کٹھ پتلیاں ’’جنم جلی‘‘ ہوتی ہیں

عماد ظفر 

پير 7 مئ 2018 ایکسپریس نیوز

کٹھ پتلیاں بھی “جنم جلی” ہوتی ہیں۔ ڈوریاں ہلانے والے ہاتھ جب جی میں آئے ان کو ہلاتے ہیں، ان سے من پسند ڈائیلاگ بلواتے ہیں اور پھر نچواتے ہیں۔ جب ان ڈوریوں کو ہلانے والے ہاتھوں یا تماش بین مجمع کا جی “پتلی تماشے” سے اکتا جائے تو ان کٹھ پتلیوں کو کسی ڈسٹ بن یا کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دیا جاتا ہے۔ ڈور ہلانے والے ہاتھ جب کٹھ پتلیوں کو ہلا جلا کر انہیں رونقِ اسٹیج بنائے رکھتے ہیں، اس وقت کٹھ پتلیاں خود کو محور مرکز سمجھ کر یہ تصور کر لیتی ہیں کہ رونق محفل انہی کے دم سے قائم و دائم ہے۔ ان کے وجود کے بغیر نہ تو تماشا بپا کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی محفل لوٹی جا سکتی ہے۔

ہر کٹھ پتلی اپنے آپ کو ایک مکمل جہان سمجھتی ہے، لیکن جب تماشا ختم ہونے کے بعد اسے دور کہیں تاریک گوشے میں پھینک دیا جاتا ہے تب اس کو ادراک ہوتا ہے کہ تماشا اور محفل تو دراصل ان ہاتھوں کی تھی جو اس کی ڈوریاں ہلا رہے تھے۔ محفل میں کٹھ پتلیوں کا وجود نہ تو پہلے کوئی خاص معنی رکھتا تھا اور نہ اب اس کی کوئی اہمیت ہے۔

عمران خان لاہور میں مینار پاکستان کے جلسے میں جب سابق آمر ایوب خان کی شان میں مدح سرائی کر رہے تھے اور صوبہ پنجاب کی تقسیم کی وکالت میں لب کشائی کر رہے تھے تو یقیناً لب ان کے ہل رہے تھے لیکن ان کے منہ میں الفاظ کسی اور کے تھے۔ ڈوریاں ہلانے والے ہمیشہ کی طرح پردے کے پیچھے بیٹھ کر اس پتلی تماشے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

خیر خان صاحب نے جو گیارہ نکات اس جلسے میں پیش کیے ہیں یہ وہی نکات ہیں جو وہ 2013 کے انتخابات سے پہلے بھی پیش کر چکے ہیں۔ پانچ سالوں میں اگر وہ خیبر پختونخواہ کے کسی ایک بھی شہر میں ان نکات پر عمل درآمد نہ کروا سکے تو پھر پورے وطن میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ قاف کی بی ٹیم کو ساتھ ملا کر یہ کام کرنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ محترم عمران خان اگر 2018 میں بھی کینسر ہسپتال کے قیام اور 1992 کے ورلڈ کپ کی فتح کو بنیاد بنا کر عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ پچھلے پانچ سال میں خیبر پختونخواہ حکومت ایسا کوئی بھی ٹھوس اقدام نہیں اٹھا پائی جس کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگے جاتے۔

اس وقت جس انداز سے سیاسی انجئینرنگ کا عمل جاری ہے اس کو دیکھتے ہوئے بہت سے مبصرین اور ناقدین عمران خان کو وطن عزیز کا اگلا وزیر اعظم سمجھ رہے ہیں۔ جبکہ حقیقتاً گیم پلان کچھ اور ہے۔ تمام تر سیاسی انجینئرنگ اور سیاسی ٹارگٹ کلنگ کے باوجود اس وقت تک کرائے گئے ملکی اور بین الاقوامی سرویز اگلے انتخابات میں تحریک انصاف کو کامیاب ظاہر نہیں کر رہے۔ مقتدر حلقوں کو اس بات کا علم ہے اور وہ یہ جانتے ہیں کہ اگلے عام انتخابات میں تحریک انصاف 35 سے 40 نشستیں ہی نکال پاِئے گی۔ پینتیس چالیس نشستوں کے دم پر صادق سنجرانی کی مانند عمران خان کو وزیراعظم کے عہدے پر زور زبردستی بٹھا بھی دیا جائے تو بھی وہ کچھ خاص کر دکھانے کی پوزیشن میں نہیں آ سکیں گے۔

مقتدر قوتیں یہ حقیقت بارہا عمران خان کو سمجھا چکی ہیں، لیکن عمران خان بضد ہیں کہ اگر مسلم لیگ نواز کے ہاتھ پیر باندھ کر انہیں انتخابات لڑنے کا موقع دیا جائے تو وہ انتخابات میں یقینی کامیابی حاصل کر لیں گے۔ عمران خان کو ایسا ہی یقین 2013 کے عام انتخابات میں بھی تھا لیکن وہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہے تھے۔ اب جبکہ خیبر پختونخواہ میں ان کی جماعت کی گورننس سب کے سامنے عیاں ہو چکی ہے اس کے بعد انتخابات کا میدان مارنا ان کےلیے قریب قریب ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ انتخابات سے ویسے بھی مقتدر قوتوں کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ پس پشت قوتیں اس وطن میں صدارتی نظام نافذ کرنا چاہتی ہیں تا کہ معاملات ریاست ایک ہاتھ میں ہی مرکوز رہیں اور باآسانی اپنے پسند کے گھوڑے کو انتخابی ریس جتوا کر صدر بنایا جا سکے۔

صدارتی نظام نافذ کرنے کےلیے ضروری ہے کہ وطن عزیز میں ایک ٹیکنو کریٹ سیٹ اپ کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔ ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ قائم کرنے کا ہدف نگران حکومت کے قیام میں سیاسی جماعتوں کے متفق نہ ہو پانے پر ناکامی یا پھر من پسند نگران حکومت کی میعاد بڑھا کر باآسانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی یہ کھیل سمجھتی ہے اسی لیے زرداری صاجب نے جھٹ سے جمہوری لبادہ اتار کر پس پشت قوتوں کی کشتی میں چھلانگ لگانے کو ترجیح دی ہے۔ زرداری صاحب کو گمان ہے کہ ان کے اس قدم سے پس پشت قوتیں خوش ہو کر ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ یا پھر آئندہ عام انتخابات میں انہیں کیک کا چھوٹا سا ٹکڑا ضرور دے دیں گی۔ باخبر ذرائع کا دعوی ہے کہ عام انتخابات منعقد نہ کروانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی اور اگر بادل نخواستہ عام انتخابات منعقد کروانے پڑ ہی گئے تو شاہ محمود قریشی کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز کروانے کےلیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جائے گا۔

گویا کسی بھی صورت میں محترم عمران خان کےلیے وزارت عظمیٰ کی شیروانی پہننے کا خواب سچ ثابت ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ خیر بات کچھ یوں ہے کہ اگر ملک کے بڑے بڑے میڈیا ہاوسز پر سینسر شپ لگا کر اور سیاسی حریفوں کے ہاتھ پیر باندھ کر بھی تحریک انصاف کی نشستوں کی متوقع تعداد صرف 40 کے لگ بھگ بنتی ہے تو پھر ایسے انتخابات منعقد کروانے میں مقتدر قوتوں کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہو سکتی ہے۔

