بےشمار مسائل کو ایک ہی دفعہ کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟

ایک دانشور کی زندگی کا تجربہ:
ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﯿﺦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ، ﻣﯿﮟ ﺑﺤﺮﯼ ﺟﮩﺎﺯﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﺍﻥ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﻥ ﮐﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺘﻨﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﮐﻤﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﻭ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﭘﻮﭼﮭﯽ، ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﮯ، ﺗﻢ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻭ، ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ، ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﺎﮦ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﺍﻥ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ، ﻣﯿﺮﺍ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ “ﺗﻢ ﺁﺝ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﺟﺎﺅ، ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺟﮭﻮﭦ ﻣﻮﭦ ﮐﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﭘﮍ ﺟﺎﻧﺎ، ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﮐﺎﻡ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮧ ﻟﮕﺎﻧﺎ، ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﻟﯿﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺟﺎﻧﺎ” ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺷﯿﺦ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﯿﺎ، ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﮔﻮﺩﯼ ﭘﺮﻟﯿﭩﺎ ﺭﮨﺎ، ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁ ﮔﯿﺎ، ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ، ﺗﻢ ﺍﺏ ﺩﻭ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﻗﻢ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﺮ ﺩﻭ، ﺁﭖ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﯾﮟ ﻭﮦ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻼ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﻣﯿﺮﺍﺩﻝ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺩﻥ ﺧﻮﺏ ﺳﯿﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﻮﮎ ﺧﺘﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮئی، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﮐﻨﮉﯼ ﻟﮕﺎﺋﯽ، ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﺳﻮﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﮑﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ، ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺑﻮ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﭘﺮ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺷﯿﺦ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﯿﻔﯿﺎﺕ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ،
ﻭﮦ ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﮯ، ﺑﯿﭩﺎ ﯾﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﺎ ﮐﻤﺎﻝ ﮨﮯ، ﺣﺮﺍﻡ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻮﮨﺮ ﺍﮌﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﺁﭖ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ، ﺟﻼﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮭﻮﮎ ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺗﻨﮓ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﻮ ﭘﮭﯿﻼ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﺳﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ، ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ، ﺁﭖ ﮐﻮ ﺁﺝ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺣﺮﺍﻡ 40 ﺩﻥ ﺳﺘﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﺁﭖ ﺍﻥ 40 ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﭦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﺋﻞ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ، ﺁﭖ ﻏﯿﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ، ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻻﻟﭻ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ، ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻣﯿﺮ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﮔﯽ، ﻣﯿﮟ ﮈﺭ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ، ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﺍﻥ ﺑﺮﮮ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﺎ ﭼﺎﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ، ﻭﮦ ﺑﻮﻟﮯ ”ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻭ، ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ“
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﺳﺮ ﮨﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ، “ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﺗﭙﺴﯿﺎ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻮ ﺳﯿﮑﮭﺎ، ﻭﮦ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﯾﮧ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﺍﯾﮏ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﭘﺮ ﺍﺳﺮﺍﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﭨﺎ ﺗﺎﻻ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺗﺎﻻ ﺍﯾﮏ ﺍﺳﻢ ﺍﻋﻈﻢ ﺳﮯ ﮐﮭﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺳﻢ ﺍﻋﻈﻢ ﮨﮯ ﺣﻼﻝ، ﺁﭖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺣﻼﻝ ﺑﮍﮬﺎﺗﮯ ﺟﺎﺅ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﺎ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﮐﮭﻠﺘﺎ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ“ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ”ﺍﻭﺭ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ“ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﮯ ”ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻭﮦ ﭼﯿﺰ ﺟﺴﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ، ﺳﻨﻨﮯ، ﭼﮑﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻻﻟﭻ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ، ﺁﭖ ﺍﺱ ﺣﺮﺍﻡ ﺳﮯ ﺑﭽﻮ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﻮ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﮌ ﺩﮮ ﮔﺎ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺟﻮﮨﺮ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﺎ“ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﭘﺮ ﭼﮭﺎﺋﯽ ﺩﮬﻨﺪ ﭼﮭﭧ ﮔﺌﯽ۔

مطالعہ قرآن بشکریہ قاری الیاس صاحب

[11/26, 8:56 AM] قاری الیاس صاحب: وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنَ
الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
سورۃ الزخرف آیت نمبر 31
کہتے ہیں، یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نہ نازل کیا گیا

۔ دونوں شہروں سے مراد مکہ اور طائف ہیں۔ کفار کا یہ کہنا تھا کہ واقعی خدا کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا اور وہ اس پر اپنی کتاب نازل کرنے کا ارادہ کرتا تو ہمارے ان مرکزی شہروں میں سے کسی بڑے آدمی کو اس غرض کے لیے منتخب کرتا ۔ رسول بنانے کے لیے اللہ میاں کو ملا بھی تو وہ شخص جو یتیم پیدا ہوا، جس کے حصے میں کوئی میراث نہ آئی ، جس نے بکریاں چرا کر جوانی گزار دی ، جو اب گزر اوقات بھی کرتا ہے تو بیوی کے مال سے تجارت کر کے ،اور جو کسی قبیلے کا شیخ یا کسی خانوادے کا سربراہ نہیں ہے ۔ کیا مکہ میں ولید بن مغیرہ اور عتبہ بن ربیعہ جیسے نامی گرامی سردار موجود نہ تھے ؟ کیا طائف میں عروہ بن مسعود،حبیب بن عمرہ، کنانہ بن عبد عمرو ، اور ابن عبد یالیل جیسے رئیس موجود نہ تھے ؟ یہ تھا ان لوگوں کا استدلال ۔ پہلے تو وہ یہی ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ کوئی بشر بھی رسول ہو سکتا ہے۔ مگر جب قرآن مجید میں پے در پے دلائل دے کر ان کے اس خیال کا پوری طرح ابطال کر دیا گیا، اور ان سے کہا گیا کہ اس سے پہلے ہمیشہ بشر ہی رسول ہو کر آتے رہے ہیں ، اور انسانوں کی ہدایت کے لیے بشر ہی رسول ہو سکتا ہے نہ کہ غیر بشر ، اور جو رسول بھی دنیا میں آۓ ہیں وہ یکایک آسمان سے نہیں اتر آۓ تھے بلکہ انہی انسانی بستیوں میں پیدا ہوۓ تھے ، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے ، بال بچوں والے تھے اور کھانے پینے سے مبرا نہ تھے، تو انہوں نے یہ دوسرا پینترا بدلا کہ اچھا ، بشر ہی رسول سہی، مگر وہ کوئی بڑا آدمی ہونا چاہیے ۔ مالدار ہو، با اثر ہو، بڑے جتھے والا ہو، لوگوں میں اس کی شخصیت کی دھاک بیٹھی ہوئی ہو۔ محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ و سلم) اس مرتبے کے
لیے کیسے موزوں ہو سکتے ہیں ؟

أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ۚ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا ۗ وَرَحْمَتُ
رَبِّكَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ
سورۃ الزخرف آیت نمبر 32

کیاتیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں؟ دنیا کی زندگی میں ان کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کیے ہیں، اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدر جہا فوقیت دی ہے تاکہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں اور تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو (ان کے رئیس ) سمیٹ رہے ہیں

۔ یہ ان کے اعتراض کا جواب ہے

جس کے اندر چند مختصر الفاظ میں بہت سی اہم باتیں ارشاد ہوئی ہیں:
پلی بات یہ کہ تیرے رب کی رحمت تقسیم کرنا ان کے سپرد کب سے ہو گیا ؟ کیا یہ طے کرنا ان کا کام ہے کہ اللہ اپنی رحمت سے کس کو نوازے اور کس کو نہ نوازے ؟ (یہاں رب کی رحمت سے مراد اس کی رحمت عام ہے جس میں سے ہر ایک کو کچھ نہ کچھ ملتا رہتا ہے )۔
دوسرے بات یہ کہ نبوت تو خیر بہت بڑی چیز ہے ، دنیا میں زندگی بسر کرنے کے جو عام ذرائع ہیں ، ان کی تقسیم بھی ہم نے اپنے ہو ہاتھ میں رکھی اور کسی کے حوالے نہیں کر دی ۔ ہم کسی کو حسین اور کسی کو بدصورت، کسی کو خوش آواز اور کسی کو بد آواز، کسی کو قوی ہیکل اور کسی کو کمزور کسی کو ذہن اور کسی کو کند ذہن ، کسی کو قوی الحافظہ اور کسی کو نسیان میں مبتلا، کسی کو سلیم الاعضاء اور کسی کو اپاہج یا اندھا یا گونگا بہرا، کسی کو امیر زادہ اور کسی کو فقیر زادہ، کسی کو ترقی یافتہ قوم کا فرد اور کسی کو غلام یا پس ماندہ قوم کا فرد پیدا کرتے ہیں۔ اس پیدائشی قسمت میں کوئی ذرہ برابر بھی دخل نہیں دے سکتا ۔ جس کو جو کچھ ہم نے بنا دیا ہے وہی کچھ بننے پر وہ مجبور ہے ۔ اور ان مختلف پیدائشی حالتوں کا جو اثر بھی کسی کی تقدیر پر پڑتا ہے اسے بدل دینا کسی کے بس میں نہیں ہے ۔ پھر انسانوں کے درمیان رزق ، طاقت ، عزت ، شہرت ، دولت، حکومت وغیرہ کی تقسیم بھی ہم ہی کر رہے ہیں ۔ جس کو ہماری طرف سے اقبال نصیب ہوتا ہے اسے کوئی گرا نہیں سکتا، اور جس پر ہماری طرف سے اِدبار آ جاتا ہے اسے گرنے سے کوئی بچا نہیں سکتا ۔ ہمارے فیصلوں کے مقابلے میں انسانوں کی ساری تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ اس عالمگیر خدائی انتظام میں یہ لوگ کہاں فیصلہ کرنے چلے ہیں کہ کائنات کا مالک کسے اپنا نبی بناۓ اور کسے نہ بناۓ۔
تیسری بات کہ اس خدائی انتظام میں یہ مستقل قاعدہ ملحوظ رکھا گیا ہے کہ سب کچھ ایک ہی کو، یا سب کچھ سب کو نہ دے دیا جاۓ۔ آنکھیں کھول کر دیکھو۔ ہر طرف تمہیں بندوں کے درمیان ہر پہلو میں تفاوت ہی تفاوت نظر آۓ گا ۔ کسی کو ہم نے کوئی چیز دی ہے تو دوسرے کسی چیز سے اس کو محروم کر دیا ہے ، اور وہ کسی اور کو عطا کردی ہے ، یہ اس حکمت کی بنا پر کیا گیا ہے کہ کوئی انسان دوسروں سے بے نیاز نہ ہو، بلکہ ہر ایک کسی نہ کسی معاملہ میں دوسرے کا محتاج رہے ۔ اب یہ کیسا احمقانہ خیال تمہارے دماغ میں سمایا ہے کہ جسے ہم نے ریاست اور وجاہت دی ہے اسی کو نبوت بھی دے دی جاۓ ؟ کیا اسی طرح تم یہ بھی کہو گے کہ عقل، علم، دولت ، حسن ، طاقت ، اقتدار، اور دوسرے تمام کمالات ایک ہی میں جمع کر دیے جائیں، اور جس کو ایک چیز نہیں ملی ہے اسے دوسری بھی کوئی چیز نہ دی جاۓ ؟
[11/26, 9:22 AM] قاری الیاس صاحب: ۗ وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (٣٢)اور تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو (ان کے رئیس) سمیٹ رہے ہیں
یہاں رب کی رحمت سے مراد اس کی رحمت خاص ، یعنی نبوت ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنے جن رئیسوں کو ان کی دولت و وجاہت اور مشیخت کی وجہ سے بڑی چیز سمجھ رہے ہو، وہ اس دولت کے قابل نہیں ہیں جو محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ و سلم) کو دی گئی ہے ۔ یہ دولت اس دولت سے بدرجہا زیادہ اعلیٰ درجے کی ہے اور اس کے لیے موزونیت کا معیار کچھ اور ہے ۔ تم نے اگر یہ سمجھ رکھا ہے کہ تمہارا ہر چودھری اور سیٹھ نبی بننے کا اہل ہے تو یہ تمہارے اپنے ہی ذہن کی پستی ہے ۔ اللہ سے اس نادانی کی توقع کیوں رکھتے ہو ؟
[11/26, 9:28 AM] قاری الیاس صاحب: وَلَوْلَا أَنْ يَكُونَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً لَجَعَلْنَا لِمَنْ يَكْفُرُ بِالرَّحْمَٰنِ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفًا مِنْ فِضَّةٍ وَمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُونَ (٣٣)
وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْوَابًا وَسُرُرًا عَلَيْهَا يَتَّكِئُونَ (٣٤)
وَزُخْرُفًا ۚ وَإِنْ كُلُّ ذَٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَالْآخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِينَ (٣٥)
۔ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہر طریقے کے ہو جائیں گے تو خداۓ رحمان سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں، اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ اپنے بالا خانوں پر چڑھتے ہیں، اور ان کے دروازے ، اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں ، سب چاندی اور سونے کے بنوا دیتے۔ یہ تو محض حیات دنیا کی متاع ہے ، اور آخرت تیرے رب کے ہا ں صرف متقین کے لیے ہے ۔ع
یعنی یہ سیم و زر، جس کا کسی کو مل جانا تمہاری نگاہ میں نعمت کی انتہا اور قدر و قیمت کی معراج ہے ، اللہ کی نگاہ میں اتنی حقیر چیز ہے کہ اگر تمام انسانوں کے کفر کی طرف ڈھلک پڑنے کا خطرہ نہ ہوتا تو ہر کافر کا گھر سونے چاندی کا بنا دیا جاتا۔ اس جنس فرومایہ کی فراوانی آخر کب سے انسان کی شرافت اور پاکیزگی نفس اور طہارت روح کی دلیل بن گئی ؟ یہ مال تو ان خبیث ترین انسانوں کے پاس بھی پایا جاتا ہے جن کے گھناؤنے کردار کی سڑاند سے سارا معاشرہ متعفن زدہ ہو کر رہ جاتا ہے ۔ اسے تم نے آدمی کی بڑائی کا معیار بنا رکھا ہے ۔

کیا تلاوت والا موبائل بیت الخلاء میں لے جایا جا سکتا ہے؟

شیخ عبداللہ المطلق سعودی عرب کے بڑے علماء کی کمیٹی کے رکن ہیں۔ اُنکا شمار فی البدیہ اور فوراً فتویٰ دینے کے حوالے سے مشہور ترین علماء میں ہوتا ہے۔ ایک پروگرام کے دوران یمن سے ایک سائل نے ٹیلیفون کر کے پوچھا؛
شیخ صاحب، میرے موبائل میں قرآن شریف کی بہت سی تلاوت بھری ہوئی ہے۔ کیا میں موبائل کے ساتھ بیت الخلاء میں جا سکتا ہوں؟
شیخ صاحب: ہاں جا سکتے ہو، کوئی حرج نہیں۔
سائل نے سوال دوبارہ دہرایا: شیخ صاحب، میں موبائل میں قرآن شریف کے بھرے ہونے کی بات کر رہا ہوں۔
شیخ صاحب: میرے بھائی کوئی حرج نہیں، قرآن شریف موبائل کے میموری کارڈ میں ہوگا، تم اُسے ساتھ لیکر بیت الخلاء میں جا سکتے ہو۔
سائل: لیکن شیخ صاحب یہ قرآن کا معاملہ ہے۔ اور بیت الخلاء میں ساتھ لے کر جانا اچھا تو ہرگز نہیں ہے ناں!
شیخ صاحب؛ کیا تمہیں بھی کُچھ قرآن شریف یاد ہے؟
سائل: جی شیخ صاحب، مُجھے کئی سورتیں زبانی یاد ہیں۔
شیخ صاحب: تو پھر ٹھیک ہے، اگلی بار جب تُم بیت الخلاء جاؤ تو اپنے دماغ کو باہر رکھ جانا۔

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی دعا قبول ہو؟

ایک وقت آئے گا نیک لوگ دعائیں مانگیں گے اور دعائیں قبول نہ ہوں گی اس کی وجہ ؟
جب لوگوں کا یہ حال ہوجائے کہ وہ بُرائی دیکھیں اوراُسے بدلنے کی کوشش نہ کریں ظالم کوظلم کرتے پائیں اور اُس کا ہاتھ نہ پکڑیں .اور قریب ہے کے اللہ اپنے عذاب میں سب کو لپیٹ لے۔
اللہ کی قسم تم پہ لازم ہے کہ بھلائی کا حکم دو اوربُرائی سے روکو. ورنہ اللہ تم پر ایسے لوگوں کو مسلط کر دے گا.جو تم میں سب سے بدتر ہوں گے. وہ تم کو سخت تکلیف دیں گے اور پھر تمھارے نیک لوگ دعائیں مانگیں گے مگر وہ قبول نہ ہوں گی.
(جامع ترمزی 2178 ،سنن ابوداود 4338 ).

دنیاوی دولت اور جاہ و جلال کے بارے میں سنتِ نبویﷺ

وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ

اور نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھو دُنیوی زندگی کی اُس شان و شوکت کو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے وہ تو ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے دی ہے، اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق حلال ہی بہتر اور پائندہ تر ہے

تفسير:

  اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور غالباً دونوں ہی مراد بھی ہیں۔ ایک یہ کہ تم اپنی موجودہ حالت پر راضی ہو جاؤ جس میں اپنے مِشن کی خاطر تمہیں طرح طرح کی ناگوار باتیں سہنی پڑ رہی ہیں، اور اللہ کے اس فیصلے پر راضی ہو جاؤ کہ تم پر ناحق ظلم اور زیادتیاں کرنے والوں کو ابھی سزا نہیں دی جائے گی، وہ داعی حق کو ستاتے بھی رہیں گے اور زمین میں دندناتے بھی پھریں گے ۔

 دوسرا مطلب یہ ہے کہ  تم ذرا یہ کام کر کے تو دیکھو ، اس کا نتیجہ  وہ کچھ سامنے آئے گا  جس سے تمہارا دل خوش ہو جائے گا یہ دوسرا مطلب قرآن میں متعدد مقامات پر مختلف طریقوں سے ادا کیا گیا ہے ۔ مثلاً سورۂ بنی اسرائیل میں نماز کا حکم دینے کے بعد فرمایا  عَسٰی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا، ”توقع ہے کہ تمہارا رب تمہیں مقام ِ محمود پر پہنچا دے گا“ آیت ۷۹۔ اور سُورۂ ضحٰی میں فرمایا   وَلَلْاٰ خِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلیٰ o وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضیٰ،” تمہارے لیے بعد کا دَور یقیناً پہلے دَور سے بہتر ہے، اور عنقریب تمہارا ربّ تمہیں اتنا کچھ دے گا کہ تم خوش ہو جاؤگے“۔

 مطلب یہ ہے کہ تمہارا اور تمہارے ساتھی اہلِ ایمان کا یہ کام نہیں ہے کہ یہ فسّاق و فجّار ناجائز طریقوں سے دولت سمیٹ سمیٹ کر اپنی زندگی میں جو ظاہری چمک دمک پیدا کر لیتے ہیں ، اس کو رشک کی نگاہ سے دیکھو۔ یہ دولت اور یہ شان و شوکت تمہارے لیے ہرگز قابلِ رشک نہیں ہے۔ جو پاک رزق

(”رزق حلال“، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی حرام مال کو ”رزقِ ربّ“ سے تعبیر نہیں فرمایا ہے۔)

 تم اپنی محنت سے کماتے ہو وہ خواہ کتنا ہی تھوڑا ہو، راستباز اور ایماندار آدمیوں کے لیے وہی بہتر ہے اور اسی میں وہ بھلائی ہے جو دنیا سے آخرت تک برقرار رہنے والی ہے

وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۖ لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا ۖ نَحْنُ نَرْزُقُكَ ۗ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَىٰ

اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کے پابند رہو ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے، رزق تو ہم ہی تمہیں دے رہے ہیں اور انجام کی بھلائی تقویٰ ہی کے لیے ہے

تفسیر:

   تمہارے بال بچے بھی اپنی تنگ دستی و خستہ حالی کے مقابلہ میں اِن حرام خوروں کے عیش و عشرت کو دیکھ کر دل شکستہ نہ ہوں۔ ان کو تلقین کرو کہ نماز پڑھیں۔ یہ چیز اُن کے زاویۂ نظر  کو بدل دے گی۔ ان کے معیارِ قدر کو بدل دے گی ۔ ان کی تو جہات کا مرکز بدل دے گی۔ وہ پاک رزق پر صابر و قانع ہو جائیں گےاور اُس بھلائی کو جو ایمان و تقویٰ سے حاصل ہوتی ہے اُس عیش پر ترجیح دینے لگیں گے جو فسق و فجور اور دنیا پرستی سے حاصل ہوتا ہے۔

(سورۃ طٰهٰ آيت نمبر131-132)

Tafheem-ul-Quran

دعوت کے لئے قیمتی گُر

تفہیم القرآن سورۃ الأعراف آیات

199-200-201-202

خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ

(اے محمدﷺ) عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو

وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ ۚ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو خدا سے پناہ مانگو۔ بےشک وہ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے

إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ

جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں

وَإِخْوَانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ

اور ان (کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں پھر (اس میں کسی طرح کی) کوتاہی نہیں کرتے

ان آیات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کو دعوت تبلیغ اور ہدایت  و اصلاح کی حکمت کے چند اہم نکات بتائے گئے ہیں

اور مقصودصرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم  ہی کو تعلیم دینا نہیں ہے بلکہ آپ  کے ذریعہ سے اُن سب لوگوں کو بھی حکمت سکھانا ہے جو حضور کے قائم مقام بن کر دنیا کو سیدھی راہ دکھانے کے لیے اُٹھیں۔ ان نکات کو سلسلہ وار دیکھنا چاہیے:۔

    (1) داعی حق کے لیے جو صفات سب سے زیادہ ضروری ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسے نرم خو متحمل اور عالی ظرف ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے ساتھیوں کے لیے شفیق،

عامتہ الناس کے لیے رحیم

اور اپنے مخالفوں کے لیے حلیم ہونا چاہیے۔

اس کو اپنے رفقا کی کمزوریوں کو بھی برداشت کرنا چاہیے

اور اپنے مخالفین کی سختیوں کو بھی۔

اسے شدید سے شدید اشتعال انگیز مواقع پر بھی اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھنا چاہیے، نہایت  ناگوار باتوں کو بھی عالی ظرفی کے ساتھ ٹال دینا چاہیے، مخالفوں کی طرف سے کیسی ہی سخت کلامی بہتان تراشی، ایذا رسانی اور شریرانہ مزاحمت کا اظہار ہو، اُس کو درگزر ہی سے کام لینا چاہیے۔

سخت گیری، درشت خوئی، تلخ گفتاری اور منتقمانہ اشتعال طبع اس کام کے لیے زہر کا حکم رکھتا ہے اور اس سے کام بگڑتا ہے بنتا نہیں ہے۔ اسی چیز کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان فرمایا ہے کہ میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ ” غضب اور رضا،  دونوں حالتوں میں  انصاف کی بات کہوں، جو مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں، جو مجھے میرے حق سے محروم کرے میں اسے اس کا حق  دوں، جو میرے ساتھ ظلم کرے میں اس کو معاف کردوں“۔  اور اسی چیز کی ہدایت آپ ان لوگوں کو کرتے تھے جنہیں آپ دین کے کام پر اپنی طرف سے بھیجتے تھے کہ بشروا  ولا تنفر و یسرواولا تعسروا، یعنی”جہاں تم جاؤ وہاں تمہاری آمد لوگوں کے لیے مژدہ جانفرا ہونہ کہ باعثِ نفرت، اور لوگوں کے لیے تم سہولت کے موجب بنو نہ کہ تنگی و سختی کے “۔ اور اسی چیز کی تعریف اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمائی ہے کہ  فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْ ا مِنْ حَوْ لکَ۔ یعنی”یہ اللہ کی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے نرم ہو ورنہ اگر تم درشت خو اور سنگدل ہوتےتو  یہ  سب لوگ تمہارے گردو پیش سے چَھٹ جاتے“۔(آل عمران، ١۵۹)

