Anxiety and eyes آنکھیں اور پریشانیاں

حاصلِ مطالعہ

پریشانیوں کے حوالے سے:

  جو دیمک کی طرح زندگی کی خوشیوں کو کھا جاتی ہیں۔

بہت سے لوگوں کی سردرد اور آنکھوں کی درد کا باعث بھی پریشانیاں ہی ہوتی ہیں

    پریشانیوں کی نوعیت کا تجزیہ

کسی بھی آدمی کی پریشانیوں کی اگر فہرست بنائی جائے اور اُس کا تجزیہ کیا جائے تو مندرجہ ذیل صورت حال سامنے آتی ہے:

  • 10 فیصد یا اس سے بھی کم کا تعلق موجودہ حالات سے ہوتا ہے۔ یعنی وہ مسائل جو فوری حل طلب ہوتے ہیں۔

  • 40 فیصد کا تعلق ماضی کے واقعات سے ہوتا ہے۔ ماضی کی یادیں، کسی سے شکوہ، کسی سے نفرت، کاش ایسے نہ ہوتا، کاش میرے ساتھ فلاں یوں نہ کرتا، وغیرہ۔ قرآن میں اس کے لئے حزن کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔

  • 50 فیصد یا اس سے بھی زیادہ کا تعلق مستقل کے خدشات سے ہوتا ہے۔ قرآن میں اس کے لئے خوف کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔

حل کرنے کے سنہری طریقے

ماضی سے متعلق پریشانیاں

جہاں تک ماضی کی پریشانیوں یعنی حزن کا تعلق ہے ان کو یاد کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

ان کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنا چاہئے اور واضح الفاظ میں لکھ لینا چاہئے کہ کس واقعے میں کیا غلطی ہوئی تھی۔ اس تجزئے پر محنت کرنی چاہئے۔

اور پھر تہیہ کرلینا چاہئے کہ اگر اسی طرح کے حالات دوبارہ پیش آئے تو یہی غلطی دوبارہ نہیں کروں گا۔

بار بار ماضی کے واقعات کو دہرانے سے صرف حسرت پیدا ہوتی ہے اور پھر حسرت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔

اس لئے ان پریشانیوں کو شعوری کوشش کرکے ذہن سے جھٹک دینا چاہئے یعنی بھلانے کی شعوری کوشش کرنی چاہئے۔ ماضی کو دفن کر دینا چاہئے۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جو میرے بس میں نہیں تھا وہ میرا نصیب تھا۔ اور نصیب اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اللہ کا ہر فیصلہ حکمت پر مبنی ہوتا ہے البتہ وہ حکمت بہت دفعہ کافی عرصہ بعد سمجھ میں آتی ہے۔ یہ اللہ کی رضا ہے اور اس پر راضی رہنے سے اللہ خوش ہوتا ہے اور مزید عطا کرتا ہے۔

مستقبل سے متعلق پریشانیاں

  • جہاں تک مستقبل کے خدشات یعنی خوف کا تعلق ہے ان میں سے بہت زیادہ خدشات کا تعلق حقیقت سے نہیں ہوتا۔

  • آپ آج اپنے خدشات کی فہرست بنا کر کہیں محفوظ کر لیں۔ چھ مہینے بعد اسے پڑھیں آپ حیران ہو جائیں گے کہ میں کتنے غیر حقیقی خدشات کی وجہ سے پریشان تھا۔ آپ جن حالات سے ڈر رہے تھے وہ حالات پیدا ہی نہیں ہوئے اور کئی ایسے اسباب مسب الاسباب نے پیدا کر دئے جو آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھے۔

  • ان خدشات کو ذہن پر سوار کرنے کی بجائے ممکنہ حالات کے لئے اپنا پورا زور لگا کر تیاری کرنی چاہئے پھر نتیجہ کے بارے میں اللہ پر بھروسہ کرنا چاہئے اور اس سے مدد کی دعا کرنی چاہئے۔

  • ہر کام خود کرنے کی بجائے بہت معاملات کو اللہ کے سپرد کر دینا چاہئے۔ وہ آپ سے زیادہ عقلمند ہے اور آپ کا آپ سے زیادہ خیر خواہ ہے۔

موجودہ حالات سے کیسے نبٹا جائے؟

اب اگر ماضی کو دفن کر دیا جائے اور مستقبل کی حسب استطاعت تیاری کرکے انجام اللہ پر چھوڑ دیا جائے تو پھر باقی صرف 10 فیصد پریشانیاں بچتی ہیں جن کا تعلق موجودہ حالات سے ہے جن کا فوری مقابلہ کرنا ہے۔ عام طور پر ان سے نپٹنے کی اہلیت ہر شخص میں ہوتی ہے۔ بشرطیکہ:

