ٹائم زون

*▪ٹائم زون▪*

٭ کینیا کا وقت نائیجیریا سے 2 گھنٹے آگے ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ نائیجیریا ‘سست رفتار’ ہے اور کینیا ‘تیز رفتار’۔۔ دونوں ممالک اپنے اپنے ٹائم زون کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں۔
٭ کوئی شخص بڑی عمرتک غیر شادی شدہ ہے اور کسی نے شادی کرلی اور دس سال تک صاحب اولاد ہونے کا منتظر رہا، اور دوسری طرف کوئی شخص شادی کے ایک سال بعد ہی اولاد کا حامل بن گیا۔۔
٭ کسی نے بائیس سال کی عمر میں گریجویشن کیا اور پانچ سال ایک اچھی ملازمت کے حصول میں لگا دیے، اور دوسری طرف ایک شخص ستائیس سال کی عمر میں گریجویشن کیا اور فوری طور پر اسے ایک اچھی ملازمت بھی مل گئی۔
٭ کوئی پچیس سال کی عمر میں ایک کمپنی کا CEO بن گیا اور پچاس سال کی عمر میں وفات پا گیا اور دوسری طرف دوسرا شخص پچاس سال کی عمر میں اس عہدے پر پہنچا اور نوے سال عمر پائی۔

ہم میں سے ہر شخص اپنے ٹائم زون کے حساب سے کام کرتا ہے ۔ ہر کام کے تکمیل کی اپنی رفتار ہوتی ہے ۔۔۔ اپنے ٹائم زون کے مطابق
آپ کے ساتھی، دوست یا آپ سے عمر میں چھوٹے لوگ بظاہر آپ سے آگے ہو سکتے ہیں،
ان سے بدگمان نہ ہوں، وہ ان کا ‘ٹائم زون’ ہے اور آپ اپنے ‘ٹائم زون’ میں ہیں،
ڈٹے رہیں، ثابت قدم رہیں اور خود سے مخلص رہیں۔ یہ سب چیزیں مل کر آپ کی بہتری میں معاون ثابت ہونگی۔
آپ ‘لیٹ’ نہیں ہیں ۔۔ آپ بالکل وقت پر ہیں۔
ماخوذ

​*WISE WORDS FROM A GREAT THINKER AND OBSERVER!!*

*Buffalos kill 7 people every year.*

*Lions kill 500 people every year.*

*Hippos kill 800 people every year.*

*Spiders kill 5000 people every year.*

*Scorpions kill 7000 people every year.*

*Snakes kill 10000 people every year.*
*And then, surprisingly,*
*Mosquitoes kill 2.7 million people every year. Yes, the smallest are the deadliest!*
*Small ‘sins’, hardly noticed by many, are the most deadly to your spiritual life.*
*Avoid excuses for not praying and allotting few moments of your day to your Creator.*
*Sins of omission are just as deadly as sins of commission.*
*Gossiping and small lies, are committed more frequently and are deadly.*
*Mind those little compromises that you do daily. They are the ones that will bring your downfall.*
*Successful people have two things on their lips, “Smile and silence”.*
*Smile can solve problems, while*

*Silence can avoid problems.*
*Sugar and salt may be mixed together*

*but ants reject the salt and carry away only the sugar.*
*Select the right people in life and make your life better and sweeter.*
*If you failed to achieve your dreams, change your ways not your Creator.*
*Remember, trees change their leaves, not their roots.*
*You will never reach your destination if you stop and throw stones at every dog that barks.*
*Haters will see you walking on water and say it’s because you can’t swim.*
*Even if you dance on water, Your enemies will accuse you of raising dust.*
*Make it your ambition to lead a quiet life, to mind your own business and to work with your own hands.*
*Remember Don’t ever wrestle with a pig. You’ll both get dirty, but the pig will enjoy it.*
*BE WISE!*

