پیدائشی اندھے بچوں کیلئے خوشخبری

بائیو ٹیکنولوجی کا کمال
Human Gene Therapy
FDA has approved the treatment after going through all parameters.
Adeno-associated virus is used as vector.
RPE 65 Gene
جین وائرس میں منتقل کیا جاتا ہے اور وائرس انجیکشن کے ذریعے آنکھ میں منتقل کیا جاتا ہے۔
انجیکشن کی قیمت 8 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔ شاید ایک ملی لیٹر کا دسواں حصہ۔ یعنی چھوٹا سا قطرہ۔
اس سے ریٹینا کے بعض سیل دوبارہ بن جاتے ہیں اور ایک قسم کے نابینا پن کا علاج ہو جاتا ہے۔ پیدائشی اندھے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ جن بچوں کا علاج کیا گیا ہے اب تک ایک سال ہو چکا ہے ابھی تک وہ ٹھیک ہیں۔
ہو سکتا ہے اس طرح کی دوسری بیماریوں کے جینز بھی میسر آ جائیں۔ انشاءاللہ جلد ہی یہ ٹیکے سستے بھی ہو جائیں گے۔

جی یہ بھی پاکستان ہی ہے، کیا کبھی ادھر دھیان دیا؟

جہاں جوتے خریدنے کے بھی پیسے نہ ہوں اور کوئی ہاشم خان سکواش کے میدان میں جھنڈا گاڑ دے اور پھر اگلے باون برس تک اس کا خاندان یہ جھنڈا نہ گرنے دے۔

جہاں کروڑوں خواتین ابھی صرف خواب میں ہی محوِ پرواز ہونے کی مہم جوئی کرسکیں اور کوئی شکریہ خانم جہاز اڑانے لگے اور وہ بھی آج سے تریپن برس پہلے۔

جہاں اسی فیصد خواتین محرم کی اجازت کے بغیرگھر سے قدم نہ نکال سکیں اور کوئی نمرہ سلیم انٹار کٹیکا پر قدم رکھ دے۔

جہاں جمنازیم جانے کے لیے بس کا پورا کرایہ بھی نہ ہو اور کوئی نسیم حمید جنوبی ایشیا کی تیز رفتار ترین لڑکی قرار پاجائے۔

جہاں ملک کے اڑتیس فیصد بچے پہلی جماعت بھی مکمل کیے بغیر سکول سے ڈراپ آؤٹ ہوجائیں اور کوئی علی معین نوازش ایک ہی برس میں اکیس مضامین میں اے لیول لینے کا عالمی ریکارڈ قائم کردے،

جہاں ولید امجد ملک اقوامِ متحدہ کے تحت انسانی حقوق پر مضمون نگاری کے عالمی مقابلے میں اول آجائے۔

جہاں نو سالہ ارفع کریم دنیا کی کم عمر ترین مائیکرو سوفٹ کمپیوٹر انجینیر کے طور پر ابھر آئے۔

جہاں نابیناؤں کے لیے نہ تعلیم کی ضمانت ہو اور نہ ہی روزگار کی وہاں کے نابیناؤں کی کرکٹ ٹیم ایک نہیں دو ورلڈ کپ جیت جائے۔

جہاں کے پہاڑی لوغیرملکی کوہ پیماؤں کے قلی بن کر گھر کا چولہا جلنے پر خوش ہوجائیں اور ان میں سے کوئی نذیر صابر اور پھر کوئی حسن صدپارہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کر لے۔

جہاں ایم ایم عالم نامی ایک پائیلٹ ایک پرانے فائیٹر جہاز سے صرف ایک منٹ میں دشمنوں کے پانچ طیارے گرا کر دنیا کی ہوائی جنگ میں نہ ٹوٹنے والا ریکارڈ بنا دے

جہاں اوپر سے نیچے تک کچھ لے دیئے بغیر سرمایہ کاری کا تصور ہی محال ہو وہاں کا کوئی اسد جمال فوربس میگزین کی ٹاپ ہنڈرڈ گلوبل وینچر کیپٹلسٹ لسٹ میں آٹھویں نمبر پر آجائے۔