یوں بھی احتساب اور چند دنوں میں وطن عزیز میں دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کے نعرے اس قدر پرفریب ہیں کہ وطن عزیز میں بسنے والی اکثریت اس لالی پاپ کو خریدنے کےلیے تیار رہتی ہے۔ اس لیے احتساب کا دائرہ کار وسیع کرنے یا عوام کی فلاح و بہبود کے نعرے بلند کر کے ایک نگران سیٹ اپ کا قیام اور اسے طول دینا ہرگز بھی مشکل کام نہیں ہے۔ ذرائع کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ مینار پاکستان پر منعقد ہونے والے تحریک انصاف کے جلسے میں عوام کی اچھی بھلی تعداد کے باوجود ڈوریاں ہلانے والے ہاتھ تحریک انصاف کے اس پاور شو سے زیادہ خوش اور مطمئن نہیں ہیں۔

اتنی طویل اشتہاری مہم، میڈیا کی کوریج اور پورے ملک سے بندے اکٹھے کرنے کے باوجود مطلوبہ عوامی شرکت کا ٹارگٹ پورا نہ کر پانا اس بات کی جانب عندیہ ہے کہ سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والا ووٹر اب پتلی تماشا دیکھ دیکھ کر تنگ آ چکا ہے۔ مقتدر قوتوں کو گمان ہے کہ اگر تماشا نئے سرے سے بپا کیا جائے اور نئی کٹھ پتلیاں لا کر ” ٹیکونوکریٹ” یا “صدارتی نظام” کا شوشہ چھوڑا جائے تو شاید تماش بین اس نئے تماشے کی نئی کٹھ پتلیوں کو پسند کرنے لگ جائیں۔ تماش بین کیا فیصلہ کرتے ہیں اس کا تعین آنے والا وقت کر دے گا۔

اس پتلی تماشے میں اگر ڈوریاں ہلانے والے ہاتھوں نے عمران خان کی کٹھ پتلی کو اسٹیج سے اتارنے کا فیصلہ کر لیا تو عمران خان کی صورت میں تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرائے گی اور شاید ہم عمران خان کی شکل میں اکیسویں صدی کا اصغر خان دیکھیں گے جو باقی ماندہ عمر پچھتاووں اور ڈوریاں ہلانے والے ہاتھوں سے شکایت کرتے ہوئے بِتا دے گا۔

انسان نما کٹھ پتلیاں واقعی “جنم جلی” ہوتی ہیں جو “مالک” کو خوش کرنے اور تماش بینوں کو محظوظ کرنے کے لاکھوں جتن کرنے کے باوجود بھی ہمیشہ اپنے حال اور مستقبل کے معاملے میں اپنے “مالکان” کی مرضی و منشا کی محتاج ہی رہتی ہیں

کیا مشرف نے توہین عدالت کی ہے؟

کیا مشرف نے توہین عدالت کی ہے؟

https://jang.com.pk/assets/uploads/reporters/ansar-abbasi.jpgانصار عباسی

1 مارچ ، 2018

توہین عدالت بلکہ اس سے بہت بڑی سزا اگر کسی کو ہونی چاہیے تو وہ جنرل مشرف  ہے کہ جس نے ایک نہیں بلکہ پچاس سے زیادہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو نہ صرف غیر قانونی طور پر نکالا بلکہ انہیں بچوں سمیت نظر بند بھی کیا۔ جو مشرف نے عدلیہ اور ججوں کے ساتھ کیا اُس کی کوئی نظیر نہیں ملتی لیکن اس جرم پر مشرف کو تو ایک دن کے لیے بھی جیل نہیں بھیجا گیا۔ مشرف نے اپنے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ اُنہیں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مدد سے ملک سے باہر جانے کی اجازت ملی۔ مشرف نے یہ سنگین الزام بھی لگایا کہ ہمارے جج پس پردہ دبائو کے تحت ہی کام کرتے ہیں اوراسی دبائو کے تحت فیصلے دیتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اسی دبائو کے تحت انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی۔

اس سے بڑی توہین عدالت کیا ہو سکتی ہے؟

لیکن عدلیہ نے مشرف کے اس بیان پر کوئی کان نہ دھرا۔ مشرف نے تو دو بار آئین کو پامال کیا لیکن وہ اس کے باوجود بیرون ملک آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے بہت اچھا کیا کہ حسین حقانی کو پاکستان واپس لانے کے لیے ایف آئی اے کو فوری اقدامات کرنے کا حکم دیا۔ کتنا اچھا ہوتا کہ سپریم کورٹ جنرل مشرف کے ریڈ وارنٹ بھی جاری کرتی کیوں کہ مشرف کے جرائم کی سنگینی سے تو کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ قانون کی بالادستی کو اگر قائم کرنا ہے تو پھر قانون کا اطلاق سب سے پہلے اُن پر ہو جو سب سے طاقت ور ہیں اور جنہوں نے بار بار ثابت کیا کہ وہ جو مرضی آئے کر لیں اُنہیں کوئی چھو بھی نہیں سکتا۔ اچھا ہوتا کہ جس طرح سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ اور نگراں جج کے ذریعے میاں نواز شریف اور اُن کے بچوں کے خلاف عدلیہ کو جلد فیصلہ کرنے کا پابند بنایا ہے، اُسی تیزی سے مشرف کے خلاف بغاوت کے کیس کا بھی فیصلہ کروایا جاتا۔ بغاوت کا کیس تو خصوصی عدالت کے سامنے گزشتہ چار سال سے pending پڑاہے جبکہ اس بارے میں قانون تو روز کی بنیاد پر کیس سننے اور جلد فیصلہ کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ قانون تو یہ بھی کہتا ہے کہ اگر ملزم عدالت میں پیش نہ بھی ہو تو فیصلہ جلد کرو۔ ایک لمبے وقفے کے بعدخصوصی عدالت 8 مارچ کو دوبارہ اس کیس کو سنے گی۔ دیکھنا ہو گا کہ عدلیہ کی جلد انصاف کی فراہمی کی حالیہ مہم کا جنرل مشرف کے خلاف عدالتوں میں التو ا مقدمات پر بھی کوئی اثر پڑتا ہے یا سابق ڈکٹیٹر ایک بار پھر ثابت کرنے میں کامیاب ہوں گے کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں اور ان کا احتساب نہ تو پاکستان کی حکومت اور نہ ہی عدلیہ کر سکتی ہے۔سول حکومت اور عدلیہ کے اس امتحان کے ساتھ ساتھ نیب اور اُس کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو بھی ایک بڑی مشکل نے آن گھیرا ہے۔ اپنے ایک حالیہ فیصلہ میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب کو ہدایت دی ہے کہ وہ جنرل مشرف کے اثاثہ جات اور مبینہ کرپشن کے متعلق انکوائری کرے۔ نیب چیئرمین جو آج کل سیاستدانوں اور سرکاری افسران کے احتساب میں کافی سرگرم ہے، اس معاملہ میں دو ہفتہ گزرنے کے باوجود کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ اس بارے میں نیب اور جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے خاموشی اپنا رکھی ہے۔ اس کے جواب کے لیے بھی شاید ہمیں جنرل مشرف کے کسی آئندہ انٹرویو کا انتظار کرنا پڑے گا جس میں اُن سے پوچھا جا سکتا ہے کہ آخر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے باوجود اُن کے خلاف نیب تحقیقات کیوں نہیں شروع کر رہا؟ کہیں کوئی دبائو تو نہیں!

