کیا کبھی کوئی منافق آپ نے دیکھا ہے؟

  • ہمارے تھانے رشوت کا گڑھ ہیں ۔۔۔ مگر وہاں لکھا ہوتا ہے ” رشوت لینے والااور دینے والا دونوں جہنمی ہیں
  • ہماری کچہری میں 200 روپے میں گواہ مل جاتا ہے ۔۔۔ مگر وہاں لکھا ہوتا ہے ” جھوٹی گواہی شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے
  • ہماری عدالتوں میں انصاف نیلام ہوتا ہے ۔۔۔۔ مگر وہاں لکھا ہوتا ہے ” لوگوں کے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کرو
  • ہماری درسگاہیں جہالت بیچتی ہیں ۔۔۔۔مگر وہاں لکھا ہوتا ہے ” علم حاصل کرو، ماں کی گود سے لیکر قبر کی گود تک
  • ہمارے اسپتال موت بانٹتے ہیں ۔۔۔۔ مگر وہاں لکھا ہوتا ہے ” اور جس نے ایک زندگی بچائی اس نے گویا سارے انسانوں کو بچایا
  • ہمارے بازار جھوٹ ، خیانت ، ملاوٹ کے اڈے ہیں ۔۔۔۔ مگر وہاں لکھا ہوتا ہے ” جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں
  • ہماری مسجدیں ذاتی پراپرٹی ہیں ۔۔۔۔ مگر وہاں لکھا ہوتا ہے ” وان المساجد للہ ۔۔۔ ” ) اور مسجدیں اللہ کی ہیں ۔۔
  • ہر آدمی دوسرے کو صحیح کرنے پر کمر بستہ ہے مگر اس کو اپنا بہت اچھے طریقے سے علم ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے ۔
  • ہم جو لکھتے ہیں یہ ہمارا عقیدہ ہے ۔ اور جو کرتے ہیں یہ ہمارا عمل ہے ۔ جب عمل عقیدے کے خلاف ہو تو کیا کہیں اسی کا نام تو منافقت نہیں؟

ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺟﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ

کلمہ ، جمہوریت اور گوری

ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﺗﮭﮯ، ﺫﮬﻦ ﺍﺳﻼﻣﯽ، ﭼﮩﺮﮦﻏﯿﺮﺍﺳﻼﻣﯽ، ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ انگلینڈ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺟﺐ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺑﻐﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﻢ ﺗﮭﯿﮟ!

ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻣﯿﻢ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺗﮏ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﮐﯿﺎ.
ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ دﻭﭘﭩﮧ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﻮﺭﯼ ﭼﻮﺭﯼ ﻣﯿﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﻮ دیکھتیں ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮈﺭﺗﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﻮﺭﯼ ﻣﯿﻠﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ.
ﺩﻭﻟﮩﺎ ﮐﯽ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﻓﺨﺮﯾﮧ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮩﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﭘﮭﺮﺗﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﮭﯿﺎ ﺍﻧﮕﻠﯿﻨﮉ ﺳﮯ ﻣﯿﻢ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﭽﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﻣﯿﻢ ﺗﮭﯽ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﻠﺶ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺍﯾﺘﺎً ﭼﺎﺩﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭦ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ، ﺑﻼﺋﯿﮟ ﻟﯿﺘﯽ ﻟﯿﺘﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ. ﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ.
ﺻﺮﻑ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ، ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐِﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺟﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ،

ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮨﻮﮔﺌﮯ!

ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺗﮭﺎ، ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮔﺰﺭﺍ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ، ﻣﯿﺎﮞ ﮐﮯ ﺁﻓﺲ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﻢ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﯽ ﺑﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻣﮩﺮ ﺛﺒﺖ ﮐﺮﺗﯿﮟ! ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭼﮧ میگوئیاں ﮨﻮﺋﯿﮟ، ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﻔﺴﺎﺭ ﭘﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﮔﺮﻣﯿﺎﮞ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﭘﯿﻨﭧ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﻧﯿﮑﺮ ﭘﮩﻨﻨﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯼ، ﺍﺑﺎﺟﯽ نے ﺗﻮ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ، ﺍﻣﺎﮞ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺗﮑﺘﯽ ﺭﮨﺘﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﮔﺌﯿﮟ! ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﺷﮑﻮﮦ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﺍﯾﮏ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﺑﺮﯾﮏ ﻭ ﮐﯿﻨﺒﺮﮮ ﮈﺍﻧﺲ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﺩﻝ ﺗﮭﺎﻡ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ، ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﮔﻮﺭﯼ ﻋﯿﺪ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ ﮐﺮﺗﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﮐﺮﺳﻤﺲ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮮ ﺗﺰﮎ ﻭ ﺍﺣﺘﺸﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﻨﺎﺗﯽ ﺑﯿﭩﺎﺟﯽ ﮨﺮ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ ” ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ، ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ، ﺑﭽﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﺧﺘﻨﮯ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻇﻠﻢ ﮨﮯ، ﺑﯿﭩﺎﺟﯽ ﮐﮭﺴﯿﺎﻧﯽ ﺳﯽ ﮬﻨﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﻮﻟﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﮈﺍﻧﺲ، ﻣﯿﻮﺯﮎ، ﻓﻠﻤﯿﮟ، ﮐﺎﮎﭨﯿﻞ ﭘﺎﺭﭨﯿﺰ، ﮐﺮﺳﻤﺲ، ﺳﺮﻋﺎﻡ ﺑﻮﺱﻭﮐﻨﺎﺭ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﮐﻠﭽﺮ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻨﮯ، ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﻓﺮﯼ ﮨﻮﺗﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ، ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺳﮩﯿﻠﯿﺎﮞ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ۔ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻨﺰ ﮐﯽ ﭘﯿﻨﭩﯿﮟ ﭘﮩﻦ ﭘﮩﻦ کر ﺷﯿﺸﮯ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﺗﯿﮟ ﮐﻠﻤﮧ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ، ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﯿﮟ، ﮔﻮﺭﯼ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﺎﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻤﻌﮧ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﻨﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﮔﻮﺭﯼ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮ ﺳﮯ ﭼﭙﮏ ﺑﯿﭩﮭﺘﯽ، ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﺗﻮ ﺟﮕﮧ ﺗﻨﮓ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﺗﻨﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻠﺘﺎ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ” ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻡ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﺗﻮ ﺟﯿﻨﺰ ﺷﺮﭦ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﭘﭩﮧ ﺳﺎ ﮈﺍﻝ ﻟﯿﺘﯽ۔ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮐﺮﻟﯿﺘﮯ ﮐﮧ
“ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”!!!!!!

“ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ” ﺑﮭﯽ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﻨﯽ ﻣﺰﺍﺝ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﯿﺎﮦ ﻻﺋﮯ۔
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺩﮬﺮ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ، ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﻋﺐ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﯾﺴﯽ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﺎ، ﺍﺗﻨﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﭼﭩﯽ..
“ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ”!!

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ جرأت ﻧﮧ ﮐﯽ. ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﻟﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ.

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﻭﺍﺝ ﺗﻮﮌﮮ،
ﺩﺳﺘﻮﺭ ﺗﻮﮌﮮ،
ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﻟﮯ ﺁﺋﯽ،
ﻟﯿﮑﻦ ﻗﻮﻡ ﺧﻮﺵ ﮨﯽ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ!!

ﻣﻌﺎﺷﺮﺕ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﯾﮧ ﮨﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﺎﭼﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻏﯿﺮ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﺗﮭﺎ. ﻟﻮﮒ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ،
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺷﺮﮎ ﻭ ﮐﻔﺮ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﻮﺍﺯ ﺩﯾﺎ،
ﮨﺮ ﻇﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺩﯾﺎ، ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ،
ﮐﻠﻤﮯ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﻋﺎﻡ ﮐﯿﺎ،
ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻣﺤﻠﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ!!

ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﻣﺎﮞﺟﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔

ھماری بے راہ روی ﮐﻠﻤﮯ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺲ ﻣﯿﮟ بہتﮐﭽﮫ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮﺩﮮ ﮔﯽ.

ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ… اپنی زندگی میں اسلام لانے کی کوشش کیجئے ورنہ ھم نے بھی بس کلمہ ہی پڑھا ھوا ہے.

ایک اور سوال اور اس کا جواب

سوال:
مجھے فلاں خواب آیا ہے؛ میں اسکے بارے میں پریشان ہوں کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا آپ میری رہنمائی کر سکتےہیں؟

جواب:

حضور ﷺ نے بھی یہی کہا ہے اور قرآن میں اللہ نے بھی یہی کہا ہے کہ زیادہ تر خواب اضغاث احلام ہوتے ہیں یعنی پریشاں خیالی کا نتیجہ۔ جب آپکے خیالات الجھے ہوئے ہوتے ہیں، کچھ خوف ذہن پر سوار ہوتے ہیں، یا حالات دھندلے ہوتے ہیں سمجھ نہیں آ رہا ہوتا کہ کیا کریں یا کیا بنے گا تو ان دنوں میں خواب زیادہ آتے ہیں اور اکثر ڈر اور خوف والے مناظر پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب ذہنی یکسوئی ہوتی ہے ذہن میں اہداف واضح ہوتے ہیں تو ان دنوں عموماً یا تو خواب آتے ہی نہیں یا خوشی کے مفہوم والے ہوتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ بعض خواب وحی کی قسم سے تعلق رکھتے ہیں یعنی اکثر نہیں بلکہ بعض۔ تو ایسے خوابوں میں یقیناً کوئی غیبی خبر ہوتی ہے۔ ایسے خواب کب آئیں گے اور کس کو آئیں گے یہ اللہ کی مرضی پر منحصر ہے انسان کی کوشش پر نہیں۔
کس خواب کا کیا مطلب ہے اس کا عمومی فریم ورک قرآن و حدیث کے اندر ہی ہونا چاہئے۔ اب آپ اپنے خواب کا تجزیہ کریں تو آپ یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ مجھے اللہ کی طرف سے خوشخبری ملی ہے کہ اب تک میرا نامہ اعمال بحیثیت مجموعی مجھے اللہ کے رحم کا مستحق بنا دے گا تو یہ بالکل سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن آگے کیا ہو گا اس کا انحصار تو آئندہ اعمال پر ہے۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ اپنے خیالات کا تجزیہ کرکے اپنے دماغ میں الجھاؤ میں کمی کرنے کی کوشش کرو۔ میری ویبسائٹ پر وہ طریقہ لکھا ہوا ہے جو خود بھی سالوں سے استعمال کر رہا ہوں اور اپنے مریضوں کو بھی کئی دفعہ استعمال کرواتا رہتا ہوں۔
اکثر اوقات ذہنی الجھنوں کا پتہ نہیں چلتا، ذہن میں ٹھیک ٹھاک طوفان آیا ہوا ہوتا ہے لیکن بندہ سمجھ رہا ہوتا ہے میرے دماغ میں کوئی الجھاؤ نہیں ہے۔ اس طرح کی چیزوں سے indirect طریقے سے انکشاف ہوتا ہے کہ ذہنی الجھاؤ پیدا ہو چکا ہے مثلاً خوابوں کے آنے سے، معدہ خراب ہو جانے سے، نیند خراب ہو جانے سے، سر درد رہنے سے، چیزیں بھولنے سے،

ایک اہم سوال اور جواب

سوال:
اگر کوئی اب پوری نمازیں پڑھتا ہو لیکن اسے ماضی میں چھوٹنے والی نمازوں کا افسوس ہو اور اس کا ضمیر مطمئن نہ ہو حالانکہ اس نے سچے دل سے معافی مانگی ہو تو کیا اس کو اپنی نمازیں پوری کرنے کیلئے کچھ کرنا ہوگا؟ یا اللہ پچھلے گناہوں کو معاف فرما دے گا؟
جواب:
توبہ سے پہلے کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ صرف حقوق العباد کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔ پرانی نمازیں، پرانے روزے، وغیرہ وغیرہ اللہ تعالی اس طرح کا حساب نہیں کرتا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب انسان سچے دل سے اور احساس ندامت کے ساتھ توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالی اتنی بات سے ہی اتنا زیادہ خوش ہوجاتا ہے کہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے اس کی خوشی اتنی زیادہ ہوتی ہے ایک ماں کی خوشی سے ستر گنا زیادہ ہوتی ہے۔ بلکہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایسے جیسے آج ہی پیدا ہوا ہے یعنی کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہیں۔ حقوق العباد بھی وہ ادا کرنے ہیں جن کی ادائیگی کی استطاعت ہو۔ بہت سے ماضی کے وہ گناہ جو چھپے ہوئے ہوں ان کو ظاہر کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ جب اللہ نے پردہ ڈال دیا ہے تو پردہ ڈلا رہنے دیں بس اللہ سے معافی مانگتے رہیں اور آئندہ سچے دل سے نیت کرتے رہیں کہ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرنی۔ وہ عورت جو حضور ﷺ کے پاس آئی تھی کہ مجھ سے گناہ ہو گیا ہے مجھے پاک کر دیجئے۔ اس سے زنا ہو گیا تھا۔ اس کو بھی بار بار ترغیب دی کہ خاموش رہو توبہ کرو اور اللہ سے معافی مانگو آئندہ اس برائی سے بچو۔ جب وہ بار بار آئی اور سزا کا مطالبہ کرتی رہی تب جا کر اس کو سزا دی۔

