قابل رحم

یہ صاحب منزل مراد تک تو پہنچ گئے لیکن اندر نہیں جا پا رہے. اندر جانے کے لیے انہیں ان لوگوں کی ضرورت ہے جن کو یہ سالہا سال دولتیاں مارتے رہے ہیں!

 

شوکت صدیقی اوپن ٹرائل: پہلے دن کی کارروائی

جائیں تو جائیں کہاں
………………….
جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر سپریم جوڈیشل کونسل کی پہلی بار کھلے کمرے میں سماعت کا آغاز ہوا۔ پہلے روز کی سماعت کے دوران دیکھنے میں آیا کہ جسٹس ثاقب نثار جسٹس صدیقی کے ریفرنس کا فیصلہ کرنے کی جلدی میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین دن میں فیصلہ کرنا ہے۔

چیف جسٹس نے جسٹس شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان نے کہا کہ آج جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں شواہد ریکارڈ ہونے ہیں۔ اس پر حامد خان نے کہا کہ میرے موکل کی طرف سے دو درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ ایک درخواست میں اعلی عدلیہ کے ججز کے گھروں کی تزئین و آرائش پر اٹھنے والے اخراجات کا گزشتہ ریکارڈ اور ججز سرکاری گھر کے ساتھ رہائشی الاؤنس لے رہے ہیں وہ ریکارڈ مانگا ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ جوڈیشل کونسل کی کاروائی کو طول نہیں دینا چاہتے۔ یہ ریکارڈ منگوانے کا کوئی مقصد نہیں۔ دوسروں کو چھوڑیں آپ پر جو الزامات ہیں ان کی روشنی میں جواب دیں۔

جسٹس شوکت عزیز کے وکیل نے جواب دیا کہ میرے موکل پر سرکاری گھر کی تزئین و آرائش پر بجٹ زیادہ پیسے لگوانے کا الزام ہے۔ ریکارڈ سے دوسرے ججز کے سرکاری گھروں پر اٹھنے والے اخراجات کا موازنہ کرنا چاہتے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل انکوائری کرتی ہے۔ انکوائری کا دائرہ اختیار اتنا وسیع نہیں ہوتا کہ سب کا موازنہ کیا جائے۔ ٹرائل شروع ہو چکا ہے ہم صرف شواہد کی روشنی میں فیصلہ کریں گے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل نے کہا کہ ہماری دوسری درخواست ریفرنس کے شکایت کنندگان اور گواہوں سے متعلق ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف شکایت کرنے والوں اور گواہی دینے والوں کے خلاف کون کون سے جرائم کے کتنے فوجداری اور عدالتی مقدمات اس وقت کون کون سی عدالتوں میں چل رہے ہیں، اس کا ریکارڈ منگوایا جائے۔ ہماری تیسری درخواست اس حوالے سے ہے کہ دیکھا جائے کہ جب گھر شوکت عزیز صدیقی کو الاٹ ہوا تھا اُس وقت اُس کی کیا حالت تھی۔

چیف جسٹس نے جسٹس صدیقی کی تینوں درخواستیں مسترد کر دیں۔

اس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ریکارڈ نہ ہونے کہ وجہ سے میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اپنا دفاع نہیں کر سکتا، کم سے کم یہ تاثر ضرور ملنا چاہیے کہ میرے ساتھ برابری کا سلوک ہوا۔ چیف جسٹس نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان سے کہا کہ ان (جسٹس شوکت عزیز صدیقی) سے کہیے عدالت کو مخاطب نہ کریں۔ ‘آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ کارروائی میں ان کو بولنے نہیں دیں گے’۔ پھر چیف جسٹس نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے کہا کہ جو بات کہنی ہے اپنے وکیل کے ذریعے کریں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کون سا غلط اختیارات کا استعمال کر رہے ہیں، کسی کو اٹھا کر باہر نہیں پھینکنا چاہتے، جوڈیشل کونسل کی صوابدید ہے کارروائی کیسے چلانی ہے، یہاں آپ کی مرضی سے کارروائی نہیں چلنی ۔ ہمیں آگے جا کر جواب دینا ہے، آگے جا کر ایسے منہ کالا نہیں کرنا۔

اس دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے روسٹرم پر کھڑے اپنے وکیل حامد خان کے کان میں بات کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان اپنے موکل سے کہیں کہ اس طرح بات نہ کریں،

جسٹس صدیقی کے وکیل نے کہا کہ مجھے جرح کے لیے وقت دیں، کونسل اپنی کارروائی کل تک ملتوی کردے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم گواہ کا بیان ریکارڈ کر لیتے ہیں، جرح آج نہیں کرتے،۔ وکیل حامد خان نے کہا کہ تاثر ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بہت جلدی ہے۔ یہاں جسٹس صدیقی نے کہا کہ میرا فیصلہ جلدی نہ ہو بلکہ انصاف کے مطابق ہو۔

اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک بار پھر ناراضی کا اظہار کیا اور وکیل حامد خان سے کہا کہ اپنے موکل سے کہیں کہ کونسل کا احترام کریں۔ جسٹس ثاقب نثار کے حکم پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس کے گواہ علی انور گوپانگ عدالت میں پیش ہوا۔ اور اُس کا بیان حلفی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا کر کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ۔

ایسی بری شکست اور آپ اتنے پُر سکون؟

خودکلامی 

زبیر منصوری

اس نے کہا ایسی بری شکست اور آپ اتنے پُر سکون؟
میں نے ایک اورنرم سی مسکراہٹ اُس کی طرف اُچھالی اور کہا
ہمیں معاوضہ “کام “کا ملتا ہے “کامیابی”کا نہیں😊
وہ بولا ہار کے دل ٹوٹتا نہیں ؟
میں نے کہا
ہار کا پچاس سالہ تجربہ ہے نئی بات کیا ہے؟ پہلی بار ابو کے ساتھ گھر کے باہر چوپال مین بیٹھ کر ستتر کے الیکشن کی ہارنے والی خبریں ریڈیو پر سنی تھیں تب سے پچاسی اٹھاسی نوے اور پھر لمبی گنتی ہے۔۔۔
ہار ہی ہار ،
جدوجہد ہی جد وجہد
کل بھی گھر کی خواتین تک لگی رہیں پینسٹھ سالہ امی سمیت ۔۔۔
رات اندازہ ہوا تو سب سکون سے سو گئے ،صبح شکست بھرےنتائج سنے ناشتہ کیا اور اب پھر “نوکری “ پر۔۔۔
ویسے بھی اپنی تو پکی نوکری ہے پیارے اپُن کو کیا پرواہ؟😉
NOTHING NEW ،AS USUAL
وہ بولا ہار کو تسلیم کرو نا ؟کھل کر
میں نے کہا
کاش پی ٹی آئی سے ہارے ہوتے خدا کی قسم بخوشی بلاگ لکھ کر ہار مانتا انہیں مفت مشورے دیتا ۔
جن سے ہارے ہیں کاش وہ “کھل کر کھلاڑی بن کر “سامنے آ جائیں ان سے بھی ہار کر انہیں بھی مبارکباد دیں گے
وہ قہقہ لگا کر بولا ہار کر سب دھاندلی کا الزام لگاتے ہیں
میں نے کہا
ہاں ہر دھاندلی کے الزام پر جوابا سب یہی کہتے ہیں
اس نے کہا
بدترین ناکامی سے سیکھو دوست میں نے کہا یہ بہت معقول مشورہ ہے ضرور سیکھیں گے ان شا اللہ بدلیں گے۔۔۔

اب میں بولا
ایک بات میری بھی سُن لو
غلطیاں نالائقیاں کو تاہیاں زہانت کی کمی غلط سیاسی فیصلے سب اپنی جگہ مگر

الحمد للہ
یہ ہزاروں دیوانے اپنا قیمتی وقت توانائی وسائل صلاحیتیں جنونیوں کی طرح رضا کارانہ طور پر بس
اللہ کی زمین پر
اللہ کے بندوں پر
اللہ کا نظام چلانے
کی دُھن میں کھپاتے ہیں، لگاتے ہیں،طعنوں کا زہر پیتے ہیں، طنز کے تیر سہتے ہیں ،باتیں سنتے ہیں ۔۔کبھی سوچا یہ جیت جاتے تو انہیں کونسی نوکریاں کونسے پلاٹ کون سے پرمٹ مل جانے تھے؟

پھر الحمد للہ
یہ کسی شخصیت کے سحر کا شکار نہیں ہوئے
محض کسی ووٹ کی عزت کے لئے نہیں
کسی روٹی کپڑا مکان کے نعرے پہ نہیں لڑے
کسی تبدیلی کے دھوکہ میں لوٹوں اور لٹیروں کا دفاع نہیں کیا
کسی کے سکھائے ہوئے کسی مذہبی اسٹنٹ کا شکار نہیں ہوئے

پھر الحمد للہ
اپنے نظریہ پر قائم ہیں
ہاں اگر اب غلطیوں سے نہ سیکھا
اب کی بار خود ہی سر جوڑ کر بیٹھنے کے بجائے باہر کے لوگوں سے نہ پوچھا
سوچ کے پرانے سانچے نہ توڑے
ضروری بنیادی دستوری تبدیلیاں نہ کیں
ہر شعبہ کے ماہرین سے میرٹ پر کام نہ لیا
تو شاید پھر ۔۔۔۔

چلئیے چھوڑئیے صاحب
آپ ہم سے انجوئے کیجئیے
کہئیے ناں کہ زبیر صاحب وہ دیہاڑی کے مزدور والی پوسٹ لکھیں ناں ۔۔۔😊 وغیرہ وغیرہ
آپ کچھ بھی کہہ لیجئیے کیوں کے جیت کے سب مالک ہوتے ہیں ہار کا کوئی نہیں😊
ہمیں اپنی اس ہار پر بھی فخر ہے
کہ

ہم چمن میں رہے یا قفس میں رہے
اپنی خود دار فطرت کی بس میں رہے
کہ

ایسا کوئی “داغ سجدہ” میرے نام پر نہیں ہے
وہ مسکرایا اور مجھے ناقابل علاج سمجھ کر اُٹھ گیا۔۔😊

#خود کلامی۔۔۔زبیر منصوری

پلیز آپ سب بھی یہ تماشا ضرور دیکھیں!