ابولہب کی تلاش

اشتہار گُمشُدگی۔ اصلی ابُو لہب کی تلاش :

جب سے سورۂ ابو لہب پر غور کیا مُجھے کبھی آئینے میں ابو لہب نظر آتا ہے کبھی اپنے دوستوں میں۔ میں گھبرا کر مسجد کا رُخ کرتا ہوں تو ممبر اور صفوں میں ہر طرف ابُو لہب نظر آتے ہیں۔
میری گلیوں شہروں ، حکوتی و فوجی اداروں اور عدالتوں میں مُجھے ہر طرف ایک ہی چہرہ نظر آتا ہے۔ آگ برساتا عقل اور تدبیر سے عاری جزبات اور احساس برتری سے سے بھرا ابُو لہب۔.
مُجھے ان سب میں سے اُس ابُو لہب کی تلاش ہے جسکے بارے میں قُرآن کی سورۂ ابو لہب ہے۔ مولوی صاحب نے بتایا بھائی کسے ڈھونڈتے ہو ابُو لہب تو مُحمدﷺ کا چچا عبدُل عُزا تھا جسے اُس کے رویّے کی وجہ سے ابُو لہب یعنی شُعلوں کا باپ کہا جاتا تھا وہ تو چودہ سو سال پہلے مر کھپ گیا تھا۔
میں نے عرض کی مولانا کیا جیسے سورہ ابُو لہب میں ذکر ہے اُس کے ہاتھ ٹُوٹیں گے کیا اُس کے ہاتھ ٹُوٹے تھے۔ مولانا نے فرمایا نہیں بھئی یہ حقیقت میں نہیں مجازی طور پر ہونا تھا یعنی تباہی اُسکا مُقدّر تھی۔
میں نے مولانا سے سوال کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ ابُو لہب کا ذکر کرنے میں بھی مجازی طور پر میرا اور اور آپکا ذکر ہو اگر ہاتھ ٹُوٹنا مجازی معنوں میں لیا جانا چاہیے تو اُس حقیقی عبدُل عُزا کا ہی کیوں سوچا جائے جو صدیوں پہلے مر کھپ گیا۔
مولانا کے امام اور امام کے اُستاد نے چونکہ اپنی تفسیروں میں صدیوں پہلے عبدُل عُزا کو ہی آخری اور حتمی ابُو لہب لکھ دیا تھا لہٰذا مولانا تو نہیں مانے میں نے سوچا آئینہ آپکی خدمت میں پیش کروں۔
کہیں آپ بھی آگ کے باپ تو نہیں۔ کہیں آپ بھی عبدُل عُزا کی طرح ضدّی اور انا پرست تو نہیں۔ کہیں اُسکی طرح آپ بھی مُخالف نظریے کے لوگوں کی نفرت میں اندھے تو نہیں ہو جاتے۔ کہیں آپ کے بھی دل دماغ آنکھ کان اور عقل پر مُہر تو نہیں لگی۔ کیا دلیل آپ پر بھی تو بے اثر نہی ہو گئی۔ اگر آپ میں یہ سب نشانیاں ہیں تو آپ ہی اصلی گُمشدہ ابُو لہب ہیں.
مُجھے آپکو ڈھونڈ کر بس یہ بتانا تھا کہ سورہ ابُو لہب کے مُطابق آپکے ہاتھ ٹُوٹیں گے۔ آپکا مال اولاد آپکے کام نہ آئیں گے۔ یہ جو آپکے اندر انا ، غُصہ ، فرقہ ورانہ نفرت ، حسد اور بُغض کی آگ بھری ہے اس سورہ کے مُطابق آپ ہی کے گلے کا طوق بنے گی۔
قُرآن بعض اوقات بظاہر کسی خاص قوم یا افراد سے مُخاطب ہوتا ہے جیسے بنی اسرائیل ، نصارا، ابُو لہب یا قُریش وغیرہ۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ جب یہ آیات آپ کے لیے ہیں ہی نہیں تو آپ کیوں انہیں تلاوت کرتے ہیں جبکہ نہ ابُو لہب زندہ ہے اور نہ کوئی قُریشی اب غیر مُسلم ہے۔ بنی اسرائیل نصارا، ابُو لہب یا مُشرک قُریش کولکھے جانے والے کھُلے خط مُجھے کیوں دیے گئے۔ ایک تو یہ بات ہے کہ اُن تک یا اُن جیسوں تک یہ خطوط مُجھے پہنچانے ہیں لیکن یہ خط کھُلے اس لیے چھوڑے گئے کہ میں آگے پُہچانے سے پہلے ان خطُوط کے آئینے میں خود کو دیکھ لوں۔
بنی اسرائیل کو پیغام دینے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لوں کہیں اُنکی سب سے بڑی بُرائیاں یعنی قوم پرستی اور نسلی تفاخُر مُجھ میں تو نہیں۔
کسی بھی قوم کے بارے میں جو آیات قُرآن میں ہیں وہ ہمارا آئینہ اور ایمان کی چھلنیاں ہیں۔ آئیے اُن چھلنیوں سے گُزر کر دیکھیں۔ منقول

کیا یہ محض اتفاق کی بات ہے یا پلاننگ کا کمال ہے؟

کیا یہ ایک اتفاق ہی ھے کہ چھ ممالک [ جرمنی ،کنیڈا ، امریکہ، فرانس ، انڈیا ،برطانیہ] کے جو سفیر عراق کی تباھی کے وقت بغداد میں تعینات تھے ، وھی لیبیا کی تباھی کے وقت طرابلس میں اور شام کی تباھی کے وقت دمشق میں تعینات تھے ، ان پانچ ممالک کے وھی سفیر آج اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالخلافے اسلام آباد میں تعینات ہیں ؟

امید ھے کہ الباکستانی کسی قسم کی ،شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی، لسانی یا صوبائی تعصب کی واردات کا شکار نہیں ھونگے ، یہی وہ جال لے کر شکاری آ پہنچے ہیں جنہوں نے شام میں شیعہ سنی فساد کا کھیل رچایا ، عراق میں بھی شیعہ سنی کا دانہ ڈالا ، لیبیا میں قبائلی تعصب کو بھڑکایا گیا ـ یہ چھ کے چھ مسلم دنیا کی کمزوریوں سے خوب آگاہ ہیں اور اپنے پتے کھیلنا خوب جانتے ہیں ـ ھم میں سے ہی کچھ لوگ چنے جائیں گے اور گھناونا کھیل کھیلا جائے گا ، کسی بھی واقعے میں ملزمان کے مذھب کو لے کر کبھی بھی پوری کمیونٹی کے خلاف اٹھ کھڑے ھونے کے نعروں کو پہلے مرحلے پر ھی شٹ اپ کہنے کی ضرورت ھے !