(2) دعوت حق کی کامیابی کا گُر یہ ہے کہ آدمی فلسفہ طرازی اور

د قیقہ سنجی کے بجائے لوگوں کو معروف یعنی اُن سیدھی اور صاف بھلائیوں کی تلقین کرے جنہیں بالعموم سارے ہی انسان بھلا جانتے ہیں یا جن کی بھلائی کو سمجھنے کے لیے وہ عقلِ عام (Common sense ) کافی ہوتی ہے جو ہر انسان کو حاصل ہے۔ اس طرح داعی حق کا اپیل عوام و خواص سب کو متاثر کرتا ہے اور ہر سامع کے کان سے دل تک پہنچنے کی راہ نکال  لیتا ہے ۔ ایسی معروف دعوت کے خلاف جو لوگ شورش برپا کرتے ہیں  وہ خود اپنی ناکامی اور اس دعوت کی کامیابی کا سامان فراہم کرتے ہیں۔کیونکہ عام انسان، خواہ وہ کتنے ہی تعصبات میں مبتلا ہوں، جب یہ دیکھتے ہیں کہ ایک طرف ایک شریف النفس اور بلند اخلاق انسان ہے جو سیدھی سیدھی بھلائیوں کی دعوت دے رہا ہے اور دوسری طرف بہت سے لوگ اس کی مخالفت میں ہر قسم کی اخلاق و انسانیت سے گری ہوئی تدبیریں استعمال کر رہے ہیں، تو رفتہ رفتہ  ان کے دل خود بخود مخالفینِ حق سے پھر تے اور داعی حق کی طرف متوجہ ہوتے چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ آخر کار میدان مقابلہ میں صرف وہ لوگ رہ جاتے ہی جن کے ذاتی مفاد نظامِ باطل کے قیام ہی سے وابستہ ہوں، یا پھر جن کے دلوں میں تقلیدِ اسلاف اور جاہلانہ تعصبات نے کسی روشنی کے قبول کرنے کی صلاحیت باقی ہی نہ چھوڑی ہو۔ یہی وہ حکمت تھی جس کی بدولت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں کامیابی حاصل ہوئی اور پھر آپ کے بعد تھوڑی ہی مدت میں اسلام کا سیلاب قریب کے ملکوں پر اس طرح پھیل گیا کہ کہیں سوفی صدی اور کہیں ۸۰ اور ۹۰ فی صدی باشندے مسلمان ہو گئے۔

(3) اس دعوت کے کام میں جہاں یہ بات ضروری ہے کہ طالبینِ خیر کو معروف کی تلقین کی جائے وہاں یہ بات بھی اتنی ہی ضروری ہے کہ جاہلوں سے نہ اُلجھا جائے خواہ وہ اُلجھنے اور اُلجھانے کی کتنی ہی کوشش کریں۔ داعی کو اس معاملہ میں سخت محتاط ہونا چاہیے کہ اس کا خطاب صرف ان لوگوں سے رہے جو معقولیت کے ساتھ بات کو سمجھنے کے لیے تیار ہوں۔ اور جب کوئی شخص جہالت پر اُتر آئے اور حجت بازی، جھگڑالوپن اور طعن و تشنیع شروع کر دے تو داعی کو اس کا حریف بننے سے انکار کر دینا چاہیے۔ اس لیے کہ اس جھگڑے میں اُلجھنے کا حاصل کچھ نہیں ہے اور نقصان یہ ہے کہ داعی کی جس قوت کو اشاعتِ دعوت اور اصلاح نفوس میں خرچ ہونا چاہیے وہ اس فضول کام میں ضائع ہوجاتی ہے۔

(4) نمبر ۳ میں جو ہدایت کی گئی ہے اسی کے سلسلہ میں مزید ہدایت یہ ہے کہ جب کبھی داعی حق مخالفین کے ظلم اور ان کی شرارتوں اور ان کے جاہلانہ اعتراضات و الزامات پر اپنی طبیعت میں اشتعال محسوس کرے تو اسے فوراً سمجھ لینا چاہیے کہ یہ نزغِ شیطانی (یعنی شیطان کی اکساہٹ)ہے اور اسی وقت خدا سے پناہ مانگنی چاہیے کہ اپنے بندےکو اس جوش میں بہ نکلنے سے بچائے ور ایسا بے قابو نہ ہونے دے کہ اُس سے دعوتِ حق کو نقصان پہنچانے والی کوئی حرکت سرزد ہو جائے۔ دعوت حق کا کام بہر حال ٹھنڈے دل سے ہی ہو سکتا ہے اور وہی قدم صحیح اُٹھ سکتا  ہے جو جذبات سے مغلوب ہو کر نہین بلکہ موقع و محل کو دیکھ کر، خوب سوچ سمجھ کر اُٹھایا جائے۔ لیکن شیطان، جو اس کام کو فروغ پاتے ہوئے کبھی نہیں دیکھ سکتا، ہمیشہ اس کوشش میں لگا رہتاہے کہ اپنے بھائی بندوں سے داعی حق پر طرح طرح کے حملے کرائے اور پھر ہر حملے پر داعی حق کو اکسائے کہ اس حملے کا جواب تو ضرور ہونا چاہیے۔ یہ اپیل جو  داعی کے نفس سے کرتا ہے، اکثر بڑی بڑی پر فریب تاویلوں اور مذہبی اصلاحو ں کے غلاف میں لپٹا ہوا ہوتا ہے لیکن اس کی تہ میں بجز نفسانیت کے اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اسی لیے آخری دو آیتوں میں فرمایا کہ جو لوگ متقی(یعنی خدا ترس اور بدی سے بچنے کے خواہشمند) ہیں وہ تو اپنے نفس میں کسی شیطانی تحریک کا اثر اور کسی بُرے خیال کی کھٹک محسوس کرتے ہی فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آجاتا ہے کہ اس موقع پر دعوتِ دین کا مفاد کس طرزِ عمل کے اختیار کرنے میں ہے اور حق پرستی کا تقاضا کیا ہے ۔ رہے وہ لوگ جن کے کام میں نفسانیت کی لاگ لگی ہوئی ہے اور اس وجہ سے جن کا شیاطین کے ساتھ بھائی چارے کا تعلق ہے، تو وہ شیطانی تحریک کے مقابلہ میں نہیں ٹھیر سکتے اور اس سے مغلوب ہو کر غلط راہ پر چل نکلتے ہیں۔ پھر جس جس وادی میں شیطان چاہتا ہے انہیں لیے پھرتا ہے اور کہیں جا کر ان کے قدم نہیں رُکتے ۔ مخالف کی ہر گالی کے جواب میں ان کے پاس گالی اور ہر چال کے جواب میں اس سے بڑھ کر چال موجود ہوتی ہے۔

اس ارشاد کا ایک عمومی محل بھی ہے اور وہ یہ کہ اہلِ تقوایٰ کا طریقہ بالعموم اپنی زندگی میں غیر متقی لوگوں سے مختلف ہوتا ہے۔ جو لوگ حقیقت میں خدا سے ڈرنے والے ہیں اور دل سے چاہتے ہیں کہ برائی سے بچیں اُن کاحال یہ ہوتا ہے کہ بُرے خیال کا ایک ذرا ساغبار بھی اگر ان کے دل کو چھو جاتا ہے تو انہیں ویسی ہی کھٹک محسوس ہونے لگتی ہے جیسی  کھٹک اُنگلی میں پھانس چُبھ جانے یا آنکھ میں کسی ذرے کے گر جانے سے محسوس ہوتی ۔ چونکہ وہ بُرے خیالات ، بُری خواہشات اور بُری نیتوں کے خو گر نہیں ہوتے اس وجہ سے یہ چیزیں ان کے لیے اُسی طرح خلاف مزاج ہوتی ہیں جس طرح اُنگلی کے لیے پھانس یا آنکھ کے لیے ذرہ یا ایک نفیس طبع اور صفائی پسند آدمی کے لیے کپڑوں پرسیاہی  کا ایک داغ یا گندگی کی ایک چھینٹ۔ پھر جب یہ کھٹک انہیں محسوس ہو جاتی ہے تو اُن کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کاضمیر بیدار ہو کر اس غبار ِ شر کو اپنے اوپر  سے جھاڑ دینے میں لگ جاتا ہے ۔ بخلاف اس کے جو لوگ نہ خدا سے ڈرتے ہیں، نہ بدی سے بچنا چاہتے ہیں، اور جن کی شیطان سے لاگ لگی ہوئی ہے، ان کے نفس میں بُرے  خیالات ، بُرے ارادے، بُرے مقاصد پکتے رہتے ہیں اور وہ ان گندی چیزوں سے کوئی اُپراہٹ اپنے اندر محسوس نہیں کرتے ، بالکل اسی طرح جیسے کسی دیگچی میں سور کا گوشت پک رہا ہو  اور وہ بے خبر ہو کہ اس کے اندر کیا پک رہا ہے  ، یا جیسے کسی بھنگی کا جسم اور اس کے کپڑے غلاظت میں لتھڑے ہوئے ہوں اور اسے کچھ احساس نہ ہو کہ وہ کن چیزوں میں آلودہ ہے۔