ایک بڑی پیاری کہانی! یہ کس کی ہے؟؟؟

شہد کا ایک بڑا سا قطرہ فرش پر پڑا تھا۔وہاں ایک چیونٹی🐜 آئی اس نے شہد سے چسکی لی اور وہاں سے جانا چاہا۔ لیکن شہد کے میٹھے ذائیقے کے لالچ نے اسے مجبور کیا۔ اسنے شہد کی دوسری چسکی لی اور جانا چاہا لیکن چیونٹی کو لگا کہ صرف شہد کے قطرے کے کنارے سے لی گئی چند چسکیاں کافی نہیں۔ اس لئے اس مرتبہ اُس نے طے کیا کہ شہد کے قطرے کے بیچ میں ڈوب کر اس سے اور زیادہ لطف اٹھایا جائے۔
لیکن جیسے ہی وہ شہد کی بوند میں داخل ہوئی اور لطف اندوز ہونا چاہا، وہ وہاں سے نکل نہ پائی وہ شہد میں ہی مقید🕸 ہوگئی اور وہی اس کی جان نکل گئی۔
👈✍سبق : کچھ بصیرت مند اور اہل علم حضرات کہتے ہیں کہ دنیاکی زندگی کیا ہے۔ ??!!”ایک بڑے سے شہد کے قطرے کی مانند ہے “۔ جو لوگ اس کی تھوڑی مقدار( چسکی) پر راضی رہتے ہیں وہ( قناعت پسند )محفوظ ہوتے ہیں  اور جو لوگ اسکی مٹھاس کے لالچ میں اس میں غرق ہوجاتے ہیں وہ برباد ہوجاتے ہیں…..

اظہار محبت

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہمارے پاس محبتوں کے اظہار کے لیے الفاظ کیوں کم ہیں؟ شاید اس لیے کہ میرے لیے آپ پر تنقید کرنا بہت آسان ہے۔ اور مجھے اس میں  اپنے نفس پر کچھ زور نہیں ڈالنا پڑے گا۔ اس کے مقابلے میں اگر میں آپ سے کہنا چاہوں کہ آپ مجھے اچھے لگتے ہیں اور آپ کی فلاں عادت تو مجھے بڑی محبوب ہے اور یہ کہ آپ  میرے  دل میں بہت خاص مقام رکھتے ہیں تو یہ سب کہنے کے لیے میرے  پاس اولاً تو الفاظ ہی نہیں اور اگر ہیں بھی تو نفس پر اتنا بوجھ اور گھٹن آپڑے گی کہ میں خود بخود اس ارادے سے دستبردار ہو جاؤں گی۔

پیارے نبی ﷺ خود ہمیں محبت کا اظہار کرنا سکھا کر گئے ۔ جب ایک صاحب سامنے سے گزرے اور آپ ﷺ کے صحابی نے کہا۔ یارسول اللہ! یہ شخص مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ تو آپ ﷺ نے فوراً انہیں کہا کہ جاؤ اور ان صاحب کو یہ بات بتا کر آؤ۔  پیارے  نبی ﷺ اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کس کس انداز میں محبت کا اظہار کیا کرتے تھے۔ کبھی ان کو ستاروں سے تشبیہ دیتے کہ میرے صحابہ تو ستاروں کی مانند ہیں۔ کبھی فرمایا میرے صحابہ کو برا نہ کہو۔ کبھی آپ ﷺ نے کہا کہ جو میرے صحابہ سے پیار کرے گا وہ گویا خود مجھ سے پیار کرے گا۔ کیا ہی زبردست اظہار محبت ہے! یہ ایسے ہی ہے جیسے میں اپنے بہت عزیز سے یہ کہوں  کہ بھئی آپ تو اتنے اچھے ہیں اتنے پیارے ہیں کہ جو آپ سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرے گا۔  بیشتر احادیث میں آپ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو ‘‘میرے صحابہ’’ کہ کر پکارا۔ جیسے ہم اپنے بچوں کو میرا بیٹا کہ کر پکاریں یا اپنے شاگردوں کو میرے شاگرد کہ کر پکاریں تو یہ کتنا محبت بھرا انداز ہے۔ کتنا خوبصورت  کلام ہے۔