ایک پیاری سی غزل

وہ رستے ترک کرتا ھوں وہ منزل چھوڑ دیتا ھوں

جہاں عزت نہیں ملتی وہ محفل چھوڑ دیتا ھوں

کناروں سے اگر میری خودی کو ٹھیس پہنچے تو

بھنور میں ڈوب جاتا ھوں وہ ساحل چھوڑ دیتا ھوں

مجھے مانگے ھوئے سائے ھمیشہ دھوپ لگتے ہیں

میں سورج کے گلے پڑتا ھوں بادل چھوڑ دیتا ھوں

تعلق یوں نہیں رکھتا کبھی رکھا کبھی چھوڑا

جسے میں چھوڑتا ھوں پھر مسلسل چھوڑ دیتا ہوں

گُلوں سے جب نہیں بنتی تو ان سےجنکو نسبت ھو

وہ سارے تتلیاں جگنو عنادل چھوڑ دیتا ھوں

میری چاھت کی در پردہ بھی گر تذلیل کردیں جو

وہ غازے بھول جاتا ھوں وہ کاجل چھوڑ دیتا ھوں

دلِ آذاد نے مجھ کو سدا ہی درد میں رکھا

میں اپنے دل کو پا بندِ سلاسل چھوڑ دیتا ھوں

میری خوابوں سے نفرت کا یہ بزمی اب تو عالم ہے

میں سوتا ہی نہیں آنکھوں کو بوجھل چھوڑ دیتا ہوں

Self Made

میں نے ان سے ایک ایسا سوال پوچھا جومیرے دل میں ہمیشہ سے کھٹکتاچلا آ رہا ہے ۔ میں نے ان سے پوچھا ”دنیا کا ہر کامیاب انسان آخر میں تنہا کیوں ہوتا ہے“ انہوں نے فوراً جواب دیا ”اپنے تکبر اور غرور کی وجہ سے“ میں ان سے تفصیل کا متقاضی تھا‘ وہ بولے ”دنیا میں تکبر کی سب سے بڑی شکل سیلف میڈ ہے“میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا‘ انہوں نے فرمایا ”جب کوئی انسان اپنے آپ اور اپنی کامیابیوں کو سیلف میڈ کا نام دیتا ہے تو وہ نہ صرف اللہ تعالیٰ‘ قدرت اورفطرت کی نفی کرتاہے بلکہ وہ ان تمام انسانوں کے احسانات اور مہربانیوں کو بھی روند ڈالتا ہے جنہوں نے اس کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کیا تھا اور یہ دنیا کا بدترین تکبرہوتاہے“ وہ رکے‘ چند لمحے سوچا اور اس کے بعد بولے ”تم فرعون اور نمرود کو دیکھ لو‘یہ دونوں انتہا درجے کے ذہین‘ فطین اور باصلاحیت حکمران تھے‘ فرعون نے نعشوں کو حنوط کرنے کا طریقہ ایجاد کیاتھا‘ اس نے ایک ایسی سیاہی بھی بنوائی تھی جو قیامت تک مدھم نہیں ہوتی‘ اس نے ایسے احرام بھی تیار کئے تھے جن کی ہیئت کو آج تک کی جدید سائنس نہیں سمجھ پائی‘ اس نے دنیامیں آبپاشی کا پہلا نظام بھی بنایا تھا اور فرعون کے دور میں مصر کے صحراﺅں میں بھی کھیتی باڑی ہوتی تھی لیکن یہ فرعون بعدازاں عبرت کی نشانی بن گیا۔ کیوں؟“ انہوں نے میری طرف دیکھا‘ میں نے فوراً عرض کیا ”اپنے تکبر‘ اپنے غرور کی وجہ سے“ انہوں نے اثبات میں سر ہلایا اور مسکرا کر بولے ”ہاں لیکن فرعون کا تکبر سیلف میڈ لوگوں کے غرور سے چھوٹا تھا‘ اس نے صرف اللہ کی نفی کی تھی‘ وہ اللہ کے سوااپنے تمام بزرگوں‘اپنے تمام دوستوں اور اپنے تمام مہربانوں کا احسان تسلیم کرتا تھا‘ وہ اپنے استادوں کو دربار میں خصوصی جگہ دیتا تھا اور وہ اپنی بیویوں کا اتنا احترام کرتا تھا کہ اس نے اپنی اہلیہ محترمہ کے کہنے پر حضرت موسیٰ ؑکو گود لے لیا تھا“ وہ رکے اور دوبارہ بولے ”تم نمرود کو دیکھو‘ نمرود نے کھیتی باڑی کے جدید طریقے ایجاد کرائے تھے‘ اس نے دنیا میں پہلی بار زمین کو یونٹوں میں تقسیم کیاتھا‘ اس نے اونچی عمارتیں بنوائیں تھیں‘ اس نے شہروں میں فوارے لگوائے تھے‘ اس نے دنیا میں پہلی بار درخت کاٹنے کی سزا تجویز کی تھی اور وہ دنیا کا پہلا بادشاہ تھا جس کے ملک سے غربت اور بے روزگاری ختم ہو گئی تھی اور جس کی رعایا کاہر فرد خوشحال اور مطمئن تھا لیکن پھر یہ بادشاہ بھی اللہ کے عذاب کاشکار ہوا۔ کیوں؟“ میں نے فوراً عرض کیا ”غرور کی وجہ سے“ انہوں نے اثبات میں سر ہلایا اور بولے ”ہاں وہ اللہ کے وجود کی نفی کا مرتکب ہوا تھا اور یہ اس کا واحد جرم تھاجبکہ عام زندگی میں وہ ایک اچھا انسان اور شاندار بادشاہ تھا‘ وہ مہمان نواز تھا‘ وہ شائستگی کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا‘ اس نے اپنے دربار میں دنیا جہاں کے عالم اورماہرین جمع کررکھے تھے‘ وہ بہادری اور شجاعت میں یکتا تھا‘ وہ اپنے دوست احباب‘ ماں‘ باپ اور عزیز رشتے داروں کا بھی احترام کرتا تھا اوروہ لوگوں کے احسانات اور مہربانیوں کو بھی یاد رکھتا تھا لیکن اس نے اللہ کی ذات کی نفی کی‘ خود کو خدا کہہ بیٹھا اور اللہ کی پکڑ میں آ گیا“ وہ رک گئے۔
وہ چند لمحے سوچتے رہے اور اس کے بعد بولے ”فرعون اور نمرود نے صرف اللہ کی ذات میں برابری کی تھی جبکہ خود کو سیلف میڈ کہنے والا شخص نعوذ باللہ نہ صرف اس سے برتری کا دعویٰ کرتا ہے بلکہ وہ دنیا بھر کے ان لوگوں کے احسانات بھی فراموش کردیتا ہے جنہوں نے اس کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا چنانچہ یہ شخص فرعون اور نمرود کے مقابلے میں بھی کئی گنا بڑے غرور اور تکبر کامظاہرہ کرتا ہے لہٰذا یہ آخر میں اللہ کی پکڑ میں آ جاتاہے اور اللہ تعالیٰ اس پرتنہائی کا عذاب نازل فرما دیتا ہے“ وہ رکے‘ انہوں نے ایک لمبا سانس لیا اور دوبارہ بولے ”انسان مجلسی جانور ہے۔ انسان‘ انسان کا محتاج ہے‘ ہم سب اپنے جیسے لوگوں میں بیٹھنا چاہتے ہیں‘ ان کے ساتھ گپ شپ کرنا چاہتے ہیں‘ ان کے ساتھ اپنے جذبات شیئر کرنا چاہتے ہیں‘ ہمارے لئے سب سے بڑی سزا تنہائی ہوتی ہے اسی لئے قید تنہائی کو دنیا میں سب سے سنگین سزاقرار دیا گیا۔ انسان بڑے سے بڑا عذاب برداشت کر جاتاہے لیکن وہ تنہائی کی سزا نہیں بھگت سکتا۔ اللہ تعالیٰ کیونکہ ہماری رگ رگ‘ ہماری نس نس سے واقف ہے چنانچہ وہ خود کو سیلف میڈ قرار دینے والوں کو تنہائی کی حتمی سزا دیتا ہے۔ تم دیکھ لو‘ دنیا میں جس بھی شخص نے خود کو سیلف میڈ قرار دیا‘ جس نے بھی اپنی اچیومنٹس کو اپنی ذاتی کوشش‘ جدوجہد اور محنت کا نتیجہ کہا وہ کامیابی کی آخری سٹیج پر پہنچ کر تنہائی کا شکار ہوگیا‘ وہ تنہائی کی موت مرا“ وہ خاموش ہوگئے‘ میں چند لمحے انہیں دیکھتا رہا‘ جب خاموشی کا وقفہ طویل ہو گیا تو میں نے عرض کیا ”ہمیں سیلف میڈ کی بجائے کیا کہنا چاہئے“ وہ فوراً بولے ”اللہ میڈ“وہ چندلمحے مجھے دیکھتے رہے اور اس کے بعد بولے ” کامیاب اور کامران لوگوں پر اللہ کا خصوصی کرم ہوتا ہے‘ اللہ ان لوگوں کو کروڑوں‘ اربوں لوگوں میں سے کامیابی کیلئے خصوصی طور پر چنتا ہے‘ انہیں وژن اور آئیڈیاز دیتا ہے‘ ان کو محنت کرنے کی طاقت دیتا ہے‘ انہیں دوسرے انسانوں کے مقابلے میں زیادہ توانائی بخشتا ہے‘ ان کے آگے بڑھنے کے خصوصی مواقع پیدا کرتا ہے‘ ان کیلئے کامیابی کے راستے کھولتا ہے‘ معاشرے کے بااثر اوراہم لوگوں کے دلوں میں ان کیلئے محبت اور ہمدردی پیدا کرتاہے اور آخر میں تمام لوگوں کو حکم دیتاہے وہ ان لوگوں کو کامیاب تسلیم کریں‘ وہ اپنی نشستوں سے اٹھ کر ان کیلئے تالی بجائیں اگریہ حقیقت ہے تو پھر یہ ساری کامیابی اللہ کی کامیابی نہ ہوئی‘ہم لوگ اورہماری ساری کامیابیاں اللہ میڈ نہ ہوئیں‘ تم سوچو‘ تم بتاﺅ“ ۔ انہوں نے رک کر میری طرف دیکھا‘ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
وہ بولے ” اور جب کوئی کامیاب شخص اپنی کامیابی کو اللہ کا کرم اور مہربانی قرار دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں اس کے گرد رونق لگا دیتاہے‘ وہ لوگوں کے دلوں میں اس شخص کیلئے محبت ڈال دیتاہے یوں یہ شخص زندگی کی آخری سانس تک لوگوں کی محبت اور رونق سے لطف اٹھاتا رہتا ہے‘ اللہ اس کی زندگی پر تنہائی کا سایہ نہیں پڑنے دیتا“۔ میں نے ان کی طرف دیکھا اور ڈرتے ڈرتے پوچھا ”پھر انسان کی زندگی میں اس کی کوشش اور جدوجہد کا کیا مقام ہوا“ انہوں نے غور سے میری طرف دیکھا اور بولے ”ہماری کیا مجال ہے ہم اس کی اجازت کے بغیر محنت کر سکیں یا ہم اس کی مہربانی کے بغیرجدوجہد کر سکیں‘ ہم میں تو اتنی مجال نہیں کہ ہم اس کی رضا مندی کے بغیر اس کانام تک لے سکیں‘ پھر ہماری محنت‘ ہماری جدوجہد کی کیا حیثیت ہے‘ یہ سب اللہ کی مہربانی کا کھیل ہے‘ یہ سب اللہ میڈ ہے‘ ہم اور ہم سب کی کامیابیاں اللہ میڈ ہیں‘ خدا کے بندو‘اللہ کے کریڈٹ کو تسلیم کرو تا کہ تمہاری زندگیاں تنہائیوں سے بچ سکیں‘ تم پر غم کا سایہ نہ پڑے“۔وہ رکے اور اس کے بعد زور دے کر بولے ”یاد رکھو‘ زندگی میں کبھی خود کو سیلف میڈ نہ کہو‘ ہمیشہ اپنے آپ کو اللہ میڈ سمجھو‘

