ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺟﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ

کلمہ ، جمہوریت اور گوری

ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﺗﮭﮯ، ﺫﮬﻦ ﺍﺳﻼﻣﯽ، ﭼﮩﺮﮦﻏﯿﺮﺍﺳﻼﻣﯽ، ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ انگلینڈ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺟﺐ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺑﻐﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﻢ ﺗﮭﯿﮟ!

ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻣﯿﻢ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺗﮏ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﮐﯿﺎ.
ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ دﻭﭘﭩﮧ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﻮﺭﯼ ﭼﻮﺭﯼ ﻣﯿﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﻮ دیکھتیں ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮈﺭﺗﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﻮﺭﯼ ﻣﯿﻠﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ.
ﺩﻭﻟﮩﺎ ﮐﯽ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﻓﺨﺮﯾﮧ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮩﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﭘﮭﺮﺗﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﮭﯿﺎ ﺍﻧﮕﻠﯿﻨﮉ ﺳﮯ ﻣﯿﻢ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﭽﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﻣﯿﻢ ﺗﮭﯽ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﻠﺶ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺍﯾﺘﺎً ﭼﺎﺩﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭦ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ، ﺑﻼﺋﯿﮟ ﻟﯿﺘﯽ ﻟﯿﺘﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ. ﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ.
ﺻﺮﻑ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ، ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐِﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺟﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ،

ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮨﻮﮔﺌﮯ!

ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺗﮭﺎ، ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮔﺰﺭﺍ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ، ﻣﯿﺎﮞ ﮐﮯ ﺁﻓﺲ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﻢ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﯽ ﺑﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻣﮩﺮ ﺛﺒﺖ ﮐﺮﺗﯿﮟ! ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭼﮧ میگوئیاں ﮨﻮﺋﯿﮟ، ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﻔﺴﺎﺭ ﭘﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﮔﺮﻣﯿﺎﮞ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﭘﯿﻨﭧ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﻧﯿﮑﺮ ﭘﮩﻨﻨﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯼ، ﺍﺑﺎﺟﯽ نے ﺗﻮ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ، ﺍﻣﺎﮞ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺗﮑﺘﯽ ﺭﮨﺘﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﮔﺌﯿﮟ! ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﺷﮑﻮﮦ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﺍﯾﮏ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﺑﺮﯾﮏ ﻭ ﮐﯿﻨﺒﺮﮮ ﮈﺍﻧﺲ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﺩﻝ ﺗﮭﺎﻡ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ، ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﮔﻮﺭﯼ ﻋﯿﺪ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ ﮐﺮﺗﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﮐﺮﺳﻤﺲ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮮ ﺗﺰﮎ ﻭ ﺍﺣﺘﺸﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﻨﺎﺗﯽ ﺑﯿﭩﺎﺟﯽ ﮨﺮ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ ” ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ، ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ، ﺑﭽﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﺧﺘﻨﮯ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻇﻠﻢ ﮨﮯ، ﺑﯿﭩﺎﺟﯽ ﮐﮭﺴﯿﺎﻧﯽ ﺳﯽ ﮬﻨﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﻮﻟﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﮈﺍﻧﺲ، ﻣﯿﻮﺯﮎ، ﻓﻠﻤﯿﮟ، ﮐﺎﮎﭨﯿﻞ ﭘﺎﺭﭨﯿﺰ، ﮐﺮﺳﻤﺲ، ﺳﺮﻋﺎﻡ ﺑﻮﺱﻭﮐﻨﺎﺭ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﮐﻠﭽﺮ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻨﮯ، ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﻓﺮﯼ ﮨﻮﺗﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ، ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺳﮩﯿﻠﯿﺎﮞ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ۔ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻨﺰ ﮐﯽ ﭘﯿﻨﭩﯿﮟ ﭘﮩﻦ ﭘﮩﻦ کر ﺷﯿﺸﮯ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﺗﯿﮟ ﮐﻠﻤﮧ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ، ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﯿﮟ، ﮔﻮﺭﯼ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﺎﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻤﻌﮧ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﻨﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﮔﻮﺭﯼ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮ ﺳﮯ ﭼﭙﮏ ﺑﯿﭩﮭﺘﯽ، ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﺗﻮ ﺟﮕﮧ ﺗﻨﮓ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﺗﻨﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻠﺘﺎ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ” ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻡ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﺗﻮ ﺟﯿﻨﺰ ﺷﺮﭦ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﭘﭩﮧ ﺳﺎ ﮈﺍﻝ ﻟﯿﺘﯽ۔ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮐﺮﻟﯿﺘﮯ ﮐﮧ
“ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”!!!!!!

“ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ” ﺑﮭﯽ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﻨﯽ ﻣﺰﺍﺝ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﯿﺎﮦ ﻻﺋﮯ۔
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺩﮬﺮ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ، ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﻋﺐ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﯾﺴﯽ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﺎ، ﺍﺗﻨﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﭼﭩﯽ..
“ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ”!!

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ جرأت ﻧﮧ ﮐﯽ. ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﻟﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ.

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﻭﺍﺝ ﺗﻮﮌﮮ،
ﺩﺳﺘﻮﺭ ﺗﻮﮌﮮ،
ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﻟﮯ ﺁﺋﯽ،
ﻟﯿﮑﻦ ﻗﻮﻡ ﺧﻮﺵ ﮨﯽ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ!!

ﻣﻌﺎﺷﺮﺕ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﯾﮧ ﮨﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﺎﭼﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻏﯿﺮ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﺗﮭﺎ. ﻟﻮﮒ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ،
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺷﺮﮎ ﻭ ﮐﻔﺮ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﻮﺍﺯ ﺩﯾﺎ،
ﮨﺮ ﻇﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺩﯾﺎ، ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ،
ﮐﻠﻤﮯ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﻋﺎﻡ ﮐﯿﺎ،
ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻣﺤﻠﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ!!

ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﻣﺎﮞﺟﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔

ھماری بے راہ روی ﮐﻠﻤﮯ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺲ ﻣﯿﮟ بہتﮐﭽﮫ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮﺩﮮ ﮔﯽ.

ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ… اپنی زندگی میں اسلام لانے کی کوشش کیجئے ورنہ ھم نے بھی بس کلمہ ہی پڑھا ھوا ہے.

ہمارے ملک کی کیا بات ہے

“احوال سگاں”

🐕ایک مرتبہ ایک یورپی کتّا ہمارے ملک آگیا….

