Catract سفید موتیا

 

سفید مو تیا کیا ہوتا ہے ؟

ہر آنکھ میں ایک عدسہ ہوتا ہے جو بالکل شفاف ہوتا ہے اور نظر آنے والی چیزوں کی تصویر پردہ بصارت پر بناتا ہے مختلف وجوہات کے باعث یہ بے رنگ اور شفاف عدسہ گدلا ہو کر سفید موتی کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس سے بینائی متاثر ہو جاتی ہے بینائی اسی تناسب سے متاثر ہوتی رہتی ہے جس تناسب سے شفافیت کم ہوتی جاتی ہے۔اِسی بیما ری کا نام سفید مو تیا ہے۔ ذیل میں دئیے گئے آنکھ کے تراشے کو دیکھیں؛ دائیں طرف کا عدسہ شفاف ہے جبکہ بائیں طرف کا عدسہ گدلا ہو چکا ہے:   

مریض کو کِن علا متوں سے پتہ چل سکتا ہے کہ اُسے سفید مو تیا ہے؟  

  • بنیا دی اور سب سے نمایاں علا مت تو نظر کی کمز وری ہے۔ بہت سے لوگوں کی پہلے دُور کی نظر کمزور ہوتی جبکہ نزدیک کی نظر کافی زیادہ موتیا بن جانے کے باوجود بھی کافی بہتر ہوتی ہے۔  

  • سفید موتیا کی وجہ سے سردرد نہیں ہو تا؛ نہ ہی آنکھ میں درد ہوتا ہے۔ البتہ کئی لوگوں کی نظر ابتداً اِس طرح کمزور ہوتی ہے کہ عینک لگانے سے  اُن کو فائدہ ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اگر عینک استعمال نہ کریں تو اُنمیں سے بہت سوں کو سردرد ہونے لگتی ہے۔ یہ درد دراصل نظر کی کمزوری کے سبب ہوتی ہے نہ کہ سفید موتیا کے باعث۔ 

  • کئی مریضوں کی شکایت ہوتی ہے کہ چیزیں پھیلی پھیلی نظر آ تی ہیں اور بہت زیادہ چمک محسوس ہوتی ہے۔ خاص طور پر رات کو ڈرائیونگ کرتے ہوئے روشنیاں پھیلتی ہیں جس سے اُن کے لئے گاڑی چلانا مشکل ہو جاتا ہے حتی کہ بعض بےچارے حادثے کروا بیٹھتے ہیں۔ موٹرسائکل چلانا ایک عذاب بن جاتا ہے۔ بزرگوں کے لئے رات کو گھر سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ 

  • بعض اوقات کسی چیز کو د یکھتے ہیں تو اُس کے سا تھ ایک یا زیا دہ سا ئے سے نظر آنے لگتے ہیں۔ چاند دو دو نظر آتے ہیں۔ چیزوں پر دھبے نظر آتے ہیں۔ نزدیک کی چیزوں پر نظر مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔  

  • مر یض کی آ نکھ کی شکل میں بھی ایک خا ص تبد یلی ظا ہر ہو تی ہے۔ جب آ نکھ کو غور سے دیکھیں تو آ نکھ کی پُتلی کا ر نگ سفید نظر آ نے لگتا ہے۔ درجِ تصاویر کو دیکھیں یہ نارمل آنکھیں اور اِن کا موازنہ بعد والی تصاویر سے کریں: 

جس آنکھ میں سفید موتیا ہوتا ہے وہ اِس طرح نظر آتی ہے: 

مریض کو کِن علا متوں سے پتہ چل سکتا ہے کہ سفید مو تیا بہت زیا دہ پک گیا ہے؟

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اِس طرح کے سوالات کہ کیا موتیا پک گیا ہے؟ اور کیا زیادہ پک گیا ہے؟ اب کوئی اتنے اہم نہیں رہے۔ کیونکہ پہلے لوگ اِس لئے اِن سوالوں کے پیچھے پڑے ہوتے تھے کہ جب موتیا پکے گا تو پھر اپریشن کرانا ہے اور اِس بات کا خیال رکھنا ہے کہ کہیں زیادہ نہ پک جائے۔ اب تو اصول یہ ہے جلد از اپریشن ہو جانا چاہئے۔ لیٹ کرنے کا نقصان ہی نقصان ہے۔ بہرھال ابھی بھی کئی ایسے “سیانے” موجود ہیں جو اپریشن کے معاملے کو لٹکاتے رہتے ہیں چنانچہ اُن لوگوں کے لئے عرض ہے کہ جب مو تیا بہت زیا دہ پک جائے تو درجِ ذیل علامت پیدا ہونے لگتی ہیں:

  • کئی لوگوں کی آ نکھ میں سوزش رہنے لگتی ہے جس سے آ نکھ سُرخ ہو جا تی ہے

  • آ نکھ میں درد ہو نے لگتی ہے. یہ Uveitis کی ایک قسم ہے۔

  • پانی بہنے لگتا ہے۔

  • آنکھ کا دباؤ بڑھنے لگتا ہے، اِس صورت میں درد بہت شدید ہوتا ہے۔ یہ کالا موتیا کی ایک قسم ہے۔ جب یہ کیفیت پیدا ہو جائے تو آنکھ میں درج ذیل علامات نظر آنے لگتی ہیں: 

کیا اپر یشن کے علاوہ بھی کسی طر یقے سے سفید مو تیا کا علاج ممکن ہے؟ خاص طور کوئی دوائی کھانے یا آنکھ میں ڈالنے سے کیا سفید موتیا ٹھیک نہیں کیا جا سکتا؟ سنا ہے کچھ ورزشیں بھی ایسی ہیں جن سے موتیا ختم کیا جا سکتا ہے۔

بعض ایسی چیزیں یقیناً موجود ہیں جن کے ذریعے سفید موتیا کو بننے سے بچانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اِسی طرح اگر بننا شروع ہوجائے تو اُس کی بڑھنے کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے مثلاً