  • اپنی چادر دیکھ کر اپنے پاٶں پھیلائیں۔

  • دوسروں سے وہ توقعات وابستہ کریں جو حقیقی ہوں۔

  • اپنا جائزہ لے کر اپنی غلطیوں کو معلوم کرے اور ان کا کھلے دل دے اعتراف کرے۔

  • انسان یاد رکھے کہ وہ خدا نہیں ہے اور اس سے بر تر ایک ہستی اس کو کنٹرول کر رہی ہے۔ چنانچہ ناگزیر سے تعاون کریں اور حقائق کو قبول کریں۔

  • اپنے سے نیچے کی طرف دیکھیں کہ کتنے لوگ اسسے بھی بد تر حالات میں جی رہے ہیں۔ اگرچہ یہ نعمت آپ کو میسر نہیں ہو سکی لیکن کتنی ہی ایسی نعمتیں آپ کو میسر ہیں جو بے شمار لوگوں کو میسر نہیں۔

  • اگر آپ ناکام ہو گئے ہیں اور آپ کو بالفرض نکمی ترین چیز مثلاً ایک لیموں ہی ملا ہے تو اسے بھی ضائع کرنے کی بجائے اس کی شکنجبین بنائیں اور مزے لیکر پی جائیں۔

  • ماضی کو بھول کر اور مستقبل کے حوالے سے اللہ پر توکل کرکے آپ 90 فیصد پریشانیوں پر قابو پا سکتے ہیں اور تازہ دم ہو کر باقی دس فیصد سے احسن طریقے سے نبٹ سکتے ہیں۔

  • آج کو گزاریں کل اپنی فکر آپ کر لے گا۔

  • ہم زندہ رہنے کو ملتوی کرتے رہتے ہیں۔

  • جتنا اچھا آپ اپنے حال کو گزاریں گے ویسا ہی آپ کا مستقبل ہوگا کیونکہ جو آپ آج بوئیں گے وہی کل کاٹیں گے۔ اگر آپ اپنے حال کے مسائل کو اچھی طرح حل نہ کر سکے تو وہی آپ کا مستقبل بن جائیں گے۔ 

جادو کے طریقے سے پریشانیاں حل کیجئے

درج ِ زیل طریقے واقعتاً جادو ہیں صرف محاورے کے طور پر نہیں:

فارمولہ نمبر 1

  1. جس مشکل نے آپ کو پریشان کر رکھا ہے اس کا حقیقت پسند بن کر تجزیہ کیجئے:

    1. وہ غلطی ہے کیا جو آپ نے کی ہے؟ 

    2. وہ کیا متوقع نقصان ہے جو ہو سکتا ہے؟

    3. اس کے وہ کونسے حقیقی بد ترین نتائج ہیں جو ہو سکتے ہیں؟

  2. جو نتائج ظاہر ہونے ناگزیر ہیں لیکن آپ کے بس سے باہر ہیں اُن کو قبول کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کیجئے۔

  3. جب تک یہ نتائج عملاً واقع نہیں ہوتے اسوقت تک اپنی پوری کوشش کریں کہ جو بدترین نتائج متوقع ہیں ان کو کمترین میں بدلا جا سکے۔ سوچیں ہو سکتا ہے ان کو روکا جا سکتا ہو جو ان کے نقصانات کو کم کرنے کے لئے کوئی متبادل راستے اختیار کئے جا سکتے ہوں۔

فارمولہ نمبر 2

  1. اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو تو درج ذیل چیزوں کو واضح انداز میں متعین کرنے کی کوشش کریں:

    1. . مسئلہ اصل میں ہے کیا؟

    2. مسئلہ کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

    3. اس کے کیا کیا ممکنہ حل ہو سکتے ہیں؟

    4. صرف ایک ہی حل کے گرد نہ گھومتے رہیں دیگر امکانات پر ضرور غور کریں۔

    5. سب سے بہترین حل کونسا ہے؟

  2. ان سوالوں کے جواب تلاش کرتے وقت آپ کا انداز بے رحمانہ ہونا چاہئے۔ پورے حقائق کو سامنے رکھ جواب متعین کریں مفروضوں کو بنیاد نہ بنائیں۔ اچھی طرح چھان بین کرنے کے بعد کسی نتیجہ پر پہنچیں۔