جسٹس شوکت عزیز صدیقی..کا اوپن ٹرائل

(زیرو پوائنٹ/جاوید چوھدری کے قلم سے)

تھوڑی ترمیم کے ساتھ 

جسٹس شوکت عزیز صدیقی دبنگ، دلیر اور خوددار انسان ہیں۔ یہ اسلام، عشق رسولؐ اور نظریہ پاکستان کو اپنا اثاثہ سمجھتے ہیں۔ جج بننے سے قبل راولپنڈی میں 23 سال وکالت کی، نام، عزت اور رزق حلال کمایا اور 20 نومبر 2011ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج منتخب ہو گئے۔

جج کی حیثیت سے انھوں نے 12000 فیصلے دیے۔ جسٹس صدیقی کے بے شمار فیصلوں نے سیاست میں اہم کردار ادا کیا، مثلاً اسلام آباد کے رہائشی سیکٹروں میں پرائیویٹ اسکول، ریستوران، شورومز، دکانیں اور دفاتر قائم تھے، جسٹس شوکت صدیقی نے حکم جاری کیا اور حکومت رہائشی علاقے صاف کرانے پر مجبور ہو گئی۔اسلام آباد کے شہریوں نے سکھ کا سانس لیا۔

جنرل پرویز مشرف کی ضمانت کی منسوخی بھی جسٹس صدیقی کا کارنامہ تھا اور پاکستان تحریک انصاف کو لاک ڈاؤن سے روکنا اور راولپنڈی اسلام آباد کی سڑکوں سے کنٹینرز ہٹانے کا حکم بھی جسٹس شوکت صدیقی نے دیا تھا۔ لاپتہ افراد، کچی آبادیوں کا معاملہ، سرکاری ملازمین کی ترقی کا ایشو اور قربانی کے جانوروں کی اسمگلنگ رکوانا بھی ان کا کارنامہ تھا۔

یہ پڑھے لکھے اور دبنگ انسان ہیں۔ یہ فیصلوں میں علامہ اقبال کے شعر لکھ دیتے ہیں۔ یہ عدالت میں سرکاری ملازمین کی پتلونیں بھی ڈھیلی کر دیتے ہیں۔ یہ اکثر اوقات جعلی گواہوں کی ہوا بھی نکال دیتے ہیں اور یہ نوجوان وکیلوں کی غلطیوں پر بھی ان کی ٹھیک ٹھاک گرفت کر لیتے ہیں۔جج صاحب کا یہ رویہ اکثر لوگوں کو تکلیف دیتا ہے، بالخصوص سرکاری ملازمین اور اعلیٰ افسر جسٹس صدیقی سے خوش نہیں ہیں۔ یہ ان کی عدالت میں جانے سے گھبراتے ہیں، یہ کیونکہ نظریہ پاکستان اور اسلام پر کمپرومائز نہیں کرتے۔ یہ اپنا موقف کھل کر بیان کرتے ہیں چنانچہ لبرل اور سوڈو اینٹی لیکچول قسم کے وکلاء بھی ان سے ناراض رہتے ہیں۔

یہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا بیک گراؤنڈ تھا۔ ہم اب عدلیہ کے تازہ ترین ایشو کی طرف آتے ہیں۔ پاکستان کے 1973ء کے آئین کے مطابق حکومت کا کوئی ادارہ کسی بھی الزام میں کسی جج کے خلاف تحقیقات نہیں کر سکتا۔ آئین کی دفعہ 209ء کے تحت ججوں کو صرف سپریم جوڈیشل کونسل عہدے سے ہٹا سکتی ہے۔ ملک کا کوئی بھی شہری، کسی بھی جج کے خلاف تحریری شکایت کر سکتا ہے۔ کونسل اس شکایت کو ریفرنس بنا کر جج کو شوکاز نوٹس جاری کرتی ہے اور پھر اس کے خلاف کارروائی شروع ہو جاتی ہے، کونسل میں پانچ سینئر ترین جج شامل ہوتے ہیں۔ یہ پینل جج کا موقف سنتا ہے اور اگر جرم ثابت ہو جائے تو کونسل جج کو عہدے سے ہٹا دیتی ہے۔ یہ ملک کا قانون اور ضابطہ ہے لیکن اس ضابطے پر آج تک عمل نہیں ہو سکا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے آج تک کسی جج کو اس کے عہدے سے نہیں ہٹایا، کیوں؟؟؟ کیونکہ ملک میں جب بھی کسی جج کے خلاف کوئی ریفرنس دائر ہوتا ہے تو وہ جج صاحب مستعفی ہوجاتے ہیں۔ جج صاحب کو اس استعفے کے دو فائدے ہوتے ہیں، ہائی کورٹ میں پانچ سال کام کرنے کے بعد جج پنشن اور دیگر مراعات کے اہل ہو جاتے ہیں۔
یہ مستعفی ہونے کے بعد بھی ان مراعات اور پنشن کے حق دار رہتے ہیں چنانچہ جج استعفے کو ’’ڈس مسل‘‘ پر فوقیت دیتے ہیں۔ دو، مستعفی ہونے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل جج کے خلاف کارروائی بند کر دیتی ہے لہٰذا جج مستعفی ہو کر اس سہولت کا فائدہ اٹھانا بھی پسند کرتے ہیں۔

