یہ کیا دانشور ہیں! کہیں بازی گر تو نہیں؟

شمس الدین امجد

شکر ہے
گزشتہ 14 صدیاں سوشل میڈیائی دانش سے محروم رہی ہیں، ورنہ کیا معلوم کہ السابقون الاولون اور اسلاف کے فقر، درویشی، سادگی، غربت کی سچی کہانیاں زندہ ہونے سے پہلے کہیں دفن ہو جاتیں۔ ذرا اندازہ کیجیے کہ جب خلفاء سے سوال کرنے کا رواج تھا، کوئی کھڑا ہو کر کہہ دیتا ” اے خلیفۃ المسلمین، یہ پتھر سرہانے کے نیچے رکھ بیابان میں نیند پوری کرنے سے ہمیں نہ لبھائیے، مسند نبی ﷺ کے وارث ہیں، کچھ ہے تو پیش کیجیے” دانش آج کی طرح اندھی ہوتی تو دنیا کو سب سے پہلے باقاعدہ نظام حکومت سے روشناس کروانے والے روم و فارس کو دھول چٹانے والے خلیفہ کے سامنے سوال اٹھانے سے ہرگز نہ ہچکچاتی۔
اور گزشتہ 14 سو سالوں کی تاریخی روایت اس لحاظ سے بھی شکریے کی ادائیگی کی مستحق ہے کہ کسی ایسی دانش سے اس کو سامنا نہیں کرنا پڑا کہ بند کرو آباء و اسلام کے یہ قصے کہانیاں، نامہ اعمال میں اس سے کچھ ہٹ کر ہے تو پیش کرو۔ دو لفظوں کی دانش کو کیا معلوم کہ عامیوں کے دماغ اس کی طرح آسمان پر نہیں ہیں، وہ اسی زمین پر رہتے ہیں، یہ واقعات سنتے ہیں تو ایمان تازہ ہوتا ہے، تزکیہ نفس ہوتا ہے، اور مشکلات میں گھری زندگی اس سے حوصلہ پاتی آگے بڑھتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جماعت اسلامی اس ملک کی واحد جمہوری جماعت ہے، تنظیم ایسی ہے کہ جب سے بنی ہے، ضرب المثل ہے۔
کراچی سے خیبر تک جہاں اس کو موقع ملا ہے، اس نے امانت و دیانت اور کارکردگی میں اپنی انفرادیت ثابت کی ہے، ایسی کہ معاشرہ مثالیں دیتا ہے۔
پلڈاٹ کہتا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں قومی اسمبلی اور سینٹ میں اس کے پارلیمنٹیرین کارکردگی کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہیں (پروفیسرخورشید احمد، لیاقت بلوچ) سب سے آگے ہیں، بہترین ہیں۔
اس کے موجودہ ارکان اسمبلی گیلپ، پلڈاٹ فافین جیسے اداروں سے کارکردگی کے اعتبار سے بہترین قرار پاتے ہیں، گاہے تو چاروں ٹاپ ٹین کی لسٹ میں شامل ہوتے ہیں۔
نعمت اللہ خان کراچی 4 ارب کا بجٹ 50 ارب تک پہنچا دیتے ہیں اور تبدیلی کی بنیاد رکھتے ہیں، ایسی کہ مشرف جیسا بدترین مخالف بھی اداروں کی رپورٹس کی بنیاد پر حسن انتظام اور دیانت کی گواہی دیتا ہے اور آفر کرتا ہے کہ جماعت چھوڑ دیں تو اگلی ٹرم بھی آپ کی ہے۔
عنایت اللہ خان آج بھی خیبر میں 10 اصلاحاتی کمیٹیوں کے چیئرمین ہیں، اور صوبے میں تبدیلی انھی کے دم سے ہے۔ ابھی کابینہ نہیں بنی تھی کہ ڈیلی ٹائمز جیسے نظریاتی مخالف اخبار نے لکھا کہ گزشتہ دور میں بطور وزیر صحت ان کی کارکردگی بہترین تھی، چنانچہ انھیں دوبارہ وزیرصحت بنایا جائے۔
اور
خود سراج الحق وزیرخزانہ بنے تو پہلا بجٹ 40 ارب کا اور آخری 100 ارب سے زائد کا پیش کیا، اور ایم ایم اے کے دورحکومت میں ورلڈ بنک سمیت عالمی اداروں نے فنانس مینجمنٹ اور فنڈز کے استعمال کو ایکسلنٹ قرار دیا۔ موجود دورحکومت میں اسحاق ڈار نے بہترین بجٹ پیش کرنے اور فنڈز کے درست استعمال کا اعتراف کیا۔
اور صرف حکومت نہیں، باہر بھی جماعت سب سے بڑا فلاحی نیٹ ورک رکھتی ہے اور اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں، ایسے کہ ایک ایک پائی کا حساب رکھا جاتا ہے۔ تعلیم و صحت کا نیٹ ورک چاروں صوبوں میں ہے، اور وہ بھی سب سے بڑا ہے۔ خوبیاں اور بھی بیان کی جا سکتی ہیں، دفتر ہی پیش کیا جا سکتا ہے، مگر دانشوری نے مطمئن ہونا ہے نہ ہوگی، کہ یہ سب باتیں تو اس کے علم میں بھی ہیں، مگر انجان بن نامہ اعمال سے کچھ پیش کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ پہلے ایسے مطالبے پر حیرانی ہوتی تھی، اب یہ حیرانی بھی جاتی رہی ہے، کہ چٹکلوں پر حیران نہیں ہوا جاتا، مسکراہٹ اچھالی جاتی ہے، محظوظ ہوا جاتا ہے۔

Author: Dr Asif Mahmood Khokhar

Senior eye surgeon with special interest in Vitreoretinal, Oculoplastic, Laser, and Phaco surgeries

Leave a Reply

Be the First to Comment!

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

wpDiscuz