ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺟﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ

کلمہ ، جمہوریت اور گوری

ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﺗﮭﮯ، ﺫﮬﻦ ﺍﺳﻼﻣﯽ، ﭼﮩﺮﮦﻏﯿﺮﺍﺳﻼﻣﯽ، ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ انگلینڈ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺟﺐ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺑﻐﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﻢ ﺗﮭﯿﮟ!

ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻣﯿﻢ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺗﮏ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﮐﯿﺎ.
ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ دﻭﭘﭩﮧ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﻮﺭﯼ ﭼﻮﺭﯼ ﻣﯿﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﻮ دیکھتیں ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮈﺭﺗﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﻮﺭﯼ ﻣﯿﻠﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ.
ﺩﻭﻟﮩﺎ ﮐﯽ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﻓﺨﺮﯾﮧ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮩﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﭘﮭﺮﺗﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﮭﯿﺎ ﺍﻧﮕﻠﯿﻨﮉ ﺳﮯ ﻣﯿﻢ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﭽﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﻣﯿﻢ ﺗﮭﯽ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﻠﺶ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺍﯾﺘﺎً ﭼﺎﺩﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭦ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ، ﺑﻼﺋﯿﮟ ﻟﯿﺘﯽ ﻟﯿﺘﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ. ﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ.
ﺻﺮﻑ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ، ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐِﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺟﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ،

ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮨﻮﮔﺌﮯ!

ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺗﮭﺎ، ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮔﺰﺭﺍ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ، ﻣﯿﺎﮞ ﮐﮯ ﺁﻓﺲ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﻢ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﯽ ﺑﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻣﮩﺮ ﺛﺒﺖ ﮐﺮﺗﯿﮟ! ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭼﮧ میگوئیاں ﮨﻮﺋﯿﮟ، ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﻔﺴﺎﺭ ﭘﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﮔﺮﻣﯿﺎﮞ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﭘﯿﻨﭧ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﻧﯿﮑﺮ ﭘﮩﻨﻨﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯼ، ﺍﺑﺎﺟﯽ نے ﺗﻮ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ، ﺍﻣﺎﮞ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺗﮑﺘﯽ ﺭﮨﺘﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﮔﺌﯿﮟ! ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﺷﮑﻮﮦ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﺍﯾﮏ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﺑﺮﯾﮏ ﻭ ﮐﯿﻨﺒﺮﮮ ﮈﺍﻧﺲ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﺩﻝ ﺗﮭﺎﻡ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ، ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﮔﻮﺭﯼ ﻋﯿﺪ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ ﮐﺮﺗﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﮐﺮﺳﻤﺲ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮮ ﺗﺰﮎ ﻭ ﺍﺣﺘﺸﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﻨﺎﺗﯽ ﺑﯿﭩﺎﺟﯽ ﮨﺮ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ ” ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ، ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ، ﺑﭽﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﺧﺘﻨﮯ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻇﻠﻢ ﮨﮯ، ﺑﯿﭩﺎﺟﯽ ﮐﮭﺴﯿﺎﻧﯽ ﺳﯽ ﮬﻨﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﻮﻟﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﮈﺍﻧﺲ، ﻣﯿﻮﺯﮎ، ﻓﻠﻤﯿﮟ، ﮐﺎﮎﭨﯿﻞ ﭘﺎﺭﭨﯿﺰ، ﮐﺮﺳﻤﺲ، ﺳﺮﻋﺎﻡ ﺑﻮﺱﻭﮐﻨﺎﺭ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﮐﻠﭽﺮ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻨﮯ، ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﻓﺮﯼ ﮨﻮﺗﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ، ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺳﮩﯿﻠﯿﺎﮞ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ۔ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻨﺰ ﮐﯽ ﭘﯿﻨﭩﯿﮟ ﭘﮩﻦ ﭘﮩﻦ کر ﺷﯿﺸﮯ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﺗﯿﮟ ﮐﻠﻤﮧ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ، ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﯿﮟ، ﮔﻮﺭﯼ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﺎﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻤﻌﮧ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﻨﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﮔﻮﺭﯼ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮ ﺳﮯ ﭼﭙﮏ ﺑﯿﭩﮭﺘﯽ، ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﺗﻮ ﺟﮕﮧ ﺗﻨﮓ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﺗﻨﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻠﺘﺎ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ” ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻡ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﺗﻮ ﺟﯿﻨﺰ ﺷﺮﭦ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﭘﭩﮧ ﺳﺎ ﮈﺍﻝ ﻟﯿﺘﯽ۔ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮐﺮﻟﯿﺘﮯ ﮐﮧ
“ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”!!!!!!

“ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ” ﺑﮭﯽ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﻨﯽ ﻣﺰﺍﺝ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﯿﺎﮦ ﻻﺋﮯ۔
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺩﮬﺮ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ، ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﻋﺐ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﯾﺴﯽ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﺎ، ﺍﺗﻨﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﭼﭩﯽ..
“ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ”!!

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ جرأت ﻧﮧ ﮐﯽ. ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﻟﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ.

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﻭﺍﺝ ﺗﻮﮌﮮ،
ﺩﺳﺘﻮﺭ ﺗﻮﮌﮮ،
ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﻟﮯ ﺁﺋﯽ،
ﻟﯿﮑﻦ ﻗﻮﻡ ﺧﻮﺵ ﮨﯽ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ!!

ﻣﻌﺎﺷﺮﺕ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﯾﮧ ﮨﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﺎﭼﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻏﯿﺮ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﺗﮭﺎ. ﻟﻮﮒ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ،
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺷﺮﮎ ﻭ ﮐﻔﺮ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﻮﺍﺯ ﺩﯾﺎ،
ﮨﺮ ﻇﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺩﯾﺎ، ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ،
ﮐﻠﻤﮯ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﻋﺎﻡ ﮐﯿﺎ،
ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻣﺤﻠﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ!!

ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﻣﺎﮞﺟﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔

ھماری بے راہ روی ﮐﻠﻤﮯ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺲ ﻣﯿﮟ بہتﮐﭽﮫ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮﺩﮮ ﮔﯽ.

ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ… اپنی زندگی میں اسلام لانے کی کوشش کیجئے ورنہ ھم نے بھی بس کلمہ ہی پڑھا ھوا ہے.