ججوں کے خلاف یہ تمام کارروائی بند کمرے میں ہوتی ہے۔ کونسل نے آج تک متنازعہ ججوں کے بارے میں کسی قسم کا کوئی مواد عام نہیں کیا۔ وکلاء ججوں کی ان دونوں سہولتوں کے خلاف ہیں۔ یہ طویل عرصے سے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی اور ججوں پر لگائے جانے والے الزامات کو عام کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ الزامات کے بعد استعفے کی سہولت بھی ججوں سے واپس لینا چاہتے ہیں۔ پاکستان بار کونسل کے ایک ممبر نے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کے دور میں سپریم کورٹ میں اس ایشو پر پٹیشن بھی دائر کی۔ یہ پٹیشن مسترد کر دی گئی لیکن پٹیشنر نے نظرثانی پٹیشن جمع کرا دی‘ یہ درخواست بھی سپریم کورٹ میں تاحال سماعت کی منتظر ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل میں اس وقت ہائی کورٹ کے پانچ ججوں کے خلاف ریفرنسز زیر سماعت ہیں، ان میں سے ایک جج جسٹس مظہر اقبال سدھو مستعفی ہو گئے ہیں۔ یہ لاہور ہائی کورٹ سے منسلک تھے، ان کے کسی ملازم کے اکاؤنٹس سے بھاری رقم نکل آئی تھی‘۔ریفرنس تیار ہوا لیکن جج صاحب نے کارروائی سے قبل استعفیٰ دے دیا۔ دوسرے جج بھی لاہور سے تعلق رکھتے ہیں، یہ پانامہ میں آف شور کمپنی کے مالک تھے۔ یہ اس الزام میں ریفرنس کا سامنا کر رہے ہیں۔ تیسرے جج صاحب پر الزام ہے انھوں نے کسی ملزم کی ضمانت کی درخواست دوبار مسترد کی۔ ملزم نے تیسری بار وکیل بدل لیا، جج صاحب نے ملزم کی ضمانت منظور کر لی۔ یہ اپنے ہی فیصلے کی تبدیلی پر زیر سماعت ہیں۔ چوتھے جج صاحب پر غیر قانونی بھرتیوں کا الزام ہے، ان بھرتیوں میں ان کا سگا بھائی بھی شامل تھا۔ یہ بھائی براہ راست ڈپٹی رجسٹرار بھرتی ہو گیا۔ یہ بھرتی غیرقانونی تھی تاہم جج صاحب کا موقف ہے یہ بھرتیاں میرے آنے سے پہلے ہوئی تھیں۔
اور پانچویں جج شوکت عزیز صدیقی ہیں۔ یہ بھی اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل میں پیش ہو رہے ہیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر دلچسپ الزامات ہیں۔

1. حکومت نے جج بنے کے بعد انھیں اسلام آباد میں سرکاری رہائش دی تھی، یہ گھر پرانا تھا۔ جج صاحب نے سی ڈی اے کے ذریعے اس گھر کی تزئین وآرائش کرائی، سی ڈی اے کے ایک سابق ڈائریکٹر نے جسٹس صدیقی کے خلاف اختیارات سے تجاوز کی تحریری شکایت کر دی،

2. جسٹس صدیقی پر دوسرا الزام ہے ان کے ایک دوست منظور شاہ 29 سال سے سی ڈے اے کے ملازم ہیں/ سی ڈی اے رولز کے مطابق ملازمین کو دس سال بعد پلاٹ دیا جاتا ہے۔ منظور شاہ کو پلاٹ نہیں ملا تھا، یہ عدالت میں پیش ہوئے اور جسٹس صدیقی کے حکم پر انھیں پلاٹ دے دیا گیا۔ یہ پلاٹ بعد ازاں عدالتی حکم پر تبدیل بھی کیا گیا

3. اور ان پر تیسرا الزام ہے جسٹس صدیقی نے اپنے ایک عیسائی دوست کو سی ڈی اے سے ترقی بھی لے کر دی اور جب اسے برین ہیمرج ہوا تو ادارے کو اس کے پرائیویٹ علاج کا حکم بھی دیا۔

4. اب چوتھا اور سب سے بڑا الزام بھی لگ چکا ہے کہ فوج کے ادارے آئی ایس آئی کے بعض مممبران اور عدلیہ کے بعض ججز پر ناانصافی اور جانبداری کا دعویٰ کر رہے ہیں! اور علانیہ کر رہے ہیں اور باقاعدہ تحریری طور پر کر رہے ہیں! 