  3. جب غورو فکر کے بعد کوئی فیصلہ ہو جائے تو پھر یکسو ہو کر اس پر عمل کریں۔ نتیجے کے بارے میں کسی قسم کی تشویش یا تردد کا شکار نہ ہوں۔ 

آئیے پریشانی کو شکست دیں

  • اگر آپ کو ترقی، عہدہ، یا کوئی مالی فائدہ مل رہا ہو لیکن آپ کو معلوم ہو کہ اس کے نتیجے میں ایک مسلسل ذہنی کوفت یا پریشانی آ جائے گی یا ورزش، سیر، یا تفریح کے مواقع ختم ہو جائیں گے یعنی صحت برباد کرنا پڑے گی تو یہ سودا کبھی نہ کیجئے۔

  • مصروف رہنے سے پریشان رہنے کی عادت چھوٹ جاتی ہے۔ اپنے آپ کو بہت مصروف کر دینا چاہئے۔ چرچل کا قول: “میں بہت مصروف ہوں میرے پاس پریشان ہونے کے لئے وقت نہیں ہے”۔ اسکی بنیاد ایک نفسیاتی اصول ہے جو یہ ہے کہ انسانی دماغ ایک وقت میں ایک سے زیادہ چیزوں پر سوچ بچار نہیں کر سکتا۔ پیشہ ورانہ مصروفیات کے ختم ہونے کے بعد کے لمحات اس سلسلے میں بہت خطرناک ہوتے ہیں۔ ان لمحات میں پریشانی، انتشار، اور مایوسی کا حملہ ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

  • اگر آپ کے ذہن میں ہدف غیر واضح ہو تو ان کیفیات کے پیدا ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

  • اکثر اوقات ہم جن باتوں کے بارے میں پریشان ہوتے ہیں وہ حقیقتاً بہت معمولی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ اگر ہم حقیر اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کردینے کی عادت کو پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو بہت ہماری پریشانیوں کی فہرست بہت چھوٹی ہو جائے گی۔

  • بے شمار خدشات ایسے ہوتے ہیں جن کے وقوع پذیر ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوتا لیکن ہمیں فکر ہوتی ہے کہ اگر ایسے ہو گیا تو کیا بنے گا۔ اگر حقیقت پسند بن کر تجزیہ کیا جائے تو عین ممکن ہے متوقع خدشہ کا امکان پانچ ہزار امکانات میں سے ایک ہو۔ اس طرح کے خدشات کو نظر انداز کر دینے کی جرٲت اگر ہم اپنے اندر پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو پریشانیوں کی ایک لمبی چوڑی تعداد سے ہم چھٹکارا پا سکتے ہیں۔

  • یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ ضرورت پڑنے پر انسان ہر صورت حال کو قبول کر لیتا ہے اور اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ اسے بھول جاتا ہے۔ زندگی کے اندر بہت سارے حقائق بڑے تلخ اور ناگوار ہوتے ہیں۔ جب ہمارا شعور اور ہماری سمجھ ہمیں بتائے کہ ہم ایک ایسی چیز سے ٹکر لے رہے ہیں جو اپنی جگہ سے نہیں ہٹائی جا سکتی تو پھر ہمیں اپنی کم مائیگی کی حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے۔ جب ہم ناگزیر کو قبول نہیں کرتے بلکہ اسے برا بھلا کہتے ہیں تو اس سے اپنے اندر تلخی پیدا کرلیتے ہیں۔ ہم ناگزیر کو تو بدل نہیں پاتے البتہ خود ہر وقت مضطرب، پریشان، اور اعصابی تناٶ کا شکار رہنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے اندر کشمکش کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ایک راز کی بات یہ ہے کہ اگرچہ ہم ناگزیر کو تو نہیں بدل سکتے تاہم یہ عین ممکن ہے کہ ہم اپنے آپ کو بدل لیں۔ جس سے امکانات کا ایک نیا جہان نظروں کے سامنے آ جائے۔ بالکل اسی طرح جس طرح ندی کا پانی جب دیکھتا ہے کہ میں اس پتھر کو نہیں بہا سکتا تو وہ دوسری طرف سے راستہ بنا کر گزر جاتا ہے۔ خوشی اور مسرت حاصل کرنے کا ایک بڑا اچھا طریقہ یہ ہے کہ آپ ان چیزوں کے متعلق پریشان ہونا چھوڑ دیں جن پر آپ کا کوئی اختیار نہیں۔ “جو ہو کر ہی رہنا ہے اسے سکون سے برداشت کرو”۔ 

