل ہوتی ہے۔ کیونکہ اِس دباؤ کا بڑھ جانا اِس بیماری کی اہم علامت ہے اور علاج کی کامیابی کا اندازہ  کرنے کے لئے بھی اِس کی بار بار پیمائش ضروری ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے آنکھ کے اندرونی حصوں کو خوراک فراہم کرنے کے لئے  ایک نظام بنایا ہوا ہے جس کے تحت پانی کی طرح کا مواد خون سے بن کر آنکھ میں آتا ہے آنکھ کے اندرونی حصوں کو خوراک فراہم کر کے واپس خون میں چلا جاتا ہے کالا موتیا والی آنکھ میں اس مواد کے خون میں واپس جانے کے راستے میں رکاوٹ پڑ جاتی ہے اور وہ مواد آہستہ آہستہ آنکھ کے اندر معمول کی مقدار سے زیادہ مقدار میں جمع ہونے لگتا ہے۔ جس سے آنکھ کا اندرونی دباؤ معمول سے زیادہ رہنے لگتا ہے.

عام طور پر آنکھ کا اندرونی دباؤ 22mmgHg سے نیچے رہتا ہے لیکن کالا موتیا کی بیماری کی صورت میں 50 ,40 اور بعض اوقات 100 تک بھی چلا جاتا ہے۔ اِس دباؤ کی پیمائش مختلف طریقوں سے کی جا سکتی ہے جیسے نیچے کی تصاویر میں نظر آ رہا ہے:

Applanation Tonometer کی مدد سے آنکھ کا دباو معلوم کیا جا رہا ہے

Air-Puff Tonometer کی مدد سے آنکھ کے دباو کی پیمائش کی جا رہی ہے

کالا موتیا کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کا علاج نہیں ہو سکتا اور اگر کروایا بھی جائے تو ناکام ہو جاتا ہے کیا یہ بات صحیح ہے؟

اصل میں کالا موتیا کی کئی اقسام ہیں کُچھ واقعتاً تقریباً لاعلاج ہیں لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ علا ج بیماری کے کس مرحلے پر شروع کیا گیا! اگر اِبتدائی سٹیج پر علاج ہو جائے تو سو فیصد کامیاب ہوتا ہے اور اگر کالا موتیا کے آخری مرحلوں میں جا کر علاج کیا جائے تو عین ممکن ہے کہ علاج کا بالکل کو ئی فائدہ ہی نہ ہو۔ انتہائی اہم چیز یہ ہے کہ کالا مو تیاکا علاج جِس دن شروع کیا جائے گا اُس دن تک جو نقصان ہو چُکا ہو گا وُہ واپس نہیں آئے گا البتّہ جِتنا نُور با قی ہو گا اُس کے بچ جانے کا کافی زیادہ امکان ہو گا۔ ہمارے ہاں چو نکہ لوگ بہت لیٹ علاج کرونے کے لئے آتے ہیں بلکہ اکثر لوگ تو جب آتے ہیں تو بیماری آخری سٹیج پر پہنچ چکی ہوتی ہے اِس لئے یہ بات کافی مشہور ہو گئی ہے کہ علاج کروایا بھی جائے تو ناکام ہو جاتا ہے؛ آج کے دور میں بھی لوگ موتیا کے پکنے کا اِ نتظار کرتے رہتے ہیں۔

کیا کالا موتیا کی کوئی علامات ہوتی ہیں؟

چونکہ کالا موتیا کی مختلف اقسام ہیں اِس لئے علامات کا تعلُّق اِس بات سے ہے کونسی قسم کا کالا موتیا اُس مریض میں موجود ہے جس کی آپ بات کر رہے ہیں۔ علامات اور علاج کو سمجھنے کے لئے کالا موتیا کو دو قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے جو کہ درجِ ذیل ہیں:    

