یہ کیسی سیاست ہے ؟

جیل میرے اخوانیوں کا دوسرا گھر!

ان میں سے کتنے ہیں جن کے بچے ان کو سلاخوں کے پیچھے ملنے آتے اور دیکھتے جوان ہو گئے

بے شک لب پر ڈالو تالے طوق وسلاسل پہناؤ
فکر کو کیسے قید کرو گے تم اپنی زنجیروں میں
مجھے آج بھی اپنی ماں جیسی محترم زینب الغزالی یاد ہے جس پر قید خانے میں کتے چھوڑ دئیے گئے،قید خانے کو اذیت خانہ بنا دیا گیا مگر زینب الغزالی کسی پہاڑ کی طرح اپنے لفظوں پر قائم رہیں
سیسی اور اس کے سلفی دینداروں اور اسرائیل نواز بے دینوں سمیت سارےاتحادی شاید میرے سید قطب اور محمد قطب کی عظیمت کے راستوں کو بھول گئے یہ میرے حسن البناء کو بھی بھول گئے
مگر میرا پیارا مرسی
میرے محترم مرشد عام بدیع تو آج بھی تمہاری قید میں ہیں ناں
ذرا سوچو تو تم ان کے اہنی جذبوں کو کیسے شکست دے سکو گے یہ لوگ پانچ پانچ ہزار کی تعداد میں ایک دن اور ایک ہی مقام پر شہید کر دئیے گئے ان کے گھر جلا دئیے گئے اور جوان بیٹے ان کے ہاتھوں میں دم توڑ گئے مگر ان کے جذبوں میں کسی نے ہلکی سی بھی لرزش محسوس کی؟
یہ چٹانوں جیسے لوگ ایسے کیوں ہیں؟
اسلامی تحریکوں کے کارکنان نے کبھی سوچا؟
صرف ایک چیز کی برکت سے
صرف ایک چیز کے ساتھ تعلق کے سبب
صرف ایک محبت کی وجہ سے
صرف ایک چیز کے سہارے
اور وہ ہے
قران عظیم الشان
یہ عجیب اہنی لوگ
ایک رمضان
ملیون قران
کا ہدف بناتے ہیں اور اسے پورا کر جاتے ہیں
سخت پابندیوں کے دنوں میں ان کے ایم بی ایز اور انجینئرز نے مسجدوں کو مرکزبنا کر بچوں کو قران سکھانا شروع کر دیا اور کچھ ایسی مٹھاس نرمی اور شفقت سے کہ ہزاروں بچوں کو تحریک کے سرگرم کارکن بنا ڈالا
اس روز عزیز بھائی عبدالغفار بتا رہے تھے اور ان کی انکھوں میں چمک تھی یہ چمک نہ جانے انسووں کی نمی سے تھی یا پھر یقین کی مگر وہ مجھے روتے ہوئے بچوں کی ایک تصویر دکھا کر کہہ رہے تھے
زبیر بھائی یہ بچے معلوم ہے کیوں اس لاش کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں؟یہ نوجوان ان کا باپ نہیں کوئی رشتہ دار نہیں یہ ایم بی اے پاس نوجوان ان کو مسجد میں قران پڑھاتا تھا اور اس طرح پڑھاتا تھا کہ آج یہ سیسی کی فوج کے ہاتھوں اس کی شہادت پرانسووں سے رو رہے ہیں۔
میرے اخوان تم نے قران کا راستہ اختیار کیا اس پر ایمان لائے اسے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا آج تمام تر مصیبتوں کے باوجود پرسکون ہو تمہارے چہرے ہشاش بشاش ہیں تم سلاخوں کے پیچھے بھی مسکراتے ہو تمہیں کسی عارضی وقتی ظاہری تسلی کی ضرورت نہیں تمہارے لوگ لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر ہیں تمہارے قیدیوں کے بچوں کو باہر والون نے باپ کی کمی اور مان سے محرومی کا احساس نہیں ہونے دیا۔
ہمارے لئے دعا کرنا کہ ہمارا رب ہمیں کمزور جان کر ازمائش سے محفوظ رکھے
ہمیں امید نہیں اپنی ذات پر یقین سے نوازے
قران کو ہماری محبتوں کا مرکز بنا دے
ہمارے دل اس کے ساتھ دھڑکنےلگیں
اگر ازمائش ضروری ہی ہے تو پھر ہمیں سکون قلب اور حوصلہ سے اس کے سامنے کھڑا ہونے کی توفیق دےدے اور سرخرو کر دے۔

خود کلامی۔۔۔زبیر منصوری

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.