ایک چاند

*رویت ہلال پر ایک چشم کشاں تحریر*

✌👌 *ایک چاند*

✍ *اوریا مقبول جان*

میں اکثر سوچتا ہوں کہ عین رمضان کے مہینے اور شوال کی عید کے دنوں میں ان لوگوں کی روحیں کس قدر خوش ہوتی ہوں گی، اپنی کامرانی پر ناز کرتی ہوں گی، جنہوں نے امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کر دیں۔ ڈیورنڈ لائن کے ایک جانب عید اور دوسری جانب روزہ، پاکستان کے شہر تفتان میں روزہ اور چند قدم دور ایران کے میر جادہ میں عید، اردن میں عید اور شام میں روزہ، سعودی عرب میں عید اور عراق میں روزہ۔ میں پہلے یہ سمجھتا تھا کہ یہ عید اور رمضان پر چاند کا اختلاف صرف پاکستان کا ہی خاصہ ہے لیکن 2005 میں برطانیہ اور 2007 میں ایران میں رمضان گزار کر مجھے اس امت مسلمہ کی بےبسی، کسمپرسی اور بیچارگی پر بہت ترس آیا۔ سب سے زیادہ حیرت تو مجھے برطانیہ کے مسلمانوں پر ہوئی جہاں ملک بھی ایک، مطلع بھی ایک، دیکھنے والے بھی ایک، لیکن کوئی دلیل لاتا ہے کہ چاند سعودی عرب نکل آیا ہے عید کرو، کوئی کہتا ہے کہ چاند ایران میں نکل آیا عید کرو، کوئی اردن اور کوئی انڈونیشیا، حیرت کی بات یہ ہے کہ جو علماءکرام وہاں عید کی نماز پڑھاتے ہیں وہ ہزاروں میل دور چاند دیکھنے کی گواہی پر روزہ بھی رکھواتے ہیں اور عید بھی پڑھاتے ہیں لیکن جب یہ سب اپنے ملک میں ہوتے ہیں تو ہر ایک کو اپنا ملک، اپنا مطلع، اپنی گواہی اور اپنی رویت یاد آ جاتی ہے۔

ملت اسلامیہ کو ملکوں میں تو کفار نے ایک سازش کے تحت تقسیم کیا اور ان کی لکیریں کھینچیں لیکن ہم نے ان حدود میں قید ہو کر جس طرح امت مسلمہ کو تقسیم کیا اس سے تمسخر ہمارے علماء کا اڑا، مذاق اور تضحیک کا نشانہ بھی وہی بنے۔ ایران میں ہماری طرح ایک رویت ہلال کونسل ہے۔ رمضان آیا تو 29 شعبان کے بعد لوگوں کو یوم شک کا روزہ رکھنے کے لیے کہا گیا جس کے بارے میں اعلان یہ تھا اگر دوپہر بارہ بجے تک چاند نظر آنے کا اعلان نا ہوا تو روزہ توڑ دیا جائے۔ اگلے دن ساڑھے گیارہ بجے اعلان کیا گیا کہ چاند نکلنے کی شرعی شہادتیں موصول ہوئی ہیں اس لیے آج پہلا روزہ ہے۔ میں گاڑی میں تہران شہر میں گھوم رہا تھا، ریڈیو پر اعلان ہوا، میرا ڈرائیور مسکرایا اور میری طرف دیکھ کر کہنے لگا “ہمراہ آفتاب آمد” یعنی آج چاند سورج کے ساتھ ساتھ تشریف لایا ہے۔ یہ ایرانی حس مزاح کا ایک خاص پیرایہ تھا لیکن اس اعلان، اس طرح روزہ اور اس صورت پر میں جس جگہ بیٹھا، جس جگہ گیا، صرف زیر لب تبصرے تھے، مذاق تھا اور تمسخر تھا… اور نشانہ علماء۔۔ میں نے ان دونوں ملکوں میں لوگوں سے طرح طرح کے سوال کیے، سائنسدانوں سے ملا، مطلع کی بحث اور فقہ کی کتابیں کھنگالیں، لمبی لمبی طویل اور خشک بحثیں پڑھیں اور میں سوچنے لگا کہ یہ چاند کے اختلاف اور رویت اور علاقوں کی تقسیم پر امت میں اختلاف کا مسئلہ کب سے شروع ہوا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جب تک خلافت عثمانیہ کی مرکزیت قائم تھی یا مسلمان اسے مرکز کی حیثیت سے تسلیم کرتے تھے، پوری امت میں ایک دن عید اور ایک دن روزہ ہوتا تھا۔

اس زمانے میں لکھے گئے مولانا محمود الحسن اور مولانا حسین احمد مدنی کے سفرناموں سے پتہ چلتا ہے کہ عرب اور ہندوستان میں چاند کی ایک تاریخ چلتی تھی۔ مولانا سید محمد میاں نے اسیران مالٹا کے نام جو سفرنامے ترتیب دیے ہیں ان میں بھی حجاز اور ہندوستان میں ایک ہی تاریخ کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن یورپی طاقتوں نے جب مسلمانوں کو نسل، رنگ اور زبان کی بنیاد پر اس طرح تقسیم کیا جسے میز پر رکھ کر کیک کاٹا جاتا ہے اور ہر ایک کی اپنی اپنی سلطنت وجود میں آئی اور ہر ایک کا علیحدہ علیحدہ مطلع، علیحدہ علیحدہ چاند اور علیحدہ علیحدہ عید، سب کا علیحدہ علیحدہ حج، علیحدہ علیحدہ یوم عرفات جس میں الله تعالیٰ دعائیں قبول کرتا ہے، اور علیحدہ علیحدہ لیلتہ القدر، اگر میرے الله کو یہی مقصود اور مطلوب ہوتا تو وہ قران پاک میں لیلتہ القدر یعنی قدر والی رات کی جگہ لیلات القدر یعنی قدر والی راتوں کا ہی تذکرہ کر دیتا کہ مسلمانوں کو ان راتوں کی برکتوں سے بہرہ مند ہونے کا موقع مل سکے۔ مجھے سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ اس مسئلے پر اختلاف کا عالم تو ہماری فقہ میں نظر نہیں آتا۔