خسارہ روک اصول استعمال کیا کریں اس سے آپکی پریشانیاں بہت کم ہو جائیں گی

پریشان ہونے اور کسی چیز پر پچھتانے سے پہلے ہمیں رک کر سوچنا چاہئے کہ

  1. یہ چیز جس کے لئے میں پریشان ہوں فی الحقیقت میرے لئے کتنی ضروری ہے؟

  2. کونسے مقام پر میں “خسارہ روک اصول” استعمال کروں گا یعنی جانتے بوجھتے ہوئے خسارہ قبول کر لوں گا تاکہ خسارہ کہیں ناقابل برداشت حد تک نہ چلا جائے۔ رضاکارانہ طور پر اختیار کردہ خسارہ کو برداشت کرکے پھر اسے بھول جاؤں گا۔

  3. مجھے اس کی کتنی قیمت ادا کرنی چاہئے؟ کیا میں اس کی قیمت پہلے ہی ادا نہیں کر چکا؟ کیا یہ چیز میں بہت ہی زیادہ مہنگی تو نہیں خرید رہا؟

بہت ساری پریشانیوں کا حل صرف یہ ہے کہ ہم حقیقت پسند بن جائیں

ہم کسی بھی گزرے ہوئے واقعے کو بدل نہیں سکتے؛ وہ ہو چکا۔ البتہ ہم اُس کے نتائج کو بدلنے کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کر سکتے ہیں۔

جن حالات سے تمھیں سابقہ پڑا ہے اُن حالات نے تمھیں شکست نہیں دی بلکہ تم نے اپنے خیالات سے مات کھائی ہے۔ وہ خیالات جو تمھارے ذہن میں اُن حالات کے متعلق تھے۔ جب کوئی شخص دوسرے لوگوں اور چیزوں کے متعلق اپنے خیالات بدلتا ہے تو وہ دیکھے گا کہ دوسرے لوگوں اور چیزوں کے رویے میں خود بخود تبدیلی آ گئی ہے۔

حقیقت پسند بن کر اپنی assessment کرنی چاہئے اور کہ میں اصل میں ہوں کیا؟ وہ کونسی صلاحیتیں اور طاقتیں ہیں جن سے اللہ نے مجھے نوازا ہے؟ اور ان میں کونسی مناسب طور پر استعمال ہو رہی ہیں اور کونسی ضائع ہو رہی ہیں؟ وہ کونسی کمزوریاں ہیں جو میرے اندر موجود ہیں؟ اور کونسی ایسی ہیں جن کو میں دور کر سکتا ہوں؟ اس تجزئے کے بعد اپنے عزائم اور اپنی توقعات کو اپنی حیثیت کے مطابق بنائیں۔ اس طرح آپ محسوس کریں گے کہ آپ نے اپنی زندگی کی ایک نئی نقشہ گری کر لی ہے۔ آپ وہی بننے کی کوشش کریں جو آپ ہیں اور جو آپ بن سکتے ہیں۔ کچھ اور بننے کی کوشش کریں گے تو لازماً ناکام ہو جائیں گے۔ اور پریشان ہوں گے۔ اپنے آپ کو پہچانیں اپنی پوری خوبیوں اور پوری خامیوں سمیت۔ آپ وہی بن سکتے ہیں جو آپ کو بنایا گیا ہے اور کچھ نہیں بن سکتے۔ البتہ جو ہیں وہ بہترین بننے کی کوشش کریں۔ دوسروں کی نقل کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ آپ جو ہیں وہی بنں لیکن وہ بہترین بنیں۔

بہت ساری پریشانیاں کُچھ معاشرتی بیمایاں کی وجہ سے ہوتی ہیں، اگر ان کے انڈے ہی تلف کر دئیے جائیں تو شاید بچے پیدا ہی نہ ہوں

عجلت اور تذبذب دو بڑی خطرناک بیماریاں ہیں۔ آپ یہ نہ سوچیں کہ میں آج ہی اپنی زندگی کے سارے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کروں گا۔ آپ یہ سوچیں کہ کم از کم آج کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے اسلئے آج میں خوش رہوں گا۔

نفرت کو اپنے اندر نہیں پالنا چاہئے۔ ہماری نفرت سے دشمن کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا البتہ ہماری اپنی زندگی نفرت سے جہنم بن جاتی ہے۔ سوچنا چاہئے کہ کیا وہ شخص واقعی اتنا اہم ہے کہ ہم اس کے لئے اپنی صحت کو برباد کر دیں؟