جہاں ایسے حالات میں بھی لوگ ایسے کارنامے سر انجام دے رہے ہو سر فخر سے بلند ہو جائے اور اگر حالات سازگار ہو جائیں تو یہ ملک بلاشبہ دنیا کا بہترین ملک بن جائے

یہ ہے میرا وطن ، میرا فخر، میری پہچان، میرا پیارا پاکستان
# 2017

کتے اور بھوربن

سیٹھ ”بھولا بھالا” کی انکم ٹیکس ریٹرن پڑھتے ہوئے اچانک میں چونک گیا، جس پر لکھا تھا” کتوں کا کھانا 75000 روپے”۔ تین دن کی مغز ماری کے بعد یہ پہلا نکتہ تھا جس پر میں نے سیٹھ جی کی ٹیکس چوری پکڑ ہی لی، نہ جانے لوگ ٹیکس بچانے کے لیئے کیسے کیسے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں؟ اللہ معاف فرمائے۔ اب میں دیکھتا ہوں کہ یہ ٹیکس چور مجھ سے کیسے بچ پاتا ہے؟ چنانچہ اگلے ہی دن میں نے انہیں اپنے دفتر میں طلب کرلیا،

سیٹھ صاحب تشریف لائے تو میں نے انہیں ٹیکس کی اہمیت، ملک و قوم کے لیئے اسکی ضرورت اور ایمانداری کے موضوع پر ایک سیر حاصل لیکچر پلا دیا، وہ خاموشی سے سنتا رہا، نہ ہوں نہ ہاں، مجھے اسکا رویہ دیکھ کر مزید غصہ آگیا اور اسے کتوں کے کھانے کے بارے میں بتا کر مزید شرمندہ کرنے کی کوشش کی اور ناکام رہا،

آخر کار میں خاموش ہوکر سیٹھ بھولا بھالا کی طرف دیکھنے لگا، وہ مسکرایا اور کہنے لگا،، صاحب،، آپ افسر ہو حکم کرو ہم کیا کر سکتے ہیں آپکے لیئے؟،،،

میں زیر لب مسکرایا کہ اب اونٹ پہاڑ کے نیچے آگیا ہے، چنانچہ میں نے نہائت عیاری کے ساتھ مسکراتے ہوئے کہا،،،، سیٹھ جی،، کیا آپ ایک ”ذمہ دار” انکم ٹیکس آفیسر کو رشوت کی پیش کش کررہے ہیں؟

ارے نہیں صاحب میں نے کب کہا کہ میں رشوت دوں گا؟
میں نے زندگی میں آج تک رشوت نہیں دی بلکہ کارباری ڈیلیں کی ہیں، آپ بھی اسے ایک بزنس ڈیل سمجھ سکتے ہیں،

وہ کیسے سیٹھ جی،،، میں نے پوچھا،،
سیٹھ نے ہولے سے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ گرمیوں کی چھٹیوں میں بھابی اور بچوں کے لیئے میری طرف سے بھوربن مری میں سیر اور شاپنگ کا ”پیکیج” قبول فرمائیں تمام خرچ میرے ذمہ ہوگا اور اس عرصہ میں ایک گاڑی بھی انکے استعمال میں رہے گی جسکا انتظام بھی میں ہی کروں گا،

تھوڑی سی رد و قدح کے بعد میں نے اس پیکیج کی منطوری دے دی اور سیٹھ کے جاتے ہی بیگم کو فون کرکے اس ڈیل کے بارے میں بتایا،

ایک سال کا وقت گزر گیا اور میں بھی سیٹھ بھولا بھالا کو بھول گیا، آخر ایک دن سیٹھ کی انکم ٹیکس ریٹرن پھر میری میز پر تھی،،،