رسول الله صلى الله عليه وسلم کی احادیث کا مطالعہ کریں تو وہ مشہور حدیث جسے بخاری اور مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور عبداللہ رضی اللہ عنہ بن عمرو دونوں سے روایت ہے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ چھوڑ دو اور اگر بادل چھائے ہوں تو شعبان کی گنتی پوری کرو یعنی چاند دیکھنا ضروری ہے جسے رویت کہتے ہیں۔ اسی رویت کی بنیاد پر امت کا اختلاف غیروں کی ہنسی کا باعث ہے۔ یہ چاند اندھے، ضعیف العمر، قیدی، بچے، مسافر اور بہت سے لوگ نہیں دیکھ پاتے تو کیا ان پر روزہ فرض نہں ہوتا۔ فرض ہوتا ہے لیکن دوسروں کی شہادت کی بنیاد پر جنہوں نے چاند دیکھ لیا۔ اب اس ایک شہادت یا دو شہادتوں یا کئی شہادتوں کو ایک ملک کی حدود تک کس نے محدود کر دیا۔ حدود بھی وہ جو یورپی مشرک قوتوں نے مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے لیے بنائی تھیں۔ اس شہادت کا اطلاق ڈیورینڈ لائن پر آ کر کیسے رک جاتا ہے؟۔ ایران میں شہادت کا اطلاق زاہدان پہنچ کر کیوں ختم ہو جاتا ہے۔ کیا امت مسلمہ کی حد اور الله تعالیٰ کے چاند کی حدیں بھی اسی طرح بانٹی ہوئی ہیں۔ ترمزی اور سنن ابو دائود میں جو مشہور حدیث درج ہے کہ ایک اعرابی رسول الله صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا اور کہا میں نے چاند دیکھا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ الله تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلى الله عليه وسلم الله کے رسول ہیں۔ اس نے کہا ہاں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا بلال! اعلان کر دو کہ کل روزہ رکھیں۔ اس حدیث میں رسول خدا صلى الله عليه وسلم نے اعرابی سے نہ اس کا علاقہ دریافت کیا اور نا فاصلہ پوچھا بلکہ صرف مسلمان ہونے کی گواہی لی اور اس گواہی کی بنیاد پر سب کو روزہ رکھنے کو کہہ دیا۔ نہ اختلاف مطلع کی بات ہوئی اور نا دوری اور نزدیکی کی۔

فقہ کی تمام کتب کو دیکھنے کے بعد میں حیرت میں گم ہو جاتا ہوں کہ یہ سب تو ایک امت اور ایک خیال کی طرف رہنمائی کر رہی ہیں۔ احناف میں الہدایہ اور الدرالمختار میں تو یہاں تک کہہ دیا کہ اہل مشرق پر اہل مغرب کی رویت دلیل ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ اگر اہل مغرب چاند دیکھ لیں تو اہل مشرق پر روزہ فرض ہو جاتا ہے۔ مالکیوں کی کتابوں ھدایة ال مجتہد، مواہب الجلیل اور قاضی ابو اسحاق نے ابن الماج ثون میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ اگر لوگوں کے بتانے سے یہ معلوم ہو جائے کہ دوسرے ملک والوں نے چاند دیکھ لیا ہے تو روزے کی قضا واجب ہو جائے گی۔ یہی کچھ شافیوں کے ہاں المغنی اور حنابلہ کے ہاں الاحناف میں درج ہے۔ ان سب کا مفہوم یہ ہے کہ اگر امت میں کسی ایک جگہ چاند نظر آ جائے، گواہ عادل ہوں تو پوری امت پر روزہ فرض ہو جاتا ہے۔ یہ وہ قول ہے جو عین سائنس کے اصولوں کے مطابق ہے۔ ہر چاند 29 دن 12 گھنٹے 28 سیکنڈ کے بعد اس دنیا کے مطلع پر طلوع ہوتا ہے۔ جس جگہ بھی وہ طلوع ہوا اگر وہاں کوئی مسلمان اسے دیکھے اور آج کے ذرائع ابلاغ کے دور امن پوری دنیا پر نشر ہو تو سب کو اطلاح ہو سکتی ہے۔ پوری دنیا کا آپس میں اوقات کا فرق 12 گھنٹے نفی اور 12 گھنٹے جمع ہوتا ہے اور مسلم امہ کی اکثریت مراکش سے انڈونیشیا تک صرف چھ سات کے ٹائم زون میں رہتی ہے۔ اب جب چاند ایک مقام پر ایک دفع طلوع ہو گیا تو وہی اول یا پہلی کا چاند ہے جو اپنا سفر جاری رکھتا ہے لیکن ہمیں نظر نہیں آتا۔ 29 دن اور 12 گھنٹے میں سے اس کا ایک دن کم ہو جاتا ہے۔ اگلے دن جس مطلع پر بھی نظر آئے وہ اپنی عمر سے ایک دن کم کر چکا ہو گا۔ مگر کمال ہے ہمارا کہ ہم اس کے تین بلکہ بعض دفعہ چار دن گزرنے کے بعد بھی اسے پہلی کا چاند، ہلال عید ہی کہتے ہیں اور پوری دنیا ہمارا تمسخر اڑاتی ہے۔

ہم قبلے کا رخ مقناطیسی سوئی سے کرتے ہیں اور سب اس پر متفق ہوتے ہیں۔ نمازوں کے اوقات کا تعین سورج کے سائنسی اعداد و شمار پر کرتے ہیں لیکن پوری امت مل کر ایک ایسا طریقہ کار وضع نہیں کرتی کہ مشرق و مغرب میں جس جگہ بھی پہلے چاند دیکھا جائے اس کا اطلاق پوری امت پر کر دیا جائے۔ اس لیے کہ الله اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کے نزدیک امت کی حدود نا تو طورخم پر ختم ہوتی ہیں اور نہ تفتان سے شروع ہوتی ہیں۔ کیا اسلامی ملکوں کی تنظیم جسے ایک خاموش اور مردہ تنظیم کی حیثیت حاصل ہے اپنے وسائل سے مراکش سے لے کر برونائی تک چاند کی رویت کا اہتمام نہیں کر سکتی تا کہ مسلمانوں کی بیک وقت عید ہو، رمضان شروع ہو، ایک لیلتہ القدر ہو، ایک یوم عرفات اور یوم حج ہو، یہ وہ واحد نقطہ ہے کہ اگر صرف ایک نقطے پر عمل کر لیا گیا تو دیکھنا کیسے اس امت میں افتراق ڈالنے والا مغرب بے چین ہو گا، اس کی راتوں کی نیند حرام ہو گی۔