1.      Narrow Angle Glaucoma

2.      Open Angle Glaucoma  

اگر اِن اقسام کی کچھ تفصیل آپ سمجھنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو پھر علامات کی آپ کو سمجھ آ جائے گی اور اِن کے علاج کا بنیادی فلسفہ اور تفصیلات بھی بآسانی سمجھ سکیں گے۔ نیچے اِن کی کُچھ اہم تفصیلات بیان کی جا رہی ہیں۔

کالا موتیا کو سمجھنے کی کوشش کیجئے 

پہلی قسم Narrow angle glaucoma

وہ علامات جِن کومریض محسُوس کرتا ہے  

جو مریض کالا موتیا کی اِس قسم میں مبتلا ہوتے ہیں اُن کو مرض کی تکلیف اتنی زیادہ ہوتی ہے ڈاکٹر کے پاس آنے پر مجبُور ہو جاتے ہیں۔ آنکھ کی درد، سر کی درد، نظر میں کمی، دھندلا پن، وغیرہ ایسی علامات ہیں جن کے آ جانے سے کوئی بھی گھر بیٹھا نہیں رہ سکتا۔ تفصیلات پر ذرا غور فرمائیں: 

1.      جس مریض میں ابھی مرض کی اِ بتدائی سٹیج ہو اُس کو وقتاً فوقتاً تھوڑے وقفے کے لئے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے سر بھاری ہو گیا ہے۔ بعض اوقات ہلکی سر درد بھی ہونے لگتی ہے لیکن تھو ڑے وقفے کے بعد یہ تکلیفیں خود ہی ٹھیک ہو جاتی ہیں یا پھر مختلف قسم کے ٹونے ٹوٹکے اختیار کرنے سے ٹھیک ہو جاتی ہیں چنانچہ کُچھ کو کِسی ڈاکٹر کی گولی یا ٹیکے سے آرام آ جاتا ہے کوئی کہتا ہے میں تو فلاں ہومیوپیتھک یا ہربل دوائی اِستعمال کرتا ہُوں اور ٹھیک ہو جاتا ہُوں۔ کئی اِس آرام آ جانے کو کِسی وظیفے اور وِرد کے ساتھ منسلِک کر دیتے ہیں۔ تکلیف کے اِس وقفے کو ہم مرض کا ایک دورہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اِس سٹیج کوپروڈرومل سٹیج Prodromal stage کہتے ہیں۔ کہنے کو تو یہ دورہ چلا جاتا ہے اور مختلف ادویہ اور عامل وغیرہ کو اِس کے چلے جانے کا کریڈٹ بھی مل جاتا ہے لیکن دراصل نظر کا کُچھ نہ کُچھ نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ بیماری زینہ بہ زینہ بڑھتی رہتی ہے باکل ایسے ہی جیسے اندر ہی اندر دیمک بڑھتی رہتی ہے۔ بہت سارے مریضوں میں اِس سٹیج پر کالا موتیا تشخیص نہیں ہو پاتا حالانکہ یہ وہ سٹیج ہے جس میں کالا موتیا کا سو فیصد علاج ممکن ہے۔ تشخیص نہ ہو سکنے کی اہم تریں وجہ یہ ہوتی ہے کہ مریض آئی سپیشلسٹ کے پاس جاتے ہی نہیں۔  

2.      جب مرض تھوڑا آگے بڑھتا ہے تو مرض کے دورے کے دوران آ نکھوں کے آگے کُچھ دُھندلاپن بھی محسُوس ہونے لگتا ہے اور بلب کی طرف دیکھنے پر رنگدار دائرے بھی نظر آنے لگتے ہیں۔ یہ بات دراصل اِس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہوتی ہے کہ بہاؤ کے راستے میں رُکاوٹ کافی بڑھ چکی ہے اور آنکھ کا پریشر اب کافی زیادہ مقدار میں بڑھنا شروع ہو گیا ہے اور ظاہر ہے اُسی تناسب سے ہر دورے کا نقصان بھی بڑھتا جا رہا ہے۔  