اظہارِ محبت کیوں ضروری ہے؟ اس لیے کہ یہ آپ میں مجھ میں ایک توانائی بھر دیتا ہے۔ ایک جذبہ اور ایک احساس کہ ہاں ہم اہم ہیں کسی کے لیے۔ ہم بہت ضروری ہیں کسی کے لیے۔ کوئی ہے جو ہمیں اپنے دل میں رکھتا ہے۔ اور یہ احساس بڑا جادوئی احساس ہے۔ یہ کسی بھی انرجی فوڈ سے زیادہ انرجی آپ کے اندر بھر سکتا ہے۔  میں آپ کو بتاؤں  جب میں نے مولانا طارق جمیل کو ’’یا عبادی الذین اسرفو انفسہم‘‘ کی تشریح کرتے سنا تو مجھے بہت اچھا لگا۔ مولانا نے فرمایا کہ یہاں اللہ نے ہم سب کو ‘‘اے میرے بندو’’ کہ کر مخاطب کیا ہے اور اپنی لازوال و بے پناہ محبت کا اظہار کیا ہے۔ یقین کریں مجھے اتنا اچھا لگا اور میرے اندر اللہ سے جو ایک تعلق تھا وہ سو فیصد بڑھ گیا جب میں نے یہ سوچا  کہ میرے اللہ نے مجھے اپنا کہا ہے۔ میرے سے پیار کا اظہار کیا ہے۔ 

اشفاق احمد کہتے ہیں کہ میری نواسی کا بچہ باہر کوٹھی کے لان میں کھیل رہا تھا۔ مجھے اس کا علم نہیں تھا کہ وہ باہر کھیل رہا ہے۔ میں اپنی نواسی سے بات کرتا رہا۔ اچانک دروازہ کھلا اور وہ بچہ مٹی میں لتھڑے ہوئے ہاتھوں اور کپڑوں پر کیچڑ اور اس کے منہ پر چھنچھیاں (خراب منہ اور بہتی ناک) لگی ہوئی تھیں۔ وہ اندر آیا اور اس نے دونوں ہاتھ محبت سے اوپر اٹھا کر کہا۔‘‘امی مجھے ایک جھپی اور ڈالیں۔ پہلی جپھی ختم ہو گئی ہے۔’’ تو میری نواسی سے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگالیا باوصف اس کے کہ وہ بچہ باہر کھیلتا رہا ہو گا اور اس کے اندر وہ گرماہٹ اور حدت موجود رہی ہو گی جو اسے ایک جپھی نے عطا کی ہو گی اور جب اس نے محسوس کیا کہ مجھے اپنی بیٹری کو ری جارج کرنے کی ضرورت ہے تو وہ جھٹ سے اندر آگیا۔

آپ نے عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کا واقعہ پڑھا ہوگا جب وہ ایک مرتبہ سیڑھیوں سے اتر رہے تھے تو وہاں موجود ایک بھنگی نے اپنے آپ کو دیوار کے ساتھ لگا لیا اس خیال سے کہ آپ کے اجلے  کپڑے اس کے ساتھ مس نہ ہو جائیں اور  آپ ناراض نہ ہو جائیں۔ لیکن وہ تو پیارے نبی ﷺ کے بیٹے ، سید عطا ء اللہ شاہ بخاری تھے۔ عاجزی اور بلند اخلاق کے پیکر۔ آپ رحمہ اللہ نے اسے یوں کھڑے دیکھ کر اسے اپنے سینے سے لگالیا اور کہا کہ تم بھی ہمارے بھائی ہو۔اور اس سے بہت ہی محبت و شفقت کا اظہار فرمایا۔

شام کو وہ صاف کپڑے پہن کر آیا تو آپ نے اسے اپنی چارپائی پر اپنے ساتھ بٹھایا اور اسے چائے پلائی۔ کچھ دیر بعد وہ دوبارہ آیا اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ اور مسلمان ہو گیا۔  یہ اظہار محبت تھا۔ یہ اظہارِ تکریم و انسانیت تھا جس نے بظاہر معاشرے کی نظر میں گرے ہوئے انسان کو نبی کریم ﷺ کا امتی بنا دیا۔