لیکن کیا کریں ہماری تو دکانیں اختلاف سے سجتی ہیں۔ ہم برطانیہ میں ایک مطلع اور ایک ملک ہونے کے باوجود تین تین عیدیں پڑھاتے ہیں۔ ہمیں اپنے اپنے ملک کی رویت ہلال کمیٹیاں عزیز ہیں۔ ہم کسی دوسرے ملک کے چاند کو اس لیے امت مسلمہ کا چاند نہیں مانتے کہ وہاں کا مسلک ہمارے مخالف ہے حالانکہ چاند تو میرے رب کا ایک ہے، ساری کائنات کے لیے، سارے مسلمانوں کے لیے، ہم کتنے ظالم ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم کی بعثت کو پوری دنیا کے انسانوں کے لیے مانتے ہیں لیکن چاند اپنے مطلع پر طلوع کرتے ہیں۔ اس لیے کہ تمام مطلع مغربی استعمار نے ہمارے درمیان تقسیم کر رکھے ہیں۔

*اوریا مقبول جان ایک متدین صحیح العقیدہ علم دوست محب العلماء اسلامی اسکالر ہے*
محمد سفیان قاسمی

قران کی موسیقی

قران کی موسیقی

قران سے متعلق ایک ایسی عجیب و غریب حقیقت جو انتہائ حیران کن بھی ہے اور متاثر کن بھی۔
کچھ منٹ نکال کر پورا پڑھ لیجئے۔ حیران آپ بھی رہ جائیں گے۔۔ اور شاید دل بھی بھر آئے۔ شکریہ

۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کی کتاب ”محاضرات قرآنی “کے ایک اقتباس کا حوالہ دیا۔ غازی صاحب لکھتے ہیں:
” آپ نے ڈاکٹر حمیداللہ صاحب کا نام سنا ہوگا، انہوں نے خود براہ راست مجھ سے یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ غالباً 1958-1957ء میں ایک شخص ان کے پاس آیا۔ ان کی زندگی کا یہ ایک عام معمول تھا کہ ہر روز دو چار لوگ ان کے پاس آتے اور اسلام قبول کرتے تھے۔ وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا کہ ایک صاحب آئے اور کہا کہ میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔
ڈاکٹر صاحب نے حسب عادت ان کو کلمہ پڑھوایا اور اسلام کا مختصر تعارف ان کے سامنے پیش کردیا۔ اپنی بعض کتابیں انہیں دے دیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ان کا معمول تھا کہ جب بھی کوئی شخص ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا تھا تو وہ اس سے یہ ضرور پوچھا کرتے تھے کہ اسے اسلام کی کس چیز نے متاثر کیا ہے؟
1948ء سے 1996ء تک یہ معمول رہا کہ ڈاکٹر صاحب کے دست مبارک پر اوسطاً دو افراد روزانہ اسلام قبول کیا کرتے تھے۔عموماً لوگ اسلام کے بارے میں اپنے جو تاثرات بیان کیا کرتے تھے ،وہ ملتے جلتے ہوتے تھے۔ ان میں نسبتاً زیادہ اہم اور نئی باتوں کو ڈاکٹر صاحب اپنے پاس قلم بند کرلیا کرتے تھے۔ اس شخص نے جو بات بتائی، وہ ڈاکٹر صاحب کے بقول بڑی عجیب وغریب اور منفرد نوعیت کی چیز تھی اور میرے لیے بھی بے حد حیرت انگیز تھی۔ اس نے جو کچھ کہا ،اس کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا ارشاد تھا کہ میں اسے بالکل نہیں سمجھا اور میں اس کے بارے میں کوئی فنی رائے نہیں دے سکتا۔
اس شخص نے بتایا: میرا نام ژاک ژیلبیر ہے۔ میں فرانسیسی بولنے والی دنیا کا سب سے بڑا موسیقار ہوں۔ میرے بنائے اور گائے ہوئے گانے فرانسیسی زبان بولنے والی دنیا میں بہت مقبول ہیں۔آج سے چند روز قبل مجھے ایک عرب سفیر کے ہاں کھانے کی دعوت میں جانے کا موقع ملا۔ جب میں وہاں پہنچا تو وہاں سب لوگ جمع ہوچکے تھے اور نہایت خاموشی سے ایک خاص انداز کی موسیقی سن رہے تھے۔
جب میں نے وہ موسیقی سنی تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے یہ موسیقی کی دنیا کی کوئی بہت ہی اونچی چیز ہے، جو یہ لوگ سن رہے ہیں۔ میں نے خود آوازوں کی جو دھنیں اور ان کا جو نشیب وفراز ایجاد کیا ہے ،یہ موسیقی اس سے بھی بہت آگے ہے، بلکہ موسیقی کی اس سطح تک پہنچنے کے لیے ابھی دنیا کو بہت وقت درکار ہے۔ میں حیران تھا کہ آخر یہ کس شخص کی ایجاد کردہ موسیقی ہوسکتی ہے اور اس کی دھنیں آخر کس نے ترتیب دی ہیں۔جب میں نے یہ معلوم کرنا چاہا کہ یہ دھنیں کس نے بنائی ہیں تو لوگوں نے مجھے اشارہ سے خاموش کردیا لیکن تھوڑی دیر بعد پھر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے پھر یہی بات پوچھی، لیکن وہاں موجود حاضرین نے مجھے خاموش کردیا۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ اس گفتگو کے دوران میں وہ فن موسیقی کی کچھ اصطلاحات بھی استعمال کررہا تھا، جن سے میں واقف نہیں، کیوں فن موسیقی میرا میدان نہیں۔
قصہ مختصر جب وہ موسیقی ختم ہوگئی اور وہ آواز بند ہوگئی تو پھر اس نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ سب کیا تھا ۔لوگوں نے بتایا کہ یہ موسیقی نہیں تھی، بلکہ قرآن مجید کی تلاوت ہے اور فلاں قاری کی تلاوت ہے۔ موسیقار نے کہا کہ یقینا یہ کسی قاری کی تلاوت ہوگی اور یہ قرآن ہوگا، مگر اس کی یہ موسیقی کس نے ترتیب دی ہے اور یہ دھنیں کس کی بنائی ہوئی ہیں؟ وہاں موجود مسلمان حاضرین نے بیک زبان وضاحت کی کہ نہ یہ دھنیں کسی کی بنائی ہوئی ہیں اور نہ ہی یہ قاری صاحب موسیقی کی ابجد سے واقف ہیں۔اس موسیقار نے جواب میں کہا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ دھنیں کسی کی بنائی ہوئی نہ ہوں لیکن اسے یقین دلایا گیا کہ قرآن مجید کا کسی دھن سے یا فن موسیقی سے کبھی کوئی تعلق ہی نہیں رہا۔ یہ فن تجوید ہے اور ایک بالکل الگ چیز ہے۔ اس نے پھر یہ پوچھا کہ اچھا مجھے یہ بتاؤ کہ تجوید اور قراء ت کا یہ فن کب ایجاد ہوا؟ اس پر لوگوں نے بتایا کہ یہ فن تو چودہ سو سال سے چلا آرہا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو قرآن مجید عطا فرمایا تھا تو فن تجوید کے اصولوں کے ساتھ ہی عطا فرمایا تھا۔ اس پر اس موسیقار نے کہا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لوگوں کو قرآن مجید اسی طرح سکھایا ہے جیسا کہ میں نے ابھی سنا ہے تو پھر بلاشبہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اس لیے کہ فن موسیقی کے جو قواعد اور ضوابط اس طرز قراء ت میں نظر آتے ہیں ،وہ اتنے اعلیٰ وارفع ہیں کہ دنیا ابھی وہاں تک نہیں پہنچی۔
ڈاکٹر حمیداللہ صاحب فرماتے تھے کہ میں اس کی یہ بات سمجھنے سے قاصر تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ بعد میں ،میں نے اور بھی قراء کی تلاوت قرآن کو سنا، مسجد میں جاکر سنا اور مختلف لوگوں سے پڑھواکر سنا اور مجھے یقین ہوگیا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور اگر یہ اللہ کی کتاب ہے تو اس کے لانے والے یقینا اللہ کے رسول تھے، اس لیے آپ مجھے مسلمان کرلیں۔
ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اسے مسلمان کرلیا لیکن میں نہیں جانتا کہ جو کچھ وہ کہہ رہا تھا وہ کس حد تک درست تھا، اس لیے کہ میں اس فن کا آدمی نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ میں نے ایک الجزائری مسلمان کو جو پیرس میں زیر تعلیم تھا، اس نئے موسیقار مسلمان کی دینی تعلیم کے لیے مقرر کردیا۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد وہ دونوں میرے پاس آئے اور کچھ پریشان سے معلوم ہوتے تھے۔الجزائری معلم نے مجھے بتایا کہ وہ نو مسلم قرآن مجید کے بارے میں کچھ ایسے شکوک کا اظہار کررہا ہے جن کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ جس بنیاد پر یہ شخص ایمان لایا تھا ،وہ بھی میری سمجھ میں نہیں آئی تھی اب اس کے شکوک کا میں کیا جواب دوں گا اور کیسے دوں گا۔لیکن اللہ کا نام لے کر پوچھا کہ بتاؤ تمہیں کیا شک ہے؟ اس نومسلم نے کہا کہ آپ نے مجھے یہ بتایا تھا اور کتابوں میں بھی میں نے پڑھا ہے کہ قرآن مجید بعینہ اسی شکل میں آج موجود ہے جس شکل میں اس کے لانے والے پیغمبر علیہ الصلاة والسلام نے اسے صحابہ کرام کے سپرد کیا تھا۔
ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ واقعی ایسا ہی ہے۔ اب اس نے کہا کہ ان صاحب نے مجھے اب تک جتنا قرآن مجید پڑھایا ہے ،اس میں ایک جگہ کے بارے میں مجھے لگتا ہے کہ اس میں کوئی نہ کوئی چیز ضرور حذف ہوگئی ہے۔اس نے بتایا کہ انہوں نے مجھے سورہٴ نصر پڑھائی ہے اور اس میں افواجاً اور فسبح کے درمیان خلا ہے۔ جس طرح انہوں نے مجھے پڑھایا ہے ،وہاں افواجاً پر وقف کیا گیا ہے۔وقف کرنے سے وہاں سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے جو نہیں ٹوٹنا چاہیے جبکہ میرا فن کہتا ہے کہ یہاں خلا نہیں ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے کہ یہ سن کر میرے پیروں تلے زمیں نکل گئی، اور کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ اس شبہ کا جواب کیا دیں اور کس طرح مطمئن کریں۔ کہتے ہیں کہ میں نے فوراً دنیائے اسلام پر نگاہ دوڑائی تو کوئی ایک فرد بھی ایسا نظر نہیں آیا جو فن موسیقی سے بھی واقفیت رکھتا ہو اور تجوید بھی جانتا ہو۔
ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ چند سیکنڈ کی شش وپنج کے بعد بالکل اچانک اور یکایک میرے ذہن میں ایک پرانی بات اللہ تعالیٰ نے ڈالی کہ اپنے بچپن میں جب مکتب میں قرآن مجید پڑھا کرتا تھا تو میرے معلم نے مجھے بتایا تھا کہ افواجاً پر وقف نہیں کرنا چاہیے بلکہ افواجاً کو بعد کے لفظ سے ملا کر پڑھا جائے۔ ایک مرتبہ میں نے افواجاً پر وقف کیا تھا تو اس پر انہوں نے مجھے سزا دی تھی اور سختی سے تاکید کی تھی کہ افواجاً کو آگے ملا کر پڑھا کریں۔میں نے سوچا کہ شاید اس بات سے اس کا شبہ دور ہوجائے اور اس کو اطمینان ہوجائے۔ میں نے اسے بتایا کہ آپ کے جو پڑھانے والے ہیں، وہ تجوید کے اتنے ماہر نہیں ہیں۔ دراصل یہاں اس لفظ کو غنہ کے ساتھ آگے سے ملا کر پڑھا جائے گا۔ افواجاً فسبح۔ ڈاکٹر صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ وہ خوشی سے اچھل کر کھڑا ہوگیا اور خوشی سے جھومنے لگا اور کہنے لگا کہ واقعی ایسے ہی ہونا چاہیے۔
یہ سن کر اس کو میں نے ایک دوسرے قاری کے سپرد کردیا جس نے اس شخص کو پورے قرآن پاک کی تعلیم دی۔ وہ وقتاً فوقتا ًمجھ سے ملتا تھا اور بہت سردھنتا تھا کہ واقعی یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ وہ بہت اچھا مسلمان ثابت ہوا اور ایک کامیاب اسلامی زندگی گزارنے کے بعد 1970ء کے لگ بھگ اس کا انتقال ہوگیا۔
اس واقعے سے مجھے خیال ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی جو صوتیات ہے، یہ علم وفن کی ایک ایسی دنیا ہے جس میں کوئی محقق آج تک نہیں اترا ہے اور نہ ہی قرآن مجید کے اس پہلو پر اب تک کسی نے اس انداز سے غور وخوض کیا ہے۔
(محاضرات قرآنی ، ڈاکٹر محمود احمد
بشکریہ : ثناء اللہ خان احسان صاحب

HISTORY OF PIG FAT

HISTORY OF PIG FAT

by Dr. M. Amjad Khan

Very important for every Muslim to read this
____________________________

In nearly all the western countries including Europe, the PRIMARY choice for meat is PIG. There are a lot of farms in these countries to breed this animal. In France alone, Pig Farms account for more than 42,000.