احسان فراموشی اور ناقدری انسان کی ایک فطری کمزوری ہے۔ لوگ شکریہ ادا کرنا بھول جاتے ہیں۔ اسلئے اگر ہم احسان شناسی کی توقع کریں گے تو ہم خود اپنے آپ کو صدمہ پہنچائیں گے۔ کسی کے ساتھ آپ دس بار اچھا سلوک کریں گے تو شاید ایک بار وہ آپ کا مشکور ہو۔ لوگوں کی توجہ اور محبت مطالبہ کرنے سے نہیں ملتی۔ ہمیں اس لئے احسان کرنا چاہئے کہ اس سے اللہ کی رضا اور نتیجتاً روحانی مسرت حاصل ہوتی ہے۔

کچھ معاشرتی خوبیاں ایسی ہیں جو پریشانیوں کو پیدا ہی نہیں ہونے دیتیں

احسان شناسی اور شکر کے جذبات اپنے اندر پیدا کرنے چاہئیں۔ اللہ کے بارے میں بھی اور انسانوں کے بارے میں بھی۔ اللہ کے بے شمار احسانات اور نعمتوں کو ہم بھول جاتے ہیں اور جو ایک آدھ مشکل یا محرومی ہوتی ہے اُسی کو اپنے دماغ پر سوار کر لیتے ہیں۔ اسی طرح ایک انسان کی بہت سی خوبیاں ہمیں بھول جاتی ہیں اور کوئی ایک خرابی یا برا سلوک سامنے رکھ کر ہم اس کو کوسنا شروع کر دیتے ہیں۔ پریشانیوں اور محرومیوں کے مرثیے تو ہر وقت فضاؤں میں گونجتے سنائی دیتے ہیں لیکن شکر کا نغمہ کبھی کبھار کی سننے کو ملتا ہے۔

خوشی زیادہ تر تفریح طبع سے حاصل نہیں ہوتی۔ خوشی “احساسِ فتح” سے حاصل ہوتی ہے۔ کامیابی کے احساس سے حاصل ہوتی ہے۔

نفع حاصل کرنا یا نفع کو حصل کر لینا یہ کوئی کارنامہ نہیں۔ کارنامہ یہ ہے کہ نقصان کو نفع میں بدل دیا جائے۔ بنجر زمین میں سانپ زیادہ ہوتے تھے اور زمین سے فصل اگانا مشکل تھا؛ اس نے سانپوں کو پکڑنا شروع کر دیا۔ لیبارٹریوں میں تریاق بننے لگا، ان کی کھالوں سے جوتے اور دستی بیگ بننے لگے۔ یہ کارنامہ ہے۔

خدمت اور ایثار وہ بہترین ہتھیار ہیں جن کے ذریعے تم زندگی سے لطف اُٹھا سکتے ہو۔ زندگی کے اندر مسرت بھر سکتے ہو۔ اس سے خود فراموشی کی نعمت حاصل ہوتی ہے۔ دوسروں کو خوش کرنا، دوسروں کی مدد کرنا، ان کی دعائیں لینا اِس سے مسرت ملے گی، تسلی ملے گی، اپنے آپ پر ناز کرنے کو جی چاہے گا۔ آپ کو بےشمار دوست ملیں گے۔ کسی کی خوبی کی تعریف کر دیں، کسی کی حوصلہ افزائی کر دیں۔ جب لوگوں میں دلچسپی کا اظہار کیا جائے تو اُن کے چہرے خوشی سے دمک اُٹھتے ہیں۔ لوگ صرف اتنا چاہتے ہیں۔ دوسروں کی باتیں توجہ سے سننے والا اور دوسروں کی حوصلہ افزائی کرن والا رفتہ رفتہ ہردلعزیز بن جاتا ہے۔

پریشانیوں پر قابو پانے کے لئے مذہب بہترین نسخہ ہے۔ انسان زندگی کو سمجھنے کے لئے نہیں بنایا گیا بلک اسے نبھانے کے لئے بنایا گیا ہے۔ انسان کو اپنی جنگ اکیلے نہیں لڑنی چاہئے بلکہ اس اعلی اور برتر ذات کی طاقت اور مدد سے لڑنی چاہئے۔ اکیلا آدمی آسانی سے شکست کھا سکتا ہے لیکن اگر اُس ہستی کا ساتھ میسر ہو تو انسان بڑی بڑی طاقتوں کو مسخر کرتا چلا جاتا ہے۔ یہ یقین ہونا چاہئے کہ جس نے پیدا کیا ہے وہ روزی بھی لازماً دے گا۔ وہ مجھ سے پیار کرتا ہے وہ مج سے زیادہ عقلمند ہے وہ مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے۔

تنقید اور نکتہ چینی سے بد دل نہیں ہونا چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ:

  • کوئی بھی مردہ کتے کو ٹھوکر نہیں مارتا۔ کسی کے اندر کوئی خصوصیت ہوتی ہے تو اللہ اسے عزت دیتا ہے۔ جب کسی کو نمایاں مقام ملتا ہے تو لازماً حاسد پیدا ہوتے ہیں۔ آپ کچھ نہیں کریں گے تو تنقید بھی کوئی نہیں کرے گا۔ تنقید دراصل اعتراف ہے اور یہ بھی دراصل تعریف ہے۔ جب لوگوں سے بلند بننے کی کوشش کرو گے تو نکتہ چینی ضرور ہو گی، باتیں ضرور ہونگی۔ بہتر ہے کہ اس کے عادی بن جاٶ۔

  • ٹھوکر لگانے والا اپنی اہمیت جتا رہا ہوتا ہے، اپنے دل کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے تاکہ اپنے احساس کمتری کو دبا سکے۔ علاوہ ازیں بعض لوگوں کو ایسے لوگوں کی مذمت کرکے وحشیانہ تسکین حاصل ہوتی ہے جو ان کی نسبت زیادہ پڑھے لکھے یا زندگی میں زیادہ کامیاب ہوں۔ ذلیل لوگ بڑے آدمیوں کی غلطیوں اور حماقتوں سے بہت خوشی حاصل کرتے ہیں۔

ہم جتنے پریشان ہوتے ہیں کہ تنقید اور مذمت سے ہمیں اتنا نقصان ہوا ہے؛ کیا واقعتاً اتنا نقصان ہوتا بھی ہے؟ کیا لوگ ہمارے متعلق اتنا سوچتے بھی ہیں؟ ہم پریشان رہتے ہیں کہ لوگ کیا سوچیں گے فلاں کیا کہے گا لیکن حقیقت یہ ہے لوگ کسی دوسرے کی موت پر بھی اتنا پریشان نہیں ہوتے جتنا اپنی سردرد پر پریشان ہوتے ہیں۔ جب تک آپ کو یقین ہے کہ آپ سچے ہیں، نامعقول اور نامناسب نکتہ چینی پر بالکل توجہ نہ دیں۔ نکتہ چینی ہمیں مضطرب کیوں کرتی ہے؟ ہم توقع کرتے ہیں کہ لوگ ہمیں “مکمل” سمجھیں اور ظاہر ہے کہ نہ ہم مکمل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ہیں اس لئے لوگ بھی نہیں سمجھتے۔ جب وہ ہمیں مکمل نہیں سمجھتے تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں۔ حتی الامکان بہترین کام کرنے کی کوشش کرو پھر برساتی پہن لو تاکہ نکتہ چینی کی بارش بھگونے کی بجائے راستے میں ہی رک جائے۔ یا پھر اسے کپڑوں کو بھگونے دو اور اس سے محظوظ ہو اور ہنس دو۔ اپنے دل کو سمجھاؤ کہ “میں اپنی کوشش جاری رکھوں گا، انجام کا اگر میں سچا ہوا تو یہ سارا کچھ بے معنی ہو جائے گا لیکن اگر میں غلط ہوا تو خود مجھے بھی ان ساری باتوں سے اتفاق ہوگا جو میرے بارے میں کہی جا رہی ہیں”۔

ہم منطق کی مخلوق ہیں بلکہ ہم جذبات کے بیٹے ہیں۔ ہم میں سے اکثر کی اپنے بارے میں نہایت اچھی رائے ہوتی ہے؛ لیکن اگر ہم آج کے واقعات کو چالیس سال بعد پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو اپنی موجودہ شخصیتوں کا مذاق اڑائیں گے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مجروح جذبات و احساسات کو تسکین دینے کی جتنی کوشش کرو گے دشمنوں کی تعداد میں اتنا ہی اضافہ ہوتا جائے گا۔ ہر وقت یہ امکان سامنے رہنا چاہئے کہ میں غلط ہو سکتا ہوں اور کوئی دوسرا صحیح ہو سکتا ہے۔ عقلمندی تو یہ ہے کہ دوسروں کو تنقید کی دعوت دینی چاہئے۔

کچھ اچھی عادتیں بھی پریشانیوں کے عفریت کا مقبلہ کرنے میں مدد دیتی ہیں

اکثر آرام کرنا اور تھکنے سے پہلے آرام کرنا پریشانی کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے۔ دوپہر کا قیلولہ اس سلسلے میں جادوئی اثر رکھتا ہے خواہ آدھا گھنٹہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس سے کام کی استعداد بڑھ جاتی ہے۔