  • اگر عمومی صحت کو ٹھیک رکھا جائے تو موتیا بننے کے امکانات کافی کم ہو جاتے ہیں۔ جو عمر کے مطابق بننا ہوتا ہے اُس کا آغاز بھی کافی زیادہ عمر میں جا کر ہوتا ہے۔
  • ​متوازن غذا کا استعمال۔
  • ایسی ادویات کے استعمال میں احتیاط جن سے موتیا بننے کا خطرہ ہوتا ہے۔
  • ایسی بیماریوں سے بچاؤ جن سے موتیا بننے کا امکان زیادہ ہو جاتا ہے مثلاً شوگر سے بچنا اور اگر ہو جائے تو بہتر طریقے سے اُس کا علاج کرنا۔ 
  • موٹاپا اور کولیسٹرول کی زیادتی کی بیماری۔ 
  • ورزشیں اور مضر آب و ہوا سے بچاؤ۔ 
  • شوگر، بلڈپریشر کی زیادتی، تھائیرائیڈ کی بیماری، دمہ جیسی بیماریوں کا صحیح طرح علاج نہ کرنے اور اِن بیماریوں کو مسلسل کنٹرول میں نہ رکھنے سے سفید موتیا پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے، اور اگر بننا شروع ہو جائے تو اِن کے اچھے کنٹرول سے اِن کے آگے بڑھنے کی سپیڈ کم ہو جاتی ہے۔
  • مختلف بیماریوں کے غیر معیاری علاج سے بچنے سے بھی موتیا سے بچا جا سکتا ہے کیونکہ بہت سے لوگوں میں یہ دوائیوں کے سائیڈ ایفکٹ کا نتیجہ ہوتا ہے۔  

بعض ایسی ادویہ اب مارکیٹ میں آ گئی ہیں جن سے لینز کے گدلا پن کو صاف کرنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں اگرچہ فی الحال اِن فوائد کی توقعات بہت ھد تک خیالی ہیں۔ بہت اہم بات یہ ہے کہ اِن کا فائدہ زیادہ اُسی وقت ہوتا ہے جب ابھی موتیا کا آغاز ہوا ہو۔ اگر موتیا زیادہ بن گیا ہو تو پھر اِن ادویہ کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اِن میں وٹامن اے، وٹامن سی، واٹمن ای، کیروٹینائیڈز، اور بعض آیوڈین کمپاؤنڈز ہیں۔ بعض دیگر ادویہ بھی ہیں۔ کئی ہومیوپیتھک ادویہ اور ہربل مرکبات سے امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں۔  

بہرحال اِس حوالے سے بہت زیادہ تحقیقات ہو رہی ہیں امید تو ہے ضرور ایسے علاج دریافت ہو جائیں گےجن سے اپریشنوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔ 

میری بیٹی 6 ماہ کی ہے۔ اِس کی دونوں آنکھوں میں موتیا آ گیا ہے۔ اتنی چھوٹی عمر میں موتیا کیوں بن جاتا ہے؟ کیا اِس کا علاج اپریشن کے بغیر ہو سکتا ہے؟

چھوٹے بچوں میں زیادہ تر یہ نقص پیدائشی طور پر ہوتا ہے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ پہلے چیک نہیں کرایا گیا اِس لئے پتہ نہیں چل سکا۔ دوسری وجہ زیادہ تر یہ ہوتی ہے کہ کسی وقت چوٹ آئی جس کی وجہ سے قدرتی لینز خراب ہو جاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ موتیا فوری طور پر بن جائے؛ یہ چوٹ کے کُچھ عرصہ بعد بھی بن سکتا ہے۔ تیسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بچی کسی وقت بہت زیادہ بیمار رہی ہو۔ یا تو اُس بیماری کی وجہ سے موتیا بن جاتا ہے یا پھر اُس دوران اِستعمال ہونے والی دوائیوں کے سائیڈ ایفیکٹس کی وجہ سے موتیا بن جاتا ہے۔ بعض بچوں میں کوئی اور پیدائشی بیماری ہوتی ہے مثلاً Down’s Syndrome وغیرہ جس کی وجہ سے قدرتی لینز خراب ہو جاتا ہے۔

اِس کے علاج کیلئے معائنہ کئے بغیر کوئی مشورہ ممکن نہیں ہوتا۔ کیونکہ اگر موتیا نظر پر اثر ڈال رہا ہو تو پھر تو فوری اپریشن ہی واحد حل ہے لیکن اگر نظر کو زیادہ متأثر نہ کر رہا ہو تو بچے کے بڑے ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے۔

ا پر یشن کے لئے کونسا موسم زیادہ صحیح ہوتا ہے؟

دیکھیں جی موسم سے وابستہ حقیقیتیں اگرچہ تلخ ہیں تاہم ہیں یہ حقیقت۔ زیادہ تر لوگوں میں سفید موتیا کا اپریشن ایمرجینسی اپریشن نہیں ہوتا۔ ایسے مریضوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے جن میں ایمرجینسی طور پر یہ اپریشن کرنا ضروری ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے سفید موتیا کا معیاری علاج ایک مہنگا علاج ہے جس کے لئے خاصی معقول رقم کا انتظام کرنا پڑتا ہے اور ظاہر ہے ہمارے بہت سارے لوگوں کی آمدن براہِ راست یا بالواسطہ فصلوں سے وابستہ جن کا بہرحال موسم ہوتا ہے۔ اِسی طرح گرمی کا موسم اور اُس میں آنے والا پسینہ ہر ایک کے دل میں خوف پیدا کر دیاتا ہے کہ کہیں زخم خراب نہ ہو جائے۔ غرین آدمی تو ظاہر ہے ہمارے ہاں اےسی کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن اب تو لوڈشیڈنگ کی اذیت نے امیروں کے لئے بھی زندگی خاصی اجیرن ہو گئی ہے۔ اِس لئے گرمی اور حبس کے موسم میں لوگوں میں اپریشن نہ کروانے کا رُجحان ابھی بھی موجود ہے۔ پھر بچوں کی اور ملازمت پیشہ لوگوں کی اپنی چُھٹیاں بھی اِس فیصلے میں حصہ ڈالتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر لاکھ کہتے رہیں کہ مو سم کی باتیں اب پُرانی ہو چکی ہیں لیکن لوگ اپنے مخصوص موسموں میں ہی اپریشن کرواتے ہیں۔    

لیکن بہرحال یہ بھی ایک حقیقت ہی ہے کہ دراصل چونکہ پہلے اپریشن کی ٹیکنالوجی اِ تنی اچھی نہیں تھی اِس لئے بہت سارا خطرہ ہوتا تھا کہ کہیں خرابی نہ پیدا ہو جائے پھِر بہترین اپریشن کے بھی نتا ئج بہت اچھے نہیں ہوتے تھے اور اچھی اینٹی بائیوٹِکس میسّر نہ ہو نے کی وجہ سے انفیکشن کی تلوار بھی سر پر لٹکتی رہتی تھی اِس لئے گرم اور مرطوب موسموں میں اپریشنوں کو ملتوی کرنے کی کو شش ہی کی جا تی تھی؛ اب ایسی کِسی اِ حتیاط کی ضرورت نہیں رہی۔ اب موسموں کا لحاظ کرنا طبی نکتہنظر سے اہم نہیں رہا۔ 

سفید موتیا کا کب اپریشن کروانا چاہئے؟ ابھی تو مجھے کافی نظر آتا ہے میں کیوں اپریشن کرواؤں؟

اپر یشن کروانے کے وقت کے حوا لے سے اب یہ عمومی اصول طے ہو چکا ہے کہ اپر یشن کا فیصلہ مریض کی معذوری کی بنیاد پر کِیا جا ئے گا۔ چنا نچہ ایک مریض جو کم عمر ہے ، اُسے گا ڑی چلا نی ہے، اور اُسے کمپیوُ ٹر پر کام بھی کر نا ہے اُسے بہت اچھی نظر کی موجودگی میں بھی یہی مشورہ دیا جائے گا کہ آپ فوراً اپر یشن کروا لیں ؛ اِس کے مقا بلے میں ایک امّاںجی جو بو ڑھے اور کمزور ہیں، پڑ ھے لکھے بھی نہیں اور سوائے چھو ٹی مو ٹی گھر یلو ضرو ریات کے کو ئی خاص مصروفیّت بھی نہیں اُن کی اچھی خاصی کمزور نظر کے با وجود بھی شاید ڈاکٹر اپریشن پر بہت زیادہ اصرار نہ کرے۔ اور اُن کو یہی مشورہ دے کہ آپ اگر ابھی گذارہ کرنا چاہتی ہیں تو بے شک کرلیں اور اگر اپریشن کروانا چاہتی ہیں تو بےشک آج ہی اپریشن کروا لیں۔ زیادہتر ایسے بزر گوں کی اپنی خوا ہش بھی یہی ہوتی ہے کہ ابھی مجھے نظر آتا ہے اِس لئے ا بھی میرا اپر یشن نہ کریں۔

لیکن آئیڈیل طریقہ یہی ہونا چاہئے کہ جتنی جلد ممکن ہو اپریشن کروا لینا چاہئے۔ اب اتنے اچھے طریقے سے اپریشن کیا جاتا ہے کہ صرف چند منٹ میں اپریشن مکمل ہو جاتا ہے۔ بعد میں بہت زیادہ احتیاطیوں کی بھی اب ضرورت نہیں ہوتی۔ اور اب اپریشن کے رزلٹ بھی مریضوں کی اکثریت میں بہت اچھے ملتے ہیں۔ پھر ایک انتہائی اہم بات یہ ہے کہ لیٹ کرنے سے اکثر اوقات مختلف پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں، ڈاکٹر کو اپریشن کرنے میں دقت ہوتی ہے اور بہت سارا خطرہ ہوتا ہے کہ رزلٹ بہت اچھے نہیں مل سکیں گے۔ ایمرجنسی میں اپریشن کروانے کی ضرورت نہیں لیکن بلاوجہ لمبے عرصے کے لئے ٹالتے رہنا اکثر اوقات نقصاندہ ثابت ہوتا ہے۔ 

ٹانکو ں والے اپریشن اور بغیر ٹانکوں کے اپریشن میں کیا فرق ہوتا ہے؟

خرا ب عدسے کو نکالنے کے لئے پہلے ایک لمبا چِیرا دے کر راستہ بنایا جاتا تھا جِس میں سے اُسے نکالا جاتا تھا پھر اُسی راستے ایک سخت قسم کا مصنوعی عدسہ ڈال دیا جاتا تھا۔ اِس سارے عمل کے بعد اُس چِیرے کو باریک ٹانکے لگا کر بند کر دیا جاتا تھا۔ اَب ایک چھوٹا سا راستہ بنا کر شعاعوں کے ذریعے سے خراب عدسے کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنا کر نکال لیا جاتا ہے اور اسی چھوٹے راستے کے ذریعے ایک نرم عدسہ ایک خاص قسم کے انجیکٹر کے ذریعے آ نکھ کے اندر داخِل کرکے ِفٹ کر دیا جاتا ہے چونکہ اِس سارے کام کے لئے راستہ بہت چھوٹا بنایا جاتا ہے اس لئے اس کو بند کرنے کے لئے ٹانکوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نیچے دی گئی تصویر میں آپ اِن دونوں کے فرق کا کُچھ اندازہ کر سکتے ہیں: 

کیا یہ حقیقت ہے کہ بغیر ٹیکہ لگائے اپریشن کیا جاسکتا ہے؟

یہ جدید ٹیکنالوجی کا معجزہ ہے۔ ہم کئی دفعہ جب ڈاکٹرز آ پس میں بیٹھتے ہیں تو حیران ہوتے ہیں کہ ہم کِتنی قسم کے ٹیکے لگایا کرتے تھے اور اُن کی وجہ سے کِس کِس قسم کی پیچیدگیاں پیدا ہو جایا کرتی تھیں۔ اصل میں اب چیرپھاڑ چونکہ نہ ہونے کے برابر ہے اِس لئے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ صرف قطرے ڈال کر اپر یشن کر دیا جا ئے یا ہلکا پھلکا ایک آدھ ایسا ٹیکہ لگا دیا جائے کہ جس کا مریض پتہ تک نہ چلے۔ بعض لوگ تو ا َب اِس طرح کے طریقے بھی متعارف کر وا رہے ہیں کہ جِن میں قطروں کی بھی ضرورت نہیں ہوا کرے گی ۔ 

کیا لینز ڈلوانا ضروری ہے؟ کیا لینز کے بغیر اپریشن نہیں کروایا جا سکتا؟  

آج سے پچیس تیس سال پہلے تک تو اپریشن کا طریقہ یہ تھا کہ خراب عدسے کو نکال دیا جاتا تھا اور اُس کی جگہ خالی چھوڑ دی جاتی تھی لینز نہیں ڈاالا جاتا تھا چنانچہ اُس عدسے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے مو ٹے موٹے شیشوں والی عینکیں استعمال کی جاتی تھیں۔ اِن موٹے شیشوں والی عینکوں کے ذریعے نظر تو واپس آ جاتی تھی لیکن اُس کی کوالٹی اتنی اچھی نہیں ہوتی تھی۔ نابینا اور معذور شخص کو جتنی بھی نظر مل جاتی وہ خوش ہو جاتا تاہم یہ عینکیں بذاتِ خود معذوری کا با عث ہوتی تھیں.  

لیکن اب مدت ہائے دراز سے یہ طریقہ متروک ہو گیا ہے۔ اب خراب قدرتی عدسے کو نکالنے کے بعد اُس کا ایک مصنوعی متبادل عدسہ ڈال بھی دیا جاتا ہے۔ یہ مصنوعی عدسہ اُسی جگہ پر فٹ کر دیا جاتا ہے جو قدرتی عدسہ کے نکلنے سے خالی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے اپریشن کے بعد نظر کی کوالٹی قدرتی نظر کے بہت قریب ہوتی ہے۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ بالکل قدرتی نظر واپس آ جاتی ہے لیکن پرانے طریقِ کار سے اگر موازنہ کیا جائے تو یقیناً زمین آسمان جیسا فرق واضح طور پر نظر آتا ہے۔ خاص طور پر ماضی قریب میں مارکیٹ میں آنے والے عدسات سے تو بہت ہی زیادہ بہتری آ گئی ہے۔ لینز کے بغیر اپریشن کروانا تو اب ایسے ہی ہے جیسے ایک آدمی کے پاس کار پر سوار ہو کر لاہور سے اسلام آباد جانے کی سہولت ہو لیکن وہ فیصلہ کرے کہ میں نے پیدل جانا ہے۔ حالانکہ اب تو ہوائی جہاز کی سہولت بھی موجود ہے۔  

لینز کے بغیر اپریشن اور لینز کے ساتھ اپریشن میں اِتنا زیادہ فرق ہے کہ اب تقریبا ً اِس بات پر سب اتھارٹیز کا اِتفاقِ رائے ہو چکا ہے کہ اگر لینز کا نمبر زیرو بھی نکل رہا ہو تو پھِر بھی لینز کے بغیر اپر یشن نہیں ہونا چاہئے بلکہ زیرو نمبر کا لینز ڈالا جانا چاہئے۔  

سُنا ہے کہ لینز کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں لینز ڈلوانے کے بعد بہت سے لوگ مصیبت میں پھنس جاتے ہیں۔ کیا یہ حقیقت ہے؟

اپر یشن کے بعد پیدا ہو جانے وا لے اکثر مسا ئل کو عمو ماً لینز کے ساتھ جو ڑ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ دراصل ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ ہزاروں میں سے شاید کوئی ایک ہی ایسا ہو گا جس کے مسائل کی وجہ لینز ہوتا ہے۔

اپریشن کے بعد عمومی طور پر مریضوں کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ یہ ہیں: اپر یشن کے بعد مسلسل درد کا رہنا، پانی کا بہتے رہنا، آ نکھ کے اندر سُرخی کا نہ ختم ہو نا ،نظر کا صحیح طرح بحا ل نہ ہو نا ۔

حقیقت میں شاید اِن میں سے کِسی ایک کا بھی حقیقی تعلق لینز کی موجودگی سے نہیں ہے بلکہ ان کا تعلق اپریشن کی کوالٹی سے ہے۔ اصل میں اپریشن اچھا نہیں ہوا ہوتا یا کوئی پیچیدگی ہو چکی ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ تکالیف ہو رہی ہوتی ہیں۔ لینز کی مختلف اقسام کا تعلُّق نظر کی کوالٹی سے تو یقیناً ہوتا ہے لیکن مذکورہ بالا مسائل سے نہیں۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ اپر یشن جہاں سے مرضی اور جِس سے مر ضی کر وا لو بس لینز اچھا ہو نا چا ہئے حا لا نکہ یہ با لکل غلط سوچ ہے۔ لینز کی کوالٹی پہ تھوڑا بہت کمپرومائز کر لیا جائے تو اتنا نقصان دہ نہیں ہوتا جتنا اپریشن کی کوالٹی پر کمپرومائز کرنے سے ہوتا ہے۔ اپریشن کروانے سے پہلے ضروری ہے کہ:  

  • سب سے پہلے اپر یشن کر نے والے سرجن کے بارے میں غور ہو نا چا ہئے کہ اُس کی صلا حیّت کیسی ہے اور اُس کے اپر یشن کے دوران پیچید گی کے امکانات کِتنے ہو نگے؟  

  • پھر اپر یشن تھیٹر کی کو الٹی پر غور کرنا چا ہئے۔ اِس اپریشن تھیٹر میں ٹیکنالو جی کس لیول کی ہے کیو نکہ ایک اچھا سر جن بھی گھٹیا کوا لٹی کی مشینوں سے شا ید اچھا اپر یشن نہیں کر سکے گا اورایک درمیانی صلا حیّت کا سرجن بھی اچھی مشینوں پر زیادہ امکان ہے کہ بہتر اپر یشن کر لے گا۔ پھر اُس میں انفیکشن کنٹرول کا معیار کیسا ہے؟ بہترین مشینیں ہوں لیکن آنکھ میں انفیکشن ہو جائے تو اپریشن کے نتائج کبھی اچھے نہیں ملتے۔  اگر کوئی پیچیدگی ہو جائے تو کیا اُس کو ڈیل کرنے کا انتظام موجود ہے؟  

کیا لینز ڈلوانے کے بعد بھی عینک اِستعمال کرنی پڑے گی؟ اگر لینز ڈلوانے کے بعد بھی عینک ہی لگانی ہے تو پھر لینز کا کیا فائدہ ہوا؟

بلاشبہ لینز کی وجہ سے موٹے موٹے شیشوں والی عینکوں سے نجات مل گئی ہے لیکن اکثر لوگوں کو کُچھ نہ کُچھ ہلکے سے نمبر والی عینک لگا نی ہی پڑتی ہے۔خاص طور پر قریب کا کام کر نے کے لئے تو تقر یباً سب کو ہی عینک کی ضرورت پڑ تی ہے۔ اپریشن کے بعد عینک لگنے کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں چند کا مختصراً تذکرہ ذیلی سطور میں کیا جاتا ہے:

  • اپریشن کرتے ہوئے سرجن کے لئے بہت اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ کتنے نمبر کا لینز ڈالنا ہے بالکل اُسی طرح جیسے عینک کے لئے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کتنے نمبر کی عینک لگے گی۔ لینز کا نمبر نکالنے کے مختلف مراحل ہوتے ہیں جن میں کئی مواقع پر غلطی کا امکان ہوتا ہے۔ یا تو مشین غلطی کر جاتی ہے یا پھر مشین کو استعمال کرنے والے سے غلطی ہو جاتی ہے۔ جتنی اچھی مشینیں استعمال کی جائیں گی اُتنا ہی غلطی کا امکان کم ہوتا جائے گا۔ اِس طرح جتنا سرجن کو زیادہ مہارت ہو گی اُتنا ہی غلطی کا امکان کم ہوتا جائے گا۔ 
  • اپریشن کے دوران پیچیدگی ہو جائے تو لینز کی فٹنگ میں کچھ فرق رہ جائے تو صحیح نمبر کا لینز بھی صحیح کام نہیں کرتا اور کچھ نہ کچھ عینک کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ 
  • جب لینز کا نمبر نکالا جاتا ہے تو اُس نمبر کا فیصلہ کرنے میں یہ بات بہت اہم ہوتی ہے کہ مریض کی ضروریات کی نوعیت کا ہے؟ اُ سکے حساب سے سرجن فیصلہ کرتا ہے وہ لینز کا نمبر کیسے سیٹ کرے۔ مثلاً
  1. دور کی نظر کا استعمال اگر زیادہ ہے تو وہ دور کے لئے نظر کو 6/6  رکھنے کی کوشش کرے گا، اِس صورت میں نزدیک کی عینک لازمی ہو جائے گی۔
  2. جو لوگ نظر کی بہت زیادہ مصروفیات نہیں رکھتے مثلاً عمررسیدہ لوگ تو ایسے لوگوں کو عموماً ایسے نمبر کا لینز دیا جاتا ہے کہ جس سے اُن دور کا بھی سارا کام چلتا رہتا ہے اور قریب کا بھی حالانکہ اُن کو دور کی بھی ہلکی سی عینک لگتی ہے اور قریب کی بھی لیکن چونکہ وہ بہت باریکی کا کام نہ دور کا کرتے ہیں اور نہ ہی قریب کا اِس لئے اُن کو محسوس نہیں ہوتا۔ 
  3. بعض ڈاکٹر بھی اور بعض مریض بھی اِس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ایک آنکھ کی دور کی نظر مکمل طور پر صحیح کر دی جائے اور دوسری آنکھ کی قریب کی۔ اِس طرح عملاً سارا کام عینک کے بغیر ہوتا رہتا ہے اور عینک کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔  
  4. ایک اہم مسئلہ جو ڈاکٹر کے لئے بڑی پریشانی کا باعث ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک آنکھ کا پہلے سے اپریشن ہو چکا ہے اور اُس میں نظر صحیح نہیں ہے اب اُسے نمبر کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ دوسروں آنکھوں کی نظر میں توازُن نہ خراب ہو جائے۔ مثلاً بعض اوقات اپریشن کے بعد دو دو نظر آنے لگ جاتے ہیں، یا ایک آنکھ سے چیزیں ذرا بڑی اور دوسری انکھ سے ذرا چھوٹی نطر انے لگتی ہیں۔ 
  5. ایک بڑا اہم مسئلہ اُس وقت سامنے اتا ہے کہ جب ایک آنکھ کا اپریشن ضروری ہو جائے لیکن دوسری آنکھ کی نظر ابھی بہت اچھی ہو اور مستقل قریب میں اُس کا اپریشن ہونے کی ضرورت نظر نہ ارہی ہو۔ اب اگر دوسری آنکھ میں بڑے نمبر کی منفی یا مثبت نمبر کی عینک لازمی ہو اور سرجن اپریشن کے زریعے اِس آنکھ کو نارمل کر دے جو کہ بغیر عینک کے دیکھ سکتی ہو تو دونوں آنکھوں کا توازن نہیں بن پائے گا۔ مریض اپریشن کے بعد بھی ایک آنکھ ہی استعمال کرنے پر مجبور رہے گا چنانچہ دوسری آنکھ کے حساب سے حقیقی نمبر سے کچھ زیادہ یا کم نمبر کا لینز ڈالنا پڑتا ہے۔   
  • غیر معیاری کمپنوں کے بارے میں یہ رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ پیکنگ کے اوپر لینز کا جو نمبر لکھا ہوتا ہے اندر لینز اُس نمبر کا نہیں ہوتا سرجن تو کسی اور نمبر کا لینز ڈال رہا ہوتا ہے لیکن حقیقتاً کسی اور نمبر کا لینز ڈال دیا جاتا ہے۔ جس سے مریض کو پھر عینک استعمال کرنی پڑتی ہے۔ 
  • بعض اوقات اپریشن تھیٹر میں مختلف نمبروں کے لینز اکٹھے پڑے ہوتے ہیں جن میں سے غلطی سے غلط نمبر کا لینز ڈال دیا جاتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں عینک لگانا مجبوری بن جاتی ہے۔
  • اگر کسی کی آنکھ میں سلنڈر نمبر کی عینک لگتی ہے تو یہ کمی لینز کے ذریعے سے عام طور پر دور نہیں ہوتی۔ اب جدید لینز ایسے آ گئے ہیں جنیں ٹورک لینز کہتے ہیں اُن سے کافی حد تک یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے لیکن یہ بہت مہنگے لینز ہیں جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں چنانچہ زیادہ لوگوں میں اپریشن کے بعد بھی سلنڈر نمبر کی عینک لگانی ضروری ہوتی ہے۔ 
  • کئی لوگوں میں گلیئر کا مسئلہ ہوتا ہے جو کہ بہت سے لوگوں میں پردہ بصارت کی خرابی کے باعث ہوتا ہے تو اُن کو اِس مسئلے کے لئے عینک استعمال کرنا پڑتی ہے۔  

لینز کی کو نسی اقسام ہیں اور کس قسم کا لینز زیا دہ بہتر ہو تا ہے؟

ساخت کے اعتبار سے پر دو قسمیں ہیں : Foldable IOL· اور Non-foldable IOL 

Foldable لینز

یہ لینز سخت ساخت کے ہوتے جن کو ڈالنے کے لئے ایک بڑے سائز کا چیرا دیا جاتا ہے۔ اب زیادہ تر متروک ہوتے جا رہے ہیں۔  

 Foldable IOLلینز 

یہ وہ لینز ہیں جو نرم میٹریل کے بنے ہوتے ہیں۔ آنکھ میں چھوٹا سا چیرا دیا جاتا ہے۔ اِس لینز کو دُہرا کرکے  اِس چھوٹے سے راستے میں سے آنکھ کے اندر داخل کر دیا جاتا ہے۔ اندر جا کر یہ کھُل کر بڑے ہو جاتے ہیں چنانچہ اُن کو مطلوبہ جگہ پر فٹ کر دیا جاتا ہے۔ فولڈایبل لینزز کی چند اپم  اقسام کا تعارف ذیل میں درج ہے:  

  1. نرم عد سوں میں اب Aspheric آ گئے ہیں اِن سے نظر کی کوا لٹی بہت بہتر ہو جا تی ہے اور کئی قسم کی مشکلات جِن سے ذ ہین لوگوں کو سا منا کر نا پڑتا تھا اَب کم ہو گئی ہیں۔ اس سے نظر بہت حد تک قدرتی عدسہ جیسی حا صل ہو جا تی ہے۔ جدید جتنے بھی لینز آ رہے ہیں وہ سب Aspheric ہیں۔ · 

  2. ایک اور قسم جو سب سے اہم چیز ہے وہ ملٹی فوکل Multifocal لینز جو انسانیت کے لئے وا قعتا ایک بڑی نعمت ہے ۔ اِس لینز کا مقصد ہے کہ اِس کے ذریعے دوُر اور نزدیک سب بغیر عینک کے دیکھا جا سکے۔ دوُسری ساری اقسام کے لینز لگنے کے بعد دوُر کی نظر کیلئے تو عموما عینک کی ضرورت ختم کی جا  سکتی ہے، لیکن قریب کی عینک استعمال کرنی ضروری ہوتی ہے۔  در میانے فا صلے کی نطر میں کُچھ نہ کُچھ مشکل بہرحال پیش آتی ہے،کیونکہ یہ لینز دراصل Bifocal ابھی تک صحیح معنوں میں ملٹی فوکل نہیں بن سکے۔ اِس لینز کی ایجاد سے یہ بات کا فی حد تک حا صل ہو گئی ہے کہ تمام فا صلوں پر عینک کے بغیر دیکھا جا سکتا ہے۔ اور صاف اور اعلی کوالٹی کی نظر حاصل کی جا سکتی ہے۔ اِس کی ایک بہت اہم بات یہ ہے کہ یہ دونوں آنکھوں میں ڈالنا ضروری ہوتا ہے اگر صرف ایک آنکھ  میں ڈالا جائے تو دیکھنے میں کافی مشکل پیش آتی ہے۔  

سخت Non-foldable لینز · یہ لینز سخت ہوتا ہے چنا نچہ اس کو ڈالنے کے لازمی ہوتا ہے بڑا راستہ بنایا جائے۔ اسی وجہ سے اس راستے کو بند کرنے کے لئے ٹانکے لگانے ضروری ہوتے ہیں۔ نیچے کی تصاویر میں لینزز کی مختلف اقسام کو دکھایا گیا ہے: 

اپریشن کیسے کیا جاتا ہے؟ کس طرح کی مشینیں استعما ل کی جا تی ہیں؟ کیا اپریشن کے دوران آپ آنکھ کو باہر نکال لیتے ہیں؟ 

   Zeiss  کمپنی کی اپریشن مائیکروسکوپ کے جدید ترین ماڈل Lumera اور Oertli کمپنی کی جدید ترین فیکو مشین پر اپریشن کرتے ہوئے  

 

   Ziess کمپنی کی اپریشن مائیکروسکوپ کے جدید ترین ماڈل Lumera اور Alcon کمپنی کی جدید ترین فیکو مشین Infinity پر اپریشن کرتے ہوئے

اپریشن کے دوران مریض کی پوزیشن دو مختلف زاویوں سے 

کیا سفید موتیا دوبارہ بھی بن جاتا ہے؟ کئی لوگوں کو بعد میں شعاعیں لگوانی پڑتی ہیں اِس کی کیوں ضرورت پیش آتی ہے؟

سفید مو تیا دوبارہ نہیں بنتا البتّہ بہت سے لوگوں کی آنکھ میں لینز کے پیچھے جھلّی بن جاتی ہے جس کی وجہ سے نظر دوبارہ کم ہو جاتی ہے۔ اِس جھلّی کے بننے کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں چند اہم مثالیں یہ ہیں:

  1.  قدرتی عدسے کو جب نکالا جاتا ہے تو اُس کا غلاف نہیں نکالا جاتا بلکہ اُسے اندر ہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مصنوعی لینز کو اُسی غلاف کے اندر ڈالا جاتا ہے۔ یہ غلاف بہت سے لو گوں میں بعد میں مو ٹا ہو جاتا ہے جِس سے لینز کے پیچھے ایک جھِلّی بن جاتی ہے جو نظر کو کم کر دیتی ہے۔  
  2. بعض مریضوں میں جب سفید موتیا کی صفائی نامکمل کی جاتی ہے تو وہ سفید موتیا کے باقی رہ جانے والے ذرات اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ اُن کے خلاف جسم میں ردعمل ہوتا ہے۔ عموماً مسلسل سوزش کا ایک عمل شروع ہو جاتا ہے جس سے غلاف موٹا ہو جاتا ہے اور جھلّی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
  3. بعض لوگوں میں انفیکشن کی وجہ سے لمبے عرصہ تک ہلکی ہلکی سوزش رہنے کے باعث مواد بن جاتا ہے جو غلاف کے موٹا ہو جانے اور جھلّی بننے کا سبب بن جاتا ہے۔   

اِس جھِلّی کا علاج لیزر شعاعیں لگا کر کیا جاتا ہے۔ شعاعوں سے جھِلّی میں دیکھنے کے لئے سوُراخ کر دیا جاتا جِس سے نظر دوبارہ بحال ہو جاتی ہے۔ درج ذیل تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ جھلی کس طرح نظر آتی ہے اور کس طرح لیزر کے ذریعے جھلی ختم کی جاتی ہے: 

جھِلّی کو ختم کرنے کیلئے شعائیں لگانے کا منظر 

اگرآپ سفید موتیا سے متعلق مزید کوئی سوال پوچھنا چاہتے ہوں تو اُس کو کمنٹ کے خانے میں لکھ کر پوسٹ کر دیں انشاءاللہ انہی صفحات میں جواب دینے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی طرح اپنی رائے، تبصرہ یا تجویز کو بھی کمنٹ میں لکھ کر پوسٹ کردیں میں بہت ممنون اور مشکور ہوں گا۔

34 thoughts on “Catract سفید موتیا”

  1. سلام . ڈاکٹر صاحب

    سفید موتیا کے آپریشن کے بعد بھی آنکھیں ویسے ھی جھائیاں زدہ ھیں . ڈککٹر نے دو ڈراپس دئے تھے مگر کوئ فرق نہیں پڑا . کیا دوبارہ آپریشن کرانا پڑے گا .یا کوئ اور علاج ھے .

    شکریہ

  2. علیکم
    بہت بہت شکریہ جناب
    اردو زبان میں اتنی تفصیل کہیں اور دستیاب نہیں
    مگر آپ نے سفید موتیا کا سرجری کے علاوہ کوئی بھی متبادل نہیں بتایا جب کہ دنیا میں اس پر کام ہو رہا ہے
    اور اچھے نتائج بھی سامنے آئے ہیں
    درخواست ہے کچھ اس پر بھی روشنی ڈالیں
    شکریہ
    جاوید اختر آرائیں

  3. اللہ۔ میں آپ کے بے حد شکرگزار ہوں کے آپ نے اپنا قیمیتی وقت نکال کر میرے لیے معلومات فراہم کی۔ تعاون کا بے حد شکریہ

  4. احترام ڈاکٹر صاحب السلام علیکم امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔ میرے والد صاحب کچھ دنوں سے دھندے پن کی شکایت کر رہے تھے میں انہوں فوری طور پر قریبی آئی سپیشلسٹ کے پاس لے گیا وہاں پر چیک اپ کے بعد پتہ چلا کے میرے والد صاحب کو سفید موتیے کی وجہ سے دیکھنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ انہوں نے ایک ماہ کے لیے ایک ڈراپ دیا اور ایک آنکھوں کو طاقت دینے والی گولی لکھ کر دی ۔ اب وہ دن میں تین دفعہ وہ دوائی استعمال کر رہے ہے۔اور اب انہوں نے 45 دنوں کے بعد چیک اپ کے لیے کہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کی صورت حال میں 45 دن انتظار کرنا چاہیے کہی کوئی مسئلہ تو نہیں پیدا ہو جائے گا۔
    شکریہ

      1. علیکم۔ ڈاکٹر صاحب میں نے آپ کے آرٹیکل پڑھ کر فوراً اپنے والد صاحب کی آنکھ کا آپریشن کروایا دیا ہے۔ تھوڑی سے مزید راہنمائی فرمائیں۔ آپریشن کروائے تقریباً دو ہفتے ہونے والے ہیں لیکن ان کی آنکھ کے ایک طرف نیچے والی سائیڈ پر سرخ کم نہیں ہو رہی۔ اب ہوتی بھی ہے تو پھر آجاتی ہے اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ۔وقت دینے کا بے حد شکریہ

  5. السلام و علیکم
    ڈاکٹرز نے سفید موتیا تشخیص کیا ہے. کیا لیزر یا کسی دوسری ٹیکنالوجی سے علاج کی صورت میں عینک کا استعمال کرنا ہوگا اس سے پہلے کچھ پلس نمر سلنڈر کے ساتھ کی عینک لگی ہوئی ہے. یہ پراسس کتنی دیر کا ہوگا؟ اس کے مکمل.چارجز کتنے ہوں گے ایک آنکھ کے لئے؟ عمر ساٹھ سال کے قریب ہے. شوگر. ہارٹ پرابلم کوئی نہیں ہے. براہ کرم آگاہ فرمائیں کہ یہ آپریشن کس جگہ پر ہوگا؟
    جزاک اللہ

    1. وعلیکم السلام محترم عرفان صاحب اپریشن کے بارے میں آپ کے قریباً تمام سوالوں کے جواب میری ویبسائٹ پر سفید موتیا والے آرٹیکل میں موجود ہیں
      میری گذارش ہے ایک اُسے پڑھ لیں اگر پھر بھی کچھ تشنگی باقی ہوئی تو میں جواب کیلئے حاضر ہوں گا. میں اپریشن کہاں کرتا ہوں؟ لاہور میڈیکئر آئی سنٹر میں. Contact Us پیج پر ایڈریس، نقشہ، اوقات کار ساری تفصیلات موجود ہیں. ملاحظہ فرما لیں.

  6. میرے ابو کی نظر دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے. ڈاکٹر کہتے ہیں کہ موتیا ہے.

  7. السلام علیکم
    ڈاکٹر صاحب آپکا یہ آرٹیکل میرے لیے کسی نعمت سے کم نہیں، میری سیدھی آنکھ میں تقریباً 5 سالوں سے cataract ہے جو اب تک کافی بڑھ گیا ہے ڈاکٹروں نے اتنی تفصیل کبھی نہیں بتائی جو کچھ اس پوسٹ میں پڑھا. اللہ تعالٰی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے
    ایک سوال: کیا ترچھی آنکھوں میں cataract کی سرجری بہت پیچیدہ اور اسکے کامیاب ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں؟

  8. السلام علیکم سر میرے ابو کو شوگر ہے۔ اُن کی نظر دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اُن کو سفید موتیا ہے اور ڈاکٹر صاحب نے اُن کیلئے اپریشن تجویز کیا ہے۔ میں جاننا چہتی ہوں کہ کیا اپریشن کے بعد اُن کو عینک کی ضرورت ہو گی یا نہیں؟؟

  9. ڈاکٹر صاحب میں نے آپ کا مضمون پڑھا ہے۔ ماشا اللہ کافی معلومات ملی ہین۔ لیکن ایک جگہ آپ نے لینز کی اقسام بتائی ہیں۔ لیکن ہیڈنگ میں Foldable and Non-Foldable فرق نہیں۔ مجھے اچھی طرح سمجھ نہیں آ سکی۔ مہربانی فرما کر کچھ وضاحت فرما دیں۔ شکریہ۔

    1. آسان زبان میں میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ فولڈیبل لینز وہ ہیں جو فیکو اپریشن میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ چونکہ لینز ڈالنے کیلئے سوراخ چھوٹا ہوتا ہے اِس لئے فولڈ کرکے آنکھ کے اندر داخل کر دیئے جاتے ہیں۔

  10. جزاک اللہ مجھے آپ کی ویبسائٹ سے بہت فائدہ ہوا. آپ سے گذارش ہے کہ اِسے جاری رکھیں. اللہ آپ کو جزا دے.

  11. سفید موتیا کیلئے جو فیکو اپریشن کیا جاتا ہے وہ کیا ہوتا ہے؟

  12. میری بیٹی 6 ماہ کی ہے۔ اِس کی دونوں آنکھوں میں موتیا آ گیا ہے۔ اتنی چھوٹی عمر میں موتیا کیوں بن جاتا ہے؟ کیا اِس کا علاج اپریشن کے بغیر ہو سکتا ہے؟

    1. جناب نعمان صاحب اللہ تعالیٰ آپ کی بیٹی کو صحت کاملہ عطا فرمائے اور آپ کی پریشانی میں آپ کی مدد فرمائے۔

      چھوٹے بچوں میں زیادہ تر یہ نقص پیدائشی طور پر ہوتا ہے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ پہلے چیک نہیں کرایا گیا اِس لئے پتہ نہیں چل سکا۔ دوسری وجہ زیادہ تر یہ ہوتی ہے کہ کسی وقت چوٹ آئی جس کی وجہ سے قدرتی لینز خراب ہو جاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ موتیا فوری طور پر بن جائے؛ یہ چوٹ کے کُچھ عرصہ بعد بھی بن سکتا ہے۔ تیسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بچی کسی وقت بہت زیادہ بیمار رہی ہو۔ یا تو اُس بیماری کی وجہ سے موتیا بن جاتا ہے یا پھر اُس دوران اِستعمال ہونے والی دوائیوں کے سائیڈ ایفیکٹس کی وجہ سے موتیا بن جاتا ہے۔ بعض بچوں میں کوئی اور پیدائشی بیماری ہوتی ہے مثلاً Down’s Syndrome وغیرہ جس کی وجہ سے قدرتی لینز خراب ہو جاتا ہے۔

      اِس کے علاج کیلئے معائنہ کئے بغیر کوئی مشورہ ممکن نہیں ہوتا۔ کیونکہ اگر موتیا نظر پر اثر ڈال رہا ہو تو پھر تو فوری اپریشن ہی واحد حل ہے لیکن اگر نظر کو زیادہ متأثر نہ کر رہا ہو تو بچے کے بڑے ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے۔

  13. Respected Sir, I would like to treat my both the eyes suffering from cataract..I have to arrange the expenditures, therefore please intimate approximate charges of the operation including lens. many thanks.

    1. وعیلکم السلام میں تو فی الحال پاکستان میں موجود نہیں مختلف ہسپتالوں اور مختلف ڈاکٹرز کے ہاں اخراجات مختلف ہیں ۔آپ جن سے اپریشن کروانا چاہتے ہیں انہی سے تفصیل پوچھیں۔

  14. اسلام علیکم ! میری اہلیہ کو عرصہ 5 سال سے موتیا ہے لیکن بہت معمولی مقدار میں ہے شوگر بھی ہے لیکن موتیا کا آپریشن کروانے سے ڈرتی ہیں نظر میں ریڈنگ پروبلم ہے تھوڑا سا 1.5 کا چشمہ لگا تی ہیں میرا سوال یہ ہے آپریشن نہ کروانے سے کوئی نقصان تو نہیں۔۔۔۔۔ شکریہ

    1. وعلیکم السلام سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ شوگر کو صحیح طرح کنٹرول کریں۔ اگر تھوڑا موتیا ہوا تو ہو سکتا ہے کہ موتیا اپریشن کے بغیر ہی بہتر ہو جائے! لیکن اگر واقعی ڈاکٹرز نے معائنہ کرکے یہی بتایا ہے کہ اپریشن ضروری ہو گیا ہے تو پھر یہ تاخیر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک تو کالا موتیا کا خطرہ ہوتا ہے دوسری بات یہ ہے کہ ڈاکٹرز کے لئے اپریشن کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور دورانِ اپریشن پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

  15. میرا ستمبر میں سفید موتیا کا اپریشن ہوا ہے، سب ٹھیک ہے لیکن دور کی نظر میں کچھ مشکل ہو رہی ہے اور آنکھیں بھی سوجھ جاتی ہیں۔ کیوں؟ مجھے کیا کرنا چاہئے؟

    1. محترمہ قیس صاحبہ آپ امید ہے اب تک اپنی آنکھ کا معائنہ کرو چکے ہونگے نہیں تو کسی کو معائنہ کروائیں ایسے مسائل نہ معائنہ کیے بغیر سمجھ آتے ہیں اور ان کا حل ممکن ہوتا ہے۔

  16. السلام علیکم ڈاکٹر صاحب میری والدہ نے آنکھ کا اپریشن کروایا ہے۔ اُس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے Moxicin اور Fortipred قطرے لکھ کر دیئے ہیں۔ شروع میں اُن سے چبھن نہیں ہوتی تھی لیکن اب وہ جب ڈالتے ہیں تو تکلیف دیتے ہیں۔ کیا یہ نارمل بات ہے یا پریشانی کی؟

    1. وعلیکم السلام بیٹا آپ اپنے ڈاکٹر صاحب کو چیک کروائیں اس طرح کی چیزیں چیک کیے بغیر کوئی بھی نہیں بتا سکے گا اگر بتائے گا  تو زیادہ امکان ہے کہ غلطی کرے گا۔ 

  17. کیا ایک دفعہ لینز ڈلوانے کے بعد دوبارہ بھی ڈلوایا جا سکتا ہے؟

  18. السلام علیکم ڈاکٹر صاحب میری والدہ محترمہ کی آنکھوں میں پچھلے دو سالوں سے سفید موتیا بن رہا ہے۔ ہم نے اپنے علاقے کے آئی سپیشلسٹ کو چیک کروایا ہے انھوں نے -2.50 نمبر کی عینک تجویز کی ہے۔ اب ایک دوسرے ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ موتیا پک گیا ہے ان کا اپریشن کروائیں۔ ہم آپ سے مشورہ کرنا چاہتے ہیں اس کا کیا طریقہ ہے؟ ہم آپ کے بہت مشکور ہونگے۔

    1. محترم وقار عظیم صاحب السلام علیکم آپ سفید موتیا کے بارے میں جو معلومات چاہتے ہیں اُنکے ببارے میں تو پہلے ہی میری ویب سائیٹ پر تفصیلی معلومات موجود ہیں۔ جہاں تک چیک کروانے کا سوال ہے تو بہتر ہو گا کہ آنے سے پہلے فون پر اپوائینٹ منٹ لے لیں۔ مجھے آپ کی مدد کرکے خوشی ہو گی۔

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