PIGS have the highest quantity of FAT in their body than any other animal. But Europeans and Americans try to avoid fats.

Thus, where does the FAT from these PIGS go? All pigs are cut in slaughter houses under the control of the department of food and it was the headache of the department of food to dispose of the fat removed from these pigs.

Formally, it was burnt (about 60 years ago). Then they thought of utilizing it. First, they experimented it in the making of SOAPS and it worked.

Then, a full network was formed and this FAT was chemically processed, packed and marketed, while the other manufacturing companies bought it. In the meantime, all European States made it a rule that every food, medical and personal hygiene product should have the ingredients listed on its cover. So, this ingredient was listed as PIG FAT.

Those who are living in Europe for the past 40 years know about this. But, these products came under a ban by the ISLAMIC COUNTRIES at that time, which resulted in a trade deficit.

Going back in time, if you are somehow related to South East Asia, you might know about the provoking factors of the 1857 CIVIL WAR. At that time, Riffle Bullets were made in Europe and transported to the sub-continent through the sea. It took months to reach there and the gun powder in it was ruined due to the exposure to sea.

Then, they got the idea of coating the bullets with fat, which was PIG FAT. The fat layer had to be scratched by teeth before using them. When the word spread, the soldiers, mostly Muslim and some Vegetarians, refused to fight, which eventually lead to the civil war. The Europeans recognized these facts, and instead of writing PIG FAT, they started writing ANIMAL FAT.

All those living in Europe since 1970’s know this fact. When the companies were asked by authorities from the MUSLIM COUNTRIES, what animal fat is it, they were told it was COW and SHEEP FAT. Here again a question raised, if it was COW or SHEEP FAT, still it is HARAAM to MUSLIMS, as these animals were not SLAUGHTERED as per the ISLAMIC LAW.

Thus, they were again banned. Now these multinational companies were again facing a severe drought of money as 75% of their income comes from selling their goods to Muslim Countries, and these earn BILLIONS OF DOLLARS of profit from their exports to the MUSLIM WORLD.

Finally they decided to start a coding language, so that only their Departments of Food Administration should know what they are using, and the common man is left lurking in the dark. Thus, they started E-CODES. These E-INGREDIENTS are present in a majority of products of multinational firms including, but not limited to:

TOOTH PASTE
SHAVING CREAM
CHEWING GUM
CHOCOLATE
SWEETS
BISCUITS
CORN FLASKS
TOFFEES
CANNED FOODS

So, request all MUSLIMS or non pork eaters to check the ingredients of the ITEMS of daily use and match it with the following list of E-CODES. If any of the ingredients listed below is found, then DEFINITELY AVOID IT, as it has PIG FAT;

E100, E110, E120, E140, E141, E153, E210, E213, E214, E216, E234, E252, E270, E280, E325, E326, E 327, E334, E335, E336, E337, E422, E430, E431, E432, E433, E434, E435, E436, E440, E470, E471, E472, E473, E474, E475, E476, E477, E478, E481, E482, E483, E491, E492, E493, E494, E495, E542, E570, E572, E621, E631, E635, E904.

Dr. M. Amjad Khan
Medical Research Institute, United States.

Pls keep on sharing until it get to BILLIONS OF MUSLIMS WORLDWIDE.

Sharing is caring…
صدقة جاري

اس واقعہ کے بعد کنفیوژن دور ہو جاتی ہے

تحریر  مولانا طلحہ السیف
یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس آئے ہوئے تھے۔ کافی حد تک غامدیت زدہ تھے۔ کھل کر بات چیت ہوئی اور بہت مثبت رہی الحمدللہ۔
ایک بھائی نے کہا
“اتنی بات ضرور مانئے کہ آج کے نوجوان طبقے کی بہت سی کنفیوژنز ایسی تھیں جو علماء دور نہیں کرسکے تھے، غامدی صاحب نے دور کیں”
عرض کیا کہ یہ بات بالکل تسلیم ہے لیکن انہوں نے کنفیوزن کس طرح دور کی یہ سن لیجئے۔
ایک سکھ ڈاکٹر کے پاس ایک خاتون کو لایا گیا جو شدید درد سے کراہ رہی تھی۔ ڈاکٹر نے پوچھا کیا ہوا ہے ؟
خاتون بولی گردے میں شدید درد ہے جان نکل رہی ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے کہا۔
مائی زیادہ نہ چلا
ریح بادی کا درد ہے عورتوں کے جسم میں گردے ہوتے ہی نہیں ہیں!!
مائی کی کنفیوزن دور ہوگئی اور درد بھی جاتا رہا۔
بس یہی کام کیا ہے غامدی صاحب نے۔
آپ کے طبقے کو دین کا جو کام مشکل لگا اور کنفیوزن ہونے لگی انہوں نے کہا پریشان مت ہوئیے یہ دین میں ہے ہی نہیں!
اب یہ کام کوئی عالم تو کرنے سے رہا۔۔۔۔جہاد، غیرت، بغض فی اللہ سب دین سے نکال دئیے ،کفر کا وجود ہی ختم کردیا، موسیقی حلال کردی، اختلاط مرد و زن پر سے قدغن ہٹادی، مصافحہ جائز کردیا حتی کہ آپ کو رمضان کی راتوں میں تراویح مشکل لگتی تھی وہ بھی نکال دی۔ اور بھی جہاں جہاں کنفیوزن ہو رابطہ کرلیجئے وہ اسے بھی اسلام کے جسم سے نکال دیں گے۔
وہ ہنستے ہوئے چلے گئے۔ابھی انکا میسج آیا
“حضرت ابھی تک ہنسی رک نہیں رہی”

آئیے اللہ کے طریقہ کار کو سمجھنے کی کوشش کریں!