تھکان زیادہ تر ہمارے دماغی اور جذباتی رویے کے تابع ہوتی ہے۔ بوریت، خفگی، بیکاری، عجلت، تشویش، پریشانی، بد دلی جیسی کیفیات میں انسان فوراً تھک جاتا ہے۔ جبکہ مسرت، اطمینان، اور قناعت جیسی کیفیتوں میں انسان بہت کم اور بہت دیر بعد تھکتا ہے۔

  • تنے اور کچھے رہنا ایک عادت ہے جبکہ جسم کو ڈھیلا چھوڑ کر آرام پہچانا بھی ایک عادت ہے۔

  • کام کے دوران آرام کرنے کی عادت اختیار کیجئے۔ آرام پہنچانے کی کوشش مت کیجئے۔ آرام ہر قسم کی کوشش اور کھچاؤ کی نفی کرتا ہے۔

خواتین کو خوبصورت بننے کے لئے تھوڑا بہت وقت ضرور نکالنا چاہئے کیونکہ جب کسی عورت کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ خوبصورت نظر آ رہی ہے تو اس کا اعصاب سے تعلق بہت کمزور ہو جاتا ہے۔

اپنی میز پر صرف وہ کاغذات رکھیں جو فوری توجہ کے مستحق ہوں۔

کاموں کی ترجیحات کا تعین کریں۔ اور ان کو ان کی اہمیت کے مطابق ترتیب دیں۔

فیصلوں کو بلاوجہ لٹکایا نہ کریں۔ اگر فیصلہ کرنے کے لئے ضروری حقائق موجود ہوں تو اس کا وہیں اور اسی وقت فیصلہ کر دیں۔

تقسیم کار اور تفویض کو عادت بنائیں اوردوسروں پر بھروسہ اور نگرانی کرنا سیکھیں۔

اپنے پیشے اور کام کو اطمینان اور لطف اندوزی کا ذریعہ بنائیں۔ کام کے دوران عدم دلچسپی پریشانی کا باعث بنتی۔ زندگی کے دو فیصلے بہت سوچ سمجھ کر کریں

  1. پیشہ یا ذریعہ آمدن کیا ہو گا؟

  2. زندگی کا ساتھی کون ہو گا؟

اخراجات کو اپنے کنٹرول میں کیسے لایا جائے کہ پریشانی کا باعث نہ بنیں؟

گیلپ کے ایک سروے کے مطابق 75 فیصد پریشانیاں روپے پیسے سے متعلق ہوتی ہیں اوار اکثر لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر ہماری آمدن میں صرف 10 فیصد اضافہ ہو جائے تو ہماری مالی پریشانیاں ختم ہو جائیں گی حالانکہ اکثر اوقات یہ بات بالکل غلط ہوتی ہے۔ آمدن میں اضافہ ہونے سے سوائے اخراجات بڑھ جانے اور سردردی میں اضافہ ہونے کے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ روپے کو سلیقہ سے خرچ کرنے کے فن کو جاننے کا ہے جس سے اکثر لوگ بے بہرہ ہوتے ہیں۔

  1. آمدن کو خرچ کرنے باقاعدہ پلان بنانا چاہئے اور پھر اس کے مطابق خرچ ہونا چاہئے۔ بغیر سوچے سمجھے خرچہ نہیں کرنا چاہئے۔ اس بات کا فیصلہ کیجئے کہ مسرت کیسے ملے گی؟ ابنے آپ کو ایک متوازن بجٹ کے اندر رھنے پر مجبور کرنے سے یا قرض خواہوں کے تقاضوں سے۔

  2. اپنی ضروریات کو کاغذ پر لکھیں اور ان کی ترجیحات متعین کریں۔ اخراجات کا حساب رکھیں۔ اور آمدن کے اندر اندر خرچ کریں۔ زیادہ اہم پر خرچ کریں اگر چھوڑنا ضروری ہو تو کم اہم چھوڑ دیں۔

  3. ساکھ قائم کرنے کی کوشش کریں تاکہ اگر کبھی قرض لینے کی ضرورت پڑ جائے تو لے سکیں۔

  4. ھنگامی ضرورتوں مثلاً بیماری، آگ کے اخراجات کے لئے اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کیجئے اور ہو سکے تو کچھ نہ کچھ انتظام ہر وقت کرکے رکھنا چاہئے۔

  5. اپنے بچوں اور دیگر لواحقین کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا سکھائیے۔