میں نے غور سے اسے پڑھا تو ایک صفحے پر لکھا تھا،،،

”کتوں کو بھوربن کی سیر کروائی” خرچ ایک لاکھ۔۔۔

مجھے یوں لگا کہ میرا سر گھوم رہا ہے اور ائیر کنڈیشنڈ فل اسپیڈ پر چلنے کے باوجود میرا جسم پسینے میں نہا گیا ہے، میں نے چپڑاسی کو بلا کر ایک گلاس ٹھندا پانی منگوایا اور ایک ہی سانس میں اسے خالی کردیا،

تحریر: محسن رفیق مرحوم

ﭼﺎﺋﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﺁﯾﺎ 

ﭨﺎﺋﭩﯿﻨﮏ ﭘﺮ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ 2230 ﻟﻮﮒ ﺳﻮﺍﺭ ﺗﮭﮯ،ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 706 ﺑﭽﺎ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ 1500 ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮈﻭﺏ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔۔۔ !!
ﻓﻠﻢ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ﺳﺎﺭﮮ ﮈﻭﺏ ﮐﺮ ﻣﺮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﮨﯿﺮﻭ ﭼﻨﺪ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺮﺩﯼ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﺳﮯ ﻣﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮈﻭﺏ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔ !! ﯾﮧ ﻓﻠﻢ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮨﯿﮟ۔
ﺟﺲ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﻓﻠﻢ ﺩﯾﮑﮭﯽ، ﮈﻭﺑﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺑﭽﻮﮞ ﺍﻭﺭﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮔﯿﺎ . ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﺳﮯ ﮈﻭﺑﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺮﮮ . ﯾﮧ ﻓﻠﻢ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺗﻤﻨﺎ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺑﺲ ﮨﯿﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﮨﯿﺮﻭﺋﻦ ﮈﻭﺑﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﭻ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔
ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭼﻮﺭ، ﺷﺮﺍﺑﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﺑﺎﺯ ﮨﯿﺮﻭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﻠﻢ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺏ ﮐﺮ ﻣﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺑﭽﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﻠﻢ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺷﺨﺺ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ . ﺑﻠﮑﮧ ﺩﻝ ﺗﮭﺎﻡ ﮐﺮ ﮨﯿﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﮨﯿﺮﻭﺋﻦ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﯽ ﻓﻮﮐﺲ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ؟؟
.
ﺟﻮﺍﺏ :
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﭘﺮﻭﮈﯾﻮ ﺳﺮ ﮐﺎ ﻓﻮﮐﺲ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﺟﮧ ﺍﺱ ﮨﯿﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﮨﯿﺮﻭﺋﻦ ﭘﺮ ﮨﮯ . ﮐﯿﻤﺮﮦ ﮔﮭﻮﻣﺎ ﭘﮭﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯽ ﮐﻮ ﺩﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ . ﮈﺍﺋﯿﻼﮒ ﺍﻧﮩﯽ ﮐﮯ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ . ﮔﻮﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺩﻭ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﯿﮟ . ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻓﻠﻢ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮨﯽ ﺑﮭﺮ ﭘﻮﺭ ﺗﻮﺟﮧ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ،ﺍﻥ ﮈﻭﺑﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺑﭽﻮﮞ، ﺑﻮﮌﮬﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ ﺧﺎﻃﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻻﺗﺎ۔
.
ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﺷﺎﻡ، ﻋﺮﺍﻕ، ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ، ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ،karachi ka mohajiro. ﮐﺸﻤﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﻣﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺭﮮ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺟﺒﮑﮧ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﻧﺎﺷﺘﮯ، ﺳﯿﺎﮦ ﮐﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﻣﺬﺍﮐﺮﺍﺕ، ﺑﺪﮐﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺍﺟﻼﺱ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﮐﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﺷﮯ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﻣﺮﮐﻮﺯ ﮨﮯ ۔

پاکستان کے خلاف سازشیں

پاکستان کے خلاف سازشیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا آپ جانتے ہیں !
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہےجسکی سب سے بڑی ایکٹیو جنگی سرحد ہے جو کہ 3600 کلو میٹر ہے اور بدقسمتی سے پاکستان ہی دنیا کا واحد ملک ہے جو بیک وقت تین خوفناک جنگی ڈاکٹرائینز کی زد میں ہے جس کے بارے میں بہت تھوڑے لوگ جانتے ہیں آئیے آج ذرا اسکے بارے میں آپکو بتاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔!!