تفہیم القرآن سورۃ الأعراف آیات

199-200-201-202 #Tafheem-ul-Quran

تفہیم القرآن: امتیازی خصوصیات

پروفیسر منصور خالد صاحب کا ترجمان میں شائع ہونے والا توجہ طلب مضمون

تفہیم القرآن__ امتیازی خصوصیات

پروفیسر سلیم منصور خالد

مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودی ۲۵ستمبر ۱۹۰۳ء کو اورنگ آباد، حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ اسی طرح آپ کے آباو اجداد کا تعلق حضرت ابو اسحاق شامی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھوں تشکیل پانے والے چشتیہ سلسلے سے تھا۔ آپ کے بزرگوں میں سے خواجہ محمد (۹۴۳ء۔۱۰۲۰ء) ان مجاہدین میں شامل تھے، جنھوں نے سلطان محمود غزنوی کے سومنات پر آخری اور فیصلہ کن معرکے میں شرکت کی سعادت حاصل کی تھی۔ ازاں بعد انھی کی اولاد سے خواجہ قطب الدین مودود چشتی (م:۱۱۳۳ء ) نے خدمت دین کے چراغ روشن کیے۔ مولانا مودودی کے والد سید احمد حسن کے نانا محسن الدولہ احمد کو انگریزوں نے ۱۸۵۷ء میں جنگ آزادی میں حصہ لینے کی پاداش میں پھانسی دے دی۔
مولانا مودودی نے ہوش سنبھالتے ہی جدید اور دینی تعلیم کے سرچشموں سے فیض پانے کے مواقع پائے۔ اس ضمن میں ان کے والد سید احمد حسن مودودی کی توجہ اور فکر مندی قابل ذکر تھی۔ والد کے ہاتھوں تربیت کے نتیجے میں مودودی صاحب کی اخلاقی، دینی، علمی اور سماجی شخصیت اس سانچے میں ڈھلی کہ وہ بیسویں صدی میں مفکرِ اسلام، مفسرِ قرآن اور قائد تحریک اسلامی کی حیثیت سے جانے اور پہچانے گئے۔ جنھوں نے لاکھوں لوگوں کے دلوں کی دنیا بدلی، افکار و خیالات کی دنیا میں حق بینی اور حق گوئی کا بیج بویا۔
مولانا مودودی نے لڑکپن میں جس حادثے یا المیے کے نتیجے میں اپنی ذات میں تحقیق و تحریر کی جس بے پناہ قوت کا اندازہ لگایا، اس صورتِ حال کا تعلق کم و بیش ہمارے موجودہ عہد سے ملتا جلتا تھا۔ وہ یہ کہ تب اسلام اور مسلمانوں کو ایک جانب تو افریقا اور ترکی میں کچلا جا رہا تھا۔ دوسری جانب ہندوؤں اور یورپی عیسائی سامراجیوں کی جانب سے یہ کہا جا رہا تھا کہ اسلام اور مسلمان خون آلود ماضی اور خون آلود لائحہ عمل رکھتے ہیں۔ اس حد درجہ سفاکانہ پراپیگنڈے کا جواب دینے کے لیے ۲۴برس کی عمر میں مولانا مودودی نے الجہاد فی الاسلام لکھنا شروع کی۔ جو بعدازاں ایک معرکہ آرا کتاب کی صورت میں اہل علم کی تحسین اور توجہ کا مرکز بنی، اور اسی کتاب نے علامہ محمداقبال کو مولانا مودودی کی جانب متوجہ کیا۔ اس موقعے پر اقبال نے فرمایا تھا: اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانون صلح و جنگ پر یہ ایک بہترین تصنیف ہے، اور میں ہر ذی علم کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے۔ اقبال ہی نے بعد ازاں چودھری نیاز علی خاں کے وقف (پٹھان کوٹ،پنجاب) میں منتقل ہونے کی دعوت دی۔
مولانا مودودی نے جہاں اسلام کے دیگر پہلوؤں پر قلم اٹھایا اور عصرِ حاضر کے چیلنجوں کا جواب دیا، وہیں انھوں نے جنوری ۱۹۴۲ء میں قرآن کریم کی تفسیر تفہیم القرآن لکھنا شروع کی۔ اور ۳۰برس پانچ ماہ کی مدت میں ۷جون ۱۹۷۲ء کو اسے مکمل کیا۔
کسی بھی زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرنا ایک مشکل کام ہے، لیکن جب معاملہ قرآن کریم جیسی الہامی کتاب اور الٰہی پیغام کا ہو، تو اس ذمہ داری کی نزاکت بے حدو حساب ہوجاتی ہے۔ مولانا مودودی سے قبل قرآن کریم کے اردو میں اکثر ترجمے لفظی سانچوں کے قریب رہ کر کیے گئے تھے، مگر ان میں کمی یہ تھی کہ قرآن کا مفہوم، پڑھنے والے تک منتقل نہیں ہو پاتا تھا۔ تاہم، مولانا فتح محمد جالندھری مرحوم کا ترجمہ کئی حوالوں سے بہتر اور عام فہم تھا۔ لیکن اسے عام فہم بنانے کے لیے انھوں نے قوسین میں بہت سی اضافی عبارتوں کا سہارا لیا تھا۔ جب کہ مولانا مودودی نے ترجمہ قرآن کے لیے قرآنی آیات کی ترجمانی کا راستہ اختیار کیا، اور کلام الٰہی کی حدود کا حد درجہ خیال رکھا کہ اسی دائرے میں رہتے ہوئے کلام پاک کو اردو خواں طبقے تک منتقل کریں۔ ماہرین لسانیات کے بقول مولانا مودودی نے قرآن سمجھنے کے لیے اپنے قاری کی بے پناہ دست گیری کی ہے۔ ترجمے میں روانی، ربط، عام فہم اور بامحاورہ بنا کر پیش کرتے ہوئے دل کش انداز اختیار کیا ہے۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن عظیم کی تفسیر تفہیم القرآن لکھتے وقت، مولانا مودودی نے کلاسیکی اسلوب تفسیر سے ذرا ہٹ کر، لیکن تفسیری روایت اور قرآن و حدیث کے متن سے جڑ کر تفسیری خدمت انجام دی ہے۔ تفسیر لکھنے سے پہلے انھوں نے اعلیٰ پاے کے تفسیری ادب اور امہات تفاسیر کا مطالعہ کیا۔ احادیث نبوی کے ہزاروں صفحات پر پھیلے لوازمے کا مطالعہ کر کے موضوعات کا اشاریہ بنایا، مسلم تاریخ اور فقہی لٹریچر کی بنیادی کتب کے مباحث اور کلامی معرکوں کو ذہن نشین کیا۔ دوسری جانب اپنے آپ کو عصرِ حاضر سے جوڑتے ہوئے مغربی افکار و نظریات اور برسرپیکار عالمی و مقامی تحریکات مثلاً :نسل پرستی، سرمایہ داری، اشتراکیت، لادینیت، استعماریت، اور نام نہاد آزاد خیالی کے نام پر سٹراند پیدا کرتی عریانی و فحاشی کے سرچشموں کو گہرائی میں جا کر پرکھا۔
مولانا مودودیؒ خود لکھتے ہیں: ’’اس سلسلے میں میں نے ویدوں کے تراجم لفظ بلفظ پڑھے۔ بھگوت گیتا لفظ بلفظ پڑھی۔ ہندو شاستروں کو پڑھا۔ بدھ مذہب کی اصل کتابیں جو انگریزی میں ترجمہ ہوئی ہیں، ان کو پڑھا۔ بائبل پوری پڑھی اور پادری ڈومیلو کی تفسیر کی مدد سے پڑی۔ یہودیوں کی اپنی کتابوں کو پڑھا۔ تالمود کے جتنے حصے مل سکے وہ سب پڑھے‘‘۔ یاد رہے مولانا مودودیؒ کو اردو، عربی، انگریزی اور فارسی پر تو دسترس حاصل تھی، اس کے ساتھ انھوں نے جرمن زبان بھی سیکھی تھی۔