  6. اگر ممکن ہو سکے تو اپنے موجودہ وسائل سے کوئی اضافی آمدن پیدا کرنے کی کوشش کیجئے۔

  7. سپلائی لائین محفوظ رہنی چاہئے۔ کوئی نہ کوئی متبادل ذریعہ آمدن ضرور ہونا چاہئے تاکہ صرف ایک ہی ذریعہ پر انحصار نہ ہو اور اگر وہ چھن جائے تو محتاجی سے بچا جا سکے۔

وقت بے شمار مسئلوں کو حل کر دیتا ہے۔ وقت ان مسائل کو بھی حل کر سکتا ہے جن کے بارے میں آپ آج پریشان ہیں۔ 

اگرآپ اِس موضوع سے متعلق مزید کوئی سوال پوچھنا چاہتے ہوں تو اُس کو کمنٹ کے خانے میں لکھ کر پوسٹ کر دیں انشاءاللہ انہی صفحات میں جواب دینے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی طرح اپنی رائے، تبصرہ یا تجویز کو بھی کمنٹ میں لکھ کر پوسٹ کردیں میں بہت ممنون اور مشکور ہوں گا۔

3 thoughts on “Anxiety and eyes آنکھیں اور پریشانیاں”

  1. ڈاکٹر صاحب میں سٹوڈنٹ ہوں۔ پچھلے مہینے میں نے اتنا زیادہ پڑھا ہے کہ میری آانکھوں میں دھندلا پن شروع ہو گیا ہے۔ جب میں پڑھائی میں مصروف نہیں ہوتا تو دھندلا پن بھی نہیں ہوتا۔ لیکن میں اپنی پڑھائی کو تو ختم نہیں کر سکتا اور عینک بھی میں بالکل لگانا نہیں چاہتا۔ ہاشمی کا عرق گلاب استعمال کر رہا ہوں لیکن فائدہ محسوس نہیں ہوتا۔ کوئی آسان علاج تجویز کر دیں مہربانی ہو گی۔

    1. وعلیکم السلام عمیر  بیٹا اگر آپ حقائق کا مقابلہ نہین کر سکتے تو پھر میرا ایک مشورہ مانو۔ اپنے محلے میں کوئی ایسا گھر تلاش کرو جس میں کبوتر رکھے ہوئے ہوں۔ پھر کچھ عرصہ وہاں گزار کر اس بات کا مشاہدہ کرنے کی کوشش کرو کہ جب کبوتر بلّی کو دیکھ کر آنکھیں کر لیتا ہے توپھر کیا ہوتا ہے؟ سُنا ہے کہ پرانے زمانے میں بلّی کبوتر کو کھا جایا  کرتی تھی آجکل جدید دور ہے ہو سکتا ہے اب کبوتر کے آنکھیں بند کرنے کے بعد بلّی مر جاتی ہو۔ اگر کوئی نئی تحقیق کر سکو تو مجھے بھی ضرور اطلاع دینا۔ میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ حقیقت پسند بنو اور حقائق کا مقابلہ کرنا سیکھو۔

  2. بسم ا للہ الرحمان الرحیم

    محترم شمیم صاحب وعلیکم آپ کی درخواست پر آپ کا سوال ظاہر نہیں کیا جا رہا۔ آپ کی باتیں پڑھ کر آپ کی طرح میں بھی پریشان ہو گیا ہوں۔ آپ کی حالت زار پڑھ کر میری آنکھیں نم ہو گئیں ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آپ کو اللہ نے انسان ہونے کی نعمت سے نوازا ہے کوئی اور مخلوق نہیں بنایا۔ اللہ نے آپ کو اتنا خوبصورت انسان بنایا ہے اگر وہ جانور بنا دیتا تو کیا آپ کچھ کر سکتے تھے؟ کیا آپ نے کبھی اس کا شکر کیا ہے؟ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے  کہ آپ کو نظر تو آتا ہے اگرچہ کم ہی سہی اگر دونوں آنکھیں ہی کام نہ کرتیں تو آپ اللہ کا کیا بگاڑ سکتے تھے؟ اللہ کا شکر ادا کیا کریں تاکہ اللہ اور نعمتوں سے نوازے۔ ٹیڑھا پن کوئی لاعلاج مرض نہیں ہے۔ نہ ہی روشنی سے تکلیف ہونا لاعلاج ہے۔ صرف آپ کسی اچھے آئی سپیشلسٹ سے ایک دفعہ معائنہ کروا لیں۔ انشاءا للہ آپ کی تکلیف بہتر ہو جائے گی۔ والسلام ڈاکٹر آصف کھوکھر

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