3.      کالا موتیا کی اگلی سٹیج پر مریض کو مرض کے دورے کے دو ران سر کے سا تھ ساتھ آ نکھوں میں بھی درد شروع ہو جاتا ہے اور آنکھوں میں سُرخی بھی رہنا شروع ہو جا تی ہے۔ اور کُچھ نہ کُچھ بھا ری پن اور سُرخی دورے کے علاوہ بھی رہنے لگتی ہے، نظر میں آہستہ آہستہ کمی آنے لگتی ہے؛ اِس مرحلے پرکئی مرتبہ آئی سپیشلِسٹ بھی جلدی میں غلطی کر جاتے ہیں اور آنکھ کا دباؤ چیک نہیں کرتے اور الرجی اور کرونک کنجنکٹوائیٹس وغیرہ کی دوائیاں تجویز کر دیتے ہیں ۔ اِس سٹیج کو کرونک کنجسٹو گلاکوما Chronic congestive glaucoma کہتے ہیں۔  

4.      اگر اس سٹیج پر علاج کے مو قع کو ضا ئع کر دیا جائے تو پھر وہ بدنامِ زمانہ دورہ پڑتا ہے۔ اِس سٹیج کو شدید اٹیک Acute congestive attack کہتے ہیں۔ یہ بیماری کی وہ بدنامِ زمانہ نوعیّت ہے جسے معروف معنوں میں کالا موتیا کہا جاتا ہے۔ اِس دورے کے دوران

·         مریض کو سر میں شدید درد ہوتا ہے۔

·         آ نکھ کے اندر شدید دردہوتا ہے۔

·         کئی مر تبہ مریض آ کر بتاتے ہیں کہ درد کی شدّت کے باعث دو یا تین دن سے سو بھی نہیں سکے۔

·         شدید اُلٹیاں آنے لگتی ہیں اور اُن کا ہیضے کا علاج کیا جا رہا ہوتا ہے۔ 

·         مدہوشی کی سی کیفیّت طاری ہو سکتی ہے۔

·         نظر میں یکدم شدید کمی آ جا تی ہے۔

·         اِس حا لت میں کئی دفعہ مر یض کو ہسپتال دا خل بھی کر نا پڑتا ہے۔

وُہ علا مات جِن کا ڈ اکٹر مُعا ئنہ کر تا ہے  

جب مرض ابھی شروع ہو رہا ہو تو اِس کی تشخیص بڑی مشکل ہوتی ہے۔ عملاً مریض کی داستانِ غم کو غور سننا ہی اہم ترین کام ہے جس سے تشخیص ہو سکتی ہے۔ اِس مرحلے پر خاص طور پر مریض کی توجہ سے ہسٹری لینا تشخیص کی بنیاد بنتا ہے۔ مریض کی علامتوں کو اگر غور سے نہ سُنا جائے یا اُن کی تفصیل کو دھیان سے نہ معلُوم کیا جا ئے تو اِس کی تشخیص ناممکن ہو جاتی ہے، کیونکہ اِس مرحلے پر تشخیص کے لئے ا بھی تک کوئی قابلِ اعتماد ٹسٹ دریافت نہیں ہو سکے۔ 

سلٹ لیمپ بائیو مائکروسکوپ Slit-Lamp Biomicroscope سے آنکھ کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ یہ وہ مشین ہے جس کو پہلی د فعہ بنانے وا لے کو نوبل انعام دیا گیا تھا۔ عمومی معائنے کے علاوہ درجِ زیل معائنہ جات بھی کیے جاتے ہیں: 

1.      آنکھوں کی AC Depth چیک کی جاتی ہے کئی لوگوں میں یہ شروع سے ہی نارمل سے کم ہوتی ہے۔ سلٹ لیمپ کی مدد سے قرنیہ اور آئرس کے باہمی فاصلے کا معائنہ کرکے یہ اندازہ کیا جاتا ہے کہ آنکھ میں قرنیہ اور آئرس کے درمیان موجود خانے کی گہرائی کتنی ہے؟ کیونکہ اِسی میں گذر کر آنکھ کا پانی واپس خون میں جا کر شامل ہوتا ہے۔ 

2.      آنکھ کا دباؤ چیک کیا جاتا ہے۔ آنکھ کے دباؤ کی پیما ئش اِس مرض کی تشخیص میں بہت اہمیّت رکھتی ہے۔ لیکن ایک خاص مسئلہ یہ ہے کہ بیماری کے ابتدائی مراحل میں آنکھ کا اندرونی دباؤ عام طور پر جب بھی چیک کریں نارمل ہو تا ہے۔ صرف دورے کے دوران ہی زیا دہ ہو تا ہے۔ اِس لئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ جب مریض مخصوص کیفّت محسُو س کرے تو اُس دوران دباؤ کو چیک کرنے کا اِہتمام کیا جائے۔ جب بیماری کافی بڑھ چکی ہوتی ہے تو پھر تو یہ دباؤ کا بڑھنا ایک قابل اعتماد اور اہم ترین علامت بن جاتا ہے۔  

3.      ایک مخصوص عدسے کی مدد Gonioscopy کرکے پانی کے نکاس کے مقام  یعنی  ٹرابیکولر نیٹورک Trabecular meshwork کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ قرنیہ اور آئرس دونوں کے ملاپ جگہ پر ایک چھلنی سی بنی ہوتی جسے ٹرابیکولر نیٹورک Trabecular meshwork کہتے ہیں۔ بعض مریضوں خصوصاً چھوٹی عمر کے مریضوں میں اِس کی بناوٹ نارمل نہیں ہوتی۔ کئی مریضوں میں آئرس اور قرنیہ آپس میں جڑے ہوتے ہیں جس سے پانی اِس چھلنی تک پہنچ ہی نہیں پاتا۔ کئی مریضوں میں اِس چھلنی کے سوراخوں میں بعض مادّے پھنس چکے ہوتے ہیں۔ اِسی طرح بعض مریضوں میں اِس جگہ جھلّیاں بن جاتی ہیں۔ 

سلٹ لیمٹ سے آنکھ کا معائنہ کیا جا رہا ہے

Gonioscopy کی جا رہی ہے

جب یہ اٹیک ہو جاتا ہے تو پھر کالا موتیا کا علاج تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ بہت ہی کم خوش قسمت ایسے ہوتے ہیں جن کی نظر اِس سٹیج پر بچائی جا سکتی ہے۔ اِس سٹیج پر صحیح علاج نہ ہو سکے تو پھِر آنکھ مستقل طور پر نابینا ہو جاتی ہے۔ اِس اٹیک کا علاج ایمرجنسی طور پر ہونا چاہئے۔ اِس مرحلے پر ایک ایک منٹ قیمتی ہوتا ہے۔ بہت سارے لوگ جو کالا موتیا کی وجہ سے نابینا ہوئے ہوتے ہیں وہ دراصل اِسی اٹیک کی وجہ سے ہوئے ہوتے ہیں۔

اگر ڈاکٹر اور مریض دونوں مرض کی اِ بتدا ئی سٹیج پر ذمہ داری کا ثبوت دیں تو  کالا مو تیا بڑی آسانی سے پکڑا جاتا ہے اور مریض نابینا ہو جانے کے حادثے سے بچ جا سکتا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے ہما رے ہاں بہت سے لو گوں کی آ نکھیں اِسی قسم کے مو تیا سے ضا ئع ہو جا تی ہیں۔ مریض ٹونوں ٹوٹکوں میں وقت ضائع نہ کریں اور ڈاکٹر مریض بات کو غور سے سنیں اور آنکھ کا دباؤ کا چیک کرنے میں کوتاہی نہ برتیں۔ 

کونساعلاج کیا جانا چاہئے؟

1.      اِس مرض کے علاج میں دوائیاں ترجیحِ اوّل نہیں ہو تیں ۔

2.      بلکہ لیزر اپر یشن تر جیحِ اوّل ہو تا ہے اگر لیزر سے فا ئدہ ہونے کا امکان کم ہو تو دوسرا آپشن اپریشن کا ہوتا ہے۔

3.      اگر اپریشن کے حوالے سے کوئی مسائل ہوں یا اُسے ملتوی کرنا ضروری ہو تو پھر دوا ئیاں استعمال کرنے کے آپشن پر غور کیا جاتا ہے۔

زیا دہ تر مریضوں کا علا ج لیزر کے ذریعے کیا جا سکتا ہے لیزر مشین کی مدد سے آ ئرس کے اندر پتلی کی طرح کا ایک سوراخ بنا دیا جاتا ہے جس سے مواد کی خون کی طرف واپسی کا راستہ بند ہونے اور پریشر بڑھنے کا امکان ختم ہو جاتا ہے دوسرے لفظوں میں کالا موتیا مستقلاً ختم ہو جاتا ہے۔  

لیزر کے ذریعے کالا موتیا کا علاج کیا جارہا ہے

کالا موتیا کا اپریشن کرتے ہوئے

دوسری قسم Open Angle Glaucoma

·         اِس بیما ری کی سب سے خطر نا ک بات یہ ہے کہ اِس کی کو ئی علامات نہیں ہو تیں۔ یہ اِتنی خطر ناک چیز ہے کہ کئی دفعہ ایسے ہو تا ہے کہ مر یض کی 80 فیصد نظر ضا ئع ہو چُکی ہو تی ہے لیکن پھر بھی وہ علاج کر نے میں سنجیدہ نہیں ہوتا۔ کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اِس مرض میں مر کزی نظر یعنی سا منے دیکھنے کی صلا حیّت سب سے آخر میں ختم ہو تی ہے جبکہ دیکھنے کے منظر کی وُسعت میں مسلسل کمی آتی چلی جا تی ہے۔ یہ مر ض دیمک کی طرح کا م کر تا ہے خفیہ انداز میں شدید نقصان ہو تا چلا جاتا ہے لیکن پتہ با لکل نہیں چلتا۔ 

  • یہ مرض سر یا آ نکھو ں میں دردکا با عث نہیں بنتا۔صرف ہلکی بے چینی یا بھاری پن سا محسوس ہوسکتا ہے۔
  • اِس مرض میں رات کی نظر آ ہستہ آ ہستہ کم ہو تی جا تی ہے۔
  • بہت سے لو گوں کا عینک کا نمبر جلدی جلدی تبدیل ہو نے لگتا ہے۔
  • زیادہ تر مر یض کسی اور تکلیف کا علاج ڈھو نڈنے ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے اور وہاں پر پہلی دفعہ انکشاف ہو تا کہ آپ کو کالا مو تیا ہے۔

وہ علا مات جِن کا ڈ اکٹر مُعا ئنہ کر تا ہے  

  • اِس مر ض کی اِ بتدا ئی سٹیجو ں میں سب سے ا ہم چیز مر یض کی فیملی ہسٹری ہے ۔ آ نکھ کے اندرونی دبا ؤ کی پیما ئش اِس مرض کی تشخیص میں بہت اہمیّت رکھتی ہے۔اِ بتدا ئی سٹیج پر دو با تیں بہت اہم ہو تی ہیں

    • ایک تو صبح اور شام کے دبا ؤ میں بہت زیا دہ فرق ہو تویہ بڑی اہم بات ہو تی ہے خواہ دو نوں آ نکھوں کا دبا ؤ نا رمل ہی کیوں نہ ہو ۔

    • دوسری بات دونوں آنکھو ں کے با ہمی فرق کا بہت زیادہ ہو نا ہے خواہ دو نوں آ نکھوں کا دباؤ نا رمل ہی کیوں نہ ہو ۔

  • Gonioscopy یعنی اخراج کے راستے [ٹرا بیکو لر میش ورک] کا معا ئنہ جہاں پر رُ کا و ٹ ہو تی ہے۔

  • پردہ بصا رت کا معا ئنہ یعنی فنڈو سکو پی  Fundoscopy کالا موتیا کی اس قسم کی تشخیض میں بہت بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اِس معائنے میں سب سے اہم چیز C:D ratio کا معا ئنہ ہے ۔ یہ معا ئنہ بہت اہمیّت رکھتا ہے۔

  • آ پٹک ڈسک [Optic disc] عمو می طور پر گلا بی رنگ کی ہو تی ہے جبکہ اُس کا مر کزی حصّہ سفید ر نگ کا ہو تا ہے جِسے آ پٹک کپ کہتے ہیں۔ ان دونوں کے با ہمی تنا سب کا معا ئنہ کیا جا تا ہے ۔ اگر ایک تہا ئی حصہ سفید با قی سارا گلا بی ہو تو یہ نا رمل ہے۔ اسے 0.3 کہا جا تا ہے۔ کا لا مو تیا کی اِس قسم میں یہ تنا سب بر قرار نہیں رہتا اور آ ہستہ آ ہستہ سفید حصہ بڑا ہو تا جا تا ہے اور گلا بی حصہ چھو ٹا ہو تا جا تا ہے جب یہ آدھا آدھا ہو جا تا ہے تو 0.5 کہا جا تا ہے ۔ جب گلا بی حصہ صرف 10% فیصد رہ جا ئے تو 0.9 کہا جا تا ہے نیچے تصو یر میں اس کی مختلف کیفیا ت کو د کھا یا گیا ہے ۔ 

  • اِس تنا سب کے معا ئنے کے دو ران دو با تیں سا منے نہ ر کھنے سے تشخیص میں غلطی کا قوی امکا ن ہو تا ہے۔

    • پہلی بات دو نوں طرف کے تنا سب کا با ہمی موا زنہ یعنی کیا دو نوں طرف کا تنا سب عام حا لات سے مختلف نو عیّت کا ہے یا دو نوں آ نکھوں کا آ پس میں تنا سب ملتا جلتا ہے اگر دو نوں طرف ایک طرح کا تنا سب ہو تو بہت زیا دہ امکان ہے کہ کپ نا رمل ہو لیکن بڑ ے سا ئز کا ہو۔ اس کیفیت میں کُچھ عر صے کے لئے بار بار معا ئنہ کر کے معلوم کیا جا تا ہے کہ کیا اِس کا سائز ایک جگہ پر رُ کا ہو ا ہے یا بڑھ رہا ہے؟ اگر لمبے عر صہ تک معا ئنہ پر مسلسل ایک ہی تنا سب پا یا جا ئے تو بہت ممکن ہے کہ یہ کِسی پر انی بیما ری کی با قی رہ جا نے والی علا مت ہو اور اب کا لا مو تیار نہ ہو۔

    • دوسری بات ہے کپ کے سا ئز کا مسلسل بڑھنا ہے اگر یہ بڑھ رہا ہو تو پھر لازما کالا مو تیا ہی کی علا مت ہے ۔

  • نظر کے میدا ن کی وسعت [Visual field] کا معا ئنہ بہتر ین معیا ر کی جدید خودکار مشینوں کے ذ ریعے کی جا تا ہے۔جِس سے

    1. ایک تو یہ اندا زہ ہو تا ہے کہ نقصا ن کس حد تک ہو ا ہے۔

    2. دوسرے کُچھ خا ص قسم کی علا مات مل جا تی ہیں جِن کی مد د سے مرض کی بالکل اِ بتدا ئی سٹیج پر ہی تشخیص ممکن ہو جاتی ہے۔

    3. اور پھر یہ معلو م کر نا بھی ممکن ہو جا تا ہے کہ کیا مرض ایک جگہ پر رُ کا ہو ا ہے یا بڑھ رہا ہے؟ 

 

OCT  ٹسٹ اور Visual Fields ٹیسٹوں کے ذر یعے اب بہت ہی ابتدا ئی مر حلوں پر تشخیص کے امکا نات پیدا ہو گئے ہیں۔ 

اِس تصویر میں آنکھ کی ساخت کا ایک خاکہ دکھایا گیا ہے۔ سُرخ تیر آنکھ کے اندر ہونے والی Aqueous کی گردش کے راستے کو ظاہر کر رہا ہے جہاں سے یہ واپس خُون میں داخل ہو جاتا ہے۔ اِس اِخراج کے راستے پر ایک چھلنی یا جالی لگی ہوتی ہے جِسے Trabecular Meshwork  کہتے ہیں نیلے رنگ کا تیر اُس چھلنی کی طرف اِشارہ کر رہا ہے۔

دائیں طرف کی تصویر میں اِس چھلنی کے ایک چھوٹے سے حصّے کو خوردبین سے بڑا کرکے دکھایا گیا ہے۔ آس چھلنی میں موجود سُوراخوں میں رُکوٹ آ جانے سے آنکھ کا دباو بڑھ جاتا ہے۔ لیزر شعاعوں کے ذریعے اِنہی سُوراخوں کو کھولا جاتا ہے۔ کھولنے کے اِس عمل کو Argon laser trabeculoplsty کہا جاتا ہے۔ بائیں طرف کی طرف کی تصویرمیں لیزر کے اثرات دکھائے گئے ہیں۔ 

اگرآپ کالا موتیا سے متعلق مزید کوئی سوال پوچھنا چاہتے ہوں تو اُس کو کمنٹ کے خانے میں لکھ کر پوسٹ کر دیں انشاءاللہ انہی صفحات میں جواب دینے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی طرح اپنی رائے، تبصرہ یا تجویز کو بھی کمنٹ میں لکھ کر پوسٹ کردیں میں بہت ممنون اور مشکور ہوں گا۔

 

37 Replies to “Glaucoma کالا موتیا”

  1. ڈاکٹر صاحب مجھ تقریبا ۴ سال سے کالا موتیا ہے، دونوں آنکھوں کا موتیا کا آپریشن ہو چکا ہے میں شہزاد آی کلینک میں ڈاکٹر رحمٰن کے زیر علاج ہوں۔ مگر اب بار بار آنکھوں کے ٹیسٹ کروانے سے تھک گیا ہوں، اب وہاں جانے کی ہمّت بھی نہی ہوتی کہ پھر ٹیسٹ کووانا ہونگے۔ برائے مہربانی کوی حل تجویز فرمادیں
    میں کراچی میں رہائش پزیر ہوں

    1. لاہور میڈیکیئر آئی سنٹر فیروز پور روڈ،
      لاہور میڈیکیئر آئی سنٹر فیروز پور روڈ،

      ایام معائنہ: منگل، جمعرات، ھفتہ
      ایام معائنہ: منگل، جمعرات، ھفتہ

  2. Dr. Asif Khokhar, As-Salam-o-Alaikum
    I am residing in Karachi. Would you please advise me the best doctor/treatment of Glaucoma available at Karachi, because I can’t leave the city
    Thanks for your co-operation, I remain
    Abdur-Raheem Mansoori

  3. علیکم ڈاکٹر صاحب ایک ڈاکٹر صاحب نے بتایا ہے کہ میری بیگم کو کالاموتیا ہو گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ بائیں آنکھ کا پریشر 60 ہے۔ اس آنکھ میں ان کو صرف اتنا نظر آتا ہے کہ ہاتھ یا کوئی چیز ہل رہی ہے اس سے زیادہ بالکل نظر نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے قطرے لکھ کر دیئے ہیں۔ آپ ہمیں اس سٹیج پر ہمیں کیا مشورہ دیتے ہیں؟ پلیز ہمیں جواب دیں اللہ تعالٰی آپ کو اس کا بہترین اجر عطا فرمائے گا۔

    1. السلام محترم جنید صاحب آپ میرے کالاموتیا کے بارے میں آرٹیکل کا مطالعہ ذرا غور سے فرمائیں آپ کو انشاءاللہ تمام ضروری معلومات مل جائیں گی۔ باقی آپ کی بیگم صاحبہ کیلئے کیا ہونا چاہئے یہ تو آنکھ کا معائنہ کرکے ہی بتایا جا سکتا ہے۔

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.