ہمارے ملک کے کُتّوں نے پوچھا:
بھئی آپ کے یہاں کوئی کمی ہے جو آپ ہمارے ملک میں آگئے….؟

اُس نے کہا: میرے وہاں کا رہن سہن, آب وہوا, کھانا پینا اور معمولاتِ زندگی یہاں سے کہیں بہتر ہے…

لیکن بھونکنے کی جیسی آزادی جو آپ کے ملک میں ہے ویسی پوری دنیا میں کہیں نہیں.
🐕🐕🐕🐕🐕

کچھ کام ہمارے کرنے کے بھی ہوتے ہیں

منقول

ایک بڑے اسکول کے چھوٹے سے بچے کو جب میں نے کلاس میں ریپر پھینکتے دیکھا تو فورا بولا “بیٹا اس کو اٹھائیں” ,,,,, تو اس بچے نے جھٹ جواب دیا کہ “انکل ! میں کوئی سوئیپر تھوڑی ہوں.. تھوڑی دیر میں سوئیپر انکل آ کر اٹھا لینگے ۔” یہ اس بچے کا جواب نہیں تھا , یہ اس اسکول کا جواب تھا جہاں سے وہ تعلیم حاصل کررہا ہے۔

میں نے کئی لوگوں کو بغیر ہیلمٹ اور بغیر سیٹ بیلٹ باندھے پاکستان کے ٹریفک کے نظام کو گالیاں دیتے دیکھا ہے۔

میں نے کئی لوگوں کو فٹ پاتھ پر پان کی پیک مارتے ، اپنی گلی کے سامنے والی گلی میں کچرا ڈالتے ، سیگرٹ پی کر زمین پر ڈالتے اور پھر دبئی اور لندن کی صفائی ستھرائی کا ذکر کرتے دیکھا ہے۔

اپنے مکان کی تعمیر کے دوران اچھے خاصے درخت کو کاٹتے اور اور پھر سنگاپور کی ہریالی کا ذکر کرتے سنا ہے۔

میں نے کئی ماؤں کو چیختے ہوئے دیکھا ہے جو اپنے بچوں کو چیخ کر کہتی ہیں کہ چیخا مت کرو میں کوئی بہری نہیں ہوں اور کئی باپوں کو مارتے ہوئے دیکھا ہے کہ جو بچوں کو کہتے ہیں آئیندہ بھائی کو ہاتھ مت لگانا ورنہ ہاتھ توڑ دونگا۔

اپنے گھر کی گیلری کو بڑھاتے اور گلی گھیرتے دیکھا ہے اور ان ہی کی زبان سے امریکا اور یورپ کی چوڑی چوڑی گلیوں اور سڑکوں کا ذکر سنا ہے۔

میں نے مسجد کے باہر بیچ روڈ پر لوگوں کو گاڑی پارک کرتے دیکھا ہے کہ جن کو نماز کو دیر ہورہی ہوتی ہے اور پھر ان ہی لوگوں سے کئی کئی گھنٹوں حقوق العباد پر لیکچر سنا ہے۔

نجانے کتنے لوگوں کو شادی میں وقت کی پابندی اور سادگی پر جلتے کڑھتے دیکھا ہے اور پھر ان ہی کے گھر کی شادیوں میں وقت کو برباد ہوتے اور سادگی کی دھجیاں اڑتے دیکھی ہیں ۔ اور پتہ نہیں کتنے لوگوں کو ۔۔۔۔۔

ارے خیر چھوڑیں گذارش بس اتنی تھی کہ ہر کام نواز شریف ، زرداری ،فوج اور پولیس کو نہیں کرنے ہوتے.. کچھ کام ہمارے کرنے کی بھی ہوتے ہیں….. شکریہ

منقول..

ہم اور ہمارے غیر مہذب رویے

ہم اور ہمارے غیر مہذب رویے ..😢😢😢
ابو علی

فیصل آباد نزد الا ئیڈ ہسپتال میں ایک دفعہ انڈوں سے بھرا ٹرک حادثے کا شکار ہوا ،

کوئی تین چار منٹ بعد میں بھی رش لگا دیکھ کر اپنی بائیک سے اتر کر دیکھنے لگا ،

لوگ شاپر ،بالٹیاں بھر بھر کر انڈوں کو جمع کر رهے تھے اور لے جا رهے تھے ،

کئی عورتوں کو دوپٹوں میں بھی جلدی جلدی مال مفت جمع کرتے دیکھا ،

چونکہ نماز فجر کے کچھ دیر بعد کا واقعہ تھا تو کئی مرد اور نوجوان بغیر قمیض بھی مال غنیمت لوٹنے میں بزی تھے ،

میں یہ سب دیکھتے ہوۓ کچھ محظوظ بھی اور کچھ شرمندہ بھی ہو رھا تھا اپنی قوم کی اس اخلاقی پستی اور غیر مہذب رویہ کو دیکھتے ہوۓ ،

جلد بازی میں لوگ جواب نہی دے پا رهے تھے مال مفت کو سمیٹنے کی وجہ سے ،

جب میں نے ایک دو بار کچھ لوگوں سے ٹرک والے کا احوال جاننا چاہا تو ،

پھر میں خود ہی ٹرک ڈرائیور کو دیکھنے اوپر کو چڑھا ،جو کہ حادثے کی وجہ سے زمیں سے چھ سات فٹ اوپر کو اٹھا ہوا تھا ،

میں نے دیکھا کہ ڈرائیور سانس تو لے رھا ھے مگر بیہوش تھا ،

میں نے نیچے مردو زن کو بہت آوازیں دیں مگر کسی نے مال لوٹتے ہوۓ مجھے رسپانس نا دیا ،

میں نیچے اترا اور کچھ لوگوں کو راضی کیا ڈرائیور کی مدد کے لیے ،

اسی طرح لاہور چوبرجی میں ایک بار جہاز والے پارک کی دیوار کے ساتھ ایک پک اپ کا حادثہ ہوا ،

جس میں تربوز بھرے تھے ،

یقین کریں ڈارئیور کو مدد دینے سے پہلے دس پندرہ لوگ تربوزوں کو شفٹ کر چکے تھے ،

اسی طرح ایک دوست سرگودھا میں پک اپ پر قربانی کا جانور لینے جا رھا تھا کہ حادثہ ہوگیا ،

کسی نے میرےدوست کی مدد نہی کی مگر جیب صاف ضرور کیا ،

میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ ایسا صرف غریب اور محروم لوگ ہی نہی کرتے ،بلکہ افسوس کے ساتھ ہر جگہ یہی حال ھے ،

صرف بہاولپور والے ایسے نہی بلکہ فیصل آباد لاہور سرگودھا بلکہ ہر جگہ یہی حال ھے بد قسمتی سے اس قوم کا ،

غم ہو یا خوشی ،اس قوم کا یہی انداز ہوتا ھے ،

شادی کی روٹی ہو یا خیرات کی دیگ ،

سیاسی جلسے کی افطار پارٹی ہو یا قدرتی آفات پر دی جانے والی امداد ،
ہم ہر جگہ تقریباً ایسے ہی ہیں ،

چاہے غریب علاقوں میں کچھ ہو یا امیر علاقوں میں ،

بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رھاھے کہ ہم ایک غیر مہذب اور بے شعور قوم سے ہیں ،

لیکن ہر جگہ اچھے اور باشعور اور مہذب لوگ بھی ہیں ہیں جن کی موجودگی سے انکار ممکن نہی ،

اللّه پاک مجھے ،آپکو ،ہم سب کو سمجھ شعور نصیب کرے اور اج کے حادثے کے شکار لوگوں کی مغفرت فرماے .

اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرماے .آمین

نوٹ ..یہ تحریر ہماری غیر مہذب رویہ کی نشان دھی کے لیےہے ،کسی کی دل آزاری کے لیے نہی …ابو علی

کیا آپ واقعی ناکام ہو چکے ہیں؟

 ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﻟﻮﮒ . ﺿﺮﻭﺭ ﭘﮍﮬﺌﮯ 

* ﺍﺳﮑﻮﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺳﮑﭧ ﺑﺎﻝ ﭨﯿﻢ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻻ ﮔﯿﺎ ، ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻻﮎ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﺭﻭﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﻟﮍﮐﺎ ﭼﮭﮯ ﺑﺎﺭ ﮐﺎ ﺑﺎﺳﮑﭧ ﺑﺎﻝ ﭼﯿﻤﺌﯿﻦ ” ﻣﺎﺋﯿﮑﻞ ﺟﺎﺭﮈﻥ ” ﺑﻨﺎ ۔ ۔ ۔ ۔
* ﭼﺎﺭ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﯾﮩﯽ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﻭﮦ ﮔﻮﻧﮕﺎ ﮨﮯ ﭼﺎﺭ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺑﻮﻻ – ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺳﺮﻭﺍﺋﯿﻮ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﻭﮨﯽ ﺑﭽﮧ ” ﺍﻟﺒﺮﭦ ﺁﺋﻦ ﺍﺳﭩﺎﺋﻦ ” ﺑﻨﺎ۔ ۔ ۔ ۔
* ﺑﻄﻮﺭ ﻧﯿﻮﺯ ﺍﯾﻨﮑﺮ ﺟﺎﺏ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺑﻘﻮﻝ ﻣﺎﻟﮑﺎﻥ ﮐﮯ ، ﻭﮦ ﭨﯿﻠﯽ ﻭﯾﮋﻥ ﭘﺮ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ ﻓﭧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺘﯽ۔۔۔ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﻋﻮﺭﺕ ” ﺍﻭﭘﺮﺍ ﻭﻧﻔﺮﮮ ” ﺑﻨﯽ ﺟﺳﮯ ﭘﭽﮭﻟﯽ ﺻﺪﯼ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔۔ﺟﻮ ﮐﮧ ﻣﺘﻌﺪﺩ ﺍﯾﻮﺍﺭﮈ ﻭﻧﺮ ﭨﺎﻟﮏ ﺷﻮ ﮐﯽ ﺍﯾﻨﮑﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
* ﺍﺧﺒﺎﺭﯼ ﻧﻮﮐﺮﯼ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺨﻠﯿﻔﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭﯾﺠﻨﻞ ﺁﺋﯿﮉﯾﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ” ﻭﺍﻟﭧ ﮈﺯﻧﯽ ” ﺑﻨﺎ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻣﮑﯽ ﻣﺎﻭﺱ ﻧﺎﻣﯽ ﮐﺮﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
* ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﭨﯿﻢ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﻗﺪ ﺑﮍﮬﻨﺎ ﺭﮎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮨﯽ ﻟﮍﮐﺎ ﺁﺝ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻓﭧ ﺑﺎﻟﺮ ” ﻟﯿﻮﻧﻞ ﻣﯿﺴﯽ ” ﮨﮯ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
* ﺗﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺗﺒﺎﮦ ﺷﺪﮦ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎﮦ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔۔۔ﺍﺱ ﮐﮯ ﺷﯿﺌﺮ ﮨﻮﻟﮉﺭﺯ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﮐﻤﭙﻨﯽ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﺴﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔۔۔ﻭﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﭨﭻ ﺍﺳﮑﺮﯾﻦ ﭨﯿﮑﻨﺎﻟﻮﺟﯽ ﺳﮯ ﺁﺷﻨﺎ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﭙﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﻧﯽ ” ﺍﺳﭩﯿﻮ ﺟﺎﺑﺰ ” ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ۔ ۔ ۔ ۔
* ﮨﺎﺋﯽ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻻ ﮔﯿﺎ۔ ﻧﺸﮯ ﻧﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﺧﻮﺩ ﮐﺸﯽ ﮐﯽ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ۔۔ﺁﺝ ﻭﮨﯽ ﻟﮍﮐﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺳﻨﮕﺮ ﺍﻭﺭ ﺭﯾﭙﺮ ” ﺍﯾﻤﯿﻨﻢ ” ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮐﻨﺪ ﺫﮨﻦ ﺑﭽﮯ ﮨﻮ۔۔ﻭﮨﯽ ﮐﻨﺪ ﺫﮨﻦ ﺑﭽﮧ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﯿﮑﭩﺮﮎ ﺑﻠﺐ ﺳﻤﯿﺖ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﯾﺠﺎﺩﺍﺕ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺑﻨﺎ ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ” ﺗﮭﺎﻣﺲ ﺍﯾﮉﯾﺴﻦ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
* ﺍﻥ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺳﺘﺎﺋﯿﺲ ﭘﺒﻠﺸﺮﺯ ﻧﮯ ﻣﺴﺘﺮﺩ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﺎﭘﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔۔۔ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ” ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺳﯿﺲ ” ﺍﻧﮕﻠﺶ ﺍﺩﺏ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﮍﮬﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﻣﺼﻨﻒ ﺑﻨﮯ ۔ ۔ ۔ ۔
* ﻣﻨﮕﯿﺘﺮ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ، ﺑﺰﻧﺲ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﻧﺮﻭﺱ ﺑﺮﯾﮏ ﮈﺍﻭﻥ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺁﭨﮫ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﻮﺋﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﺎ ﺳﻮﻟﮩﻮﺍﮞ ﺻﺪﺭ ﺑﻨﺎ ﺟﺴﮯ ﺩﻧﯿﺎ ” ﺍﺑﺮﺍﮨﻢ ﻟﻨﮑﻦ ” ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ۔ ۔ ۔ ۔
* ﭨﻮﯾﻮﭨﺎ ﮐﻤﭙﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﻄﻮﺭ ﺁﭨﻮ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﮐﯽ ﺟﺎﺏ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﺩﯾﻨﮯ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﺭﮨﺎ۔۔ﺟﺴﮯ ﭨﻮﯾﻮﭨﺎ ﮐﻤﭙﻨﯽ ﻧﮯ ﺟﺎﺏ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺁﺝ ﻭﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﮨﻨﮉﺍ ﮐﻤﭙﻨﯽ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﮨﮯ۔
ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮨﯽ ﻧﮩﯿں کی.
(منقول)

یہ ہے میرا پاکستان

رعایت اللہ فاروقی صاحب

2005ء کا ہولناک زلزلہ آیا تو اس سے خیبر پختون خوا میں واقع میرا ضلع بھی متاثر تھا۔ میں اور میرا بھائی اس ضلع میں مدد کو پہنچے تو ہمارے ساتھ ہمارے دو پنجابی اور دو مہاجر دوست بھی تھے جو اپنے ذاتی لاکھوں روپے وہاں خرچ کرنے آئے تھے۔ یہ ہے میرا پاکستان

کچھ عرصہ قبل میرا ایک بھائی اپنے دوستوں کے ساتھ نصف شب کے وقت سندھ کی ایک ویران شاہراہ سے گزر رہاتھا تو ٹائر پنکچر ہو گیا۔ وہ ٹائر بدلنے کو روکے تو پیچھے سے ایک بڑی گاڑی بھی آ کر رک گئی، ایک وڈیرہ ٹائپ شخص اپنے گن مینوں کے ساتھ اترا اور وہیں کھڑا ہو گیا۔ میرے بھائی نے شکریہ ادا کرکے آگاہ کیا کہ کسی قسم کی مدد درکار نہیں تو وہ یہ کہہ کر آخر تک کھڑا رہا “یہ علاقہ محفوظ نہیں، آپ کو تنہاء نہیں چھوڑا جا سکتا” یہ ہے میرا پاکستان

میں نصف شب کے قریب اسلام آباد کے جی 8 سیکٹر سے ایک کرسچئن کی ٹیکسی میں بیٹھ کر پنڈی اپنے گھر آیا اور جیب میں صرف ہزار کا نوٹ تھا، چینج نہ ہونے کے سبب میں نے یہ کہہ کر وہ نوٹ اسے دیدیا “جب بھی اس علاقے میں آنا ہو بقایا دے جانا” وہ کرسچئن اگلے روز 700 روپے گھر دے گیا۔ یہ ہے میرا پاکستان

اسلام آباد کے آئی 10 سیکٹر میں میرا بیٹا بیمار ہوا، میں ٹیکسی والے سے بھاؤ تاؤ کئے بغیر فورا اسے ٹیکسی میں ڈال کر پمز پہنچا اور ٹیکسی والے سے کرایہ پوچھا تو اس نے کہا “میں مریضوں سے کرایہ نہیں لیتا” عرض کیا “مجھے کوئی تنگی نہیں، آپ لے لیں” تو اس نے کہا “اللہ آپ کو اور دے مگر میں مریضوں سے کرایہ نہیں لیتا” یہ ہے میرا پاکستان

میں بہت ہی اداس کیفیت میں کراچی کے ایک چائے خانے پر بہت دیر سے بیٹھا تھا، دس برس کا کوئٹہ وال ویٹر بچہ میرے پاس آیا اور مسکراتے ہوئے پوچھا “تم کیوں اتنا پریشان بیٹھا ہے ؟” اور میرا سارا دکھ اسی لمحے ختم ہوگیا۔ یہ ہے میرا پاکستان

جو میرے اس پاکستان میں نفرت کا پرچار کرے وہ میرا دوست تو ہرگز نہیں ہو سکتا۔
🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰

چند یادگار خطوط انہیں ضرور پڑھئے!

LEGACY OF MIR JAFFER – A COUNTRY OF TRAITORS & THEIR FOLLOWERS

تحریر : مہدی حسن

تذکرہ کچھ خطوط کا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شاہنواز بھٹو کا خط مسٹر بوچ کے نام ۔۔۔۔۔۔
آزادی کے بعد جوناگڑھ کے نواب نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تب ذولفقار علی بھٹو کے والد شاہنواز بھٹو نے انڈین حکومت کے نام ایک خط لکھا جس میں ان کو جوناگڑھ پر قبضہ کرنے کی دعوت دی۔ چونکہ شاہنواز بھٹو جوناگڑھ میں دیوان کے عہدے پر تھے تو انڈین حکومت نے اس خط کو قانونی جواز بناتے ہوئے جوناگڑھ پر حملہ کر دیا اور بزور طاقت اس پر قابض ہوگئی۔ یوں ایک پوری ریاست پاکستان کے ہاتھوں سے نکل گئی۔

ذولفقار علی بھٹو کا خط اسکندر مرزا کے نام ۔۔۔۔۔
1958 میں ذولفقار علی بھٹو نے اسکندر مراز کے نام ایک خط لکھا جس میں اسکی بے پناہ تعریفیں کرتے ہوئے کہا کہ ” جناب تاریخ آپ کو قائداعظم سے بھی زیادہ بڑے لیڈر کے طور پر یاد کرے گی ” ۔۔۔ اس خط کے بعد اسکندر مراز نے بھٹو کو کامرس کا وزیر بنا دیا جس کے بعد بھٹو نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ بعد میں بھٹو نے پاکستان کے ساتھ جو کچھ کیا وہ تاریخ کا ایک انمٹ باب ہے!

مجیب الرحمن کا خط نہرو کے نام ۔۔۔۔
بھارتی مصنف ششانکہ بینر جی نے اپنی کتاب ” انڈیا ، مجیب الرحمن، بنگلی دیش لبریشن اینڈ پاکستان” میں انکشاف کیا کہ انکی ملاقات 1962 میں مجیب الرحمن نے سے ہوئی جس میں مجیب الرحمن نے انہیں ایک خط دیا جس میں نہرو سے بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے مدد مانگی۔ پھر انڈیا نے بنگلہ دیش میں سازشوں کے جو جال بچھائے ان سے آج ہم واقف ہیں۔

عاصمہ جہانگیر کا خط نیویارک ٹائمز کو۔۔۔۔۔
1983ء میں عاصمہ جہانگیر نے نیویارک ٹائمز کو ایک خط لکھا جس میں اس نے بتایا کہ پاکستان میں عورتوں پر بدترین ظلم ہو رہا ہے اور اس ظلم کے خلاف کوئی انکا مددگار نہیں۔ نیویارک ٹائمز دنیا کو پاکستان میں عورتوں پر ہونے والے اس ظلم سے آگاہ کرے۔ اس قسم کے خطوط کے بعد عاصمہ جہانگیر کو بتدریج پاکستان میں طاقت دی گئی۔ عاصمہ جہانگیر کے زیر اثر وہ مخصوص اسلام اور پاکستان بیزار طبقہ پروان چڑھا جن کو آج ہم دیسی لبرلز کہتے ہیں۔

بے نظری بھٹو کا خط راجیو گاندھی کے نام ۔۔۔۔۔۔
1989/90ء میں بے نظیر بھٹو نے راجیو گاندھی کے نام ایک خط بھیجا جس میں خالصتان تحریک چلانے والے تمام سکھ لیڈروں کے بارے میں معلومات تھیں جن کو پاک فوج سپورٹ کر رہی تھی۔ اس خط کے ملنے کے بعد انڈیا نے یکلخت خالصتان تحریک چلانے والے تمام لیڈروں کو انکی خفیہ پناہ گاہوں سے نکال کر گرفتار یا قتل کر دیا۔ بے نظیر بھٹو بعد میں بڑے فخر سے کہا کرتی تھی کہ ” میری مدد کے بغیر راجیو گاندھی کبھی خالصتان تحریک پر قابو نہ پا سکتا ” ۔۔۔
دادا کی وجہ سے جوناگڑھ گیا، بیٹے ( ذولفقار علی بھٹو ) کی وجہ سے بنگلہ دیش الگ ہوا اور پوتی (بے نظیر) کی وجہ سے خالصتان سے ہاتھ دھونا پڑے ” ۔۔۔
یاد رہے کہ اگر خالصتان تحریک کامیاب ہوجاتی تو ہمارے آج ہمارے آدھے بارڈر پر انڈیا کے بجائے ایک دوست سکھ ملک ہوتا اور انڈیا کے ٹوٹنے کا سلسلہ پھر نہیں رکنا تھا۔۔۔ !

بے نظیر بھٹو کا خط امریکی سفیر کے نام ۔۔۔۔
1990ء میں بے نظیر بھٹو نے انڈیا میں موجود امریکی سفیر کے نام خط لکھا جس میں اس نے امریکہ سے اپیل کی کہ “پاکستان کو دی جانے والی معاشی اور دفاعی امداد بند کی جائے اور ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف پاکستان کو قرضہ دینا بند کرے۔ پاکستان کے ساتھ ہر قسم کی تجارت بند کر دی جائے تاکہ پاکستان میں عام شخص کی زندگی معطل ہو جائے”
” پاکستان کو ایف 16 طیارے اور ان کے پرزوں کی فراہمی روک دی جائے تاکہ پاک فوج کا دماغ ٹھکانے آسکے “
“آپ انڈین وزیراعظم پر دباؤ ڈالیں کہ وہ پاکستان پر حملہ کر کے پاکستانی فوج کو مصروف کر دے تاکہ میرے لیے آسانی ہو سکے”
انکو آج تک ” محترمہ ” کہا جاتا ہے!

آصف زرداری کا خط امریکن ایڈمرل مائکل مولن کے نام ۔۔۔۔۔
مئی 2011ء میں اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی جانب سے امریکن ایڈمرل مائکل مولن کے نام ایک خط لکھا گیا جو میمو گیٹ سکینڈل کے نام سے مشہور ہے۔ اس خط میں آصف زرداری نے امریکہ سے پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف مدد طلب کی جسکے بدلے امریکہ کو مندرجہ ذیل پیشکشیں کی گئیں۔
1۔۔امریکی سفارشات کی روشنی میں اسامہ بن لادن کو پناہ دینے یا اس سے تعلقات رکھنے والے تمام مشتبہ جرنیلوں کے خلاف کاروائی
2۔ امریکہ کی پسندیدہ ترین شخصیات پر مشتمل ایک نئے سول دفاعی ادارے کا قیام جو آئی ایس آئی کو کنٹرول کرے ۔۔۔
3۔ امریکہ فورسز کو پاکستان بھر میں کہیں بھی آپریشن کرنے کی اجازت ۔۔۔
4۔ ایمن اظوہری ، ملا عمر اور سراج الدین حقانی کو فوری طور پر امریکہ کے حوالے کرنے کا وعدہ۔۔۔
5۔ آئی ایس آئی کے ” سیکشن ایس” کو بند کرنے کی یقین دھائی جو امریکہ کے خلاف افغان جہاد کو کنٹرول کرتا ہے۔۔۔
6۔ ممبئی حملوں میں انڈیا کو مطلوب تمام پاکستانیوں کے خلاف فوری کاروائی اور انڈیا حوالگی کی یقین دہائی۔
7۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام تک امریکہ کی رسائی اور نگرانی کی پیشکش !
اس مراسلے کا انکشاف پاکستانی نژاد بزنسمین منصور اعجاز نے اپنے ایک آرٹیکل میں کیا۔ اس نے دعوی کیا کہ زرداری حکومت نے پاک فوج کو لگام ڈالنے اور آئی ایس آئی کو ختم کرنے کے لیے امریکی مدد مانگی ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پاک فوج کو یقین ہوگیا ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن آصف زرداری کی ایما پر امریکنز نے کیا۔ اس لیے فوج بغاوت پر آمادہ ہے!

ایم کیو ایم کا خط انڈیا کے نام ۔۔۔۔۔
متحدہ قومی مومنٹ کی طرف سے 18 جون 2015 کو پاکستان میں موجود انڈین ھائی کمیشن کو آفیشلی ایک خط لکھا گیا جس میں انکو بتایا گیا کہ پاک فوج کے آپریشن کی وجہ سے ان کے ساتھ بہت ظلم ہو رہا ہے اور انکے بہت سے کارکن غائب ہیں یا مارے جا رہے ہیں۔ ہم آپ سے اپیل کرتے ہیں کہ آپ ہمارے لیے اس صورت حال کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔
کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ انڈیا جیسا دشمن ملک نیشنل ایکشن پلان کے خلاف ایم کیو ایم کے حق میں صورت حال کو کیسے بہتر بناتا ؟

حیسن نواز کا خط نریند مودی کے نام ۔۔۔
پانامہ لیکس کے بعد پاکستانی میڈیا پر یہ خبر گردش کرتی رہی کہ وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے پاک فوج کے خلاف انڈیا سے مدد طلب کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس خط کے بعد انڈیا نواز شریف کو بچانے کے لیے کھل کر سامنے آیا اور انکے سیاستدان انڈین میڈیا پر چلا اٹھے کہ ” نواز شریف کا کوئی بال بیکا نہیں کرسکتا” ۔

یہ ہمارے عظیم لیڈروں اور خیر خواہوں کے صرف چند خطوط کا تذکرہ ہے ۔ ان سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انکی سوچ کتنی گھٹیا، پست اور سطحی ہوتی ہے اور یہ اپنے خود غرضانہ مقاصد اور ذاتی مفادات کے لیے کہاں تک جا سکتے ہیں…!

LEGACY OF MIR JAFFER – A COUNTRY OF TRAITORS & THEIR FOLLOWERS

Beyond The Horizon
www.BeyondTheHorizon.com.pk

جاب اور کام

نوجوان کی آنکھوں میں آنسو تھے،
اس نے پلکوں پر ٹشو رکھ لیا، ہم سب چند لمحوں کے لیے خاموش ہوگئے۔ اس کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو اس کی یہی صورتحال ہوتی،آپ ایک لمحے کے لیے خود سوچئے اگر آپ نے اچھی پوزیشن کے ساتھ ایم بی اے کیا ہو‘ اگر آپ ایک صحت مند اور خوبصورت جوان ہو لیکن آپ نوکری کے لیے جہاں بھی درخواست دیتے ہوں، آپ کو صاف جواب مل جاتا ہوتو آپ پرکیا گزرتی، آپ کارد عمل کیا ہوتا لہٰذا نوجوان بری طرح داخلی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔
میں نے اس سے کہا” میں تمہیں ایک کہانی سنانا چاہتاہوں “اس نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا۔اس کی آنکھوں میں تحیر اور بے بسی تھی، میں نے عرض کیا۔”کیپ ٹاﺅن کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن اسی یونیورسٹی میں ہوا تھا‘ اس یونیورسٹی نے تین سال پہلے ایک ایسے سیاہ فام شخص کو ”ماسٹر آف میڈیسن“ کی اعزازی ڈگری دی جس نے زندگی میںکبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ جو انگریزی کا ایک لفظ پڑھ سکتا تھا اور نہ ہی لکھ سکتا تھا لیکن 2003ءکی ایک صبح دنیا کے مشہور سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اعلان کیا،ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے، جو ایک غیر معمولی استاداور ایک حیران کن سرجن ہے اور جس نے میڈیکل سائنس اور انسانی دماغ کو حیران کر دیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی پروفیسر نے ہیملٹن کا نام لیا اور پورے ایڈیٹوریم نے کھڑے ہو کراس کا استقبال کیا ۔ یہ اس یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تھا“۔
نوجوان چپ چاپ سنتا رہا۔ میں نے عرض کیا ”ہیملٹن کیپ ٹاﺅن کے ایک دور دراز گاﺅںسنیٹانی میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین چرواہے تھے، وہ بکری کی کھال پہنتا تھا اور پہاڑوں پر سارا سارا دن ننگے پاﺅں پھرتاتھا، بچپن میں اس کاوالد بیمار ہوگیا لہٰذاوہ بھیڑ بکریاں چھوڑ کر کیپ ٹاﺅن آگیا۔ ان دنوں کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی میں تعمیرات جاری تھیں۔ وہ یونیورسٹی میں مزدور بھرتی ہوگیا۔اسے دن بھر کی محنت مشقت کے بعد جتنے پیسے ملتے تھے ،وہ یہ پیسے گھر بھجوا دیتاتھا اور خود چنے چبا کر کھلے گراﺅنڈ میں سو جاتاتھا۔وہ برسوں مزدور کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ تعمیرات کا سلسلہ ختم ہوا تو وہ یونیورسٹی میں مالی بھرتی ہوگیا۔ اسے ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے کا کام ملا، وہ روز ٹینس کورٹ پہنچتا اور گھاس کاٹنا شروع کر دیتا ، و ہ تین برس تک یہ کام کرتا رہا پھر اس کی زندگی میں ایک عجیب موڑ آیا اور وہ میڈیکل سائنس کے اس مقام تک پہنچ گیا جہاںآج تک کوئی دوسرا شخص نہیں پہنچا۔ یہ ایک نرم اور گرم صبح تھی“۔
نوجوان سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔ میں نے عرض کیا ”پروفیسر رابرٹ جوئز زرافے پرتحقیق کر رہے تھے، وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے جب زرافہ پانی پینے کے لیے گردن جھکاتا ہے تو اسے غشی کا دورہ کیوں نہیں پڑتا، انہوں نے آپریشن ٹیبل پر ایک زرافہ لٹایا، اسے بے ہوش کیا لیکن جوں ہی آپریشن شروع ہوا زرافے نے گردن ہلا دی چنانچہ انہیں ایک ایسے مضبوط شخص کی ضرورت پڑ گئی جو آپریشن کے دوران زرافے کی گردن جکڑکر رکھے۔ پروفیسر تھیٹر سے باہر آئے، سامنے ہیملٹن گھاس کاٹ رہا تھا، پروفیسر نے دیکھا وہ ایک مضبوط قد کاٹھ کا صحت مند جوان ہے۔ انہوں نے اسے اشارے سے بلایا اور اسے زرافے کی گردن پکڑنے کا حکم دے دیا۔ ہیملٹن نے گردن پکڑ لی، یہ آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا۔ اس دوران ڈاکٹر چائے اور کافی کے وقفے کرتے رہے لیکن ہیملٹن زرافے کی گردن تھام کر کھڑا رہا۔ آپریشن ختم ہوا تو وہ چپ چاپ باہر نکلا اور جا کر گھاس کاٹنا شروع کردی۔ دوسرے دن پروفیسر نے اسے دوبارہ بلا لیا، وہ آیا اور زرافے کی گردن پکڑ کر کھڑا ہوگیا، اس کے بعد یہ اس کی روٹین ہوگئی وہ یونیورسٹی آتا آٹھ دس گھنٹے آپریشن تھیٹر میں جانوروں کو پکڑتا اور اس کے بعد ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے لگتا، وہ کئی مہینے دوہراکام کرتا رہا اور اس نے اس ڈیوٹی کاکسی قسم کااضافی معاوضہ طلب کیااور نہ ہی شکایت کی۔ پروفیسر رابرٹ جوئز اس کی استقامت اور اخلاص سے متاثر ہوگیا اور اس نے اسے مالی سے ”لیب اسسٹنٹ“ بنا دیا۔
ہیملٹن کی پروموشن ہوگئی۔ وہ اب یونیورسٹی آتا، آپریشن تھیٹر پہنچتا اور سرجنوں کی مدد کرتا۔ یہ سلسلہ بھی برسوں جاری رہا۔ 1958ءمیں اس کی زندگی میں دوسرا اہم موڑ آیا۔ اس سال ڈاکٹربرنارڈ یونیورسٹی آئے اور انہوں نے دل کی منتقلی کے آپریشن شروع کردیئے۔ ہیملٹن ان کا اسسٹنٹ بن گیا، وہ ڈاکٹر برنارڈ کے کام کو غور سے دیکھتا رہتا، ان آپریشنوں کے دوران وہ اسسٹنٹ سے ایڈیشنل سرجن بن گیا۔ اب ڈاکٹر آپریشن کرتے اور آپریشن کے بعد اسے ٹانکے لگانے کا فریضہ سونپ دیتے، وہ انتہائی شاندار ٹانکے لگاتا تھا، اس کی انگلیوں میں صفائی اور تیزی تھی، اس نے ایک ایک دن میں پچاس پچاس لوگوں کے ٹانکے لگائے۔ وہ آپریشن تھیٹر میں کام کرتے ہوئے سرجنوں سے زیادہ انسانی جسم کو سمجھنے لگا چنانچہ بڑے ڈاکٹروں نے اسے جونیئر ڈاکٹروں کو سکھانے کی ذمہ داری سونپ دی۔ وہ اب جونیئر ڈاکٹروں کو آپریشن کی تکنیکس سکھانے لگا۔وہ آہستہ آہستہ یونیورسٹی کی اہم ترین شخصیت بن گیا۔ وہ میڈیکل سائنس کی اصطلاحات سے ناواقف تھا لیکن وہ دنیا کے بڑے سے بڑے سرجن سے بہترسرجن تھا۔ 1970ءمیں اس کی زندگی میں تیسرا موڑ آیا، اس سال جگر پر تحقیق شروع ہوئی تو اس نے آپریشن کے دوران جگر کی ایک ایسی شریان کی نشاندہی کردی جس کی وجہ سے جگر کی منتقلی آسان ہوگئی۔ اس کی اس نشاندہی نے میڈیکل سائنس کے بڑے دماغوں کو حیران کردیا، آج جب دنیا کے کسی کونے میں کسی شخص کے جگر کا آپریشن ہوتا ہے اور مریض آنکھ کھول کر روشنی کو دیکھتا ہے تو اس کامیاب آپریشن کا ثواب براہ راست ہیملٹن کو چلا جاتا ہے،اس کا محسن ہیملٹن ہوتا ہے“ میں خاموش ہو گیا۔
نوجوان سنتا رہا، میں نے عرض کیا ”ہیملٹن نے یہ مقام اخلاص اور استقامت سے حاصل کیا۔ وہ 50 برس کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی سے وابستہ رہا، ان 50 برسوں میں اس نے کبھی چھٹی نہیں کی۔ وہ رات تین بجے گھر سے نکلتا تھا، 14 میل پیدل چلتا ہوا یونیورسٹی پہنچتا اور ٹھیک چھ بجے تھیٹر میں داخل ہو جاتا۔ لوگ اس کی آمدورفت سے اپنی گھڑیاںٹھیک کرتے تھے، ان پچاس برسوں میں اس نے کبھی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ نہیں کیا، اس نے کبھی اوقات کار کی طوالت اور سہولتوں میں کمی کا شکوہ نہیں کیا لہٰذا پھر اس کی زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب اس کی تنخواہ اور مراعات یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے زیادہ تھیں اور اسے وہ اعزاز ملا جو آج تک میڈیکل سائنس کے کسی شخص کو نہیں ملا۔ وہ میڈیکل ہسٹری کاپہلا ان پڑھ استاد تھا۔ وہ پہلا ان پڑھ سرجن تھا جس نے زندگی میں تیس ہزار سرجنوں کو ٹریننگ دی، وہ 2005ءمیں فوت ہوا تو اسے یونیورسٹی میںدفن کیاگیا اور اس کے بعدیونیورسٹی سے پاس آﺅٹ ہونے والے سرجنوں کے لیے لازم قرار دے دیا گیا وہ ڈگری لینے کے بعد اس کی قبر پر جائیں، تصویر بنوائیں اور اس کے بعد عملی زندگی میں داخل ہوجائیں“ میں رکا اور اس کے بعد نوجوانوں سے پوچھا ”تم جانتے ہو اس نے یہ مقام کیسے حاصل کیا“ نوجوان خاموش رہا، میں نے عرض کیا ”صرف ایک ہاں سے‘ جس دن اسے زرافے کی گردن پکڑنے کے لیے آپریشن تھیٹر میں بلایا گیاتھا اگر وہ اس دن انکار کردیتا، اگر وہ اس دن یہ کہہ دیتا میں مالی ہوں میرا کام زرافوں کی گردنیں پکڑنا نہیں تو وہ مرتے دم تک مالی رہتایہ اس کی ایک ہاں اور آٹھ گھنٹے کی اضافی مشقت تھی جس نے اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیئے اور وہ سرجنوں کا سرجن بن گیا“ ۔
نوجوان خاموش رہا، میں نے اس سے عرض کیا ”ہم میں سے زیادہ تر لوگ زندگی بھر جاب تلاش کرتے رہتے ہیں جبکہ ہمیں کام تلاش کرنا چاہیے“ نوجوان نے غور سے میری طرف دیکھا، میں نے عرض کیا” دنیا کی ہر جاب کا کوئی نہ کوئی کرائی ٹیریا ہوتا ہے اور یہ جاب صرف اس شخص کو ملتی ہے جو اس کرائی ٹیریا پر پورا اترتا ہے جبکہ کام کا کوئی کرائی ٹیریا نہیں ہوتا۔ میں اگر آج چاہوں تو میں چند منٹوں میں دنیا کا کوئی بھی کام شروع کر سکتا ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس کام سے باز نہیں رکھ سکے گی۔ ہیملٹن اس راز کو پا گیا تھالہٰذا اس نے جاب کی بجائے کام کو فوقیت دی یوں اس نے میڈیکل سائنس کی تاریخ بدل دی۔ ذرا سوچو اگر وہ سرجن کی جاب کیلئے اپلائی کرتا تو کیا وہ سرجن بن سکتا تھا؟ کبھی نہیں، لیکن اس نے کھرپہ نیچے رکھا، زرافے کی گردن تھامی اور سرجنوں کا سرجن بن گیا“ میں رکا اور ہنس کر بولا ”تم اس لیے بے روزگار اور ناکام ہو کہ تم جاب تلاش کر رہے ہو، کام نہیں، جس دن تم نے ہیملٹن کی طرح کام شروع کردیا تم نوبل پرائز حاصل کر لوگے، تم بڑے اور کامیاب انسان بن جاﺅ گے۔۔۔۔

اسرائیل کی ایک اچھی بات!

پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر بچے کیلئے جہاں یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ اپنے دشمنوں خصوصا انڈیا اور اسرائیل کو پہچانے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ ان اسباب کو بھی جانے کہ جن کی وجہ سے وہ ترقی کرتے جا رہے ہیں اور ہم ترقی معکوس کر رہے ہیں۔

اگر آپ اسرائیل کی آبادی دیکھیں تو وہ 8 ملین کے قریب ھے، یعنی پنجاب کے شہر فیصل آباد جتنی آبادی۔
پھر بھی اسرائیل دنیا کا طاقتور ترین ملک کیسے بن گیا۔ اس کے بہت سے اسباب ہیں لیکن ایک ایسا سبب ہے جس کو دیکھ کر ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ اخبارات میں شائع ہونے والی ایک چھوٹی سی خبر پر غور کریں۔

خبر کے مطابق اسرائیل کے موجودہ وزیراعظم نتن یاھو کے خلاف آج سے 9 ماہ پہلے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کو کرپشن کی شکایات موصول ہوئیں۔ خفیہ ایجنسی اتنی بااختیار ھے کہ اس نے فوری نوٹس لے کر نتن یاھو کے خلاف تحقیقات شروع کردیں۔ یہ معاملہ آج سے کئی سال قبل کا تھا جب نتن یاھو وزیر خزانہ ہوا کرتا تھا اور اس وقت اسرائیل نے فرانس سے آبدوز خریدی تھیں۔ الزامات کے مطابق نتین یاھو نے اس سودے میں ایک ملین یوروز رشوت لے کر مہنگے داموں سودا کیا تھا۔

پچھلے ہفتے جب اس کے خلاف ابتدائی تحقیقات مکمل ہوگئیں اور رپورٹ اسرائیل کے اٹارنی جنرل کو ارسال ہوئی تو اس نے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد آج پولیس کو حکم دیا کے وہ موجودہ وزیراعظم کے خلاف کرپشن کا مقدمہ درج کرکے اگلے چند روز کے اندر اندر اسے تحقیقات کیلئے تھانے بلائے۔

اٹارنی جنرل کا یہ اقدام اسرائیل میں بالکل نارمل انداز میں لیا گیا، کسی نے یہ نہیں کہا کہ وہ جمہوریت کو نقصان پہنچانا چاہتا ھے، نتین یاھو نے اسمبلی میں کھڑے ہوکر یہ نہیں کہا کہ یہ رقم تو اس نے فلاں فیکٹری بیچ کر اکٹھی کی تھی، وہاں کوئی فضل الرحمان نہیں تھا جس نے یہ بیان دیا ھو کہ آبدوز کا معاملہ مسلمانوں کی سازش ھے، وہاں کوئی زرداری نہیں تھا جو اس معاملے کی آڑ لے کر اپنے کام سیدھے کروانے آگیا، وہاں کوئی اور نہیں تھا جس نے اٹارنی جنرل کو یہ کہا ھو کہ نتن یاھو کے خلاف تحقیقات کرنے سے پہلے 1947 سے لے کر اب تک سب کا احتساب کیا جائے، وہاں کی سپریم کورٹ نے یہ نہیں کہا کہ فرانس سے رشوت لینے کی خبر جس اخبار میں چھپی تھی، اس میں تو پکوڑے بکتے ہیں۔

یہ فرق ھے ایک یہودی ریاست اور ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا۔ اسرائیل اس سے پہلے بھی اپنے سابق وزرائے اعظم کو کرپشن پر جیل بھجوا چکا ھے اور یہ اس کے لئے نئی بات نہیں۔

دوسری طرف پاکستان میں آج تک کسی حکمران کو کبھی کرپشن پر سزا نہیں ہوئی، حالانکہ ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات سب نے لگائے۔

آج کے مسلمان اور یہودی میں اوپر بیان کیا گیا فرق یہ بتانے کیلئے کافی ھے کہ ہمیں جوتیاں کیوں پڑ رہی ہیں اور یہودی دنیا کے حکمران کیسے بن بیٹھے ہیں۔

میرا خیال ہے آپ کو یہ معلوم نہیں ہوگا!

*پارلیمنٹیرین اور جمہوریت  بڑے مقدس الفاظ سمجھے جاتے ہیں! اس کے خلاف بات کرنے والا گردن زدنی قرار دیا جاتا ہے۔ کیوں؟ ایک زاویہ نگاہ یہ بھی ہے۔ شاید اسی لئے یہ پارلیمنٹیرین اس کے حق میں بولتے ہیں!

* جن کے ووٹوں سے یہ منتخب ہوتے ہیں، ان کیلئے یہ کیا کرتے ہیں ؟ کبھی ان کو یہ بھی سوچنا چاہیے!

* کتنا پیسہ خرچ ہو رہا ہے اور اس کیلئے کیا کوالیفیکیشن ہے؟ کبھی اس کا بھی آڈٹ ہونا چاہئے۔
ملاحظہ کیجئے؛
*1۔* ماہانہ تنخواہ:
120000 مبلغ ایک لاکھ بیس ہزار سے200000 مبلغ دو لاکھ روپے تک

*2۔* آئین سازی کیلئے ملنے والاماہانہ خرچ: 100000 مبلغ ایک لاکھ روپے

*3۔* دفتر کے ماہانہ اخراجات:
140000 مبلغ ایک لاکھ چالیس ہزار روپے

*4۔* سفری رعایت:
(8روپے فی کلومیٹر): اسلام آباد ایک بار جانے وار واپس آنے کے اخراجات 48000 مبلغ اڑتالیس ہزار روپے

*5*۔ اسمبلی کے اجلاسوں کے
دوران روزانہ ریفریشمنٹ کے اخراجات:
500 پانچسو روپے

*6۔* ٹرین میں درجہ اول کے ٹکٹ مکمل طور پر مفت:
جب چاہیں اور جتنی بار چاہیں اور جہاں چاہیں کی بنیاد پر۔

*7*۔ جہازوں میں بزنس کلاس کے اخراجات:
بیوی یا پی اے کے ساتھ سال
میں 40بار مفت سفر کی اجازت۔

*8۔* گھر پر بجلی کے اخراجات:
50000یونٹ
پچاس ہزار یونٹ مفت

*9 ۔* لوکل فون کال چارجز:
170000 ایک لاکھ ستر ہزار کالز مفت

*10۔* ایک ایم این اے کا کل سالانہ سرکاری خرچ:
32000000مبلغ تین کڑور بیس
لاکھ روپے سالانہ

*11۔* 5سال کے کل اخراجات:
160000000 مبلغ سولہ کڑور روپے

*12۔* 534 ایم این ایز کے 5 برس کے اخراجات: 85440000000 مبلغ پچاسی ارب چوالیس کڑور روپے ہے

یاد رہے کہ یہ تمام لوگ *پاکستانی عوام* کی جانب سے منتخب کئے جاتے ہیں اوراس دنیا میں رائج جمہوری طریقہ کار کے ذریعے *منتخب* کئے جاتے ہیں۔
*خودبخود اسمبلیوں میں نہیں گھس جاتے۔*
نہ ہی ان کے پاس کوئی ایسی خاص *کوالفکیشن* ہوتی ہے جو ان کے اسمبلی میں جانے کا سبب کہلا سکے۔
پیسے کا یہی وہ غیر ضروری اور بے حساب بہاؤ ہے، جو *ہمارے ٹیکسوں سے جمع ہونے والی رقوم کو نگل لیتا ہے* اور اشیائے ضروریہ کی *قیمتوں میں ہوشربا اضافے* کا سبب بنتا ہے۔