خدا کی ذات پر ایقان کر کے دیکھتے ہیں

 ہماے ہاں چھوٹے بچوں کو چلنا سکھانے کے لیے ایک خاص طریقہ اختیار کیا جاتا ہے ۔ اس طریقے کے مطابق جب بچہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ اپنی ٹانگوں پر کھڑ ا ہو سکے تو ہم اسے دیوار کے سہارے کھڑ ا کر دیتے ہیں ۔ پھر اس سے ذرا دور ہٹ کر دونوں ہاتھ اس کی طرف پھیلا کر اسے اپنی طرف بلاتے ہیں ۔ بچے کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ ہم اسے گود میں لے لیں ۔ لہٰذا وہ یہ سمجھ کر کہ ہم اسے گو د میں لینا چاہتے ہیں، اپنا سہارا یعنی وہ دیوار جس سے ٹیک لگا کر وہ کھڑ ا ہوتا ہے، چھوڑ دیتا ہے اور ہماری طرف بڑ ھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کوشش میں اس کے نو آموز قدم لڑ کھڑ اتے ہیں۔ لیکن ہم تک پہنچنے کی خواہش میں وہ ایک کے بعد دوسرا قدم زمین پر ٹکا کر اپنا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ شروع شروع میں وہ بمشکل ایک دو قدم ہی اٹھا پاتا ہے مگر آہستہ آہستہ اسے اپنا توازن برقرار رکھنا آ جاتا ہے اور وہ خود اپنے قدموں پر چل کر ہمارے پاس آنے لگتا ہے اور یو ں وہ چلنا سیکھ لیتا ہے۔

اس عمل کے دوران میں آج تک ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے بچے کو بانہیں پھیلا کر اپنی طرف بلایا ہو اور جب اس نے اپنا سہارا چھوڑ دیا ہو تو ہم نے اسے گرنے دیا ہو۔ جب تک بچہ چل سکتا ہے، ہم اسے چلنے دیتے ہیں اور خود پیچھے ہٹتے چلے جاتے ہیں، مگر جس لمحے بچہ گرنے لگتا ہے، ہم آگے بڑ ھ کر اسے سنبھال لیتے ہیں۔ اس لیے کہ ہمارا مقصد بچے کو گرانا، اسے تکلیف دینا نہیں، بلکہ چلنا سکھانا ہوتا ہے۔

یہ ایک مثال ہے جس کے ذریعے سے ہم خدا اور بندے کے تعلق کو سمجھ سکتے ہیں۔ وہ تعلق جو اس وقت شروع ہوتا ہے جب اس کائنات کا رب ایک کمزور بندے کو اپنی طرف بڑ ھنے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ بندہ اس ربِ کریم کی پکار پر لبیک کہہ کر آگے بڑ ھتا ہے۔ وہ راہ وفا پر قدم رکھ دیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ خدا کی سمت چلنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے اپنی ہر دیوار چھوڑ نی ہو گی۔ خود کو بے سہارا کرنا ہو گا۔ لیکن وہ اپنے رب پر بھروسا کر کے ڈگمگاتا ہوا، لڑ کھڑ اتا ہوا آگے بڑ ھتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب دنیا والے اسے احمق خیال کرتے ہیں۔ اس کی کم عقلی پر ماتم کرتے ہیں۔ اسے ملامت کرتے ہیں۔ لیکن اس کی نگا ہوں میں تو اس کا رب ہوتا ہے۔ اس کے اٹھے ہوئے ہاتھ ہوتے ہیں۔ اسے اعتماد ہوتا ہے کہ یہ اٹھے ہوئے ہاتھ اتنے کمزور نہیں کہ اسے سنبھال نہ سکیں۔

اس میں شک نہیں کہ یہ عالم اسباب خدا نے انسانوں کی آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔ لیکن یہاں اسبا ب کی ڈوریاں بھی وہی ہلاتا ہے اور آزمائش کی بساط بھی وہی بچھاتا ہے۔ ایسا اس کی صفتِ علم و حکمت کے تحت ہی ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کو زمانے کے سرد وگرم سے آزماتا ہے اور اپنے نیک بندوں کو تو کچھ زیادہ ہی آزماتا ہے۔ کبھی ان کے کھوٹ دور کرنے کے لیے، کبھی جنت میں ان کے درجات بلند کرنے کے لیے اور کبھی دنیا کے سامنے ایک نمونہ پیش کرنے کے لیے۔ تاہم اس آزمائش کی ایک حد ہوتی ہے، اس حد کا انحصا ر خدا پر نہیں، بلکہ بندے پر ہوتا ہے۔ اس کی بلندی شوق پر ہوتا ہے۔ کوئی یہ چاہتا ہے کہ اسے راہِ حق میں کانٹا بھی نہ چبھے اور کوئی موسیٰ کے مقابلے میں آنے والے جادوگروں کی طرح وقت کے فرعون کے سامنے اس لیے ڈٹ جاتا ہے کہ اسے موت کی شکل میں خدا کی رحمت بالکل سامنے نظر آ رہی ہوتی ہے۔

خدا ہر شخص کو جنت کی طرف پکارتا ہے مگر اس کی یہ جنت بے قیمت نہیں۔ اس راہ میں طرح طرح کے اندیشے ستاتے ہیں۔ قدم قدم پر مشکلات کے پہاڑ سامنے آ جاتے ہیں۔ بے یقینی کے مہیب سائے بار بار انسان کو گھیر لیتے ہیں۔ ایسے میں خدا پر توکل ہی اسے آگے بڑ ھاتا ہے۔ خدا کے اٹھے ہوئے ہاتھوں کی کشش اسے آخری دم تک خدا کی طرف بڑ ھتے رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ مگر جس لمحے اس کے قدم اس کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیتے ہیں، وہاں عرش کا مالک خود فرش پر آتا ہے اور گرنے سے پہلے اسے سنبھال لیتا ہے۔ یہ راہِ خدا ہے تماشا نہیں ہے۔ اس کا اصول یہ بھی ہے کہ انسان خود کو برباد کرے اور اس کا اصول یہ بھی ہے کہ خدا بندے کو برباد نہ ہونے دے۔

آج انسانیت کو کچھ ایسے ہی صاحبان دل اور صاحبان شوق درکار ہیں جو خدا کے لطف و عنایت کی امید پر خود کو برباد کرنے کے لیے آمادہ ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ خدا کی شانِ کریمی ایسا نہ ہونے دے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ا س کے پیغام اور اس کے دین کی دعوت کو دوسروں تک پہنچانا اپنی زندگی کا مشن بنالیں۔ جو سچائی اور حق کے راستے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کریں۔ جو خواہش اور مفاد سے اوپر اٹھ کر جنت کی نعمتوں کو دیکھ سکیں۔ جو فرقہ واریت، تعصب اور انتہا پسندی سے اوپر اٹھ کر علم و عقل کے مسلمات کی بنیاد پر قرآن و سنت سے دین سمجھیں اور دوسروں کو اسے سمجھانا اپنا نصب العین بنالیں۔

خدا نے قرآن میں اپنے فیصلہ کا اعلان کر دیا ہے کہ وہ اپنی راہ میں مشقت جھیلنے والوں کو اپنی راہ ضرور دکھائے گا۔ اب انسانوں میں سے کوئی ہے جو یہ کہتا ہوا اپنی دیوار چھوڑ دے ۔ ۔ ۔ خود کو بے سہارا کر دے

سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
سواپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں