قابل رحم

یہ صاحب منزل مراد تک تو پہنچ گئے لیکن اندر نہیں جا پا رہے. اندر جانے کے لیے انہیں ان لوگوں کی ضرورت ہے جن کو یہ سالہا سال دولتیاں مارتے رہے ہیں!

 

ابولہب کی تلاش

اشتہار گُمشُدگی۔ اصلی ابُو لہب کی تلاش :

جب سے سورۂ ابو لہب پر غور کیا مُجھے کبھی آئینے میں ابو لہب نظر آتا ہے کبھی اپنے دوستوں میں۔ میں گھبرا کر مسجد کا رُخ کرتا ہوں تو ممبر اور صفوں میں ہر طرف ابُو لہب نظر آتے ہیں۔
میری گلیوں شہروں ، حکوتی و فوجی اداروں اور عدالتوں میں مُجھے ہر طرف ایک ہی چہرہ نظر آتا ہے۔ آگ برساتا عقل اور تدبیر سے عاری جزبات اور احساس برتری سے سے بھرا ابُو لہب۔.
مُجھے ان سب میں سے اُس ابُو لہب کی تلاش ہے جسکے بارے میں قُرآن کی سورۂ ابو لہب ہے۔ مولوی صاحب نے بتایا بھائی کسے ڈھونڈتے ہو ابُو لہب تو مُحمدﷺ کا چچا عبدُل عُزا تھا جسے اُس کے رویّے کی وجہ سے ابُو لہب یعنی شُعلوں کا باپ کہا جاتا تھا وہ تو چودہ سو سال پہلے مر کھپ گیا تھا۔
میں نے عرض کی مولانا کیا جیسے سورہ ابُو لہب میں ذکر ہے اُس کے ہاتھ ٹُوٹیں گے کیا اُس کے ہاتھ ٹُوٹے تھے۔ مولانا نے فرمایا نہیں بھئی یہ حقیقت میں نہیں مجازی طور پر ہونا تھا یعنی تباہی اُسکا مُقدّر تھی۔
میں نے مولانا سے سوال کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ ابُو لہب کا ذکر کرنے میں بھی مجازی طور پر میرا اور اور آپکا ذکر ہو اگر ہاتھ ٹُوٹنا مجازی معنوں میں لیا جانا چاہیے تو اُس حقیقی عبدُل عُزا کا ہی کیوں سوچا جائے جو صدیوں پہلے مر کھپ گیا۔
مولانا کے امام اور امام کے اُستاد نے چونکہ اپنی تفسیروں میں صدیوں پہلے عبدُل عُزا کو ہی آخری اور حتمی ابُو لہب لکھ دیا تھا لہٰذا مولانا تو نہیں مانے میں نے سوچا آئینہ آپکی خدمت میں پیش کروں۔
کہیں آپ بھی آگ کے باپ تو نہیں۔ کہیں آپ بھی عبدُل عُزا کی طرح ضدّی اور انا پرست تو نہیں۔ کہیں اُسکی طرح آپ بھی مُخالف نظریے کے لوگوں کی نفرت میں اندھے تو نہیں ہو جاتے۔ کہیں آپ کے بھی دل دماغ آنکھ کان اور عقل پر مُہر تو نہیں لگی۔ کیا دلیل آپ پر بھی تو بے اثر نہی ہو گئی۔ اگر آپ میں یہ سب نشانیاں ہیں تو آپ ہی اصلی گُمشدہ ابُو لہب ہیں.
مُجھے آپکو ڈھونڈ کر بس یہ بتانا تھا کہ سورہ ابُو لہب کے مُطابق آپکے ہاتھ ٹُوٹیں گے۔ آپکا مال اولاد آپکے کام نہ آئیں گے۔ یہ جو آپکے اندر انا ، غُصہ ، فرقہ ورانہ نفرت ، حسد اور بُغض کی آگ بھری ہے اس سورہ کے مُطابق آپ ہی کے گلے کا طوق بنے گی۔
قُرآن بعض اوقات بظاہر کسی خاص قوم یا افراد سے مُخاطب ہوتا ہے جیسے بنی اسرائیل ، نصارا، ابُو لہب یا قُریش وغیرہ۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ جب یہ آیات آپ کے لیے ہیں ہی نہیں تو آپ کیوں انہیں تلاوت کرتے ہیں جبکہ نہ ابُو لہب زندہ ہے اور نہ کوئی قُریشی اب غیر مُسلم ہے۔ بنی اسرائیل نصارا، ابُو لہب یا مُشرک قُریش کولکھے جانے والے کھُلے خط مُجھے کیوں دیے گئے۔ ایک تو یہ بات ہے کہ اُن تک یا اُن جیسوں تک یہ خطوط مُجھے پہنچانے ہیں لیکن یہ خط کھُلے اس لیے چھوڑے گئے کہ میں آگے پُہچانے سے پہلے ان خطُوط کے آئینے میں خود کو دیکھ لوں۔
بنی اسرائیل کو پیغام دینے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لوں کہیں اُنکی سب سے بڑی بُرائیاں یعنی قوم پرستی اور نسلی تفاخُر مُجھ میں تو نہیں۔
کسی بھی قوم کے بارے میں جو آیات قُرآن میں ہیں وہ ہمارا آئینہ اور ایمان کی چھلنیاں ہیں۔ آئیے اُن چھلنیوں سے گُزر کر دیکھیں۔ منقول

ایک پیاری سی غزل

وہ رستے ترک کرتا ھوں وہ منزل چھوڑ دیتا ھوں

جہاں عزت نہیں ملتی وہ محفل چھوڑ دیتا ھوں

کناروں سے اگر میری خودی کو ٹھیس پہنچے تو

بھنور میں ڈوب جاتا ھوں وہ ساحل چھوڑ دیتا ھوں

مجھے مانگے ھوئے سائے ھمیشہ دھوپ لگتے ہیں

میں سورج کے گلے پڑتا ھوں بادل چھوڑ دیتا ھوں

تعلق یوں نہیں رکھتا کبھی رکھا کبھی چھوڑا

جسے میں چھوڑتا ھوں پھر مسلسل چھوڑ دیتا ہوں

گُلوں سے جب نہیں بنتی تو ان سےجنکو نسبت ھو

وہ سارے تتلیاں جگنو عنادل چھوڑ دیتا ھوں

میری چاھت کی در پردہ بھی گر تذلیل کردیں جو

وہ غازے بھول جاتا ھوں وہ کاجل چھوڑ دیتا ھوں

دلِ آذاد نے مجھ کو سدا ہی درد میں رکھا

میں اپنے دل کو پا بندِ سلاسل چھوڑ دیتا ھوں

میری خوابوں سے نفرت کا یہ بزمی اب تو عالم ہے

میں سوتا ہی نہیں آنکھوں کو بوجھل چھوڑ دیتا ہوں

Self Made

میں نے ان سے ایک ایسا سوال پوچھا جومیرے دل میں ہمیشہ سے کھٹکتاچلا آ رہا ہے ۔ میں نے ان سے پوچھا ”دنیا کا ہر کامیاب انسان آخر میں تنہا کیوں ہوتا ہے“ انہوں نے فوراً جواب دیا ”اپنے تکبر اور غرور کی وجہ سے“ میں ان سے تفصیل کا متقاضی تھا‘ وہ بولے ”دنیا میں تکبر کی سب سے بڑی شکل سیلف میڈ ہے“میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا‘ انہوں نے فرمایا ”جب کوئی انسان اپنے آپ اور اپنی کامیابیوں کو سیلف میڈ کا نام دیتا ہے تو وہ نہ صرف اللہ تعالیٰ‘ قدرت اورفطرت کی نفی کرتاہے بلکہ وہ ان تمام انسانوں کے احسانات اور مہربانیوں کو بھی روند ڈالتا ہے جنہوں نے اس کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کیا تھا اور یہ دنیا کا بدترین تکبرہوتاہے“ وہ رکے‘ چند لمحے سوچا اور اس کے بعد بولے ”تم فرعون اور نمرود کو دیکھ لو‘یہ دونوں انتہا درجے کے ذہین‘ فطین اور باصلاحیت حکمران تھے‘ فرعون نے نعشوں کو حنوط کرنے کا طریقہ ایجاد کیاتھا‘ اس نے ایک ایسی سیاہی بھی بنوائی تھی جو قیامت تک مدھم نہیں ہوتی‘ اس نے ایسے احرام بھی تیار کئے تھے جن کی ہیئت کو آج تک کی جدید سائنس نہیں سمجھ پائی‘ اس نے دنیامیں آبپاشی کا پہلا نظام بھی بنایا تھا اور فرعون کے دور میں مصر کے صحراﺅں میں بھی کھیتی باڑی ہوتی تھی لیکن یہ فرعون بعدازاں عبرت کی نشانی بن گیا۔ کیوں؟“ انہوں نے میری طرف دیکھا‘ میں نے فوراً عرض کیا ”اپنے تکبر‘ اپنے غرور کی وجہ سے“ انہوں نے اثبات میں سر ہلایا اور مسکرا کر بولے ”ہاں لیکن فرعون کا تکبر سیلف میڈ لوگوں کے غرور سے چھوٹا تھا‘ اس نے صرف اللہ کی نفی کی تھی‘ وہ اللہ کے سوااپنے تمام بزرگوں‘اپنے تمام دوستوں اور اپنے تمام مہربانوں کا احسان تسلیم کرتا تھا‘ وہ اپنے استادوں کو دربار میں خصوصی جگہ دیتا تھا اور وہ اپنی بیویوں کا اتنا احترام کرتا تھا کہ اس نے اپنی اہلیہ محترمہ کے کہنے پر حضرت موسیٰ ؑکو گود لے لیا تھا“ وہ رکے اور دوبارہ بولے ”تم نمرود کو دیکھو‘ نمرود نے کھیتی باڑی کے جدید طریقے ایجاد کرائے تھے‘ اس نے دنیا میں پہلی بار زمین کو یونٹوں میں تقسیم کیاتھا‘ اس نے اونچی عمارتیں بنوائیں تھیں‘ اس نے شہروں میں فوارے لگوائے تھے‘ اس نے دنیا میں پہلی بار درخت کاٹنے کی سزا تجویز کی تھی اور وہ دنیا کا پہلا بادشاہ تھا جس کے ملک سے غربت اور بے روزگاری ختم ہو گئی تھی اور جس کی رعایا کاہر فرد خوشحال اور مطمئن تھا لیکن پھر یہ بادشاہ بھی اللہ کے عذاب کاشکار ہوا۔ کیوں؟“ میں نے فوراً عرض کیا ”غرور کی وجہ سے“ انہوں نے اثبات میں سر ہلایا اور بولے ”ہاں وہ اللہ کے وجود کی نفی کا مرتکب ہوا تھا اور یہ اس کا واحد جرم تھاجبکہ عام زندگی میں وہ ایک اچھا انسان اور شاندار بادشاہ تھا‘ وہ مہمان نواز تھا‘ وہ شائستگی کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا‘ اس نے اپنے دربار میں دنیا جہاں کے عالم اورماہرین جمع کررکھے تھے‘ وہ بہادری اور شجاعت میں یکتا تھا‘ وہ اپنے دوست احباب‘ ماں‘ باپ اور عزیز رشتے داروں کا بھی احترام کرتا تھا اوروہ لوگوں کے احسانات اور مہربانیوں کو بھی یاد رکھتا تھا لیکن اس نے اللہ کی ذات کی نفی کی‘ خود کو خدا کہہ بیٹھا اور اللہ کی پکڑ میں آ گیا“ وہ رک گئے۔
وہ چند لمحے سوچتے رہے اور اس کے بعد بولے ”فرعون اور نمرود نے صرف اللہ کی ذات میں برابری کی تھی جبکہ خود کو سیلف میڈ کہنے والا شخص نعوذ باللہ نہ صرف اس سے برتری کا دعویٰ کرتا ہے بلکہ وہ دنیا بھر کے ان لوگوں کے احسانات بھی فراموش کردیتا ہے جنہوں نے اس کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا چنانچہ یہ شخص فرعون اور نمرود کے مقابلے میں بھی کئی گنا بڑے غرور اور تکبر کامظاہرہ کرتا ہے لہٰذا یہ آخر میں اللہ کی پکڑ میں آ جاتاہے اور اللہ تعالیٰ اس پرتنہائی کا عذاب نازل فرما دیتا ہے“ وہ رکے‘ انہوں نے ایک لمبا سانس لیا اور دوبارہ بولے ”انسان مجلسی جانور ہے۔ انسان‘ انسان کا محتاج ہے‘ ہم سب اپنے جیسے لوگوں میں بیٹھنا چاہتے ہیں‘ ان کے ساتھ گپ شپ کرنا چاہتے ہیں‘ ان کے ساتھ اپنے جذبات شیئر کرنا چاہتے ہیں‘ ہمارے لئے سب سے بڑی سزا تنہائی ہوتی ہے اسی لئے قید تنہائی کو دنیا میں سب سے سنگین سزاقرار دیا گیا۔ انسان بڑے سے بڑا عذاب برداشت کر جاتاہے لیکن وہ تنہائی کی سزا نہیں بھگت سکتا۔ اللہ تعالیٰ کیونکہ ہماری رگ رگ‘ ہماری نس نس سے واقف ہے چنانچہ وہ خود کو سیلف میڈ قرار دینے والوں کو تنہائی کی حتمی سزا دیتا ہے۔ تم دیکھ لو‘ دنیا میں جس بھی شخص نے خود کو سیلف میڈ قرار دیا‘ جس نے بھی اپنی اچیومنٹس کو اپنی ذاتی کوشش‘ جدوجہد اور محنت کا نتیجہ کہا وہ کامیابی کی آخری سٹیج پر پہنچ کر تنہائی کا شکار ہوگیا‘ وہ تنہائی کی موت مرا“ وہ خاموش ہوگئے‘ میں چند لمحے انہیں دیکھتا رہا‘ جب خاموشی کا وقفہ طویل ہو گیا تو میں نے عرض کیا ”ہمیں سیلف میڈ کی بجائے کیا کہنا چاہئے“ وہ فوراً بولے ”اللہ میڈ“وہ چندلمحے مجھے دیکھتے رہے اور اس کے بعد بولے ” کامیاب اور کامران لوگوں پر اللہ کا خصوصی کرم ہوتا ہے‘ اللہ ان لوگوں کو کروڑوں‘ اربوں لوگوں میں سے کامیابی کیلئے خصوصی طور پر چنتا ہے‘ انہیں وژن اور آئیڈیاز دیتا ہے‘ ان کو محنت کرنے کی طاقت دیتا ہے‘ انہیں دوسرے انسانوں کے مقابلے میں زیادہ توانائی بخشتا ہے‘ ان کے آگے بڑھنے کے خصوصی مواقع پیدا کرتا ہے‘ ان کیلئے کامیابی کے راستے کھولتا ہے‘ معاشرے کے بااثر اوراہم لوگوں کے دلوں میں ان کیلئے محبت اور ہمدردی پیدا کرتاہے اور آخر میں تمام لوگوں کو حکم دیتاہے وہ ان لوگوں کو کامیاب تسلیم کریں‘ وہ اپنی نشستوں سے اٹھ کر ان کیلئے تالی بجائیں اگریہ حقیقت ہے تو پھر یہ ساری کامیابی اللہ کی کامیابی نہ ہوئی‘ہم لوگ اورہماری ساری کامیابیاں اللہ میڈ نہ ہوئیں‘ تم سوچو‘ تم بتاﺅ“ ۔ انہوں نے رک کر میری طرف دیکھا‘ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
وہ بولے ” اور جب کوئی کامیاب شخص اپنی کامیابی کو اللہ کا کرم اور مہربانی قرار دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں اس کے گرد رونق لگا دیتاہے‘ وہ لوگوں کے دلوں میں اس شخص کیلئے محبت ڈال دیتاہے یوں یہ شخص زندگی کی آخری سانس تک لوگوں کی محبت اور رونق سے لطف اٹھاتا رہتا ہے‘ اللہ اس کی زندگی پر تنہائی کا سایہ نہیں پڑنے دیتا“۔ میں نے ان کی طرف دیکھا اور ڈرتے ڈرتے پوچھا ”پھر انسان کی زندگی میں اس کی کوشش اور جدوجہد کا کیا مقام ہوا“ انہوں نے غور سے میری طرف دیکھا اور بولے ”ہماری کیا مجال ہے ہم اس کی اجازت کے بغیر محنت کر سکیں یا ہم اس کی مہربانی کے بغیرجدوجہد کر سکیں‘ ہم میں تو اتنی مجال نہیں کہ ہم اس کی رضا مندی کے بغیر اس کانام تک لے سکیں‘ پھر ہماری محنت‘ ہماری جدوجہد کی کیا حیثیت ہے‘ یہ سب اللہ کی مہربانی کا کھیل ہے‘ یہ سب اللہ میڈ ہے‘ ہم اور ہم سب کی کامیابیاں اللہ میڈ ہیں‘ خدا کے بندو‘اللہ کے کریڈٹ کو تسلیم کرو تا کہ تمہاری زندگیاں تنہائیوں سے بچ سکیں‘ تم پر غم کا سایہ نہ پڑے“۔وہ رکے اور اس کے بعد زور دے کر بولے ”یاد رکھو‘ زندگی میں کبھی خود کو سیلف میڈ نہ کہو‘ ہمیشہ اپنے آپ کو اللہ میڈ سمجھو‘