میں سمجھتی ہوں کہ ہر ایک شخص کو کسی نہ کسی سطح پر محبت کے اظہار کی ضرورت ہے۔ آپ گھر میں اپنی امی جان کو دیکھیں۔ وہ سارا دن آپ کے کاموں میں الجھی رہتی ہیں ۔ ان کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ان کی زندگی کا مقصد ہی آپ کی بہترین تربیت اور خوبصورت نشوونما ہو۔ لیکن اس کے بدلے میں ہم نے ان کو کیا دیا۔ ہم ان کے ہاتھ کے پکے ہوئے مزے مزے کے کھانے کھاتے ہیں ۔ ان کے صاف کیے ہوئے کمرے میں پرسکون نیند سوجاتے ہیں ۔ پھر صبح انہی کے دھوئے  اور استری کیےہوئے یونیفارم پینٹ شرٹ مفلر کوٹ وغیرہ پہن کر  چلے جاتے ہیں۔ کیا ایک دفعہ بھی آپ نے پیچھے مڑ کر ان کو دیکھا؟ اور ان کو یہ کہنے کی کوشش کی کہ ۔۔۔‘‘امی جان ! آپ بہت اچھی ہیں! آپ میرے لیے بہت محنت کرتی ہیں۔ اور آپ مجھے ساری دنیا کے لوگوں سے زیادہ عزیز ہیں۔’’ اگر آپ ایسا کر لیں یقین کریں  اب بہت سارے دنوں تک آپ کی امی جان کاموں کی زیادتی سے تھک نہیں سکیں گی نہ ہی برتنوں کا ڈھیر انہیں چڑچڑا کر ے گا۔  
 
آپ اپنے ابو جان کو دیکھیں۔ وہ کتنا تھکے ہوئے گھر آتے ہیں۔ اور پھر نیند پوری ہو یا نہ ہو صبح اٹھ کر پھر آفس چلے جاتے ہیں۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ وہ آپ کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے بھی کبھی ان کواپنی چاہت کے اظہار سے خوش کیا؟ آپ صرف ایک بار یہ کہ دیکھیں۔ ‘‘ابو جان! آپ نے میرے اتنی محنتیں کی اتنی تکلفیں اٹھائیں میں ساری زندگی آپ کا  احسان نہیں چکا سکتا۔ ’’ یہ کہ کر آپ ان کے گرد بازو حمائل کرکے ان کی پیشانی پر بوسہ دیں۔ مجھے یقین ہے ان کی آنکھیں ایک پیاری سی روشنی سے چمک اٹھیں گی اور وہ مزید تازہ دم ہو جائیں گے۔ ان کی سب تھکاوٹیں بہت دنوں کے لیے دور بھاگ جائیں گی۔

میں آپ کو اظہارِ محبت کی ایک اور شاندار مثال بتاتی ہوں۔ دیکھیں  مجھے اپنی بیٹی بہت ہی عزیز ہے اور جب میں اسے صرف مریم کہ کر پکارتی ہوں تو مجھے لگتا ہے میری محبت کا حق ادا نہیں ہوا۔ پھر میں اس کو محبت سے پتہ نہیں کیا کیا کہتی رہتی ہوں  تب کہیں جا کر تسلی سی ہوتی ہے ۔ میرے نبی پاک ﷺ بھی اپنے ربِ کریم کو بہت ہی زیادہ محبوب تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان  کو ایک نہیں نناوے نام دے دیے ہیں۔ وہ  میرے رب کے یٰس ہیں۔ طٰہٰ ہیں۔ احمد ہیں۔ ماحی ہیں ۔ عاقب ہیں۔ حاشر ہیں۔اُمّی ہیں۔ ابو القاسم ہیں۔ کلیم اللہ۔۔ حسیب اللہ۔۔ نجیب اللہ۔۔ صفی اللہ۔۔ خاتم الانبیا۔۔ منصور۔۔ مصباح۔۔ حجازی ۔۔ نزاری۔۔ نبی التوبہ۔۔ رسول الرحمۃ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم!

ایک دفعہ میرے موبائل کا چارجر خراب ہو گیا تو جب تک نیا آتا میں نے سٹور سے ایک پرانا چارجر نکال کر لگا لیا۔ بیٹری ڈاؤن تھی لیکن افسوس وہ چارجر اس کو پراپر چارجنگ نہ دے سکا اوراس دن میرا موبائل بار بار آف ہوتا رہا۔ اس سے میں نے بڑا سبق سیکھا۔ ہم سب کے اندر بھی بیٹری بڑے عرصے سے چارج نہیں ہو سکی ہے۔  اسی لیے ہم ذرا ذرا سے ایشو کو لے کر ہر پلیٹ فارم پر ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔ ہمیں تھوڑی سی گڑبڑ پر غصہ آنے لگتا ہے اور ہم یکدم چڑچڑے ہونے لگتے ہیں۔ میرے خیال میں ایسا اس لیے ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کی ایک بہت بڑی ضرورت پوری نہیں کی۔ محبت چاہت اور پیار کا اظہار۔ یہ بہت ضروری تھا ہمیں تازہ دم اور ہمارے رویوں کو خوبصورت رکھنے کے لیے۔ لیکن بہت عرصے سے ہم نے اس ضرورت کو یکسر نظر انداز کر دیا یہ کہتے ہوئے کہ جی احساس اور محبت تو دل میں ہونا چاہیے۔ کہنے کی ضرورت کیا ہے۔