اس کے پہلو بہ پہلو خود مسلمانوں میں در آنے والی آبا پرستی، الحاد، انکار حدیث، فرقہ پرستی اور اس کے ساتھ بدترین بغاوت انکارِ ختم نبوت کے کانٹوں بھرے جنگل کو صاف کرنے کے لیے چومکھی لڑائی لڑی۔ اس جان جوکھم معرکے اور اس مطالعاتی عمل کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی تفسیر لکھنے کا عمل بھی جاری رکھا۔ اس دوران میں مولانا مودودی پے درپے گرفتاریوں کا نشانہ بنے اور سزاے موت کا بھی سامنا کیا، جو بعد میں عمر قید میں تبدیل ہو گئی۔
تفہیم القرآن کے لکھے جانے سے پہلے اور پھر بعد میں بہت سے علماے کرام نے بھی کمال درجہ محنت، اور تفقہ فی الدین کے ساتھ تفسیر قرآن کی خدمات انجام دیں۔ اس کے باوجود تفہیم القرآن کو دوسری تفاسیر سے متعدد حوالوں سے امتیاز حاصل ہے۔ پروفیسر خورشید احمد کے مطابق: تفہیم القرآن میں اس نقطۂ نظر سے قرآن کا مطالعہ کیا گیا ہے کہ یہ کتاب صحیفۂ ہدایت ہے، جو ہر فرد اور پوری امت میں غور و فکر اور مطالعے کا ایک خاص انداز پیدا کرنا چاہتا ہے۔ تفہیم نے اس امر کی وضاحت پیش نظر رکھی ہے، کہ قرآن کریم، زمانے کے تغیر اور تبدیلی کے تقاضوں کا پورا لحاظ رکھتے ہوئے ایک مکمل ضابطۂ حیات فراہم کرتا ہے۔ اس مجموعی نقشے کے مطابق انسانی معاشرتی زندگی کے پورے دھارے کا رخ موڑنے کی قوت پیش کرتا ہے۔
تفہیم القرآن کے اوراق پر پھیلے مباحث سے یہ پیغام روشنی کی طرح پھوٹتا ہے کہ قرآن کریم ایک الہامی اور عظیم کتاب ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ابدی ہدایت اور پیغام دعوت ہے۔ دعوت قبول کرنے والوں کے لیے زندگی بھر کی جدوجہد کا ایک واضح اور نکھرا ہوا نصاب ہی نہیں بلکہ صراطِ مستقیم کا زادِ راہ بھی ہے۔
اسی طرح تفہیم القرآن نے سورتوں کے باہمی ربط اور سورتوں کے متن میں پوشیدہ وحدت کو بیان کرنے کے لیے کسی فلسفیانہ تقریر کے بجاے صاف اور عام فہم انداز میں نمایاں طور پر قاری کے سامنے پیش کیا ہے۔ مولانا مودودی نے ہر سورت کے پس منظر اور مرکزی موضوعات کو آغاز میں بیان کر کے قاری کے لیے سہولت دے کرقرآن فہمی سے اس کی وابستگی کو مضبوط بنا دیا ہے۔
تفہیم القرآن کا ایک بڑا کمال یہ ہے کہ اس نے فقہی مسائل کو اس توازن، اعتدال اور وسیع البنیاد رنگ میں حل کیا ہے کہ امت میں اتحاد اور بقاے باہم کی خوشبو بکھرتی ہے۔ انھوں نے کسی ایک فقہ کے وکیل صفائی بننے کے بجاے قرآن، سنت، حدیث اور اکابرین ملت اسلامیہ کے متفق علیہ فیصلوں اور افکار کو قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔
تفہیم القرآن میں تقابل ادیان کا موضوع خصوصی شان کا حامل ہے۔ اس ضمن میں مولانا مودودی نے اسرائیلی خرافات سے آلودہ روایات سے دینی لٹریچر، خصوصاً تفسیری ادب کو پاک کرنے کا کارنامہ انجام دینے والوں میں اہم مقام پایا ہے۔
تفہیم القرآن میں قدیم اور جدید کا توازن برقرار رکھا گیا ہے۔ مولانا مودودی نہ تو جدیدیت کا رنگ اختیار کر کے مغرب زدہ معذرت خواہی کی راہ پر چلے اور نہ قدامت سے چمٹ کر عصرِ حاضر سے بے خبر رہے۔ اس نازک سفر میں انھوں نے قرآن و سنت کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور جدید عہد کے سوالوں کا جرأت ایمانی اور دانش برہانی سے مدلل اور شافی جواب دیا۔
اس عظیم تفسیر کے انسائی کلوپیڈیا محاسن کو ایک مختصر مضمون میں سمیٹا نہیں جا سکتا۔ تاہم، یہ امر پیش نظر رہے کہ اب تک اس تفسیر کے ۶لاکھ ۴۰ہزار سے زیادہ سیٹ ( ۳۸لاکھ اور ۶۰ہزار جلدوں سے زیادہ ) اردو میں شائع ہو چکے ہیں، جب کہ اس کے مکمل ترجمے دنیا کی حسب ذیل زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں: انگریزی، ترکی، بنگالی، روسی، فارسی، پشتو، جرمن اور سندھی۔ جن زبانوں میں ترجمے تکمیل کے قریب ہیں، ان میں ہندی، چینی، جاپانی، انڈونیشنی، ہسپانوی اور عربی شامل ہیں۔
تفہیم القرآن کی اس مقبولیت کا اعتراف کرتے ہوئے حضرت مولانا انور شاہ کاشمیری کے شاگرد مولانا محمد چراغ نے فرمایا تھا: تفہیم القرآن کا پیرایۂ بیان اس قدر سلجھا ہوا ہے کہ انسان دورِ حاضر کے فتنوں کی اصل حقیقت سے اچھی طرح آگاہ ہو جاتا ہے۔ ملّاواحدی نے اعتراف کیا: ’’مولانا مودودی سمجھنے اور سمجھانے دونوں اوصاف سے بہرہ ور ہیں۔ سمجھنے کا وصف تو کسی نہ کسی قدر اکثر لوگوں میں ہوتا ہے، مگر سمجھانے کے وصف سے بہت کم لوگ نوازے جاتے ہیں۔ تفہیم القرآن جدت دکھاتی ہے، تاہم حدود اور اعتدال کے دامن کو پکڑے رہتی ہے‘‘۔ پروفیسر زینب کا کاخیل کے مطابق: ’’مولانا مودودی کا اصل مقصد کلام الٰہی کی صحیح ترین تفسیر بیان کرنا ہے، نہ کہ کسی خاص مکتب فکر کی تقویت یا آبیاری کرنا‘‘۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین جسٹس محمد افضل چیمہ نے کہا: تفہیم القرآن کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں نہ صرف طرز استدلال میں نہایت معقول اور سائنٹی فک انداز اختیار کیا گیا ہے بلکہ مناسب مقامات پر فلسفہ، طبیعیا ت، علم الکیمیا، فلکیات اور دیگر جدید سائنسی علوم کا براہِ راست تجزیہ کرتے ہوئے بات کی گئی ہے۔ جس سے ایک متجسس طالب علم کی علمی حس مطمئن ہوتی اور شکوک و شبہات کا ازالہ ہو جاتا ہے۔
فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس ڈاکٹر تنزیل الرحمان نے اعتراف کیا ہے: تفہیم القرآنمیں مولانا مودودی اس عہد کی زبانِ علم میں، اس عہد کے لوگوں سے مخاطب ہیں۔ میں نئی نسل کو تفہیم کے مطالعے کا مشورہ دوں گا۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ آج والدین کے لیے، اپنی اولاد کو پیش کرنے کے لیے تفہیم القرآن ایک بہترین تحفہ ہے، جو ایمان کو مضبوط، اسلامی تہذیب کو بارآور اور صراطِ مستقیم کے سفر کو آسان بنا دیتا ہے۔