پی ٹی آئی ۔پی پی پی یا مسلم لیگ ق)  

سلیم صافی

میں پی ٹی آئی کونئی مسلم لیگ (ق) سمجھ رہا تھا اور میں نے ہی اسے نئی مسلم لیگ (ق) کا نام دیا تھا۔وجہ یہ تھی کہ یہاں مسلم لیگ (ق) کی تمام خصوصیات دیکھنے کو ملتی تھیں۔ مثلاً مسلم لیگ (ق) اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ تھی اور گزشتہ چھ سال سے یہ خدمت پی ٹی آئی بدرجہ اتم سرانجام دے رہی ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ق) میں ایجنسیاں افراد کو شامل کرواتی اور عہدے دلواتی تھیں اور 2011ء کے بعد ایک لمبے عرصے تک  ایجنسیاں مختلف شخصیات کو پی ٹی آئی میں شامل کراتی اور ان کو مناصب دلواتی رہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ (ق) کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ کرپٹ اور بدنام سیاستدانوں کیلئے لانڈری کی حیثیت رکھتی تھی اورجو اس میں شامل ہوجاتا احتساب سے بچ کر صاف ہوجاتا۔ ایک عرصے سے لانڈری کی یہ حیثیت پی ٹی آئی کو حاصل ہوچکی ہے۔ شاہ محمود قریشی آصف علی زرداری کے دست راست اور گیلانی کابینہ کے وزیر تھے لیکن پی ٹی آئی میں آئے تو صاف قرار پائے۔ بیرسٹر سلطان محمود اور رحمان ملک ایک ہی طرح کی صفات کے حامل تھے لیکن پی ٹی آئی میں آئے تو فرشتہ قرار پائے۔ پرویز خٹک زرداری صاحب کے سپاہی، آفتاب شیرپائو کے دست راست اور حیدر ہوتی کابینہ کی صوبائی کابینہ کے رکن تھے لیکن پی ٹی آئی میں آئے تو ایسے صاف ہوگئے کہ پی ٹی آئی کے ترجمان قرآنی آیات پڑھ پڑھ کر ان کے پاک صاف ہونے کی گواہیاں دینے لگے۔ اعظم سواتی،مولانا فضل الرحمان صاحب کے دست راست تھے اور امریکہ سے لائے ہوئے مبینہ ڈالروں کے عوض سینیٹ میں اور پھر گیلانی کابینہ میں آئے تھے لیکن پی ٹی آئی میں آئے تو امامت کے یوں اہل قرار پائے اور علامہ علی محمد خان اور مفتی شہریار آفریدی نے باجماعت ان کو سیاسی امام تسلیم کیا۔ وہ پہلے صوبائی صدر بنائے گئے اور اب الیکشن کے نام پر سلیکشن کیلئے بنائے گئے الیکشن کمیشن کے سربراہ مقرر ہوئے۔ علیٰ ہذا القیاس۔ لیکن اب ایک اور طرح کی تبدیلی آگئی ہے۔ اب پی ٹی آئی میں پیپلز پارٹی کی تمام صفات در آئی ہیں اور قیادت پر بھی پیپلز پارٹی کا واضح غلبہ ہوگیا ہے۔ ویسے تو سب سے طاقتور نام بلکہ شاید عمران خان سے بھی زیادہ طاقتور جہانگیر خان ترین ہیںجو پیپلز پارٹی سے نہیںبلکہ مسلم لیگ (ق) سے پی ٹی آئی میں آئے تھے لیکن انہیں اللہ نے مال کے ساتھ ساتھ چال چلانے کی بھی ایسی صلاحیت دی ہے کہ انہیں بجا طور پرپی ٹی آئی کا آصف زرداری قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن جہانگیر ترین کے نیچے دیکھیں تو ہر طرف پیپلز پارٹی ہی پیپلز پارٹی نظر آتی ہے۔ شاہ محمود قریشی اگرچہ 2001ء سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں تھے ( عمران خان نے 2002 ء میں ایک دن پرویز مشرف کو شکایت کی تھی کہ ان کے دوست شاہ محمود قریشی ان کی پارٹی میں آنا چاہتے ہیں لیکن ایجنسیاں ان کو آنے نہیں دے رہیں ) لیکن وہ پہلے بے نظیر بھٹو اور پھر آصف علی زرداری کے رازدان تھے۔ اب وہ جہانگیر ترین کے بعد پی ٹی آئی کے اہم ترین رہنما ہیں۔ اسی پرویز خٹک بنیادی طور پر جیالے اور پیپلئے ہیں تاہم اسد قیصر جیسے عمران خان کے کئی پرانے خدمتگاروں کو پیچھے چھوڑ کر وہ نہ صرف وزیراعلیٰ بنے بلکہ خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی ان کی مٹی میں بند ہے۔ غلام مصطفیٰ کھر کی تو پہچان ہی پیپلز پارٹی تھی۔ اب ماشاء اللہ وہ بھی پی ٹی آئی کے رہنما بن گئے ہیں۔ چوہدری محمد سرور کچھ عرصہ کیلئے شریفوں کے سیاسی دسترخوان سے بھی مستفید ہوئے لیکن وہ اصل میں بے نظیر بھٹو کے آدمی تھے۔ اب وہ بھی پی ٹی آئی کے اہم ترین رہنما ہیں۔اسی طرح سردار آصف احمد علی بھی معروف پیپلئے تھے۔ عرصہ ہوا وہ بھی پی ٹی آئی کے رہنما بن گئے ہیں۔ بلوچستان کی پی ٹی آئی کے صدر سرداریار محمد رند اگرچہ مسلم لیگ (ق) میں بھی رہے اور شوکت عزیز کابینہ کے وزیر تھے لیکن پرانے پیپلئے ہیں۔ راجہ ریاض کے جیالا پن کو کون بھول سکتا ہے۔ ان سے آصف علی زرداری صاحب وہی کام لیا کرتے تھے جو میاں صاحب طلال چوہدری اور دانیال عزیز سے لیتے ہیں لیکن اب ماشاء اللہ وہ بھی پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما ہیں۔ہمارے دوست فواد چوہدری تو نہ صرف پیپلز پارٹی کے معروف خاندان کے چشم وچراغ ہیں بلکہ آج بھی نظریاتی حوالوں سے یا پھر عادتوں کے لحاظ سے سر تا پا پیپلئے ہیں۔ الحمد للہ آج وہ عمران خان صاحب کے مشیر خاص اور ترجمان ہیں۔ بابر اعوان کے جیالاپن سے تو ایک دنیا واقف ہے۔ گزشتہ حکومت میں وہ زرداری صاحب کی وکالت میں کن حدوں تک جاتے تھے، کوئی بھول گیا ہو تو عمران خان کے ساتھ ان کی وہ ویڈیو دیکھیں جس میں وہ ان کو لاجواب کرنے کیلئے ٹیریان تک جاپہنچے تھے۔ اعوان صاحب آج بھی کاغذی طور پر پیپلز پارٹی میں ہیں لیکن عرصہ ہوا کہ وہ اصلاً عمران خان کے وکیل اور مشیربن گئے ہیں۔ غرض کس کس کا ذکر کروں۔ آج خان صاحب کے اردگرد نظر دوڑائیں تو پیپلز پارٹی ہی پیپلز پارٹی نظر آتی ہے۔ کہیں اشرف سوہنا تو کہیں ممتاز تارڑ، کہیں نور عالم خان تو کہیں عامر ڈوگر۔ لیکن بنی گالہ میں بننے والی پیپلز پارٹی کے تاج محل کی یہ تصویرشاید فردوس عاشق اعوان کے بغیر نامکمل تھی۔ اگرچہ انہوں نے اپنی وزارت کے دنوں کے اپنے فرنٹ مین کو پہلے سے عمران خان کے ساتھ فٹ کرلیا تھا ( جن کو میڈیا کنسلٹینسی کے نا م پر اشتہارات وغیرہ کی آڑ میں کمانے کا تجربہ فردوس عاشق اعوان کے ساتھ ہوچکا تھا اور اسی لئے انہوں نے ایک صاحب کے ساتھ مل کر خیبرپختونخوا کے اشتہارات کے کئی ارب روپے ایک کمپنی کی آڑ لے کراڑانے کا منصوبہ بنایا تھا جو وقتی طور پر ڈان کے اسماعیل خان اور میری کوششوں سے ناکام ہوا لیکن اب سنا ہے کہ وہ دونوں ایک اور طریقے سے واردات کرنے جارہے ہیں۔ افتخاردرانی پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے مزے لینے اور اپنی اہلیہ کو فردوس عاشق اعوان کے ذریعے پیمرا میں تعینات کرانے کے بعد اب پی ٹی آئی کے میڈیا کے انچارج ہیں اور شام کو ٹی وی پربیٹھنے والے پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی کی ڈیوٹی وہ لگاتے ہیں کہ شام کو کس نے کس چینل پر جاکر کس کی کیا بے عزتی کرنی ہے)۔ بہر حال فردوس عاشق اعوان کی آمد سے پی ٹی آئی کے پیپلز پارٹی بننے میں جو کسر رہ گئی تھی، پوری ہوگئی۔ جس طرح عمران خان نے رنگ برنگے ٹریک سوٹ کے ساتھ کیمروں کے سامنے بیٹھ کر فردوس عاشق اعوان کو شامل کروایا اس سے عیاں ہوتا ہے کہ فردوس صاحبہ کیلئے بھی موزوں ترین جگہ یہی تھی اور پی ٹی آئی میں بھی بس ان کی کمی تھی۔ الحمد للہ پی ٹی آئی اب مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کا مرکب تو بن گئی لیکن سوال یہ ہے کہ اب قیادت کون کرے۔ یہاں اب نہ تو زرداری صاحب قیادت کیلئے آسکتے ہیں اور نہ چوہدری شجاعت حسین صاحب۔ بدقسمتی سے ایسے حالات بنتے جارہے ہیں کہ اگلے انتخابات سے عمران خان بھی آئوٹ ہوں۔ نہ صرف یہ کہ وہ خاص قوتوں کیلئے بوجھ بنتے جارہے ہیں بلکہ خود پارٹی کی سیکنڈ رینک کے بعض اہم کردار بھی ان کو آئوٹ کراکر پارٹی پر قبضے کا سوچ رہے ہیں۔
اب ایک گروپ جہانگیر ترین کا ہے ۔ دوسرا شاہ محمود قریشی کا ہے ۔ تیسرا اسدعمر اور شیریںمزاری وغیرہ کا ہے ۔ جو نظریاتی لوگ تھے یا جو پھر خان صاحب کے وفادار تھے ، ان کی اب کوئی حیثیت نہیں ۔ وہ ان تینوں میں سے کسی ایک کے قدموں میں بیٹھے ہوتے ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ لڑائی اس لئے شدت اختیار کرتی جارہی ہے کیونکہ شاہ محمود قریشی اور اسد عمر گروپ کو احساس ہوگیا ہے کہ وہ کچھ بھی کرلیں خان صاحب کوجہانگیر ترین کے سحر سے نہیں نکال سکتے ۔ دوسری طرف اس وقت پی ٹی آئی کو شناخت اور پالیسی کا بھی چیلنج درپیش ہے ۔ ابھی تو اس کی سیاست صرف نوازشریف دشمنی اور اقتدار تک پہنچنے کی کوشش تک محدود ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ لیفٹ کی پارٹی ہوگی یا رائٹ کی یا پھر سینٹرکی ۔ اس کی اقتصادی پالیسی پیپلز پارٹی والی ہوگی ، مسلم لیگ (ق) والی یا پھر کچھ اور ۔ یہ اس وقت شاید واحد سیاسی جماعت ہے جس کی کوئی خارجہ پالیسی بھی نہیں ۔ صرف ایک چیز واضح ہے کہ علی زیدی کی قیادت میں ایرانی لابی کا ایک گروپ بڑی ہوشیاری کے ساتھ پی ٹی آئی کو ایران کی پراکسی میں بدل چکا ہے اور تادم تحریر یہ گروپ بڑی خاموشی کے ساتھ کام کرکے خان صاحب کو عرب مخالف لیڈر بناچکے ہیں۔ اسی گروپ نے ہی پی ٹی آئی کو چین سے دور کرنے میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ باقی افغانستان ہو کہ چین ، امریکہ ہو کہ ہندوستان کسی ایشو سے متعلق پی ٹی آئی کی خارجہ پالیسی واضح نہیں ۔ اس میں دو رائے نہیں کہ میاں نوازشریف کی عوامی سطح پر مقبولیت کا گراف نہایت تیزی کے ساتھ گرا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ عالمی اور قومی مقتدر حلقے کیا اس پارٹی کو مقتدر بنانا چاہیں گےجس کی سمت معلوم ہو، خارجہ پالیسی اور نہ لیڈر۔

تمهارا” اور “یوسف” کا خدا ایک ہی ہے.

کیا​ “تمهارا” اور “یوسف” کا خدا ایک ہی نہیں ہے؟
چاہا کہ یوسف کو مار دیں، یوسف بچ گئے.

چاہا کہ ان کی نشانیوں کو مٹا دیں، وہ اور بهی قیمتی ہو گئیں.

چاہا کہ انکو بیچ دیں تاکہ غلام ہو جائے، بادشاہ بن گئے.

چاہا کہ باپ کے دل سے انکی محبت نکل جائے، محبت اور زیادہ ہو گئ.

لوگوں کی چال سے کبیدہ خاطر نہیں ہونا چاہیئے….

کیوں کہ خدا کا ارادہ ہر ارادے سے بلند ہے.

یوسف جانتے تهے کہ سبهی دروازہ بند ہیں، لیکن اسکے باوجود خدا کی خاطر؛ بند کیئے ہوئے دروازوں کی طرف دوڑے…. اور سبهی بند دروازے انکے لئے کهل گئے.

*اگر دنیا کے سبهی دروازے تمهارے لئے بند کر دئے جائیں، بند دروازوں کی طرف بڑهو….*
کیوں کہ  “تمهارا” اور “یوسف” کا خدا ایک ہی ہے.