آپ میں سے کسی کے شوہر بہت دنوں سے اندر سے اداس ہیں اگر چہ وہ ظاہر نہیں کرپاتے۔ صرف اس لیے کہ آپ نے ان سے بہت دن ہو گئے اظہارِ محبت نہیں کیا۔ آپ نے ان کو بتایا نہیں آپ ان کو کتنا چاہتی ہیں اور آپ ان سے کتنا پیار کرتی ہیں۔ آپ کو ان کا لایا ہوا فلاں سوٹ کتنا پسند آیا اور جب آپ شہر سے باہر جاتے ہیں تو وہ آپ کو کتنا مس کرتی ہیں۔ 
 
آپ  میں کسی کی وائف بہت دیر سے اس انتظار میں ہیں کہ کئی دنوں سے  آپ نے انہیں سراہا نہیں۔ ان سے چاہت کا اظہار نہیں کیا۔ پلیز جلدی جائیے اور ان کو بتائیے کہ ان کے علاوہ کوئی اور اتنا اچھا آپ کا گھر نہیں سنبھال سکتا اور یہ کہ آپ ان کے بغیر ایک پل بھی نہیں رہ سکتے۔ 

جو استاذ آپ کو روز صبح سویرے آکر  اپنا بہت سارا آرام اور نیند قربان کر کے  اتنی جانفشانی سے آپ کو پڑھاتے ہیں ان کے لیے ایک خوبصوت کارڈ خریدیےاوران کو بتائیے کہ آپ کو ان کے پڑھانے کا طریقہ کتنا پسند آیا اور یہ کہ آپ کی زندگی میں ان کی رہنمائی سے کتنی اچھی تبدیلیاں آئیں۔

جس فیس بک پیج کی پوسٹس آپ کو اچھی لگتی ہیں اس کو فوراً میسج کیجیے کہ آپ کی پوسٹس میرے لیے بڑی فائدہ مند ہیں اور مجھے بے حد پسند ہیں۔ جس صحافی کا کالم آپ کو اچھا لگتا ہے اس کو ضرور پیغام بھجوائیے کہ آپ کا فلاں کالم مجھے بہت پسند آیا برائے مہربانی کبھی لکھنا مت چھوڑیے۔

یاد رکھیں! اظہارِ محبت صرف اوروں کو توانائی نہیں دیتا خود آپ کے دل کا آئینہ بھی شفاف ہونے لگتا ہے۔ بس غلط فہمیوں کے کانٹے اگنے سے پہلے  اظہارِ محبت کرنا شروع کریں۔
ایسا نہ ہو دیر ہو جائے!

بڑا خوبصورت فارمولہ

استاد صاحب نے کلاس میں داخل ہوتے ہی بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی اور کہا تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو ہاتھ لگائے بغیر اسے چھوٹا کر دے، ساری کلاس سوچ میں پڑ گئی کیونکہ استاد نے ایک ناممکن بات کہہ دی تھی ، سب نے کہا کہ یہ ناممکن ہے، لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑے گا جو ہاتھ لگاۓ بغیر ممکن نہیں ہو سکتا ،

استاد صاحب نے گہری نظروں سے طلباء کی طرف دیکھا اور کچھ کہے بغیر بلیک بورڈ پر اس لکیر کے نیچے ایک لمبی لکیر کھینچ دی، جس کے بعد سب نے دیکھ لیا کہ اب پہلے والی لکیر چھوٹی نظر آ رہی ہے ، استاد نے اس لکیر ہاتھ لگائے بغیر اسے چھوٹا کر دیا ،