سپریم جوڈیشل کونسل نے یہ شکایات تسلیم کر لیں اور یوں جسٹس صاحب کے خلاف کارروائی شروع ہو گئی۔ جسٹس شوکت صدیقی کے پاس ریفرنس کے بعد دو آپشن ہتھے۔ یہ بھی جسٹس مظہر اقبال سدھو کی طرح عہدے سے استعفیٰ دے دیں، پٹیشن اور مراعات لیں اور زندگی مزے سے گزار دیں یا پھر یہ ریفرنس کا سامنا کریں۔ یہ خود کو بے گناہ ثابت کریں اور عزت کے ساتھ اپنی مدت ملازمت پوری کریں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دوسرا آپشن منتخب کیا یہ ریفرنس کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔یہ سلسلہ یہاں تک قانونی اور معمول کی کارروائی ہے لیکن جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی ایک درخواست نے سارے معاملے کو گھمبیر بنا دیا۔ جسٹس صاحب نے کونسل سے درخواست کر دی، آپ میرے مقدمے کو اوپن کر دیں۔ مجھے عام ملزموں، سرکاری ملازموں اور سیاستدانوں کی طرح عدالت میں پیش ہونے کی اجازت دی جائے، میرے اوپر باقاعدہ الزامات لگائے جائیں۔

مجھے ان الزامات کی صفائی کا موقع دیا جائے اور میڈیا، وکلاء اور عام لوگ عدالت میں بیٹھ کر اس مقدمے کی کارروائی دیکھیں۔ جسٹس صدیقی کا کہنا ہے ’’میں پوری قوم کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنا چاہتا ہوں۔ میں اگر مجرم پایا جاؤں تو آپ خواہ مجھے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے لٹکا دیں۔میں اعتراض نہیں کروں گا لیکن میں کرپشن، لاقانونیت اور بدعنوانی کے الزام کے ساتھ گھر جانے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ جسٹس شوکت صدیقی کا دعویٰ ہے میرے اوپر الزامات لگانے والا شخص سی ڈی اے کا ڈائریکٹر تھا۔ یہ مختلف الزامات میں درجنوں مرتبہ میری عدالت میں پیش ہوا، میں نے اس کے بیٹے کے خلاف بھی فیصلہ دیا تھا۔ ڈائریکٹر نے قانون اور ضابطے کے خلاف بیٹے کو سی ڈی اے میں بھرتی کر لیا تھا۔ بھرتی کے لیے اشتہار دیا گیا تھا اور نہ ہی ضابطے کی کارروائی کی گئی تھی۔
یہ معاملہ میری عدالت میں آیا،ملزم اپنا موقف ثابت کرنے میں ناکام ہو گیا چنانچہ میں نے اس کے خلاف فیصلہ دیا اور یہ میرے خلاف درخواستیں دینے لگا۔ جسٹس شوکت صدیقی کا کہنا ہے میرے سرکاری گھر کے ڈرائنگ روم میں چار ٹائلز لگائی گئی تھیں، سی ڈی اے کے ملازمین نے اس معمولی کام کے لاکھوں روپے وصول کر لیے۔ یہ ان لوگوں کا قصور ہے میرا نہیں چنانچہ میرے بجائے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔منظور شاہ کو قانوناً دس سال بعد پلاٹ ملنا چاہیے تھا۔ میں نے قانون کے مطابق فیصلہ دیا اور ادارے کو برین ہیمرج کے مریض کا علاج بھی کرانا چاہیے تھا۔ میں نے یہ فیصلہ بھی قانون کے دائرے میں رہ کر دیا۔

یہ ریفرنس بہت دلچسپ ہو گا،سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس صدیقی کی درخواست منظور کر لی ہے اور یہ ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی جج کے خلاف ’’اوپن ٹرائل‘‘ شروع کر رہی ہے یہ پاکستان میں نئی روایات کا آغاز ہو جائے گا۔ جس کے بعد عدلیہ کی عزت میں بھی اضافہ ہو گا اور ملک کی بے شمار مقدس گائیں بھی مقدس نہیں رہیں گی۔ ملک میں جج ہوں، جرنیل ہوں یا پھر جرنلسٹ ہوں قانون کے سامنے سب برابر ہو جائیں گے۔ اللہ کرے یہ ہو جائے، یہ ملک اب زیادہ وقت تک مقدس گائیوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔

پہلے دن کی کارروائی 

جائیں تو جائیں کہاں؟ ؟؟ 
………………….
جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر سپریم جوڈیشل کونسل کی پہلی بار کھلے کمرے میں سماعت کا آغاز ہوا۔ پہلے روز کی سماعت کے دوران دیکھنے میں آیا کہ جسٹس ثاقب نثار جسٹس صدیقی کے ریفرنس کا فیصلہ کرنے کی جلدی میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین دن میں فیصلہ کرنا ہے۔

چیف جسٹس نے جسٹس شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان نے کہا کہ آج جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں شواہد ریکارڈ ہونے ہیں۔ اس پر حامد خان نے کہا کہ میرے موکل کی طرف سے دو درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ ایک درخواست میں اعلی عدلیہ کے ججز کے گھروں کی تزئین و آرائش پر اٹھنے والے اخراجات کا گزشتہ ریکارڈ اور ججز سرکاری گھر کے ساتھ رہائشی الاؤنس لے رہے ہیں وہ ریکارڈ مانگا ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ جوڈیشل کونسل کی کاروائی کو طول نہیں دینا چاہتے۔ یہ ریکارڈ منگوانے کا کوئی مقصد نہیں۔ دوسروں کو چھوڑیں آپ پر جو الزامات ہیں ان کی روشنی میں جواب دیں۔

جسٹس شوکت عزیز کے وکیل نے جواب دیا کہ میرے موکل پر سرکاری گھر کی تزئین و آرائش پر بجٹ زیادہ پیسے لگوانے کا الزام ہے۔ ریکارڈ سے دوسرے ججز کے سرکاری گھروں پر اٹھنے والے اخراجات کا موازنہ کرنا چاہتے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل انکوائری کرتی ہے۔ انکوائری کا دائرہ اختیار اتنا وسیع نہیں ہوتا کہ سب کا موازنہ کیا جائے۔ ٹرائل شروع ہو چکا ہے ہم صرف شواہد کی روشنی میں فیصلہ کریں گے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل نے کہا کہ ہماری دوسری درخواست ریفرنس کے شکایت کنندگان اور گواہوں سے متعلق ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف شکایت کرنے والوں اور گواہی دینے والوں کے خلاف کون کون سے جرائم کے کتنے فوجداری اور عدالتی مقدمات اس وقت کون کون سی عدالتوں میں چل رہے ہیں، اس کا ریکارڈ منگوایا جائے۔ ہماری تیسری درخواست اس حوالے سے ہے کہ دیکھا جائے کہ جب گھر شوکت عزیز صدیقی کو الاٹ ہوا تھا اُس وقت اُس کی کیا حالت تھی۔

چیف جسٹس نے جسٹس صدیقی کی تینوں درخواستیں مسترد کر دیں۔

اس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ریکارڈ نہ ہونے کہ وجہ سے میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اپنا دفاع نہیں کر سکتا، کم سے کم یہ تاثر ضرور ملنا چاہیے کہ میرے ساتھ برابری کا سلوک ہوا۔ چیف جسٹس نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان سے کہا کہ ان (جسٹس شوکت عزیز صدیقی) سے کہیے عدالت کو مخاطب نہ کریں۔ ‘آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ کارروائی میں ان کو بولنے نہیں دیں گے’۔ پھر چیف جسٹس نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے کہا کہ جو بات کہنی ہے اپنے وکیل کے ذریعے کریں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کون سا غلط اختیارات کا استعمال کر رہے ہیں، کسی کو اٹھا کر باہر نہیں پھینکنا چاہتے، جوڈیشل کونسل کی صوابدید ہے کارروائی کیسے چلانی ہے، یہاں آپ کی مرضی سے کارروائی نہیں چلنی ۔ ہمیں آگے جا کر جواب دینا ہے، آگے جا کر ایسے منہ کالا نہیں کرنا۔

اس دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے روسٹرم پر کھڑے اپنے وکیل حامد خان کے کان میں بات کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان اپنے موکل سے کہیں کہ اس طرح بات نہ کریں،

جسٹس صدیقی کے وکیل نے کہا کہ مجھے جرح کے لیے وقت دیں، کونسل اپنی کارروائی کل تک ملتوی کردے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم گواہ کا بیان ریکارڈ کر لیتے ہیں، جرح آج نہیں کرتے،۔ وکیل حامد خان نے کہا کہ تاثر ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بہت جلدی ہے۔ یہاں جسٹس صدیقی نے کہا کہ میرا فیصلہ جلدی نہ ہو بلکہ انصاف کے مطابق ہو۔

اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک بار پھر ناراضی کا اظہار کیا اور وکیل حامد خان سے کہا کہ اپنے موکل سے کہیں کہ کونسل کا احترام کریں۔ جسٹس ثاقب نثار کے حکم پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس کے گواہ علی انور گوپانگ عدالت میں پیش ہوا۔ اور اُس کا بیان حلفی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا کر کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ۔

کیا کوئی اس بے لاگ انصاف کی باریکیاں سمجھا سکتا ہے؟

مسئلہ کسی ملزم کی گرفتاری یا جیل منتقلی یا اُس کی میڈیا کوریج پر پابندی کا نہیں ہے۔

مہتاب عزیز

اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں دہشت گردی، اغواہ اور قتل کے دس مقدمات کے مفرور ملزم عابد باکسر کو ایک ہی روز ایک ہی عدالت سے ضمانت مل جاتی ہے۔ اسی شام کو وہ ہر بڑے ٹی وی چینل کی سکرین پر پورے طمطراق سے ہیرو بنا بیٹھا ہوا ہے۔