پہلے نمبر پر
کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین (Cold Start doctrine)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے، جو انڈین جنگی حکمت عملی ہے جسکے لیے انڈیا کی کل فوج کی 7 کمانڈز میں سے چھ پاکستانی سرحد پر ڈپلوئیڈ ہو چکی ہیں یہ انڈیا کی تقریباً 80 فیصد سے زیادہ فوج بنتی ہے اور اس ڈاکٹرائین کے لیے انڈین فوج کی مشقیں ، فوجی نقل و حمل کے لیے سڑکوں ،پلوں اور ریلوں لائنوں کی تعمیر اور اسلحے کے بہت بڑے بڑے ڈپو نہایت تیز رفتاری سے بنائے جا رہے ہیں اس ڈاکٹرائن کے تحت صوبہ سندھ میں جہاں انڈیا کو جغرفیائی گہرائی حاصل ہے وہ تیزی سے داخل ہوکر سندھ کو پاکستان سے کاٹتے ہوئے بلوچستان گوادر کی طرف بڑھیں گی اور مقامی طور پر انکو سندھ میں جسقم اور بلوچستان میں بی ایل اے کی مدد حاصل ہوگی ۔۔۔۔۔

پاکستان کو اصل اور سب سے بڑا خطرہ اسی سے ہے اور پاک آرمی انڈین فوج کی اسی نقل و حرکت کو مانیٹر کرتے ہوئے اپنی جوابی حکمت عملی تیار کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔ آپ نے سنا ہوگا پاکستان آرمی کی “عظم نو “مشقوں کے بارے میں جو پچھلے کچھ سال سے باقاعدگی سے جاری ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ انڈیا کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین کا جواب تیار کیا جا رہا ہے جسکے تحت پاک آرمی جارحانہ دفاع کی تیاری کر رہی ہے ۔۔۔۔۔ گو کہ اس معاملے میں طاقت کا توازن بری طرح ہمارے خلاف ہے انڈیا کی کم از کم دس لاکھ فوج کے مقابلے میں ہماری صرف دو سے ڈھائی لاکھ فوج دستیاب ہے

باقی امریکن” ایف پاک ” ڈاکٹرائین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کی زد میں ہے ۔۔۔۔۔۔!!
امریکن ایف پیک ڈاکٹرائن
( Amrican afpak doctrine) باراک اوباما ایڈمنسٹریشن کی جنگی حکمت عملی ہے پاکستان کے خلاف جس کے تحت افغان جنگ کو بتدریج پاکستان کے اندر لے کر جانا ہے
اور پاکستان میں پاک آرمی کے خلاف گوریلا جنگ شروع کروانی ہے ۔۔۔

درحقیقت یہی وہ ڈاکٹرائن کے جس کے تحت اس وقت پاکستان کی کم از کم دو لاکھ فوج حالت جنگ میں ہے اور اب تک ہم کم از کم اپنے 20 ہزار فوجی گنوا چکے ہیں جو پاکستان کی انڈیا کے ساتھ لڑی جانی والی تینوں جنگوں میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے ۔۔۔۔

اس جنگ کے لیے امریکہ اور انڈیا کا آپس میں آپریشنل اتحاد ہے اور اسرائیل کی تیکنیکی مدد حاصل ہے ۔۔۔۔۔ اسکے لیے کرم اور ہنگو میں شیعہ سنی فسادات کروائے گئے اور وادی سوات میں نفاذ شریعت کے نام پر ایسے گروہ کو مسلط کیا گیا جنہوں نے وہاں عوام پر مظالم ڈھائے اور فساد برپا کیا جس کے لیے مجبوراً پہلی بار پاک فوج کو انکے خلاف ان وادیوں میں داخل ہونا پڑا ۔۔۔۔۔ پاک فوج نے عملی طور پر انکو پیچھے دھکیل دیا لیکن نظریاتی طور پر ابھی بھی انکو بہت سے حلقوں کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے جسکی وجہ سے عوام اپنی آرمی کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑی جیسا ہونا چاہئے اور اسکی وجہ