تحریک انصاف کا ایک خفیہ پہلو

سلیم صافی
JUNE 17, 2017 |M

پی ٹی آئی اس حکمت عملی پر خراج تحسین کی مستحق ہے کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران اس نے سیاست اور الزام تراشی کے سارے کھیل کو اس ہوشیاری کے ساتھ مسلم لیگ (ن) اور کسی حد تک پیپلز پارٹی کے کورٹ میں رکھا کہ خود اس کی پارٹی کی اندرونی حالت اورخیبر پختونخوا کی ناکام ترین حکومت کی طرف کسی کی توجہ کو جانے ہی نہیں دیا ۔ مجھے یقین ہے کہ اگر پی ٹی آئی کی اندرونی صورت حال دنیا کی نظروں کے سامنے آچکی ہوتی تو آج پی ٹی آئی کے ترجمان کسی کے سامنے آنے کی جرات ہی نہ کرسکتے ۔ اسی طرح اگر میڈیا خیبر پختونخوا کی حکومت میں ہونے والی بدعنوانیوں ، اقربا پروریوں اور احتساب کے نام پر تاریخ کے بدترین ڈراموں کو سامنے لاچکا ہوتا تو اگلے انتخابات میں پی ٹی آئی مخالف پارٹیوں کو پنجاب میں انتخابی مہم چلانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی ۔ مثلاً خیبرپختونخوا میں پرویز خٹک نے عمران خان کے ایما پر اپنے نامزد کردہ احتساب کمشنر کی چھٹی کرادی ۔ دو سال ہونے کو ہیں اور نیا ڈی جی مقرر نہیں کیاجارہا ۔ وزیراعلیٰ اپنے بنائے ہوئے قانون کے مطابق بھی نئے ڈی جی کو میرٹ پر مقرر کرنے پر آمادہ نہیں ۔وزیراعلیٰ نے اپنے ایک اور منظور نظر شخص کو ڈی جی احتساب بنانے کے لئے اسمبلی میں ترمیمی بل پیش کروایا ۔ ڈان نیوز کے اسماعیل خان اور میں نے یہ ڈرامہ بازی آشکار ا کرلی تو انصاف کی علمبردار حکومت نے ایک شخص کی خاطر قانون میں تبدیلی کا ارادہ ترک کرکے اعلان کیا کہ وہ ہائی کورٹ سے نئے احتساب کمشنر کا تقرر کروائیں گے ۔ کئی ماہ گزر گئے لیکن ابھی تک وزیراعلیٰ قائمقام ڈی جی جو ان کا خاص بندہ ہے ،سے کام چلااور مخالفین کو ہراساں کررہے ہیں ۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار اپنے پی ایس او زیب اللہ خان جو ان کے ساتھ پولیس بھرتیوں کے کیس میں ملوث تھے کو دہرا چارج دے کر اینٹی کرپشن کا ڈی جی بنا دیا ہے ۔ یہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ رولز کے خلاف ایک پولیس افسر کو ڈی جی اینٹی کرپشن لگا دیا گیا۔ صحت کا حال دیکھنا ہو تو ینگ ڈاکٹروں پراسپتال کے اندر پولیس لاٹھی چارج کی ویڈیو ملاحظہ کیجئے ۔ خان صاحب نے اپنے ایک عزیز کو صحت کے محکمے میں پالیسی بنانے کا اختیار دے رکھا ہے جو امریکہ میں رہتے اور مہینے میں صرف دو دن کے لئے حکمرانی کا مزہ لینے پشاورآجاتے ہیں ۔ پولیس کا حال دیکھنا ہو تو ڈی ایس پی کی موجودگی میں مشال خان کے بہیمانہ قتل کی مثال دیکھ لیجئے اور پھر پولیس کے معاملات میں سیاسی مداخلت کا یہ نمونہ ملاحظہ کیجئے کہ سب ملزم پکڑے گئے لیکن جس کا پی ٹی آئی سے تعلق تھا وہ ابھی تک ہاتھ نہیں آیا۔ یونیورسٹیوں کی تباہی کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ جب مشال قتل ہورہا تھا تو مردان یونیورسٹی سمیت نویونیورسٹیاں پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست کی وجہ سے وائس چانسلروں کے بغیرچل رہی تھیں۔ پی ٹی آئی کے ایک ایم این اے کی ایک دن میں تین پرچے دینے کے معاملے میں انکوائری کرنے کے جرم میں پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ہٹانے کے لئے تو صوبائی حکومت نے گورنر کو سمری ارسال کردی لیکن عبدالولی خان یونیورسٹی میں بے قاعدگیوں اور بدانتظامیوں پر اس کے وائس چانسلر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ مرکز میں تو انکوائریاں بڑی کروائی جارہی ہیں اور پی ٹی آئی کے ترجمان ماڈل ٹائون انکوائری کا بہت ذکر کررہے ہیں لیکن خود پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت بنوں جیل توڑنے کی انکوائری رپورٹ سامنے لاسکی نہ آرمی پبلک اسکول واقعہ کی انکوائری کرواسکی ، نہ اپنے ایم پی اے کے قتل کے مجرم سامنے لاسکی اور نہ صوبائی وزیر سردار اسراراللہ گنڈا پوری کے قتل کی تحقیقات ہوسکیں ۔ یہ تماشہ پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا کہ پرویز خٹک کابینہ کے وزیر اسراراللہ گنڈاپور جو دھماکے میں مارے گئے ،کے بھائی اکرام اللہ گنڈاپور جو پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ایم پی اے بنے اور زراعت کے وزیر ہیں ، اپنے بھائی کے قتل کی سازش میں اپنے ساتھی وزیر کی طرف انگلیاں اٹھارہے ہیں ۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ اپنے بھائی کےقتل کی تحقیقات کے لئے اپنی حکومت کی تحقیقاتی کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت کے اس وزیر نے نوازشریف کابینہ کے وزیر چوہدری نثار علی خان کو خط لکھا ہے کہ وہ ان کے بھائی کے قتل کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنائے ۔ یہ چند مثالیں ہیں بدلے ہوئے پاکستان کی ۔ اس حکومت کی ساری توجہ میڈیا اور سوشل میڈیا میں مہم پر مرکوز ہے اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں پرویز خٹک کو پانچ مرتبہ اپنا وزیراطلاعات تبدیل کرنا پڑا ۔ اس مد میں اتنے فنڈز خرچ کئے جارہے ہیں کہ بنی گالہ میں براجماں افتخار درانی جیسے لوگ بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھورہے ہیں ۔ اس پروپیگنڈے کی وجہ سے شاید پنجاب کے لوگ پی ٹی آئی کی طرف دیکھنے لگے ہیں اور اللہ کرے کہ وہ آزمالیں لیکن خود پختونخوا کے لوگ کتنے پچھتارہے ہیں ، اس کا اندازہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات کے نتیجے سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس میں دو درجن سے زائد لوگ مروانے کے باوجود پی ٹی آئی عام انتخابات کی طرح کامیابی حاصل نہ کرسکی ۔ ان انتخابات میں ضیاء اللہ آفریدی اور پرویز خٹک کے علاوہ کوئی بھی ایم این اے یا وزیر اپنے یونین کونسل نہیں جتواسکا۔ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں اور انشاء اللہ وقت آنے پر ایک ایک چیز ثابت ہوجائے گی اور الحمد للہ جن جن باتوں پر مجھ جیسوں کو گالیاں پڑی ہیں ، اب دھیرے دھیرے ثابت ہورہی ہیں ۔اپنے دائیں جانب فردوس عاشق اعوان اور بائیں جانب نذر محمد گوندل کو بٹھا کر خان صاحب نے بڑی حد تک اپنی اور اپنی جماعت کی حقیقت عیاں کردی ۔ ایک اور تازہ ترین مثال خیبر پختونخوا میں ہائیڈل بجلی پیدا کرنے والے ادارے (پیڈو) سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے ۔ ہوا یوں کہ اقتدار ملنے کے بعد جب خیبرپختونخوا کے مختلف محکموں کے ٹھیکے جب بنی گالہ میں براجماں پنجاب اور سندھ کے لیڈروں کو الاٹ کئے جارہے تھے تو پیڈو کا ادارہ محترم اسد عمر صاحب کے حصے میں آیا چنانچہ انہوں نے وزیراعلیٰ سے قواعد کی خلاف ورزی کروا کر اینگرو کے دور کے اپنے ساتھی اکبر ایوب کو اس کا سربراہ بنوادیا۔ میرے پاس سارے شواہد آئے توانصاف کے نام پر صوبے کے ساتھ اس بے انصافی کا تذکرہ 8اگست 2015کے کالم میں کردیا۔ کیونکہ اس شخص کا ہائیڈل جنریشن کے میدان میں کوئی تجربہ نہیں تھا اور مجھے یقین تھا کہ بھاری معاوضہ لینے کے باوجودوہ اس ادارے کو تباہ کردیں گے۔لیکن بجائے اس کے کہ اصلاح کی جاتی ، اسد عمر صاحب نے میرے خلاف مہم خود بھی شروع کی اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے مجاہدین کو بھی میرے خلاف لگا دیا۔ میں ان کو اپنے ٹی وی پروگرام میں بلاتا رہا لیکن وہاں آنا شاید انہوں نے اپنی شان کے منافی سمجھا اور ایک ویب ٹی وی پر بیٹھ کر میرے خلاف ایک گھنٹے کا انٹرویو ریکارڈ کرایا۔ اس میں انہوںنے اکبر ایوب کی تعیناتی کو خیبر پختونخوا کے عوام پر احسان عظیم ثابت کرانے کی کوشش کی اور بار بار مجھے طنز و تشنیع کا نشانہ اس فقرے کے ساتھ بناتے رہے کہ ’’یارسلیم صافی ۔ اتنے بڑے تم صحافی ہو ۔ کم از کم دو ٹکے کی تو تحقیق کرلیتے‘‘ ۔ بہر حال ان کے پاس طاقت تھی چنانچہ ان کے اکبرایوب پیڈو کے مختار بنے رہے ۔ کچھ عرصہ بعد اس کے بورڈ کے چیئرمین شکیل درانی نے بھی ان بے قاعدگیوں کے خلاف احتجاجاًاستعفیٰ دے دیا لیکن چونکہ اکبر ایوب کی سفارش مضبوط تھی اس لئے وہ براجماں رہے ۔ انہوںنے اپنے ماتحت مزید اٹھارہ افراد کوپیڈو میں قواعد کے خلاف بھرتی کیا اور ان بھرتیوں کو صوبائی انسپکشن ٹیم غیرقانونی قرار دے چکی (رپورٹ میرے پاس ہے ) ۔ بالآخر محکمے کے ایک اکائونٹنٹ نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ۔ الحمد للہ پشاور ہائی کورٹ نے 7 جون 2017 کو اپنے فیصلے میں میری گزارشات پر حرف بحرف مہرتصدیق ثبت کرکے اکبر ایوب کی تقرری کو غیرقانونی قرار دیا ، لیکن نقصان یہ ہوا کہ اس غریب صوبے کا یہ امیر ادارہ گزشتہ چار سالوں میں چند میگاواٹ بجلی بھی پیدا نہ کرسکا۔ اے این پی دور کے شروع کردہ دو پروجیکٹ مشکل سے مکمل ہوئے اور بس۔ اسد عمر صاحب تک یقینا یہ فیصلہ پہنچ گیا ہوگا کیونکہ یہ پشاور ہائی کورٹ کی تاریخ کا پہلا فیصلہ ہے کہ جس میں ان کا ذکر بھی موجود ہے ۔
بقول اسد عمر صاحب ، میری تحقیق یقینا دو ٹکے کی بھی نہیں تھی لیکن الحمد للہ اس دو ٹکے کی تحقیق کو صوبے کی سب سے بڑی اور باوقار عدالت نے اپنے فیصلے میں حرف بحرف درست ثابت کیا جبکہ ان کے اینگرو کے دنوں کے دوست کوگھر بھیج دیا۔ یقینا اپنے کئے پر وہ معافی نہیں مانگیں گے کیونکہ ان کے ہاں ایسا کرنے کی روایت نہیں ۔ میں بس اس موقع پر ان کی خدمت میں انہی کے الفاظ کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اسد عمرصاحب ۔ اتنے بڑے آپ سیاسی لیڈر ہیں ۔ کچھ تو سوچا کریں ۔ خیبرپختونخوا کا ہر رہنے والا آپ کے ایم این ایز اور وزیروں کی طرح بنی گالہ کا غلام اور آپ کا تابعدار نہیں کہ جو آپ جیسے لوگوں کے خوف سے یا پھر آپ کے کارندوں کی گالیوں کے ڈر سے دن کو رات اور رات کو دن ثابت کرتا پھرے ۔وہاں ایم ایم اے کی حکومت تھی تو یہی رویہ تھا۔ وہاں اے این پی کی حکومت تھی اور پرویز خٹک اس میں وزیر تھے تو بھی یہی رویہ ہے ۔ اب آپ لوگوں کی حکومت ہے تو بھی یہی رویہ ہے ۔ آپ لوگوں کے رول اور پارٹیاں بدلتی رہیں گی لیکن میرا رول یہی رہے گا۔ سندھ ، پنجاب اور مرکز کی حکومتوں کی خبر لینے والے تو بہت ہیں ۔ آپ کی حکومت کی خبر لینے والا صرف میں رہ گیا ہوں اور وہ بھی آپ سے برداشت نہیں ہوتا۔ اسد عمر صاحب آپ دونوں بھائی اتنے بڑے سیاستدان ہیں کہ ایک بھائی نوازشریف کا دست راست اور دوسرا عمران خان کا رازدان بن گئے ہیں۔ایک بھائی نے سندھ کی گورنری لے لی اور دوسرے اسلام آباد سے ایم این اے بن گئے ۔ لیکن ہم جیسے دو ٹکے کے صحافیوں کی دو ٹکے کی تحقیق پر مبنی تنقید بھی آپ سے برداشت نہیں ہوتی۔کچھ تو خدا کا خوف کریں۔