قادری صاحب کے دوست کی سفارش

قادری صاحب چہرے پہ بے تحاشہ برہمی و غصے کے تاثرات لئے ہوئے گھر میں داخل ہوئے
چیخ کے بیگم کو آواز دی، بیگم بیچاری گھبرا کے آئی، خیر تو ہے؟ کیا ہوگیا؟
تم شیخ صاحب کے گھر گئی تھیں؟ قادری صاحب نے اپنے دیرینہ، جگری اور گہرے دوست کے نام کا حوالہ دیکر پوچھا، “اور تم نے ان سے کہا کہ وہ مجھ سے کہے کہ میں تمہیں شاپنگ کے لئے پیسے دوں؟”
“ہاں گئی تھی، اور کہا بھی تھا” بیگم نے اقرار کیا
کیا؟؟؟؟؟؟؟ قادری صاحب تقریباً دھاڑتے ہوئے بولے، شاید انکو بیگم سے انکار کی توقع تھی، “کیا میں گھر میں نہیں تھا؟ کام سے میری واپسی نہیں ہونی تھی؟ مر گیا تھا؟ مجھ سے ڈائرکٹ کیوں نہیں مانگے پیسے؟ شیخ سے کیوں مانگے؟”
“اللہ نہ کرے! مانگے تو آپ ہی سے ہیں، بس شیخ صاحب آپ کے اتنے قریبی دوست ہیں تو ان سے جا کر بول دیا کہ آپ سے کہیں کے آپ مجھے پیسے دے دیں” بیگم نے معصومیت سے کہا
قادری صاحب کا غصہ سوا نیزے پہ پہنچ گیا،” دماغ درست ہے تمہارا؟ گھر میں موجود اپنے شوہر کو چھوڑ کر تم گھر سے نکلیں، دوسرے علاقے میں موجود میرے دوست کے پاس جا کر کہہ رہی ہو کہ وہ مجھے بولے، وہ کیوں بولے مجھ سے؟ تم نے کیوں نہیں کہامجھ سے؟”
“ارے وہ آپ کے اتنے قریبی دوست ہیں، انکی بات کی اہمیت بھی ذیادہ ہوگی آپ کی نظر میں” بیگم نے قادری صاحب کے غصے کو گویا ہوا میں اُڑا کر بدستور نرم اور معصوم لہجے میں کہا
قادری صاحب نے خود کو اپنے بال نوچنے سے بڑی مشکل سے روکا اور پھنکارتے ہوئے بولے،”دوست کی بات کی اہمیت، اسکی اپنی باتوں کے لئے ہے، اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ میری بیوی،میرے بچے، میرے والدین یا بہنیں اپنی ضرورت کے لئے مجھ سے کہنے کے بجائے جا جا کے میرے دوست کو بولیں گی تب میں سنوں گا ورنہ نہیں، ارے جو میرے اپنے ہیں وہ اپنی ضرورت مجھ سے نہیں بولیں گے تو کس سے بولیں گے؟
دوست جتنا بھی قریبی ہو، کیا میں نے کہا تم لوگوں سے کے اپنی ضرورت میرے دوست سے بولو؟ کیا میرے دوست نے کہا تم سے کہ میرے پاس آئو اور اپنی ضرورتیں اور مسائل اسے بتائو؟ کیا آج تک میں نے تم لوگوں کی ضرورت پوری کرنے میں کوئی کوتاہی کی جو تم دوست کے پاس چلی گئیں؟ بولو جواب دو؟ ذلیل کروا دیا تم نے آج مجھے میرے دوست کے سامنے، کیا سوچتا ہوگا وہ میرے بارے میں۔۔۔۔۔۔” قادری صاحب بولتے بولتے رونے والے ہوگئے
بیگم نے اس بار بڑی سنجیدگی سے کہا،”معافی چاہتی ہوں، ایک چھوٹے سے خاندان کا سربراہ ہوکے آپ کا غصہ سوا نیزے پہ پہنچا ہوا ہے کہ آپ کے خاندان کے ایک فرد یعنی میں نے کسی غیر سے نہیں بلکہ آپ کے ہی ایک دوست سے سفارش کیوں کروائی جبکہ آپ کا روز کا معمول ہے کہ خالقِ کائنات کی مخلوق ہوتے ہوئے آپ کبھی دامادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مشکل کشائی کروانا چاہتے ہیں، کبھی بابا فرید کے در پہ کاروبار کی ترقی کروانا چاہتے ہیں، کبھی سہون کا رخ کرتے ہیں تو کبھی شیخ عبدالقادر جیلانی رح کو پکارتے ہیں، منع کیا جائے تو جواب ملتا ہے، مانگ تو ہم اللہ ہی سے رہے ہیں، مگر اس کے سچے دوستوں کے وسیلے سے
کیوں؟ دوستوں سے کیوں؟
آپ ہی کے بقول، کیا اللہ میاں نعوزبااللہ چھٹی پہ گئے ہوئے ہیں؟
مسجد یا گھر میں پانچ وقت کی اذان میں ہمارا رب ہمیں “فلاح یعنی کامیابی” کی طرف بلا رہا ہے آپ جاتے کیوں نہیں اور جاتے ہیں تو کیا نماز میں اسے اپنی ضرورت نہیں بتا سکتے؟
اور جب اللہ کواپنی حاجت بتا دی تو کیا ضرورت رہ جاتی ہے کہ بزرگوں کے در کے چکر لگائے جائیں؟
کیا ان بزرگ ہستیوں نے کہا کہ اللہ نے ہمیں تمہاری مشکلات دور کرنے کا حق “عطا” کیا ہے؟
کیا اللہ نے کہا کہ مجھے میرے دوستوں کے زریعے سے پکارو گے تو سنوں گا؟
جب آپ کو اپنی معمولی سربراہی میں اپنے عزیز ترین دوست کی شمولیت گوارہ نہیں تو تو خالقِ کائنات سے اسکی امید کیوں رکھتے ہیں؟
غالباً سجھ گئے ہونگے آپ کہ میں آپ کے دوست کے پاس کیوں گئی تھی؟ بیگم نے بات ختم کی اور کمرے سے نکل گئیں، قادری صاحب اے سی کھول کر پسینہ سکھانے لگے

نقل شدہ(بشکریہ زبیر منصوری)

ایک حقیقت پسندانہ بات

​”سیاسی شعور”

آج تک حسن نثار ٹائپ کے سیکولرز ہمیں امریکہ، برطانیہ اور انڈیا کی مثالیں دے کر چڑایا کرتے تھے کہ دیکھو امریکہ و برطانیہ کی عوام کتنی پڑھی لکھی اور مہذب ہے، ان کا سیاسی شعور کتنا بلند ہے کہ ہمیشہ بہترین فیصلے کرتی ہے، اسی طرح انڈین ابھرتی ہوئی روشن خیال قوم ہیں اور ان کا جمہوری و سیاسی شعور پاکستانیوں سے کتنا بلند اور بہتر ہے کہ آج تک کسی بنیاد پرست اور آمر کو قبول نہیں کیا۔
مگر تھوڑے ہی عرصے میں ان تینوں ممالک نے اپنی اصیلت ظاہر کر دی، سب سے پہلے انڈیا نے اپنے لئے جو نمونہ منتخب کیا جو نہ صرف متعصب اور نفرت گروش ثابت ہوا بلکہ اسلام سمیت دیگر اقلیتوں کی اس حد تک مخالفت میں چلا گیا کہ ملک کا بنیادی کلچر ہی تبدیل کر دیا،  کہ اب تقریبا ساری قوم لٹھ لیئے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہی ہے، اپنی فلموں کے ذریعے لبرل تاثر قائم کرنے والے ملک میں فوج کو بھتہ دیئے بغیر فلم ریلیز ہونا ممکن نہیں رہی۔۔ اور جہاں کامیابی کا معیار پاکستان دشمنی بن چکا ہے۔
پھر برطانیہ کے شعور کو اس وقت دیکھا جب یورپین یونین کے حوالے سے ریفرنڈم ہوا، اور پڑھی لکھی قوم نے بڑے پیمانے پر یورپین یونین سے نکلنے کے حق میں ووٹ ڈال دیا، ابھی مکمل رزلٹ بھی نہ شائع ہوا تھا کہ عوام کو شدید بھونگی مارنے کا احساس ہونے لگا اور اپنے ہی فیصلے کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ 
اور امریکی عوام نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو منتخب کر کے بتا دیا ہمارے پاس شعور کا لیول کیا ہے، مہذب سپر پاور والی قوم نے ایسے تہذیب یافتہ کو ووٹ دیا جو دیگر خواتین کا تو کیا احترام کرتا اپنی بیوی اور بیٹی کے متعلق بھی بےہودگیوں سے باز نہ آیا، جس نے ملک میں صرف نفرت اور تعب بیچا، قوم کو متحد کرنے کی بجائے گہری تقسیم کا سبب بنا، اخلاقی طور پر کرپٹ ترین اور علمی لیول پر جاہل ترین کو وائٹ ہاوس بھیج کر عوام نے اپنی ذہانت ثابت کر دی۔ 
اب ہمارے ملک کے سیکولر دانشوروں کے پاس ان تینوں ممالک کو رول ماڈل قرار دینے اور اپنی قوم کو بدترین ثابت کرنے کا مزید کیا جواز بچا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستانیوں کا سیاسی شعور بہتر ہے اگر بہتر ہوتا تو دو کرپٹ اور نااہل خاندانوں کی غلامی قبول کرتے۔ اس لئے اب جبکہ ہم سب شعور کے ایک ہی لیول پر آن پہنچیں ہیں تو خدارکوئی اب ان ممالک کی عظمت کا منجھن ہمیں نہ بیچے۔ بس اپنی اصلاح پر توجہ دیں، آنے والا وقت بھیانک تصوریر کشی کر رہا ہے۔کیونکہ ہم سب نے دنیا کی قیادت نااہلوں کے سپرد کر دی ہے۔

(شہزاداسلم مرزا)

سود کا طائرانہ جائزہ

سود کیا ہے اور سود خور کی کیفیت کیا ہو جاتی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ:
جو لوگ سُود کھاتے ہیں315 ، اُن کا حال اُس شخص کا سا ہوتا ہے، جسے شیطان نے چُھو کر باوٴلا کر دیا ہو۔ 316
تشریح:
حاشیہ: 315
اصل میں لفظ”رِبٰوا“استعمال ہوا ہے ، کس کے معنی عربی میں زیادتی اور اضافے کے ہیں۔ اِصطلاحاً اہلِ عرب اِس لفظ کو اُس زائد رقم کے لیے استعمال کرتے تھے جو ایک قرض خواہ اپنے قرض دار سے ایک طے شدہ شرح کے مطابق اصل کے علاوہ وُصُول کرتا ہے۔ اِسی کو ہماری زبان میں سُود کہتے ہیں۔ نزُولِ قرآن کے وقت سُودی معاملات کی اور شکلیں رائج تھیں اور جنہیں اہلِ عرب ”رِبٰوا“ کے لفظ سے تعبیر کرتے تھے وہ یہ تھیں کہ مثلاً دُوسرے شخص کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کرتا اور ادائے قیمت کے لیے ایک مدّت مقرر کر دیتا۔ اگر وہ مدّت گزر جاتی اور قیمت ادا نہ ہوتی، تو پھر وہ مزید مہلت دیتا اور قیمت میں اضافہ کر دیتا۔ یا مثلاً ایک شخص دُورے شخص کو قرض دیتا اور اس سےطے کر لیتا کہ اتنی مدّت میں اتنی رقم اصل سے زائد ادا کرنی ہو گی۔ یا مثلاً قرض خواہ اور قرض دار کے درمیان ایک خاص مدّت کے لیے ایک شرح طے ہو جاتی تھی اور اگر اس مدّت میں اصل رقم مع اضافہ کے ادا نہ ہوتی، تو مزید مہلت پہلے سے زائد شرح پر دی جاتی تھی۔ اِسی نوعیت کے معاملات کا حکم یہاں بیان کیا جا رہا ہے۔

حاشیہ: 316
اہلِ عرب دیوانے آدمی کو”مجنُون“ (یعنی آسیب زدہ) کے لفظ سے تعبیر کرتے تھے، اور جب کسی شخص کے متعلق یہ کہنا ہوتا کہ وہ پاگل ہوگیا ہے ، تو یُوں کہتے کے اسے جِن لگ گیا ہے۔ اسی محاورہ کو استعمال کرتے ہوئے قرآن سُود خوار کو اُس شخص سے تشبیہ دیتا ہے جو مخبُوط الحواس ہو گیا ہو۔ یعنی جس طرح وہ شخص عقل سے خارج ہو کر غیر معتدل حرکات کرنے لگتا ہے، اسی طرح سُود خوار بھی روپے کے پیچھے دیوانہ ہو جاتا ہے اور اپنی خود غرضی کے جنُون میں کچھ پروا نہیں کر تا کہ اس کی سُود خواری سے کس کس طرح انسانی محبت، اخُوّت اور ہمدردی کی جڑیں کٹ رہی ہیں، اجتماعی فلاح و بہبُود پر کس قدر تباہ کُن اثر پرڑ رہا ہے ، اور کتنے لوگوں کی بدحالی سے وہ اپنی خوشحالی کا سامان کر رہا ہے۔ یہ اس کی دیوانگی کا حال اِس دُنیا میں ہے۔ اور چونکہ آخرت میں انسان اُسی حالت میں اُٹھایا جائے گا جس حالت پر اُس نے دنیا میں جان دی ہے، اِس لیے سُود خوار آدمی قیامت کے روز ایک با ؤلے ، مخبوط الحواس انسان کی صُورت میں اُٹھے گا۔

الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ (البقرۃ 275 جزوی)
#مطالعہ_تفھیم_القرآن

کیا سود اور تجارت، دونوں ایک ہی جیسی چیزیں ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ:
اور اس حالت میں اُن کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں:”تجارت بھی تو آخر سُود ہی جیسی ہے“۔

تشریح:
تجارت اور سُود کا اُصُولی فرق ، جس کی بنا پر دونوں کی معاشی اور اخلاقی حیثیت ایک نہیں ہو سکتی، یہ ہے׃
(١) تجارت میں بائع اور مشتری کے درمیان منافع کا مساویانہ تبادلہ ہوتا ہے، کیونکہ مشتری اس چیز سے نفع اُٹھاتا ہے جو اُس نے بائع سے خریدی ہے اور بائع اپنی اُس محنت، ذہانت اور وقت کی اُجرت لیتا ہے، جس کو اس نے مشتری کے لیے وہ چیز مہیّا کرنے میں صرف کیا ہے۔ بخلاف اس کے سُودی لین دین میں منافع کا تبادلہ برابری کے ساتھ نہیں ہوتا۔ سُود لینے والا تو مال کی ایک مقرر مقدار لے لیتا ہے، جو اس کے لیے بالیقین نفع بخش ہے، لیکن اس کے مقابلے میں سُود دینے والے کو صرف مہلت ملتی ہے، جس کا نفع بخش ہونا یقینی نہیں۔ اگر اس نے سرمایہ اپنی ذاتی ضروریات پر خرچ کرنے لیے لیا ہے تب تو ظاہر ہے کہ مُہلت اس کے لیے قطعی نافع نہیں ہے۔ اور اگر وہ تجارت یا زراعت یا صنعت و حرفت میں لگانے کے لیے سرمایہ لیتا ہے تب بھی مُہلت میں جس طرح اس کے لیے نفع کا امکان ہے اُسی طرح نقصان کا بھی امکان ہے۔ پس سود کا معاملہ یا تو ایک فریق کے فائدے اور دُوسرے کے نقصان پر ہوتا ہے، یا ایک یقینی اور متعین فائدے اور دُوسرے کے غیر یقینی اور غیر متعین فائدے پر۔
(۲) تجارت میں بائع مشتری سے خواہ کتنا ہی زائد منافع لے، بہرحال وہ جو کچھ لیتا ہے، ایک ہی بار لیتا ہے۔ لیکن سُود کے معاملے میں مال دینے والا اپنے مال پر مسلسل منافع وصُول کرتا رہتا ہے اور وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ اُس کا منافع بڑھتا چلا جاتا ہے۔ مدیون نے اس کے مال سے خواہ کتنا ہی فائدہ حاصل کیا ہو، بہر طور اس کا فائدہ ایک خاص حد تک ہی ہو گا۔ مگر دائن اس فائدے کے بدلے میں جو نفع اُٹھاتا ہے، اس کے لیے کوئی حد نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ مدیون کی پُوری کمائی، اس کے تمام وسائل ِ معیشت، حتّٰی کہ اس کے تن کے کپڑے اور گھر کے برتن تک ہضم کر لے اور پھر بھی اس کا مطالبہ باقی رہ جائے۔
(۳) تجارت میں شے اور اس کی قیمت کا تبادلہ ہونے کے ساتھ ہی معاملہ ختم ہو جاتا ہے، اس کے بعد مشتری کو کوئی چیز بائع کو واپس دینی نہیں ہوتی۔ مکان یا زمین یا سامان کے کرایے میں اصل شے، جس کے استعمال کا معاوضہ دیا جاتا ہے، صَرف نہیں ہوتی، بلکہ برقرار رہتی ہے اور بجنسہ کرایہ دار کو واپس دے دی جاتی ہے۔ لیکن سُود کے معاملہ میں قرض دار سرمایہ کو صَرف کر چکتا ہے اور پھر اس کو وہ صرف شدہ مال دوبارہ پیدا کر کے اضافے کے ساتھ واپس دینا ہوتا ہے۔
(۳) تجارت اور صنعت و حرفت اور زراعت میں انسان محنت، ذہانت اور وقت صرف کر کے اس کا فائدہ لیتا ہے۔ مگر سُودی کاروبار میں وہ محض اپنا ضرورت سے زائد مال دے کر بلا کسی محنت و مشقت کے دُوسروں کی کمائی میں شریکِ غالب بن جاتا ہے۔ اس کی حیثیت اِصطلاحی ” شریک“ کی نہیں ہوتی جو نفع اور نقصان دونوں میں شریک ہوتا ہے، اور نفع میں جس کی شرکت نفع کے تناسب سے ہوتی ہے، بلکہ وہ ایسا شریک ہوتا ہے جو بلا لحاظ نفع و نقصان اور بلا لحاظِ تناسبِ نفع اپنے طے شدہ منافع کا دعوے دار ہوتا ہے۔

ان وجوہ سے تجارت کی معاشی حیثیت اور سُود کی معاشی حیثیت میں اتنا عظیم الشان فرق ہو جاتا ہے کہ تجارت انسانی تمدّن کی تعمیر کرنے والی قوت بن جاتی ہے اور اس کے برعکس سُود اس کی تخریب کرنے کا موجب بنتا ہے۔ پھر اخلاقی حیثیت سے یہ سُود کی عین فطرت ہے کہ وہ افراد میں بخل، خود غرضی، شقاوت، بے رحمی اور زر پرستی کی صفات پیدا کرتا ہے، اور ہمدردی و امداد باہمی کی رُوح کو فنا کر دیتا ہے۔ اس بنا پر سُود معاشی اور اخلاقی دونوں حیثیتوں سے نوع انسانی کے لیے تباہ کن ہے۔

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ

#مطالعہ_تفھیم_القرآن