طالب علموں نے آج اپنی زندگی کا سب سے بڑا سبق سیکھا تھا ، دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر، دوسروں پر تنقید کیے بغیر ، ان کو بدنام کیے بغیر ، ان سے حسد کیے بغیر ان سے آگے بڑھ جانے کا ہنر انہوں نے چند منٹ میں سیکھ لیا تھا کہ اپنے آپ کو اخلاق میں ، کردار میں اور عمل سے دوسرے سے آگے بڑھا لو تم خودبخود دوسروں سے بڑے نظر آنے لگ جاؤ گے،،

Some words which can’t be neglected

5ive undeniable Facts
of Life :

👉1.
Don’t educate
your children
to be rich.
Educate them
to be Happy.
So when
they grow up
they will know
the value of things
not the price

👉2.
Best awarded words
in London …

“Eat your food
as your medicines.
Otherwise
you have to
eat medicines
as your food”

👉3.
The One
who loves you
will never leave you
because
even if there are
100 reasons
to give up
he will find
one reason
to hold on

👉4.
There is
a lot of difference
between
human being
and being human.
A Few understand it.

👉5.
You are loved
when you are born.
You will be loved
when you die.
In between
You have to manage…!

*****

If u want to Walk Fast,
Walk Alone..!
But
if u want to Walk Far,
Walk Together..!!

Six Best Doctors in the World-
          1.Sunlight
              2.Rest
          3.Exercise
             4.Diet
   5.Self Confidence
                   &
          6.Friends
Maintain them in all stages of Life and enjoy healthy life

If   you   see   the   moon ….. You   see    the    beauty    of    God …..   If    you   see    the   Sun ….. You   see    the    power   of    God …..   And ….    If   you   see   the   Mirror ….. You   see     the    best    Creation of   GOD …. So    Believe   in     YOURSELF….. 🙂 🙂 :).

We all are tourists & God is our travel agent who
already fixed all our Routes Reservations & Destinations
So!
Trust him & Enjoy the “Trip” called LIFE…

send to all people who are important to you…:):)
I just did.👍

ذرا سوچ کر جائزہ لیجئے

بھلا ایک گھر جس کہ دروازے پر کوئی تالہ نہ ہو ، جس کی دیواریں بھی اتنی نیچی ہوں کہ ایک بچہ بھی ان کو پھلانگ سکے ، جس کی اندرونی یا بیرونی حفاظت کا کوئی انتظام نہ ہو اگر اس گھر میں چور یا ڈاکو گھس آئیں تو حیرت کس بات کی !!
کفر و شرک کیساتھ گناہوں کی مثال کچھ ایسی ہی ھے ۔ جب وجود پر ایمان کا پہرہ ہی نہیں ہے ، دل خوف الہی و رحمت الہی سے واقف ہی نہیں ہے ، قیامت کی جواب طلبی کا تصور ہی نہیں ہے ، تو کیا فرق پڑتا ہے اگر یہ چوری کرے یا زنا کرے !، شراب پیے یا جوا کھیلے ۔ جب پہرہ نہ ہو تو ڈاکو تو پڑتے ہی ہیں !
مگر حیرت تو اس گھر پر ہے جس نے تالہ بھی لگایا ہوا ہے ، دیواریں بھی اونچی ہیں ، اور حفاظت کا انتظام بھی کررکھا ہے مگر پھر بھی ڈاکہ پڑ جائے ! چور پھر بھی گھس آئیں ۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ حفاظتی انتظامات میں کمی رہ گئی ہے ۔ کہیں نقب لگانے کی گنجائش باقی تھی جہاں سے چور در آئے یا ڈاکووں نے سیڑھی لگا لی !!
ایمان کہ ساتھ ، توحید کہ تالے کہ ساتھ ، خوف الہی کی دیوار کہ ساتھ اگر پھر بھی گناہ سرزد ہورہے ہیں تو فکر کیجیے ! ابھی کہیں گنجائش باقی ہے ، کوئی رخنہ کوئی سوراخ ابھی توجہ سے باہر ہے ! ابھی ایمان کا سبق پختہ نہیں ہے ، توحید کا تالہ کھل سکتا ہے ، خوف الہی نے دل میں مکمل گھر نہیں کیا !
آیئے سب دیکھیں کہ کہیں ہماری حالت ایسی تو نہیں ھے۔

Top of Form

Like