Eye allergy آنکھوں کی الرجی: وجوہات، علاج

آنکھوں کی حَسّاسِیّت

آنکھوں کی الرجی بہت عام ہے۔ اِس کی مختلف قسمیں ہیں۔ کُچھ مریضوں کا مستقل علاج ممکن ہوتا ہے لیکن زیادہ ترمریضوں کو الرجی سے مستقل طور پر نجات نہیں مل پاتی۔  چونکہ اِس کا علاج لمبا ہوتا ہے اور وہ بھی زیادہ تر بیماری کو صرف کنٹرول بالکل صحیح کرنے کیلئے نہیں اِس لئے بہت سے لوگ عموماً مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اِس وجہ سے سُستی کا مظاہرہ کرتے اور نامکمل علاج کرتے ہیں۔ اِسی مایوسی کی کیفیّت سے فائدہ اُٹھا کر بہت سے لوگ اِن مریضوں کو جھوٹی امیدیں دلاتے ہیں اور مستقل علاج کے دعوے کرکے اُن کو رنگ برنگے علاج بتاتے ہیں جن پر مریض بہت زیادہ پیسے ضائع کرتے ہیں۔ اِس لئے اِس مرض کے بارے میں بنیادی معلومات کا جاننا بہت ضروری ہے۔ مرض کو بھی یہ معلومات کرنی چاہئیں اور لواحقین کو بھی۔ اصل میں جب بیماری کے بارے میں صحیح معلومات ہوں تو آدمی اُس کے ساتھ زندہ رہنا سیکھ جاتا ہے، ذہنی طور پر اُس سے لمبی لڑائی لڑنے کیلئے تیار ہو جاتا ہے اور مایوسی کا شکار ہو کر دھوکے میں نہیں آتا۔ 

آنکھوں کی الرجی بہت عام ہے۔ اِس کی مختلف قسمیں ہیں۔ کُچھ مریضوں کا مستقل علاج ممکن ہوتا ہے لیکن زیادہ ترمریضوں کو الرجی سے مستقل طور پر نجات نہیں مل پاتی۔ چونکہ اِس کا علاج لمبا ہوتا ہے اور وہ بھی زیادہ تر بیماری کو صرف کنٹرول بالکل صحیح کرنے کیلئے نہیں اِس لئے بہت سے لوگ عموماً مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اِس وجہ سے سُستی کا مظاہرہ کرتے اور نامکمل علاج کرتے ہیں۔ اِسی مایوسی کی کیفیّت سے فائدہ اُٹھا کر بہت سے لوگ اِن مریضوں کو جھوٹی امیدیں دلاتے ہیں اور مستقل علاج کے دعوے کرکے اُن کو رنگ برنگے علاج بتاتے ہیں جن پر مریض بہت زیادہ پیسے ضائع کرتے ہیں۔ اِس لئے اِس مرض کے بارے میں بنیادی معلومات کا جاننا بہت ضروری ہے۔ مرض کو بھی یہ معلومات کرنی چاہئیں اور لواحقین کو بھی۔ اصل میں جب بیماری کے بارے میں صحیح معلومات ہوں تو آدمی اُس کے ساتھ زندہ رہنا سیکھ جاتا ہے، ذہنی طور پر اُس سے لمبی لڑائی لڑنے کیلئے تیار ہو جاتا ہے اور مایوسی کا شکار ہو کر دھوکے میں نہیں آتا۔

الرجی کیوں ہو جاتی ہے؟ جسم میں کیا نقص پیدا ہو جاتا ہے کہ انسان ایسی چیزوں کو برداشت نہیں کر پاتا جو الرجی پیدا کرنے کیلئے معروف ہیں؟

الرجی اصل میں جسم میں پائی جانے والی ایک کمزوری ہے۔ جس کی وجہ سے بعض چیزوں کو جسم برداشت نہیں کر پاتا۔ جونہی اُن چیزوں سے واسطہ پڑا جسم میں کچھ زہر پیدا ہونے شروع ہو گئے۔ اب یہ زہر جسم کو نقصان پہچانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ زہر جسم کے اپنے ہی بنائے ہوئے ہوتے ہیں اور زیادہ تر وہ کیمیاوی مادّے ہوتے ہیں جو جسم بنیادی طور پر اپنے دفاع کے لئے استعمال کرتا ہے۔ مختلف مریضوں میں مختلف طریقِ کار سے یہ بیماری نقصان پہنچاتی ہے۔ اِن میں سے کُچھ کی تفصیل نیچے دی گئی ہے:

  1. الرجی کے مریضوں میں  جن چیزوں کے خلاف زہریلے مادے پیدا ہوتے ہیں اُنھیں الرجن Allergen کہتے ہیں۔
  2. زیادہ تر مریضوں میں یہ ألرجن جسم کے باہر سے آتے ہیں جب ألرجن جسم میں آتا ہے تو اُس سے تعامل کے نتیجے میں خاص کیمیاوی مادے پیدا ہوتے ہیں جن سے الرجی کی علامات پیدا ہوتی ہیں۔ 
  3. لیکن کئی مریضوں کے جسم کے اندریہ الرجن جب ایک دفعہ آتے ہیں تو پھر جسم کے اندر مستقل بسیرا کر لیتے ہیں مثلاً جسم میں کسی جگہ پر موجود ٹی بی کے جراثیم یا مسلسل گلا خراب رہے تو گلے کے غدود میں موجود جراثیم وغیرہ۔ ایسے مریضوں چونکہ مسلسل الرجن چھیڑچھاڑ کرتا رہتا ہے اِس لئے اِن میں مسلسل ہی علامات موجود رہتی ہیں۔ 
  4. اِن زہریلے مادوں کا اصل کام تو جراثیموں کو مارنا ہے یا دوسری بیرونی چیزوں سے جسم کی صفائی کرنا ہے لیکن الرجی کی کمزوری رکھنے والے لوگوں کا جسم کا مدافعتی نظام زیادہ حساس ہونے کی وجہ سے اِن مادوں کو ضرورت سے کہیں زیادہ مقدار میں پیدا کر دیتا ہے چنانچہ وہ اپنے ہی جسم کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتے ہیں۔ 
  5. کئی لوگوں میں نقص کی نوعیّت یہ ہوتی ہے کہ اُنکے جسم کا اپنا نظامِ مدافعت اپنے ہی جسم کے کسی حصے یا کسی کیمیاوی جزو کو بیرونی چیز سمجھ کر اُس کے ساتھ زور و شور سے لڑائی شروع کر دیتا ہے۔ اِس قسم کی الرجی کو Autiimmune disorders کہتے ہیں۔ یوں وہ جسم کے متعلقہ حصے کو نقصان پہچانا شروع کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں الرجی کی علامات پیدا ہوتی ہیں۔ 

کیا الرجی کی کوئی قسمیں بھی ہوتی ہیں؟

سب سے زیادہ درجِ ذیل قسمیں پائی جاتی ہیں:

  1. Seasonal Allergic Conjuctivitis SAC مخصوص موسموں میں ظاہر ہونے والی الرجی۔ اِن مریضوں میں زیادہ تر بعض درختوں کے زردانوں Pollens کے خلاف الرجی ہوتی ہے۔ اور چونکہ یہ پولن خاص موسم میں پیدا ہوتے ہیں اِس لئے علامات بھی خاص موسموں میں پیدا ہوتی ہیں یا خاص علاقوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ 
  2. Perrenial Allergic Conjuctivitis PAC سارا سال موجود رہنے والی الرجی۔ اِس کی وجہ متفرق ہوتی ہیں۔ اِن کا جسم کئی ایسی اشیاء کے خلاف حساس ہوتا ہے جو اکثر اوقات جسم کے قریب موجود رہتی ہیں اور عملاً جن سے بچنا محال ہوتا ہے۔
  3. Vernal Catarrh یا Spring Catarrh اِس مخصوص علامات رکھنے والی الرجی میں بہت سے  بچے مبتلا ہوتے ہیں۔ اِس کے مناسب نہ کرنے علاج اور اِس کو کنٹرول نہ کرنے کے باعث بہت سارے بچے مستقل اذیت میں مبتلا رہتے ہیں اور ایک معتدبہ تعداد کی ایک یا دونوں آنکھوں کی نظر قرنیہ خراب ہو جانے سے مستقل طور خراب ہو جاتی ہے۔ یا قرنیہ مخروطیہ کی مرض پیدا ہو جاتی ہے۔ 
  4. Atopic Keratoconjuctivitis ATC الر جی۔ یہ قسم بچپن کے بعد کی عمر کے لوگوں میں ہوتی ہے۔ اِس کا مناسب علاج نہ کرنے اور بروقت اور مسلسل علاج کرکے اِس کو کنٹرول نہ کرنے کے باعث بہت سے لوگ مستقل اذیت میں مبتلا رہتے ہیں اور کئی افراد کی ایک یا دونوں آنکھوں کی نظر قرنیہ خراب ہو جانے سے مستقل طور خراب ہو جاتی ہے۔ اِن میں بھی قرنیہ مخروطیہ کا مرض پیدا ہو جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ 
  5. Giant Papillary Conjuctivitis یہ الرجی زیادہ تر کنٹیکٹ لینز استعمال کرنے والے لوگوں میں دیکھنے میں آتی ہے۔ اگرچہ کئی مریضوں میں کنٹیکٹ لینز بھی اِس کو پیدا کر دیتے ہیں لیکن زیادہ تر کنٹیکٹ سے متعلق محلولوں کے کئی اجزاء کے خلاف یہ الرجی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ الرجی اُن لوگوں میں بھی دیکھی جاتی ہے جو مصنوعی آنکھ استعمال کرتے ہوں یا ایسے لوگ جن کے اپریشن کے کافی عرصہ بعد بھی ٹانکے نہ نکالے گئے ہوں۔

آنکھوں کی الرجی کی علامات کیا ہوتی ہیں؟

درجِ ذیل تین علامتیں الرجی کے لوازمات میں شامل ہیں۔ یہ تین علامتیں جب موجود ہوں تو تشخیص الرجی ہو گی:

  1. آنکھوں میں خارش رہنا۔

  2. آنکھوں کا سرخ ہونا۔

  3. آنکھوں کی اندرونی جلد کا سُوجھا ہوا ہونا۔

الرجی جب عدم توجہ اور عدم علاج کے باعث بگڑ جاتی ہے تو مختلف پیچیدگیوں کے نتیجے میں مزید بھی کئی علامات ظاہر ہو جاتی ہیں مثلاً درجِ ذیل: 

  1. آنکھیں روشنی برداشت ہی نہیں کرتیں۔
  2. قرنیہ سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
  3. نظر انتہائی کم ہوجاتی ہے۔

علامات کو سمجھنے کے لئے چند تصویریں

    الرجی سے ہونے والی سُرخی اس طرح کی ہوتی ہے

 

پپوٹوں کی اندرونی سطح پر الرجی سے بننے والے دانے اور گلٹیاں

 

الرجی سے بننے والے داغ جو سوزش کا مرکز ہوتے ہی

الرجی سے قرنیہ پر بننے والا زخم 

بالاخر قرنیہ اِس حد تک خراب ہو جاتا ہے جس سے بینائی مستقل خراب ہو جاتی ہے جو صرف قرنیہ کی پیوند کاری سے ہی بحال ہو سکتی ہے۔

اِن افراد میں الرجی جلد کو بھی متاثر کر رہی ہے

کیا الرجی مستقل طور پر ٹھیک ہو جاتی ہے؟

حقیقت تو یہی ہے الرجی کے مریضوں کی اکثریت کے لئے کوئی ایسا علاج تجویز کرنا ممکن نہیں ہوتا جس سے اُن کی الرجی سے مستقل طور پر جان چھوٹ جائے۔ ہم اُن کی مدد کرکے اُن کی تکلیف کو کم کرتے ہیں۔

اکثر مریضوں کو علاج سے اتنا زیادہ افاقہ ہو جاتا ہے کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اُن کی بیماری ختم ہو گئی ہے۔ اگرچہ وقتاً فوقتاً بیماری کا حملہ ہوتا رہتا ہے۔

اگر مناسب طریقے سے علاج کیا جاتا رہے تو بیماری کم از کم کنٹرول میں رہتی ہے اور آنکھیں زیادہ خطرناک پیچیدگیوں سے بچی رہتی ہیں۔

آپ کا کہنا ہے کہ یہ بیماری عموماً سالوں جان نہیں چھوڑتی بلکہ ساری ساری عمر بھی ساتھ رہ سکتی ہے تو کیا اِس سے نظر بھی ضائع ہو سکتی ہے؟

جیسا کہ ابھی بنایا گیا ہے الرجی کے زیادہ مریضوں کو اِس طرح کے خطرناک کا سامنا نہیں کرنا پڑتا کہ نظر ضائع ہو جائے۔ بہت تھوڑے مریض ایسے ہوتے ہیں۔ تاہم ہوتے ضرور ہیں۔ اوپر کی تصاویر میں دکھائے گئے قرنیہ کو ہونے والے نقصانات حقیقت ہیں اگرچہ کہ تلخ حقیقت ہیں۔ اور کئی نوجوان مریضوں کو شدید پریشانی میں مبتلا دیکھ کر بہت دُکھ ہوتا ہے کہ کاش یہ بروقت اور موزوں علاج کر لیتے تو اِس نوبت کو نہ پہنچتے۔ 

الرجی کے نقصانات سے بچنے کے کیا طریقے ہو سکتے ہیں؟

آسان ترین طریقہ تو یہی ہے کہ الرجی کا علاج کرنے میں لاپرواہی سے کام نہ لیا جائے۔ معروف مقولہ ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے اور پرہیز کا بہت اہم پہلو یہ ہے کہ بیماری کو بگڑنے سے بچایا جائے۔ پیچیدگیوں کو آنے سے روکا جائے کیونکہ جب وہ آ جاتی ہیں تو بہت اچھے اچھے علاج کرکے بھی اکثر اوقات آنکھیں مکمل ٹھیک نہیں ہو سکتیں۔

مریضوں کی اکثریت کے بارے میں الرجن کا تعیّن کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ الرجی ٹیسٹ بھی کروائیں تو بےشمار چیزیں ایسی سامنے آتی ہیں جن سے الرجی ہوتی ہے مثلاً سو الرجن اور پھر چیزیں بھی ایسی ہوتی ہیں جن سے بچنا ممکن نہیں ہوتا۔ بعض خوش قسمت لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو اس بات کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ فلاں چیز سے الرجی ہوتی ہے اُن کو اُس چیز سے بچنا چاہئے۔

اگر ویکسینیشن ممکن ہو تو اُس کی کوشش کرنی چاہئے اگرچہ اکثریت میں یہ بہت زیادہ مفید ہیں ہوتی لیکن کیا پتہ کہ آپ اُن خوش قسمت افراد میں سے ہوں جن کو اِس سے فائدہ ہوجاتا ہے۔

فضائی آلودگی کے بہت سے مضر اجزاء کے خلاف جسم میں حسّاسیّت پیدا ہوتی اِس لئے اِس سے بچنا اور اِس کی کمی کے لئے جدوجہد بہرحال مفید ہوتا ہے۔

کنٹیکٹ لینز الرجی کا بہت اہم سبب ہیں اِس لئے اِن سے بچنا چاہئے۔ اگر آپ عینک سے بہت متنفّر ہیں تو لیزر اپریشن کروا لیں لیکن کینٹیکٹ لینز اِستعمال نہ کریں۔

الرجی کا کیا علاج ہوتا ہے؟ 

  1. جس الرجن سے بچنا ممکن ہو اُس سے بچا جائے۔

  2. الرجی کے علاج کے بارے میں سنجیدگی اِختیار کی جائے۔ اِسے غیر اہم اور غیر ضروری نہ سمجھا جائے۔

  3. اگر علامات بہت ہلکی ہوں تو صرف Antihistamine+Vasoconstrictor دوائیاں ہی کافی ہوتی ہیں اور اِن کو حسبِ ضرورت اِستعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ دوائیاں میڈیکل سٹوروں سے عام مل جاتی ہیں اور اِنھیں بغیر نسخے کے بھی خریدا جا سکتا ہے۔

  4. اکثر اوقات الرجی کے ساتھ انفیکشن بھی شامل ہوتی جِس کی خصوصی علامات ہوتی ہیں اور جو ڈاکٹر کو ہی چیک کرنے سے نظر آتی ہیں۔ اِس صورت میں ڈاکٹر کا مشورہ ضروری ہوتا ہے۔ اِس سلسلے میں عمومی اصول یہ ہے کہ ایک دفعہ ڈاکٹر کو چیک کروا کے تسلی کر لیں کہ انفیکشن ہے کہ نہیں۔ پھر نوٹ کرتے رہیں کہ عمومی علامات میں شدّت تو نہیں آرہی، کیا پہلے والی عمومی ادویات بے اثر تو ہوتی محسوس نہیں ہو رہیں، آنکھ میں درد یا سوجھن تو شروع نہیں ہو گئی، خصوصاً روشنی سے درد میں اضافہ تو نہیں ہو جاتا یا ایسا تو نہیں کہ روشنی برداشت ہی نہ ہوتی ہو؛ اِس طرح کی علامات انفیکشن کی موجودگی کی طرف اِشارہ کرتی ہیں۔ اِس صورت میں فوری ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہئے۔ وہ آنکھ کو چیک کرکے کیفیت اور نقصان کی نوعیّت کے مطابق آپ کی رہنمائی کر دے گا۔

  5. انفیکشن کی صورت میں Antibiotics کا اِستعمال بھی ضروری ہو جاتا ہے۔

  6. اکثر اوقات علامات کی شدت کے دورے کے دوران Antibiotic+Steroid Combination  کا ایک ہفتے کے لئے اِستعمال بہت مفید رہتا ہے۔

  7. اِس وقت بیماری کی وجہ کو دور کرنے کی صلاحیت رکھنے والی جو ادویہ میسّر ہیں اُنھیں Mast cell stablizers کہا جاتا ہے۔ اِن کا عموماً تین مہینے کا کورس کر لیا جائے تو کافی لمبے عرصے کےلئے علامات پیدا نہیں ہوتیں۔ تاہم اکثر اوقات اِن کی مدد کے لئے کوئی نہ کوئی دوائی ساتھ چاہئے ہوتی ہے جو علامات کی شدت کے حساب سے بدلتی رہتی ہے اور کئی دفعہ بند بھی کروا دی جاتی ہے۔

  8. جِن لوگوں میں بہت عرصہ تک سوزش موجود رہے اور کوئی علاج نہ ہوا ہو اُن میں اکثر نظر بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ اِن لوگوں میں زیادہ تر سلنڈر نمبر کی عینک لگتی ہے اور وہ ضروری ہوتی ہے۔ تاہم اِس طرح کے بہت سے مریضوں کی الرجی کا صحیح طرح علاج کرنے سے کُچھ عرصہ بعد یہ عینک اُتر جاتی ہے۔

  9. جِن لوگوں کی آنکھوں کا قرنیہ خراب ہونا شروع ہو جائے اُن میں Cyclosporin دوائی بہت مفید ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں اِس قسم کے مریضوں کی آنکھوں میں Limbus کے گرد Avastin کے ٹیکے بہت مفید ثابت ہوتے ہیں جو کہ Immunomodulation کے ذریعے بیماری کے بنیادی سبب کو دور کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اِن کے ذریعے بعض بڑے بڑے بگڑے ہوئے کیس معجزاتی انداز میں صحیح ہو جاتے ہیں۔

  10. جن لوگوں کے قرنیہ میں زخم بن جاتے ہیں اُن میں اکثر Bandage Contact Lens کی ضرورت پڑتی ہے جس سے Ulcer اور Punctate Erosions کے صحیح ہونے میں مدد ملتی ہے۔   

کیا ہم خود بھی علاج کروا سکتے ہیں یا لازماً ڈاکٹر کے پاس جا کر ہی علاج کروانا چاہئے؟ کیا میڈیکل سٹوروں سے لے کر دوائیاں اِستعمال کرنے سے یہ بیماری ٹھیک ہو جاتی ہے؟

اگر ڈاکٹر کی رہنمائی موجود ہو تو زیادہ تر مریضوں کو بابار ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ زیادہ تر ڈاکٹر اُن کیفیات کا بتا دیتے ہیں کہ اگر پیدا ہوں تو وراً رابطہ کر لیں وگرنہ دوائیاں اِستعمال کرتے رہیں۔ اِس طرح عام حالات  میں چھوٹی موٹی دوائی میڈیکل سٹور سے خود ہی خرید کر اِستعمال کی جا سکتی ہے۔ تاہم اگر بیماری میں شدت آنے لگے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کر لیں۔ 

 

اگرآپ آنکھوں کی الرجی سے متعلق مزید کوئی سوال پوچھنا چاہتے ہوں تو اُس کو کمنٹ کے خانے میں لکھ کر پوسٹ کر دیں انشاءاللہ انہی صفحات میں جواب دینے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی طرح اپنی رائے، تبصرہ یا تجویز کو بھی کمنٹ میں لکھ کر پوسٹ کردیں میں بہت ممنون اور مشکور ہوں گا۔

42 Replies to “Eye allergy آنکھوں کی الرجی: وجوہات، علاج”

  1. ڈاکٹرصاحب میری بیٹی 12 سال کی ہےکل اس کی آنکھ میں خارش ہورہی تھی چھوٹا سا دانہ تھا اب وہ بڑا ہوگیا ہےجس کی وجہ سےآنکھ کا اوپری حصہ سوجھ گیا ہے، تکلیف بھی ہورہی ہے۔ براہ مہربانی کوئی علاج تجویزکردیں۔ شکریہ

  2. ڈاکٹر صاحب مجھے گرمیوں میں رات کو بہت سخت میٹھی میٹھی خارش آنکھوں میں ہوتی ہے ۔ مل مل کے تھک جاتا ہوں۔ جب ختم ہوتی ہے تو پانی آنے لگتا ہے۔ میں بہت پریشان ہوں۔ یہ عرصہ 15 سال سے ہورہا ہے۔ پلیز میری مدد کریں۔

  3. میری آنکھوں میں خارش ہوتی ھے اور ساتھ میں آنکھوں کے کونے بھی لال ھوجاتے ھیں۔ اس کے علاج کے سلسلے میں میری رہنمائی فرمائیں۔

  4. Mary walid sb ko SAC alerji hy plz is kal hal bty. Mtlb musam bahar my unko alerji shuro hu jati hy.

  5. سر السلام علیکم میں نے بہت علاج کروایا ہے مگر آرام نہیں آیا۔ سر میری آنکھیں لال ہو جاتی ہیں اور تھکاوٹ بھی ہو جاتی ہے۔ ہر وقت پانی بھی آتا رہتا ہے اور ہر وقت نیند سی آئی رہتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو چیک کروایا ہے وہ کہتے ہیں کہ الرجی ہے۔ سر آپ پلیز اس کا کوئی علاج بتائیں۔ شکریہ

    1. وعلیکم السلام آپ مہربانی فرما کر میرے الرجی کے متعلق آرٹیکل کا مطالعہ فرمائیں آپ کو الرجی اور اس کے علاج کے بارے میں اپنے بہت سے سوالات کے جوابات مل جائیں گے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے آپ کو کن دوائیوں کی ضرورت ہے اس کا فیصلہ معائنہ کئے بغیر ممکن نہیں۔ آپ اپنے قریبی کسی ڈاکٹر کو چیک کروا لیں یا میرے پاس تشریف لے آئیں۔
      http://www.drasifkhokhar.com/contact-us
      میرے آرٹیکل کے مطالعہ کیلئے درج ذیل لنک پر کلک کریں:
      http://www.drasifkhokhar.com/eye-allergy-آنکھوں-کی-الرجی-وجوہات،-علاج

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.