 

پی ٹی آئی ۔پی پی پی یا مسلم لیگ ق)  

سلیم صافی

میں پی ٹی آئی کونئی مسلم لیگ (ق) سمجھ رہا تھا اور میں نے ہی اسے نئی مسلم لیگ (ق) کا نام دیا تھا۔وجہ یہ تھی کہ یہاں مسلم لیگ (ق) کی تمام خصوصیات دیکھنے کو ملتی تھیں۔ مثلاً مسلم لیگ (ق) اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ تھی اور گزشتہ چھ سال سے یہ خدمت پی ٹی آئی بدرجہ اتم سرانجام دے رہی ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ق) میں ایجنسیاں افراد کو شامل کرواتی اور عہدے دلواتی تھیں اور 2011ء کے بعد ایک لمبے عرصے تک  ایجنسیاں مختلف شخصیات کو پی ٹی آئی میں شامل کراتی اور ان کو مناصب دلواتی رہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ (ق) کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ کرپٹ اور بدنام سیاستدانوں کیلئے لانڈری کی حیثیت رکھتی تھی اورجو اس میں شامل ہوجاتا احتساب سے بچ کر صاف ہوجاتا۔ ایک عرصے سے لانڈری کی یہ حیثیت پی ٹی آئی کو حاصل ہوچکی ہے۔ شاہ محمود قریشی آصف علی زرداری کے دست راست اور گیلانی کابینہ کے وزیر تھے لیکن پی ٹی آئی میں آئے تو صاف قرار پائے۔ بیرسٹر سلطان محمود اور رحمان ملک ایک ہی طرح کی صفات کے حامل تھے لیکن پی ٹی آئی میں آئے تو فرشتہ قرار پائے۔ پرویز خٹک زرداری صاحب کے سپاہی، آفتاب شیرپائو کے دست راست اور حیدر ہوتی کابینہ کی صوبائی کابینہ کے رکن تھے لیکن پی ٹی آئی میں آئے تو ایسے صاف ہوگئے کہ پی ٹی آئی کے ترجمان قرآنی آیات پڑھ پڑھ کر ان کے پاک صاف ہونے کی گواہیاں دینے لگے۔ اعظم سواتی،مولانا فضل الرحمان صاحب کے دست راست تھے اور امریکہ سے لائے ہوئے مبینہ ڈالروں کے عوض سینیٹ میں اور پھر گیلانی کابینہ میں آئے تھے لیکن پی ٹی آئی میں آئے تو امامت کے یوں اہل قرار پائے اور علامہ علی محمد خان اور مفتی شہریار آفریدی نے باجماعت ان کو سیاسی امام تسلیم کیا۔ وہ پہلے صوبائی صدر بنائے گئے اور اب الیکشن کے نام پر سلیکشن کیلئے بنائے گئے الیکشن کمیشن کے سربراہ مقرر ہوئے۔ علیٰ ہذا القیاس۔ لیکن اب ایک اور طرح کی تبدیلی آگئی ہے۔ اب پی ٹی آئی میں پیپلز پارٹی کی تمام صفات در آئی ہیں اور قیادت پر بھی پیپلز پارٹی کا واضح غلبہ ہوگیا ہے۔ ویسے تو سب سے طاقتور نام بلکہ شاید عمران خان سے بھی زیادہ طاقتور جہانگیر خان ترین ہیںجو پیپلز پارٹی سے نہیںبلکہ مسلم لیگ (ق) سے پی ٹی آئی میں آئے تھے لیکن انہیں اللہ نے مال کے ساتھ ساتھ چال چلانے کی بھی ایسی صلاحیت دی ہے کہ انہیں بجا طور پرپی ٹی آئی کا آصف زرداری قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن جہانگیر ترین کے نیچے دیکھیں تو ہر طرف پیپلز پارٹی ہی پیپلز پارٹی نظر آتی ہے۔ شاہ محمود قریشی اگرچہ 2001ء سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں تھے ( عمران خان نے 2002 ء میں ایک دن پرویز مشرف کو شکایت کی تھی کہ ان کے دوست شاہ محمود قریشی ان کی پارٹی میں آنا چاہتے ہیں لیکن ایجنسیاں ان کو آنے نہیں دے رہیں ) لیکن وہ پہلے بے نظیر بھٹو اور پھر آصف علی زرداری کے رازدان تھے۔ اب وہ جہانگیر ترین کے بعد پی ٹی آئی کے اہم ترین رہنما ہیں۔ اسی پرویز خٹک بنیادی طور پر جیالے اور پیپلئے ہیں تاہم اسد قیصر جیسے عمران خان کے کئی پرانے خدمتگاروں کو پیچھے چھوڑ کر وہ نہ صرف وزیراعلیٰ بنے بلکہ خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی ان کی مٹی میں بند ہے۔ غلام مصطفیٰ کھر کی تو پہچان ہی پیپلز پارٹی تھی۔ اب ماشاء اللہ وہ بھی پی ٹی آئی کے رہنما بن گئے ہیں۔ چوہدری محمد سرور کچھ عرصہ کیلئے شریفوں کے سیاسی دسترخوان سے بھی مستفید ہوئے لیکن وہ اصل میں بے نظیر بھٹو کے آدمی تھے۔ اب وہ بھی پی ٹی آئی کے اہم ترین رہنما ہیں۔اسی طرح سردار آصف احمد علی بھی معروف پیپلئے تھے۔ عرصہ ہوا وہ بھی پی ٹی آئی کے رہنما بن گئے ہیں۔ بلوچستان کی پی ٹی آئی کے صدر سرداریار محمد رند اگرچہ مسلم لیگ (ق) میں بھی رہے اور شوکت عزیز کابینہ کے وزیر تھے لیکن پرانے پیپلئے ہیں۔ راجہ ریاض کے جیالا پن کو کون بھول سکتا ہے۔ ان سے آصف علی زرداری صاحب وہی کام لیا کرتے تھے جو میاں صاحب طلال چوہدری اور دانیال عزیز سے لیتے ہیں لیکن اب ماشاء اللہ وہ بھی پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما ہیں۔ہمارے دوست فواد چوہدری تو نہ صرف پیپلز پارٹی کے معروف خاندان کے چشم وچراغ ہیں بلکہ آج بھی نظریاتی حوالوں سے یا پھر عادتوں کے لحاظ سے سر تا پا پیپلئے ہیں۔ الحمد للہ آج وہ عمران خان صاحب کے مشیر خاص اور ترجمان ہیں۔ بابر اعوان کے جیالاپن سے تو ایک دنیا واقف ہے۔ گزشتہ حکومت میں وہ زرداری صاحب کی وکالت میں کن حدوں تک جاتے تھے، کوئی بھول گیا ہو تو عمران خان کے ساتھ ان کی وہ ویڈیو دیکھیں جس میں وہ ان کو لاجواب کرنے کیلئے ٹیریان تک جاپہنچے تھے۔ اعوان صاحب آج بھی کاغذی طور پر پیپلز پارٹی میں ہیں لیکن عرصہ ہوا کہ وہ اصلاً عمران خان کے وکیل اور مشیربن گئے ہیں۔ غرض کس کس کا ذکر کروں۔ آج خان صاحب کے اردگرد نظر دوڑائیں تو پیپلز پارٹی ہی پیپلز پارٹی نظر آتی ہے۔ کہیں اشرف سوہنا تو کہیں ممتاز تارڑ، کہیں نور عالم خان تو کہیں عامر ڈوگر۔ لیکن بنی گالہ میں بننے والی پیپلز پارٹی کے تاج محل کی یہ تصویرشاید فردوس عاشق اعوان کے بغیر نامکمل تھی۔ اگرچہ انہوں نے اپنی وزارت کے دنوں کے اپنے فرنٹ مین کو پہلے سے عمران خان کے ساتھ فٹ کرلیا تھا ( جن کو میڈیا کنسلٹینسی کے نا م پر اشتہارات وغیرہ کی آڑ میں کمانے کا تجربہ فردوس عاشق اعوان کے ساتھ ہوچکا تھا اور اسی لئے انہوں نے ایک صاحب کے ساتھ مل کر خیبرپختونخوا کے اشتہارات کے کئی ارب روپے ایک کمپنی کی آڑ لے کراڑانے کا منصوبہ بنایا تھا جو وقتی طور پر ڈان کے اسماعیل خان اور میری کوششوں سے ناکام ہوا لیکن اب سنا ہے کہ وہ دونوں ایک اور طریقے سے واردات کرنے جارہے ہیں۔ افتخاردرانی پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے مزے لینے اور اپنی اہلیہ کو فردوس عاشق اعوان کے ذریعے پیمرا میں تعینات کرانے کے بعد اب پی ٹی آئی کے میڈیا کے انچارج ہیں اور شام کو ٹی وی پربیٹھنے والے پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی کی ڈیوٹی وہ لگاتے ہیں کہ شام کو کس نے کس چینل پر جاکر کس کی کیا بے عزتی کرنی ہے)۔ بہر حال فردوس عاشق اعوان کی آمد سے پی ٹی آئی کے پیپلز پارٹی بننے میں جو کسر رہ گئی تھی، پوری ہوگئی۔ جس طرح عمران خان نے رنگ برنگے ٹریک سوٹ کے ساتھ کیمروں کے سامنے بیٹھ کر فردوس عاشق اعوان کو شامل کروایا اس سے عیاں ہوتا ہے کہ فردوس صاحبہ کیلئے بھی موزوں ترین جگہ یہی تھی اور پی ٹی آئی میں بھی بس ان کی کمی تھی۔ الحمد للہ پی ٹی آئی اب مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کا مرکب تو بن گئی لیکن سوال یہ ہے کہ اب قیادت کون کرے۔ یہاں اب نہ تو زرداری صاحب قیادت کیلئے آسکتے ہیں اور نہ چوہدری شجاعت حسین صاحب۔ بدقسمتی سے ایسے حالات بنتے جارہے ہیں کہ اگلے انتخابات سے عمران خان بھی آئوٹ ہوں۔ نہ صرف یہ کہ وہ خاص قوتوں کیلئے بوجھ بنتے جارہے ہیں بلکہ خود پارٹی کی سیکنڈ رینک کے بعض اہم کردار بھی ان کو آئوٹ کراکر پارٹی پر قبضے کا سوچ رہے ہیں۔
اب ایک گروپ جہانگیر ترین کا ہے ۔ دوسرا شاہ محمود قریشی کا ہے ۔ تیسرا اسدعمر اور شیریںمزاری وغیرہ کا ہے ۔ جو نظریاتی لوگ تھے یا جو پھر خان صاحب کے وفادار تھے ، ان کی اب کوئی حیثیت نہیں ۔ وہ ان تینوں میں سے کسی ایک کے قدموں میں بیٹھے ہوتے ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ لڑائی اس لئے شدت اختیار کرتی جارہی ہے کیونکہ شاہ محمود قریشی اور اسد عمر گروپ کو احساس ہوگیا ہے کہ وہ کچھ بھی کرلیں خان صاحب کوجہانگیر ترین کے سحر سے نہیں نکال سکتے ۔ دوسری طرف اس وقت پی ٹی آئی کو شناخت اور پالیسی کا بھی چیلنج درپیش ہے ۔ ابھی تو اس کی سیاست صرف نوازشریف دشمنی اور اقتدار تک پہنچنے کی کوشش تک محدود ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ لیفٹ کی پارٹی ہوگی یا رائٹ کی یا پھر سینٹرکی ۔ اس کی اقتصادی پالیسی پیپلز پارٹی والی ہوگی ، مسلم لیگ (ق) والی یا پھر کچھ اور ۔ یہ اس وقت شاید واحد سیاسی جماعت ہے جس کی کوئی خارجہ پالیسی بھی نہیں ۔ صرف ایک چیز واضح ہے کہ علی زیدی کی قیادت میں ایرانی لابی کا ایک گروپ بڑی ہوشیاری کے ساتھ پی ٹی آئی کو ایران کی پراکسی میں بدل چکا ہے اور تادم تحریر یہ گروپ بڑی خاموشی کے ساتھ کام کرکے خان صاحب کو عرب مخالف لیڈر بناچکے ہیں۔ اسی گروپ نے ہی پی ٹی آئی کو چین سے دور کرنے میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ باقی افغانستان ہو کہ چین ، امریکہ ہو کہ ہندوستان کسی ایشو سے متعلق پی ٹی آئی کی خارجہ پالیسی واضح نہیں ۔ اس میں دو رائے نہیں کہ میاں نوازشریف کی عوامی سطح پر مقبولیت کا گراف نہایت تیزی کے ساتھ گرا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ عالمی اور قومی مقتدر حلقے کیا اس پارٹی کو مقتدر بنانا چاہیں گےجس کی سمت معلوم ہو، خارجہ پالیسی اور نہ لیڈر۔