تیسری جنگی ڈاکٹرائن ہے جس کے ذریعے امریکہ اور اسکے اتحادی پاک آرمی پر حملہ آور ہیں اسکو فورتھ جنرزیشن وار کہا جاتا ہے !!

فورتھ جنریشن وار
(Fourth-generation warfare )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک نہایت خطرناک جنگی حکمت عملی ہے جسکے تحت ملک کی افواج اور عوام میں مختلف طریقوں سے دوری پیدا کی جاتی ہے مرکزی حکومتوں کو کمزور کیا جاتا ہے صوبائیت کو ہوا دے جاتی ہے ، لسانی اور مسلکی فسادات کروائے جاتے ہیں اور عوام میں مختلف طریقوں سے مایوسی اور ذہنی خلفشار پھیلایا جاتا ہے ۔۔۔۔

اسکے ذریعے کسی ملک کا میڈیا خریدا جاتا ہے اور اسکے ذریعے ملک میں خلفشار ، انارکی اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔

فورتھ جنریشن وار کی مدد سے امریکہ نے پہلے یوگوسلاویہ ، عراق اور لیبیا کا حشر کر دیا اب اس جنگی حکمت عملی کو پاکستان اور سریا پر آزمایا جا رہا ہے اور بدقسمتی سے انہیں اس میں کافی کامیابی حاصل ہو چکی ہے ۔۔۔ پاکستان کے خلاف فورتھ جنریشن وار کے لیے بھی امریکہ ، انڈیا اور اسرائیل اتحادی ہیں باراک اوباما نے اپنے منہ سے کہا تھا کہ وہ پاکستانی میڈیا میں 50 ملین ڈالر سالانہ خرچ کریں گے آج تک کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کس مقصد کے لیے اور کن کو یہ رقوم ادا کی جائنگی جبکہ انڈیا کا پاکستانی میڈیا پر اثرورسوخ دیکھا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کی ساری قوم اس امریکن فورتھ جنریشن وار کی زد میں ہے ۔۔۔!!

یہ واحد جنگ ہوتی ہے جسکا جواب آرمی نہیں دے سکتی آرمی اس صلاحیت سے محروم ہوتی ہے ۔۔ چونکہ پاک آرمی کو امریکن ایف پاک ڈاکٹرائن کے مقابلے پر نہ عدالتوں کی مدد حاصل ہے نہ سول حکومتوں کی نہ ہی میڈیا کی اسلئے باوجود بے شمار قربانیاں دینے کے اس جنگ کو اب تک ختم نہیں کیا جا سکا ہے اور اسکو مکمل طور پر جیتا بھی نہیں جا سکتا جب تک پوری قوم مل کر اس امریکن فورتھ جنریشن وار کا جواب نہیں دیتی ۔۔۔۔۔۔

فورتھ جنریشن وار بنیادی طور پر ڈس انفارمیشن وار ہوتی ہے اور اسکا جواب سول حکومتیں اور میڈیا کے محب وطن عناصر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں لڑی جانے والی اس جنگ میں سول حکومتوں سے کوئی امید نہیں اسلئے عوام میں سے ہر شخص کو خود اس جنگ میں عملی طور پر حصہ لینا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔!!
اس حملے کا سادہ جواب یہی ہے کہ عوام ۔۔۔
“ہر اس چیز کو رد کر دے جو پاکستان ، نظریہ پاکستان اور دفاع پاکستان یا قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ آور ہو” ۔

حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم
( منقول )
اللہ پر کامل اور حقیقی ایمان اور صحیح طرز عمل ہی ہمیں بچا سکتا ہے۔