بات گہری ہے ۔۔۔۔۔ ہمیں زنجیروں سمیت فروخت کر دیا گیا ہے

نیفے کی اشرفی کے مزے

محمد فاروق بھٹی 
دائیں بازو کے بڑے شاعر نعیم صدیقی کو مقلدین دستیاب نہ ہو سکے ورنہ وہ فیض سے بڑا نظریاتی تھے ۔۔۔ کہتے ہیں

ہم لوگ ابھی آزاد نہیں
ذہنوں کی غلامی باقی ہے
تقدیر کی شفقت سے حاصل؟
تدبیر کی خامی باقی ہے
سینوں کے حرم سُونے ہیں ابھی
امیدوں سے آباد نہیں
چہروں کی چمک اک دھوکا ہے
کوئی بھی جوانی شاد نہیں
چھوڑی ہیں جڑیں زنجیروں نے
ان میں سے کسی کو نوچیں تو
اعصاب تِڑخنے لگتے ہیں
آزادی سے کچھ سوچیں تو
انٙدام چٹخنے لگتے ہیں
اِن زنجیروں کو کیا کیجیے!
ہے اِن سے گہرا پیار ہمیں
ان زنجیروں کے بجنے کی
لگتی ہے بھلی جھنکار ہمیں ۔۔۔

سوچتا ہوں ۔۔۔
بات گہری ہے ۔۔۔۔۔ ہمیں زنجیروں سمیت فروخت کر دیا گیا ہے اور ہم نئے مالکوں کو خوش کرنے کیلئے پابجولاں رقصاں ہیں ۔۔۔ آزادی کے گیت بھی گاتے ہیں ۔۔۔ نظریاتی پھریرے بھی لہراتے ہیں ۔۔۔ قفس سے اتنے مانوس ہو چکے ہیں کہ دروازہ کھل جائے تو ڈر. جاتے ہیں ۔۔۔
اشرافیہ اشرفیوں کے تھیلے ہماری ہی پشت پر لاد کر کبھی سرے محل ، کبھی دوبئی اور کبھی پانامہ لے جاتے ہیں ۔۔۔
اور ۔۔۔ ہم بھی بڑے چالاک واقع ہوئے ہیں ۔۔۔ کوڑے کھاتے بھی ، گرتے پڑتے بھی ایک آدھ اشرفی اُچک کر نیفے میں اُڑس لیتے ہیں اور اپنی “چالاکی” پر شاداں و فرحاں ہیں ۔۔۔ ہمیں تو سب سُوٹ کرتے ہیں کہ ہمیں بھی واردات کا موقعہ تو دے دیتے ہیں ، دوسرا یہ کہ یہ ہمارے اپنے کالے ہیں ، انگریز تو نہیں غیرمسلم تو نہیں ۔۔۔۔۔ مسلمان ہیں ، کلمے کی عمارت والے مسلمان ۔۔۔ نماز روزے والے نہیں تو کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔چنانچہ ہم تو منائیں گے آزادی۔
سوچتا ہوں ۔۔۔
اپنے لوگوں کی غلامی بھی بھلا کوئی غلامی ہوتی ہے ، اپنے تو اپنے ہوتے ہیں چاہے سرے محل والے ہوں یا بنی گالا والے یا پانامہ والے ۔۔۔ بُلہے شاہ کے شہر کے انقلابی شاعر عبداللہ شاکر مرحوم کے الفاظ میں
جشن منائی جاوؑ ۔۔۔ جشن منائی جاوؑ ۔۔۔
انّی انًا کھیڈ کے انّیاں مچائی جاوؑ ۔۔۔

زینب کو بچانے کی تیز رفتار حکمت عملی  

زینب کو بچانے کی تیز رفتار حکمت عملی

اختر عباس
یہ بہت تکلیف دہ دن تھا ،معصوم صورت مظلوم زینب کی میت سامنے پڑی تھی اور لاہور سے جانے والے قادری صاحب پوری بے رحمی کے ساتھ دعا کے نام پر بد دعائیں مانگ رہے تھے ، ان کے جملے آگ لگانے جیسے تھے اور وہ اسی کام کے لئے وہاں آئے تھے ،ہجوم کو دیکھ کر بڑے بڑے اپنا توازن کھو بیٹھتے ہیں مگر یہی لمحہ ہوتا ہے جب آپ ایک حقیقی راہنما بنتے ہیں یا ایک وقتی اشتعال میں جمع ہونے والوں کے جتھے دار جو اپنے پر غم اور دکھ کے لئے کوئی راستہ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں،ان لوگوں کا بالعموم حادثے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہومگر وہ بڑھ چڑھ کر اپنے پرخلوص غصے کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں ۔ نہ وہ اپنے غصے کی آخری حد کو جانتے ہوتے ہیں اور نہ اس کی شدت دکھانے کے بعد اس کے نقصات سے آگا ہ ہوتے ہیں، یہ جلوس ایران میں مہنگائی کے خلاف ہو یا قصور میں زینب کی موت پر دعا کی بجائے احتجاج اور سرکاری دفاتر پر حملے کا خوگر، نہ کبھی مہنگائی کم ہوتی ہے اور نہ مرنے والی کو زندگی واپس ملتی ہے البتہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ کچھ معصوم اور جذباتی لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ،راہنمائی آگ لگانے میں نہیں بجھانے اور کسی حل کی طرف لے جانے کانام ہے ،یہ کیسی راہنمائی اور ناراضی ہے کہ ٹی وی کی سکرین پر خبر دیکھی ،لوگوں کا ہجوم دیکھا ان کا غم و غصہ محسوس کیا اور وہاں جا پہنچے ،کم سے کم پانچ سیاسی راہنماوں کے بیان میرے سامنے ہیں مجال ہے کسی نے ایک لفظ بھی جرم اور مجرم کے بارے میں کہا ہو اس کے مستقل حل کی طرف راہنمائی کی بات کی ہو ، ’ صرف سرخیاں ملاحظہ ہوں’’یہ حکومت کی ناکامی ہے ،یہ شریفوں کے منہ پر طمانچہ ہے ،قاتل اعلیٰ سے شہداے قصور کا بھی انتقام لیں گے ،شریفوں نے پنجاب پولیس کو خراب کر دیا ہے ،‘‘جس شیطان نے یہ کام کیا وہ یہ سب کہیں کسی کونے میں چھپا یہ دیکھ اور پڑھ کر مسرور ہو رہا ہوگا کہ کسی کو بھی اس کے گناہ پرغصہ نہیں ہے،سبھی کو ہی اپنی ادنیٰ سیاسی سوچ کو جھنڈا بنا کر لہرانے سے ہی فرصت نہین،یہ جو اب خبر بنوانے بھاگے چلے آتے ہیں ان کو یہ خبر کیوں نہیں ہوئی کہ اسی قصور شہر کی بارہ بچیاں کچھ ہی عرصے میں عزت اور جان سے گئیں ایک ہی شہر میں اور ایک ہی طرح کے واقعات سے ،تب آپ کہاں سوئے تھے ،چونکہ لوگ احتجاج کے موڈ میں نہیں تھے ،چونکہ مسلہ کو آگ نہیں لگی تھی ،چونکہ لاش دستیاب نہیں تھی اور براہ راست کوریج نہیں تھی اس لئے آپ بھی نہیں آئے اور آپ کے اندر برپا عوامی ہمدردی کا طوفان بھی کہیں سویا رہا ،یہ کیسی راہنمائی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر کسی حادثے اور سانحے کی منتظر رہتی ہے ،ایسی خبر یں آپ کو خبروں میں زندہ رکھتی ہے ،اس احتجاج میں مرنے والے دو یا تین لوگوں کے غم زدہ خاندانوں پر اب کیا بیتے ہیں، ان کے بچے کس مشکل اور عذاب کا شکار ہونگے ،ان کو احتجاج کے نام پر جلوس میں آگے لگانے،ڈی سی آفس پر حملہ کروانے اور گولی کا شکار بنوانے والوں سے کبھی تو پوچھا جانا چاہئے
معصوم صورت زینب کے مجرم کو ڈھونڈنے،ااس پاس اس کا کھرا ناپنے ،اپنے بچوں کی حفاظت کے لئے بیٹھ کر سنجیدگی سے سوچ بچار کرنے کی بجائے ڈسٹرکٹ ہسپتال پر حملہ کرنے ، پورا دن ڈنڈوں سے مسلح ہو کرڈاکٹروں اور عملے کو تکلیف دینے اور ان کا شکار کرنے کے لئے اندر گھس آنے اور نہ پا کر واپس چلے جانے کو آپ کیا کہیں گے ۔ اسے معمولی سی بات کیسے سمجھ سکتے ہیں،ایسی منصوبہ بنددی کرنے والے کہاں سے آتے ہیں کون ہوتے ہیں، اپنے ہی شہر کے اپنے ہی لوگوں کے بچے ا جس بے رحمی سے ہر حادثے کے بعد بسوں ،کاروں کو آگ لگانے ہیں اور پھر ان کا جانتے بوجھتے ہوئے لوگوں اور شہروں کویرغمال بنانے کی اجازت دئے رکھنے کا چھوٹا سا نتیجہ یہ ہے کہ ایک چھوٹے سے شہر کے بچے بھی ڈنڈوں اور جتھوں کی مدد سے ساری لا انفورسنگ ایجنسی کو آگے لگانے کی ہمت اور حکمت رکھتے ہیں۔یہی عالم رہا تو لا اینڈ آرڈر کے نام پر کل کوئی سپاہی حکم کے باوجود بھی آگے نہیں بڑھے گا ، وہ کیوں ہجوم سے مار بھی کھائے ،اپنی آنکھ نکلوائے، پسلی تڑوائے اور پھر معطلی اور برطرفی کی بے عزتی بھی جھیلے
اپنی زینبوں کو بچانا ہے تو کسی ادارے کی عزت اور احترام نہ سہی اس کی وقعت اور ڈر ہی باقی رہنے دیں ان کو یوں ٹکہ ٹوکڑی نہ کریں۔ان کی ٹاسکنگ میں بچوں کی حفاظت اور اس کے لئے حساسیت [سینس ٹیویٹی] پیدا کریں،اس حوالے سے خصوسی سیکشن اور ٹریننگز دلوایئے،پولسنگ کے معمول کے کام میں اس پہلو کو بطور خاص شامل کریں ،موجودہ پولیس کو ختم آپ کر نہیں سکتے ،پوری اصلاح ہونا بھی ممکن نہیں تو اس میں کچھ معاشرتی کاموں کا اضافہ تو ہو سکتا ہے کہ جس کہ رپورٹنگ بھی ہو اور اس کی پوچھ بھی ، دہشت گردوں کی طرح اب اس مسلے پر بھی ہمیں زیرو ٹالرنس پر جانا چاہئے ،ایسے کیسز میں عدالتوں میں صفائی کے وکلا ء کو پیش ہونے کی اجازت دینے پر بھی غور کر لینا چاہئے جو نظام ظلم کی برقراری اور استواری میں بلاجھجک کام آتے ہیں،ان کیسز میں فیصلے پولیس مقابلوں کی سپیڈ سے ہی ہونگے تو قابو پایا جاسکے گا ورنہ یہ جنسی جرم ایک مکروہ وائرس کی طرح بڑھتا اور پھیلتا جائے گا چونکہ اس کے پیدا ہونے کی آماج گاہیں اب گھر گھر اور ہر موبائل میں موجود ہیں،اتنی زیادہ روشن خیا لی ہے کہ ہم بربادی کے دروازے بھی بند کرنا بھول گئے ہیں

یہ کیا دانشور ہیں! کہیں بازی گر تو نہیں؟

شمس الدین امجد

شکر ہے
گزشتہ 14 صدیاں سوشل میڈیائی دانش سے محروم رہی ہیں، ورنہ کیا معلوم کہ السابقون الاولون اور اسلاف کے فقر، درویشی، سادگی، غربت کی سچی کہانیاں زندہ ہونے سے پہلے کہیں دفن ہو جاتیں۔ ذرا اندازہ کیجیے کہ جب خلفاء سے سوال کرنے کا رواج تھا، کوئی کھڑا ہو کر کہہ دیتا ” اے خلیفۃ المسلمین، یہ پتھر سرہانے کے نیچے رکھ بیابان میں نیند پوری کرنے سے ہمیں نہ لبھائیے، مسند نبی ﷺ کے وارث ہیں، کچھ ہے تو پیش کیجیے” دانش آج کی طرح اندھی ہوتی تو دنیا کو سب سے پہلے باقاعدہ نظام حکومت سے روشناس کروانے والے روم و فارس کو دھول چٹانے والے خلیفہ کے سامنے سوال اٹھانے سے ہرگز نہ ہچکچاتی۔
اور گزشتہ 14 سو سالوں کی تاریخی روایت اس لحاظ سے بھی شکریے کی ادائیگی کی مستحق ہے کہ کسی ایسی دانش سے اس کو سامنا نہیں کرنا پڑا کہ بند کرو آباء و اسلام کے یہ قصے کہانیاں، نامہ اعمال میں اس سے کچھ ہٹ کر ہے تو پیش کرو۔ دو لفظوں کی دانش کو کیا معلوم کہ عامیوں کے دماغ اس کی طرح آسمان پر نہیں ہیں، وہ اسی زمین پر رہتے ہیں، یہ واقعات سنتے ہیں تو ایمان تازہ ہوتا ہے، تزکیہ نفس ہوتا ہے، اور مشکلات میں گھری زندگی اس سے حوصلہ پاتی آگے بڑھتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جماعت اسلامی اس ملک کی واحد جمہوری جماعت ہے، تنظیم ایسی ہے کہ جب سے بنی ہے، ضرب المثل ہے۔
کراچی سے خیبر تک جہاں اس کو موقع ملا ہے، اس نے امانت و دیانت اور کارکردگی میں اپنی انفرادیت ثابت کی ہے، ایسی کہ معاشرہ مثالیں دیتا ہے۔
پلڈاٹ کہتا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں قومی اسمبلی اور سینٹ میں اس کے پارلیمنٹیرین کارکردگی کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہیں (پروفیسرخورشید احمد، لیاقت بلوچ) سب سے آگے ہیں، بہترین ہیں۔
اس کے موجودہ ارکان اسمبلی گیلپ، پلڈاٹ فافین جیسے اداروں سے کارکردگی کے اعتبار سے بہترین قرار پاتے ہیں، گاہے تو چاروں ٹاپ ٹین کی لسٹ میں شامل ہوتے ہیں۔
نعمت اللہ خان کراچی 4 ارب کا بجٹ 50 ارب تک پہنچا دیتے ہیں اور تبدیلی کی بنیاد رکھتے ہیں، ایسی کہ مشرف جیسا بدترین مخالف بھی اداروں کی رپورٹس کی بنیاد پر حسن انتظام اور دیانت کی گواہی دیتا ہے اور آفر کرتا ہے کہ جماعت چھوڑ دیں تو اگلی ٹرم بھی آپ کی ہے۔
عنایت اللہ خان آج بھی خیبر میں 10 اصلاحاتی کمیٹیوں کے چیئرمین ہیں، اور صوبے میں تبدیلی انھی کے دم سے ہے۔ ابھی کابینہ نہیں بنی تھی کہ ڈیلی ٹائمز جیسے نظریاتی مخالف اخبار نے لکھا کہ گزشتہ دور میں بطور وزیر صحت ان کی کارکردگی بہترین تھی، چنانچہ انھیں دوبارہ وزیرصحت بنایا جائے۔
اور
خود سراج الحق وزیرخزانہ بنے تو پہلا بجٹ 40 ارب کا اور آخری 100 ارب سے زائد کا پیش کیا، اور ایم ایم اے کے دورحکومت میں ورلڈ بنک سمیت عالمی اداروں نے فنانس مینجمنٹ اور فنڈز کے استعمال کو ایکسلنٹ قرار دیا۔ موجود دورحکومت میں اسحاق ڈار نے بہترین بجٹ پیش کرنے اور فنڈز کے درست استعمال کا اعتراف کیا۔
اور صرف حکومت نہیں، باہر بھی جماعت سب سے بڑا فلاحی نیٹ ورک رکھتی ہے اور اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں، ایسے کہ ایک ایک پائی کا حساب رکھا جاتا ہے۔ تعلیم و صحت کا نیٹ ورک چاروں صوبوں میں ہے، اور وہ بھی سب سے بڑا ہے۔ خوبیاں اور بھی بیان کی جا سکتی ہیں، دفتر ہی پیش کیا جا سکتا ہے، مگر دانشوری نے مطمئن ہونا ہے نہ ہوگی، کہ یہ سب باتیں تو اس کے علم میں بھی ہیں، مگر انجان بن نامہ اعمال سے کچھ پیش کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ پہلے ایسے مطالبے پر حیرانی ہوتی تھی، اب یہ حیرانی بھی جاتی رہی ہے، کہ چٹکلوں پر حیران نہیں ہوا جاتا، مسکراہٹ اچھالی جاتی ہے، محظوظ ہوا جاتا ہے۔

سراج لالہ کی “ڈرامائی” سادگی

طارق حبیب
۔
جناب معاملہ یہ ہے کہ ۔۔۔۔ یہ سادگی مصنوعی ہو یا حقیقی ۔۔۔۔۔ آپ کو کھٹکتی کیوں ہے؟؟؟؟؟….۔۔۔قاعدہ ہے کہ یکسانیت سے ہٹ کر جو عمل ہو۔۔۔۔اور آپ کے نظریے و عقیدہ کے مطابق میل بھی کھاتا ہو۔۔۔۔اپنا علیحدہ تشخص کی پہچان کیلئے۔۔۔۔۔اسی کو عوام کے سامنے لایا جاتا ہے۔۔۔۔۔
۔
چلو سراج لالہ کی سادگی کو رکھے ایک طرف۔۔۔۔۔ اب بتائیں آپ اپنے رہنمائوں کے ۔۔۔۔ کس عمل کی تشہیر کرنا پسند کریں گے۔۔۔۔۔۔ گندے گندے میسجز کی جو مائوں بہنوں کو بھیجے جاتے ہیں۔۔۔۔۔یا سلفی، چرس، شراب کی۔۔۔۔۔جو سر عام پی جاتی ہے۔۔۔۔۔ ۔
۔
بتائیں نا۔۔۔۔۔کس عمل کو عوام میں معروف ٹھہرائیں گے۔۔۔۔۔ایان علی جیسے کرداروں کے ذریعے منی لانڈرنگ۔۔۔۔۔یا ڈاکٹر عاصم جیسوں سے اربوں کی کرپشن۔۔۔۔۔ عوام کو کیا بتائیں گے ۔۔۔۔سیاسی مفاد کیلئے ۔۔۔۔۔ خاندانی نام تبدیل کرلو۔۔۔۔۔بھٹو زرداری ہو جائو۔۔۔۔۔یا اپنی خواتین کے ساتھ شراب نوشی کی تصویریں عام کرو۔۔۔۔یا سرے محل سوئس اکائونٹس۔۔۔کی تصاویر پھیلائی جائیں یا۔۔۔۔۔گے کلب میں بلاول کے کارناموں کی تصویریں۔۔۔۔بتائیں یار۔۔۔۔۔
۔
یا آفشور کمپنیوں کے ذریعے ٹیکس چوری۔۔۔۔ جاتی عمری۔۔۔۔۔قطری شہزادے کے خطوط۔۔۔۔۔یا کرپٹ اولاد۔۔۔۔۔کی تصاویر وائرل ہونی چاہئے آپ کی نظر میں۔۔۔۔۔۔
۔
تاکہ بقول آپکے۔۔۔۔۔عوام کو شعور آگیا ہے تو۔۔۔۔عوام کو ان کی تقلید کرنی چاہئے۔۔۔۔؟؟؟؟؟
۔
برا مت بنانا۔۔۔۔سادگی پر مرچیں تو بہت لگتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلو بتائو جب اپنے گھر میں سیاسی شعور و وژن دینا چاہو گے۔۔۔۔۔تو کس رہنما کی تقلید کا مشورہ دوگے۔۔۔۔۔بتائو بھی یار۔۔۔۔۔کیا دینا چاہو گے؟؟؟؟ ۔۔۔۔
۔
سراج لالہ سر راہ خط کیوں بنواتے ہیں۔۔۔۔فائیو اسٹار بیوٹیشن کے پاس جانا چاہئے؟؟؟؟۔۔۔۔۔جیسے صنف نازک سے بال کٹوانے والے۔۔۔۔۔فخر سے اپنی تصاویر شیئر کرتے ہیں۔۔۔۔
۔
سراج لالہ کی سادگی کو پرموٹ کیوں کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔جی ہاں بالکل ۔۔۔۔۔ 26 تا 30 محافظ گاڑیوں کے پہرے میں جاتے۔۔۔۔رہنمائوں کی تصاویر کو پرموٹ کرنا چاہئے۔۔۔۔۔۔بلٹ پروف شیشے کے پیچھے سے خطاب کرتے رہنمائوں ۔۔۔۔ کی تقلید کی دعوت دینی چاہئے۔۔۔۔۔سرکاری وسائل کے بے جا استعمال اور لوٹ مار کی ۔۔۔۔تشہیر کرنی چاہئے۔۔۔۔۔۔
۔
ارے او جھانپئوں۔۔۔۔
۔
سراج لالہ کی تصویر کارکن بناتے ہیں ۔۔۔۔۔ محبت میں۔۔۔۔فخر سے عوام کو بتاتے ہیں یہ ۔۔۔۔فرق ہے دوسروں اور ہم میں۔۔۔۔۔ورنہ تو رائٹ کے رہنما اور بھی ہیں۔۔۔۔ ڈبل کیبنوں میں درجنوں ڈشکرے گارڈز۔۔۔۔اور جیمرز وہیکل بھی ساتھ ہوتی ہیں۔۔۔۔۔
۔
جناب من ۔۔۔۔۔
۔
۔ تشہیر ایسے عمل کی ہوتی ہے جو۔۔۔۔دوسروں سے الگ ہو۔۔۔۔ آپ کی نمود نمائش کی اس دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں۔۔۔۔جو مصنوعی چکا چوند کو سے متاثر نہیں ہوتے۔۔۔۔اگر ایسی مصبوعیت کو کوئی جوتے کی نوک پر رکھتا ہے۔۔۔۔۔پروٹوکول، وی آئی پی کلچر پر تھوکتا ہے۔۔۔۔تو وہ تشہیر چاہے نہ چاہے۔۔۔۔۔اس کے فالوورز تو چاہیں گے۔۔۔۔۔کیونکہ یہی ان کے رہنما کی انفرادیت ہے۔۔۔۔
۔
بات مزید آسان کئے دیتا ہوں۔۔۔۔اب دیکھیں نا۔۔۔۔۔
۔
میڈیا پر لبرلز اور لیفٹ کا دور دورہ ہے۔۔۔۔۔آپ ان میں گھل مل کر اپنی پہچان نہیں بنا سکتے تھے ۔۔۔۔۔ اسلئے آپ نے اپنی۔۔۔۔۔فلسفیت اور دانشوریت میں۔۔۔۔مذہب کا تڑکہ لگانے پر مجبور ہیں۔۔۔۔۔ایسے ایشوز کو اٹھا کر اپنا قد بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔۔۔جو رائٹ کے ایشوز قرار پاتے ہیں۔۔۔۔۔ اپنے منجن میں مذہبی آمیزش کرنا ۔۔۔۔۔ آپ کی مجبوری ہے جناب۔.۔۔ ورنہ اب تو آپ کو اکا دکا لوگ جانتے ہیں۔۔۔۔۔اگر ایسا نہ کریں گے تو۔۔۔۔ماضی کی طرح گمنامی میں رہیں گے۔۔۔۔جو آپ جیسے شہرت کے ہوس کے پجاریوں کی موت ہے۔۔۔۔۔۔
۔
امید ہے افاقہ ہوا ہو گا۔۔۔۔ نہ ہوا تو۔۔۔۔ اگلا اسٹیٹس اس جملے سے شروع کرونگا۔۔۔۔۔۔
۔
استاد محترم سے معزرت کے ساتھ۔۔۔۔۔
۔
رہے نام مولا کا

گول گپے والا آیا۔۔۔  

(تاثیریات)
تحریر تاثیر اکرام رانا

چھ دن سے میرے کزن کی بیٹی ہسپتال میں داخل تھی۔ اسکی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ پتہ چلا کہ چیختی ہے چلاتی ہے اور لوگوں کو کاٹتی ہے۔ مجھے پتہ چلا تو میں اسے دیکھنے ہسپتال گیا۔ بچی کی ٹانگیں اور ہاتھ باندھے ہوئے تھے اور وہ تڑپ رہی تھی۔ بارہ سال کی بچی ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے ملا تو بولے ہیسٹیریا ہے۔ باپ سے پوچھا تو کہنے لگے اس کو سایہ ہو گیا ہے۔ والدہ نے کہا اسکی پھوپھو نے جادو کر دیا ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ میں نے بچی کے پاس جا کر اسے پیار کیا اور پانی پلایا۔ وہ بیقرار تھی۔ کہتی ہے مجھے گول گپے کھانے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے منع کیا ہے کہ اس کو کوئی چیز بازار سے نہیں دینی ہے۔ میرا ماتھا ٹھنکا۔ میں نے پوچھا کہ بچی کی یہ حالت کب سے ہے۔ والدہ نے بتایا کہ چھٹیوں کے آخری بیس ایام اپنے دادکوں کے گھر گئی تھی۔ وہاں سے جب واپس آئی ہے تو طبیعت ناساز ہے۔ چڑچڑی ہوگئی ہے۔ باہر نکل نکل کر بھاگتی ہے۔ بس کہتی ہے کہ گول گپے کھانے ہیں وہ بھی لا کر دئیے پر پسند نہیں آتے پھینک دیتی ہے۔ چیختی ہے چلاتی ہے۔ جوان ہے ایسی حرکتیں دیکھ کر کون اس سے شادی کرے گا۔ میں نے لڑکی سے تنہائی میں بات کرنے کی اجازت چاہی جو مل گئی۔

میں نے بچی کے ہاتھ پاؤں کھولے اور ٹیرس پر لے گیا۔ اسے پانی پلایا اور پوچھا کہ مجھے اپنا دوست سمجھو جو کچھ ہم میں بات ہوگی وہ راز ہی رہے گا۔ میں نے قسم کھائی۔ لڑکی کو کچھ حوصلہ ہوا تو کہنے لگی آپ اپنی ماں کی قسم کھائیں کہ کسی کو نہیں بتائیں گے۔ میں نے یہ قسم بھی اٹھا لی۔ لڑکی بولی کہ مجھے اپنے پھوپھو زاد کزن سے پیار ہو گیا ہے اور وہ بھی مجھے بہت چاہتا ہے مگر میری پھوپھو نہیں مانیں گی۔ میرا اپنے کزن سے کچھ جسمانی رشتہ بھی ہو گیا ہے اور میں اس کو چھوڑ نہیں سکتی۔ ہم دونوں کئی کئی گھنٹے ساتھ رہے ۔ ان کے محلے میں ایک گول گپے والا ہے جو مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔ ہم دونوں وہ کھانے کے لئے جاتے تھے اور کھا کر اسی کے کیبن میں بیٹھ کر پیار محبت کی باتیں کرتے اور بھی بہت کچھ۔ ہمیں جیسے نشہ سا ہو گیا تھا ایک دوسرے کا۔ میں جب سے واپس لوٹی ہوں دل بہت بیقرار رہتا ہے اور جسم میں جیسے کچھ جل سا رہا ہے۔ میں نے اس سے اس کی پھوپھو کا نمبر لیا اور اس کو یقین دلایا کہ میں جو کچھ بھی کر سکا کروں گا۔

اگلے روز میں اس کی پھوپھو کے گھر تھا۔ رشتے دار تھے میری بہت عزت کی۔ میں نے اس کے بیٹے سے بازار تک ساتھ چلنے کو کہا اور ہم پیدل ہی شام کو گھر سے نکلے۔ باتوں باتوں میں میں نے لڑکی کے حوالے سے گول گپے کی تعریف کی اور یوں ہم اس دکان کے کیبن میں پہنچ گئے۔ گول گپے منگوائے گئے اور کھائے بھی ۔ بہت مزے دار تھے۔ الگ سا ذائقہ تھا۔ خیر میں نے کچھ پیک کروا لئیے اور ساتھ لے آیا۔ رات کو واپس شہر آیا اور وہ گول گپے ایک دوست کی لیب والے کو دیئے کہ اس کو چیک کردے۔ منشیات والے ادارے کو بھی ایک سیمپل دیا۔ اگلے روز کی رپورٹ میں پتہ چلا کہ مصالحہ جات میں ہیروئن ملائی گئی ہے۔ رپورٹ دیکھ کر میں ششدر رہ گیا۔ ایک لمحے کے لیے دم بند سا ہو گیا۔ اسی لمحے محکمہ انسداد منشیات کے ارادے سے رابطہ کیا اور اس گول گپے والے کی دکان پر ریڈ کیا۔ وہاں سے شراب، ہیروئن اور چرس برآمد ہوئی۔ یہ باقاعدہ ایک منشیات کا اڈہ تھا اور گول گپے والا اپنے گول گپوں میں گھول کر ہیروئن کھلا رہا تھا۔ نوجوان بچے بچیوں کی خلوت کے لئے کیبن بھی تھے جہاں ان کے ملازمین کی زیر نگرانی قبیحہ جنسی جرائم کا سلسلہ جاری تھا۔ جو لگ گئے وہ یہاں سے ہٹ نہیں سکتے تھے۔ اور جو کچھ کرتے تھے تو ان کی وڈیو بنتی تھی اور بلیک میلنگ ہوتی تھی۔ یہی ان بچوں کے ساتھ بھی ہوا۔ نشہ الگ لگ گیا اور گناہ الگ کر بیٹھے جو اس بچی کو پیار لگا۔ ان کو پکڑا کر بچی کی طرف لوٹا اور ڈاکٹر صاحب کو اعتماد میں لے کر بچی کو ترک منشیات کے ادارے میں داخل کروا کر علاج کروایا۔ اس کی پھوپھو سے کھل کر بات کی اور بچے کو بھی علاج کے لیے بلوایا اور اس کا بھی علاج کروانے کے بعد میں نے دونوں گھرانوں کو آمنے سامنے بٹھایا اور ان سے سارا معاملہ کہ دیا۔ کچھ قسم تو ٹوٹی مگر اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لی اور کفارہ بھی ادا کیا مگر میری کوششیں سے وہ بچے منگنی کے بندھن میں بندھ گئے۔

یہ تو تھا واقعہ ۔۔ اب آئیں اصل مسئلے پر۔۔ اور وہ یہ ہے کہ ہمارے بچوں کے ساتھ یہ ہو کیا رہا ہے۔ سکولوں کے باہر ریہڑیوں پر اور سکول کالجوں کی کینٹینوں پر محلے میں پھرتے ریہڑی اور چھابڑی والے خوانچے والے ہمارے بچوں کے ساتھ کیا کچھ کر رہے ہیں اسکا علم اکثر والدین کو ہے ہی نہیں۔ یہ لوگ اپنی چیز بیچنے کے لیے جو جو کچھ کر رہے ہیں اس کا عشر عشیر بھی ہمیں نہیں معلوم۔ ہمارے بچے اب نشوں پر لگ چکے ہیں۔ اور ہمیں معلوم ہی نہیں۔ ہم بحیثیت مجموعی اپنی اولادوں سے غافل ہیں۔

براہ کرم ان خوانچہ فروش مافیا سے ہمیں بچنا ہوگا۔ حکومت بیخبر ہے تو والدین اور اساتذہ کو جاگنا ہوگا۔ ان تک اپنے بچوں کو نہ جانے دیں۔ نشہ نہ بھی ہو تو ان کی گندگی ہی بہت ہے بچوں کی صحت تباہ کرنے کے لئے۔

یہ بچے ہمارا مستقبل ہیں ان کو نشئی اور گمراہ ہونے سے بچا لیں۔ گول گپے والا تو گول گپے بیچ جائے گا مگر ہماری پوری نسل نشہ آور بن کر تباہ ہو جائے گی۔

جاگتے رہیئے ورنہ سب کچھ سو جائے گا۔۔

یا اللہ ہماری حفاظت فرما ان دشمنوں سے آمین۔

اقامہ پانامہ سے زیادہ سنگین معاملہ ؟

ذرا سوچئے پاکستان کے یہ تاجر سیاست دان آخر جعلی تنخواہوں پر سعودی عرب اور یو اے ای کے اقامے کیوں رکھتے ہیں جبکہ پول کھل جانے پر قومی اسمبلی کی رکنیت تک معطل ہونے کا خطرہ ہے ؟؟؟

*دو وجوہات ہیں ۔*

پہلی ۔۔۔۔۔ سویٹزرلینڈ سمیت کئی ممالک کے فارن بینکس، اکاؤنٹ کھولنے پر آپ کی نیشنلٹی نہیں بلکہ ” رہائش ” رپورٹ کرتے ہیں یعنی وہ جگہ جہاں آپ رہتے ہیں اور ٹیکس ادا کر تے ہیں۔

ان اقاموں کی بدولت ہمارے کرپٹ سیاستدان ان بینکوں میں خود کو یو اے ای یا سعودی عرب کا ٹیکس دہندہ ظاہر کرتے ہیں۔ تنخواہ وہ بے شک جعلی لیں لیکن ٹیکس وہاں وہ اصلی ادا کرتے ہیں۔

اب ان ممالک میں یہ سہولت ہے کہ اقامے کے لیے وہاں آپ کو مستقل رہائش رکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ چھ ماہ میں آپ کا ایک وزٹ کافی ہوتا ہے۔

مطلب سیاست کرو پاکستان میں رہائش ظاہر کرو وہاں کی۔

*اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے*
کہ اگر کبھی حکومت پاکستان آفیشلی ان ممالک کے بینکوں سے رابطہ کر کے پاکستانیوں کا ریکارڈ طلب کرے تو ہمارے وہ کرپٹ سیاستدان صاف بچ جاتے ہیں جنہوں نے سعودی یا یو اے ای کے اقاموں پر اکاؤنٹس کھولے ہیں۔
*وہ فارن بینک ان کے نام پاکستان کو نہیں بتاتے۔*

اسی لیے سابقہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی جعلی ملازمت پر یو اے ای کا اقامہ رکھا ہوا تھا تاکہ اگر کل اس کے حوالے سے معلومات طلب کی جائیں تو سوئس اور برٹش بینک اسکا ریکارڈ پاکستان سے شیر نہ کریں۔

آخر کیا وجہ تھی کہ جب جے آئی ٹی دبئی گئی تھی تو وزیراعظم پاکستان پاگلوں کی طرح دبئی حکومت سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا؟ اور محض “فون اٹھانے” کے لیے ان کو حکومت پاکستان کی طرف سے آفیشلی درخواست کی تھی ۔

اور غالبا اسی لیے ان کو اپنی پارٹی میں کوئی ایسا شخص نہیں مل رہا جس کے پاس اقامہ نہ ہو تاکہ اس کو وزیراعظم بنا سکیں۔

*اقامے کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ بروقت بھاگنے کا یہ سب سے تیز ترین ذریعہ ہے۔*

آئین پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی کے اراکین دہری شہریت نہیں رکھ سکتے۔ اس لیے اگر انہیں اچانک پاکستان سے بھاگنے کی ضرورت پڑے تو انہیں دوسرے ممالک کے ویزے کے لیے اپلائی کرنا پڑتا ہے۔ جس سے پورا پاکستان باخبر ہوجاتا ہے۔ ان اقاموں کی بدولت یہ صرف جہاز میں بیٹھتے ہیں اور راتوں رات نکل جاتے ہیں۔

اقامہ پانامہ سے بڑا اور زیادہ سنگین ایشو ہے۔ پانامہ میں صرف چند لوگوں کا نام آیا ہے لیکن اقامہ میں 80 فیصد پارلیمنٹ پکڑی جائیگی اور اگر یو اے ای اور سعودی حکومت نے تعاؤن کیا تو ان کے بینکوں کے وہ وہ ریکارڈز سامنے آئنگے کہ لوگ پانامے کو بھول جائنگے۔

وکی لیکس کے کچھ نئے انکشافات

پانامہ پیپرز امریکہ نے تیار کروائے ،وکی لیکس
پانامہ پیپرز کی تیار ی اور اشاعت کے لئے فنڈز یو ایس ایڈ اور جارج سوروس فاونڈیشن نے دیے
آصف نوید
آج نیوز اسلام آباد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے اور اپنے مفادات کی راہ میں حائل نواز حکومت کو ختم کرنے کے لیے ”پانامہ پیپرز “تیار کروائے اور انھیں دینا بھر میں پھیلانے کے لیے امریکی ادارے ” یو ایس ایڈ اور جارج سورس فاو¿نڈیشن کے زریعے فنڈ ز مہیا کیے ہیں۔وکی لیکس نے جاری کی گئی خفیہ دستاویزات میں اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ امریکی جو دینا بھر میں اپنا لبرل اور مہم جوئی کا کر دار تیزی کے ساتھ کھورہا ہے ، اب اس کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ دنیا میں سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران پیدا کرنے کے لیے ڈالر کی طاقت کو استعمال کرے۔ پانامہ پیپرز تیار کرنے والی ریاست(پانامہ) امریکہ کی ایک کالونی ہے جہاں سی آئی اے کا ایک بڑا آپریشن سنٹر اور امریکی اڈے موجود ہیں ، پانامہ میں امریکی سی آئی اے کی مرضی کے بغیر چڑیا پر نہیں مار سکتی ہے ۔ پانامہ امریکہ کے لیے ڈرگ کے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے ایک اہم گزر گاہ ہے ، امریکہ ڈرگ کی آمدنی لاطینی امریکہ میں اپنی مخالف انقلابی حکومتوں کا تختہ الٹنے لیے استعمال کرتا ہے ،پانامہ کے صدر نو ریگا جو لاطینی امریکہ میں انقلابی حکومتوں کی حمایت کرتا تھا اس نے امریکہ کے لیے پانامہ کے راستے ڈرگ کا کاروبار کرنے والوں کا راستہ بند کر دیا تھا جس پر امریکہ نے پہلے اسے سخت نتائج کی دھمکی دی جب وہ امریکی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوا تو امریکہ نے 20 دسمبر 1989کو Operation Just Cause کے نام سے پانامہ پر حملہ کر کے وہاں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کی ، پانامہ کے صدر نوریگا نے امریکی قبضے کے بعد ویٹی کن سٹی کے سفارتخانے میں پناہ لی مگر امریکہ نے تمام تر سفارتی اداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے 3 جنوری 1990 کو سفارتی خانے پر فوجی حملہ کیا اور صدر نو ریگا کو سفارتخانے سے اٹھا کر MC-130E Combat Talon I aircraftجہاز می کے زریعے امریکہ لے جا کر جیل میں ڈال دیا ۔امریکہ نے پانامہ میں اپنی اسی کٹھ پتلی حکومت کے زریعے پانامہ پیپرز تیار کروائے جنھیں امریکہ مخالف حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ان پیپرز کی تیاری کے لیے ، وکی لیکس کے مطابق امریکہ کے سرکاری ادارے ” یو ایس ایڈ اور امریکہ کی ہی جارج سورس فاو¿نڈیشن نے فنڈ ز مہیا کیے ہیں۔جارج سورس فاونڈیشن جو دینا میں امریکی مفادات کے لیے کام کرتی ہے ، اس نے 1990کی دہائی میں جب مشرق بعید کے ممالک ملایشیا وغیرہ جو ایشین ٹاگرز کہلاتے تھے ،عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے مل کر ملایشیا میں کرنسی کا بحران پیدا کر کے وہاں کی معیشت کو عملا تباہ کر دیا تھا، ملایشیا کے صدر مہاتر محمد نے اس بحران کی تمام تر زمہ داری امریکہ کی ایما پر کام کرنے والے آئی ایم ایف اور جارج سورس فاونڈیشن پر عائد کی تھی ۔
سیاسی مبصرین کا موقف ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کا بنیادی مقصد یہاںشام اور عراق کی طرح کے حالات پیدا کرنا اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے تاکہ دینا کو یہ باور کروایا جا سکے کہ کسی بھی وقت دہشت گرد ریاست پاکستان پر قبضہ کر سکتے ہیں اور وہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کر کے پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں ،ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار عالمی کنٹرول (امریکی کنٹرول) میں لے لیے جائیں ۔ان مبصرین کا خیال ہے کہ 2014میں بھی دھرنے کے دوران ملک پر قبضے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی مگر بڑی اپوزیشن جماعتوں نے اس سازش کو ناکام بنانے میں حکومت کا بھر پور ساتھ دیا تھا، جس کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ پہلے حکمران خاندان کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کے لیے اس قدر بد نام کیا جائے تاکہ جب انھیں نکالا جائے تو اُنھیں اپوزیشن جماعتوں سیمت عوام کی حمایت نہ مل سکے ، اس مقصد کے لیے پانامہ پیپرز تیار کر کے ملک میں ایک ایسا بحران پیدا کر دیا گیا ہے کہ جس سے ملک عملا تبائی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔عالمی میڈیا میں چھپنے والی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سارے کھیل میں حزب اختلاف کی ایک بڑی جماعت امریکی سامراج کے ہاتھ میں کٹھ پتلی کا کر دار ادا کر رہی ہے جو امریکہ کی سرپرستی میں پاکستان میں شام عراق اور لیبیا کی طرز پر خون کی ہولی کھیلنے کی تیاری کر رہی ہے جس کے لیے بلوائیوں کے لشکر تیار کرنے کے لیے جرائم پیشہ تنظیموں اور عالمی دہشت گرد گرہوں سے رابطوں کا بھی انکشافات ہو رہے ہیں ،2014 میں بھی ایسے ہی جتھوں کو ان کے طعام و قیام کا بندو بست کر کے دارلحکومت اسلام آباد پر قبضے کاحدف دیا گیا تھا،ان بلوائیوں نے پروگرام کے مطابق دارلحکومت پر قبضے کی یکے بعد دیگرے کئی کوششیں کیں مگر حکومت کی کامیاب حکمت عملی اور اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کے تعاون سے بلوائیوں کے ان حملوں کو ناکام بنا دیا گیا تھا۔
نواز حکومت کے خلاف مبینہ سازش کے حوالے سے ایک عالمی نشریاتی اشاعتی ادارے گارڈین لائیونے اپنی 6نومبر 2016کی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ 2017 کے وسط میں مسلم لیگ کی حکومت کو عدالتی بغاوت (judicial coup) کے ذریعے ختم کر دیا جائے گا ، رپورٹ کے مطابق اس کی منصوبہ بندی جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف نے کی ہے ۔ ان دنوں رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایک بڑا اسلامی ملک بھی پڑوسی اسلامی ممالک کے خلاف فوج مہیا نہ کرنے پر نواز شریف سے سخت نالاں ہے اور اسنے بھی امریکہ سے مل کر نواز شریف کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ ان مبصرین کا خیال ہے کہ نواز شریف کے جرائم اس قدر بڑے ہیں کہ اسے کوئی بھی درگزر کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ مبصرین کے مطابق نواز شریف کا پہلا بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے پاکستان کو امریکی غلامی سے نکالنے کی راہ ہموار کی اور خطہ کے ممالک کے ساتھ مل کر اجتماعی ترقی اور منسلکی کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے ۔نواز شریف کا دوسرا بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے بھارت کے ساتھ مل کر چین کا گھیراو کرنے کے لیے امریکی مطالبے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔نواز شریف کا تیسرا بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے چین کے ساتھ مل کر سی پیک منصوبے کی بدولت پاکستان کو خطہ کا سب سے بڑا تجارتی مرکز بنا رہاہے ۔نواز شریف کا چوتھا بڑا جرم یہ ہے کہ جون 2013میںڈیفالٹ ہونے والے پاکستان کو بحران سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ نواز شریف کا پانچواں بڑاجرم یہ ہے کہ اس نے چھیاسٹھ سالوں میں ہونے والی مجموعی سرمایہ کاری سے زیادہ سرمایہ کاری ان چار سالوں میں لائی ہے جس کے باعث پاکستان آئندہ پانچ سے سات سالوں میں تیزی کے ساتھ ترقی کرنے والا چین کے بعد دوسرا بڑا ملک ہو گا ۔نواز شریف کاچھٹا بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے امریکہ کی مخالفت کے باوجود روس اور چین کی قیادت میں بننے والے ایشیا ، یورپ اور افریقہ کے 80 سے زاہد ممالک کے اتحاد میں پاکستان کو شامل کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے ۔نواز شریف کا ساتواں بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے امریکہ کی مخالفت کے باوجود روس کو سی پیک میں شامل کرنے کے لیے راہ ہموار کی ہے ۔نواز شریف کا آٹھواں بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے افغانستان سے نکلنے کے لیے امریکہ کو محفوظ راستہ فراہم کرنے میں مدد نہیں کی ہے ۔نواز شریف کا نواں جرم یہ ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد میں شمولیت سے انکار کیا ہے ۔نواز شریف کا دسواں بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے ایک بڑی اسلامی ملک کو پڑوسی اسلامی ممالک کے خلاف فوج دینے سے انکار کر دیا۔نواز شریف کا گیارواں جرم یہ ہے کہ اس نے امریکی پالیسیوں کے برعکس فیڈریشن کو مضبوط کیا اور سی پیک کے زریعے چاروں صوبوں کو ایک مضبوط زنجیر میں باندھ دیا ہے ۔نواز شریف کا بارواں بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے بلوچستان خیبر پختونخواہ اور سندھ کی قوم پرست قیادت کو ساتھ لیکر چلنے کی پالیسی اختیار کی جس سے ان صوبوں میں علحدگی کی تحریکیں کمزور ہوئی ہیں اور نواز شریف کا تیرواں بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے امریکہ اور مقامی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے برعکس بھارت کے ساتھ تنازعہ کشمیر کو پر امن بنیادوں پر حل کرنے کی کوششیںترک نہیں کی ہیں۔ہر چند کے نواز شریف کے جرائم کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے، جن کے باعث مبصرین کا خیال ہے کہ نواز شریف کو اب کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے ، ان مبصرین کا یہ موقف ہے کہ فوج سیمت تمام دوسرے اداروں کی یہ تاریخی زمہ داری ہے کہ وہ ملک کے خلاف ہونے والی سازش کو ناکام بنانے کے لیے فیصلہ کن کر دار ادا کریں،اس کے برعکس اگر یہ سازش کامیاب ہوتی ہے تو یہ حکومت کی نہیں ریاست کی ناکامی ہو گی جس کی سزا پوری قوم کو بھگتنا ہو گی۔ اسی حوالے سے دوسری رائے یہ ہے کہ حکومت کے خلاف جو جنگ شروع کی گئی ہے ، نواز شریف کو یہ جنگ ختم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے ،وہ اس سازش میں شامل تمام کر داروں کے بے نقاب ہونے تک کوئی جوابی حملہ نہیں کریں گے ،جب تمام سازشی کر دار بے نقاب ہو جائیں گے تو اس کے بعد وہ یہ کیس پہلے عوام کی عدالت میں لے جائیں گے، پھر دوسرے محاذوں پر لڑیں گے ،اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ نواز شریف ملک کو سازشیوں کے حوالے کر کے چلاجائے گا تو یہ اس کی بہت بڑی بھول ہو گی۔

ہمارے ملک کی کیا بات ہے

“احوال سگاں”

🐕ایک مرتبہ ایک یورپی کتّا ہمارے ملک آگیا….

ہمارے ملک کے کُتّوں نے پوچھا:
بھئی آپ کے یہاں کوئی کمی ہے جو آپ ہمارے ملک میں آگئے….؟

اُس نے کہا: میرے وہاں کا رہن سہن, آب وہوا, کھانا پینا اور معمولاتِ زندگی یہاں سے کہیں بہتر ہے…

لیکن بھونکنے کی جیسی آزادی جو آپ کے ملک میں ہے ویسی پوری دنیا میں کہیں نہیں.
🐕🐕🐕🐕🐕

کچھ کام ہمارے کرنے کے بھی ہوتے ہیں

منقول

ایک بڑے اسکول کے چھوٹے سے بچے کو جب میں نے کلاس میں ریپر پھینکتے دیکھا تو فورا بولا “بیٹا اس کو اٹھائیں” ,,,,, تو اس بچے نے جھٹ جواب دیا کہ “انکل ! میں کوئی سوئیپر تھوڑی ہوں.. تھوڑی دیر میں سوئیپر انکل آ کر اٹھا لینگے ۔” یہ اس بچے کا جواب نہیں تھا , یہ اس اسکول کا جواب تھا جہاں سے وہ تعلیم حاصل کررہا ہے۔

میں نے کئی لوگوں کو بغیر ہیلمٹ اور بغیر سیٹ بیلٹ باندھے پاکستان کے ٹریفک کے نظام کو گالیاں دیتے دیکھا ہے۔

میں نے کئی لوگوں کو فٹ پاتھ پر پان کی پیک مارتے ، اپنی گلی کے سامنے والی گلی میں کچرا ڈالتے ، سیگرٹ پی کر زمین پر ڈالتے اور پھر دبئی اور لندن کی صفائی ستھرائی کا ذکر کرتے دیکھا ہے۔

اپنے مکان کی تعمیر کے دوران اچھے خاصے درخت کو کاٹتے اور اور پھر سنگاپور کی ہریالی کا ذکر کرتے سنا ہے۔

میں نے کئی ماؤں کو چیختے ہوئے دیکھا ہے جو اپنے بچوں کو چیخ کر کہتی ہیں کہ چیخا مت کرو میں کوئی بہری نہیں ہوں اور کئی باپوں کو مارتے ہوئے دیکھا ہے کہ جو بچوں کو کہتے ہیں آئیندہ بھائی کو ہاتھ مت لگانا ورنہ ہاتھ توڑ دونگا۔

اپنے گھر کی گیلری کو بڑھاتے اور گلی گھیرتے دیکھا ہے اور ان ہی کی زبان سے امریکا اور یورپ کی چوڑی چوڑی گلیوں اور سڑکوں کا ذکر سنا ہے۔

میں نے مسجد کے باہر بیچ روڈ پر لوگوں کو گاڑی پارک کرتے دیکھا ہے کہ جن کو نماز کو دیر ہورہی ہوتی ہے اور پھر ان ہی لوگوں سے کئی کئی گھنٹوں حقوق العباد پر لیکچر سنا ہے۔

نجانے کتنے لوگوں کو شادی میں وقت کی پابندی اور سادگی پر جلتے کڑھتے دیکھا ہے اور پھر ان ہی کے گھر کی شادیوں میں وقت کو برباد ہوتے اور سادگی کی دھجیاں اڑتے دیکھی ہیں ۔ اور پتہ نہیں کتنے لوگوں کو ۔۔۔۔۔

ارے خیر چھوڑیں گذارش بس اتنی تھی کہ ہر کام نواز شریف ، زرداری ،فوج اور پولیس کو نہیں کرنے ہوتے.. کچھ کام ہمارے کرنے کی بھی ہوتے ہیں….. شکریہ

منقول..