مجرم فوجی سربراہ ہو، ملک اور آئین سے غداری کے جرم میں عدالت قید کا حکم دے تو ایک ادارے ریاست کے بجائے مجرم کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اُسے عدالت سے بھگا کر کرپشن کے پیسے سے بنائے گئے محل میں لے جاتے ہیں۔ اُس کے محل کو ہی سب جیل قرار دے کر اُسے وہاں رکھا جاتا ہے۔ سب جیل کے طور پر مجرم کو اُسی کے محل کا سرکاری خزانے سے کرایہ بھی ملتا رہتا ہے۔ 
کمر درد کے علاج کے لیے دل کے ہسپتال میں بھی ہفتوں داخل رکھتے ہیں۔ مزید علاج کے لیے ملک سے باہر منتقل کرتے ہیں جہاں وہ ٹھمکے لگاتا ہے۔ روز پرائم ٹائم میں اُس کے انٹرویو کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ اُس کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک ہو تو فورا سپریم کورٹ حکم جاری کرکے کھلواتا ہے۔ اس کے بعد دنیا پھر میں غداری کا ملزم آزادانہ گھومتا ہے کسی کو اعتراض نہیں ہوتا۔

چار سو سے زاید معصوم انسانوں کے ماورائے عدالت قتل کے ملزم راو انوار کو اُس کے عالیشان گھر میں نظر بند رکھا جاتا ہے۔ اس کے شناختی کارڈ اور بنک اکاونٹ انسانی ہمدردی کے نام پر بحال کیے جاتے ہیں۔ پھر تمام کیسز میں ضمانت دلا کر آزاد کر دیا جاتا ہے۔

اس کے برعکس حاضر سروس جج اور جرنیلوں سمیت ساڑھے چار سو افراد کے نام پانامہ سکینڈل میں آتے ہیں۔ لیکن کیس صرف منتخب وزیر اعظم کے خلاف چلتا ہے۔ جے آئی ٹی کے سارے ڈرامے کے بعد بھی اُسے کرپشن کے بجائے اقامہ پر اُسے تاحیات ناہل قرار دے کر وزارت اعظمیٰ سے ہٹایا جاتا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر سماعت میں ملزمان کو حاضری سے استشنا نہیں ملتا۔ فیصلہ سنانے میں ایک ہفتے تاخیر کی درخواست مسترد ہوتی ہے۔ ایک ریفرنس میں سزا کے بعد باقیوں کی سماعت روک دی جاتی ہے۔ تاکہ اگر سزا ہو تو ایک ساتھ ریلیف نہ مل سکے۔ اپیل کی جائے تو ہفتوں کا نوٹس ڈال دیا جاتا ہے۔ مجرم سزا کاٹنے رضاکارانہ واپس آتا ہے تو کوریج پر پابندی عاید کر دی جاتی ہے۔ کمانڈوز غیر ملکی طیارے سے گھسیٹ کر باہر نکالتے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جیل کے اندر منظور شدہ سہولیات بھی مہیا نہیں کی جاتیں۔

ہمیں جرم سے ہمدردی ہے نہ ہی کسی مجرم سے۔ البتہ ہمیں انصاف کے اس دہرے معیار پر سخت اعتراض ہے۔ عدل کے نام پر اس طرح کا کھلواڑ ہمیں قبول نہیں۔ عدلیہ کو لونڈی بنا کر فیصلے کرائے جائیں گے تو قوم اسے تسلیم نہیں کرے گی۔

یاد رکھیے قومیں دشمن فوج کے حملوں سے تباہ نہیں ہوا کرتیں۔ تباہی قوموں کا مقدر تب بنتی ہے جب ملک سے عدل و انصاف ناپید ہو جاتا ہے۔

 

ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺟﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ

کلمہ ، جمہوریت اور گوری

ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﺗﮭﮯ، ﺫﮬﻦ ﺍﺳﻼﻣﯽ، ﭼﮩﺮﮦﻏﯿﺮﺍﺳﻼﻣﯽ، ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ انگلینڈ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺟﺐ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺑﻐﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﻢ ﺗﮭﯿﮟ!

ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻣﯿﻢ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺗﮏ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﮐﯿﺎ.
ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ دﻭﭘﭩﮧ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﻮﺭﯼ ﭼﻮﺭﯼ ﻣﯿﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﻮ دیکھتیں ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮈﺭﺗﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﻮﺭﯼ ﻣﯿﻠﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ.
ﺩﻭﻟﮩﺎ ﮐﯽ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﻓﺨﺮﯾﮧ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮩﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﭘﮭﺮﺗﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﮭﯿﺎ ﺍﻧﮕﻠﯿﻨﮉ ﺳﮯ ﻣﯿﻢ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﭽﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﻣﯿﻢ ﺗﮭﯽ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﻠﺶ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺍﯾﺘﺎً ﭼﺎﺩﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭦ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ، ﺑﻼﺋﯿﮟ ﻟﯿﺘﯽ ﻟﯿﺘﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ. ﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ.
ﺻﺮﻑ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ، ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐِﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺟﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ،

ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮨﻮﮔﺌﮯ!

ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺗﮭﺎ، ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮔﺰﺭﺍ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ، ﻣﯿﺎﮞ ﮐﮯ ﺁﻓﺲ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﻢ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﯽ ﺑﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻣﮩﺮ ﺛﺒﺖ ﮐﺮﺗﯿﮟ! ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭼﮧ میگوئیاں ﮨﻮﺋﯿﮟ، ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﻔﺴﺎﺭ ﭘﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﮔﺮﻣﯿﺎﮞ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﭘﯿﻨﭧ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﻧﯿﮑﺮ ﭘﮩﻨﻨﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯼ، ﺍﺑﺎﺟﯽ نے ﺗﻮ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ، ﺍﻣﺎﮞ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺗﮑﺘﯽ ﺭﮨﺘﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﮔﺌﯿﮟ! ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﺷﮑﻮﮦ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﺍﯾﮏ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﺑﺮﯾﮏ ﻭ ﮐﯿﻨﺒﺮﮮ ﮈﺍﻧﺲ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﺩﻝ ﺗﮭﺎﻡ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ، ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﮔﻮﺭﯼ ﻋﯿﺪ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ ﮐﺮﺗﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﮐﺮﺳﻤﺲ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮮ ﺗﺰﮎ ﻭ ﺍﺣﺘﺸﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﻨﺎﺗﯽ ﺑﯿﭩﺎﺟﯽ ﮨﺮ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ ” ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ، ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ، ﺑﭽﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﺧﺘﻨﮯ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻇﻠﻢ ﮨﮯ، ﺑﯿﭩﺎﺟﯽ ﮐﮭﺴﯿﺎﻧﯽ ﺳﯽ ﮬﻨﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﻮﻟﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﮈﺍﻧﺲ، ﻣﯿﻮﺯﮎ، ﻓﻠﻤﯿﮟ، ﮐﺎﮎﭨﯿﻞ ﭘﺎﺭﭨﯿﺰ، ﮐﺮﺳﻤﺲ، ﺳﺮﻋﺎﻡ ﺑﻮﺱﻭﮐﻨﺎﺭ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﮐﻠﭽﺮ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻨﮯ، ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﻓﺮﯼ ﮨﻮﺗﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ، ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺳﮩﯿﻠﯿﺎﮞ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ۔ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻨﺰ ﮐﯽ ﭘﯿﻨﭩﯿﮟ ﭘﮩﻦ ﭘﮩﻦ کر ﺷﯿﺸﮯ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﺗﯿﮟ ﮐﻠﻤﮧ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ، ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﯿﮟ، ﮔﻮﺭﯼ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﺎﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻤﻌﮧ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﻨﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﮔﻮﺭﯼ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮ ﺳﮯ ﭼﭙﮏ ﺑﯿﭩﮭﺘﯽ، ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﺗﻮ ﺟﮕﮧ ﺗﻨﮓ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﺗﻨﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻠﺘﺎ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ” ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻡ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﺗﻮ ﺟﯿﻨﺰ ﺷﺮﭦ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﭘﭩﮧ ﺳﺎ ﮈﺍﻝ ﻟﯿﺘﯽ۔ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮐﺮﻟﯿﺘﮯ ﮐﮧ
“ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”!!!!!!

“ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ” ﺑﮭﯽ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﻨﯽ ﻣﺰﺍﺝ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﯿﺎﮦ ﻻﺋﮯ۔
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺩﮬﺮ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ، ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﻋﺐ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﯾﺴﯽ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﺎ، ﺍﺗﻨﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﭼﭩﯽ..
“ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ”!!

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ جرأت ﻧﮧ ﮐﯽ. ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﻟﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ.

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﻭﺍﺝ ﺗﻮﮌﮮ،
ﺩﺳﺘﻮﺭ ﺗﻮﮌﮮ،
ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﻟﮯ ﺁﺋﯽ،
ﻟﯿﮑﻦ ﻗﻮﻡ ﺧﻮﺵ ﮨﯽ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ!!

ﻣﻌﺎﺷﺮﺕ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﯾﮧ ﮨﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﺎﭼﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻏﯿﺮ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﺗﮭﺎ. ﻟﻮﮒ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ،
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺷﺮﮎ ﻭ ﮐﻔﺮ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﻮﺍﺯ ﺩﯾﺎ،
ﮨﺮ ﻇﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺩﯾﺎ، ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ،
ﮐﻠﻤﮯ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﻋﺎﻡ ﮐﯿﺎ،
ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻣﺤﻠﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ!!

ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﻣﺎﮞﺟﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔

ھماری بے راہ روی ﮐﻠﻤﮯ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺲ ﻣﯿﮟ بہتﮐﭽﮫ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮﺩﮮ ﮔﯽ.

ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ… اپنی زندگی میں اسلام لانے کی کوشش کیجئے ورنہ ھم نے بھی بس کلمہ ہی پڑھا ھوا ہے.