کیا ہم اتنا بھی نہیں کر سکتے؟

اگر اللہ نے آپ پر کوئی خاص کرم کیا ھے جس کی وجہ سے آپ ایک عدد گاڑی کے مالک ہیں تو آپ اس گاڑی میں سفر کو بھی اللہ کا شکر ادا کرنے اور نیکیاں سمیٹنے کا زریعہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے لئے آپ کو کچھ خاص نہیں کرنا، بس یہ کریں کہ:
اگر شام یا رات کو آپ گاڑی میں جارہے ہیں اور آپ کے سامنے سے کوئی فیملی یا خواتین پیدل آرہی ہیں تو آپ اپنی گاڑی کی ہیڈلائٹس بند کردیں۔ ہوسکتا ھے کہ خواتین اپنے اوپر گاڑی کی لائٹس پڑنے سے ‘ ان ایزی’ فیل کررہی ہوں۔ چند سکینڈز کیلئے ہیڈلائٹس بند کرکے وہاں سے گزرنے میں کوئی نقصان نہیں ہوگا لیکن ایسا کرنے سے آپ خواتین کو ریسپیکٹ دیں گے جس کی ڈائریکٹ بینفشری آپ کے گھر کی خواتین بھی ہونگی۔
اگر آپ کسی تنگ گلی یا سڑک سے گزر رہے ہیں اور آپ کے آگے کوئی گدھا گاڑی والا یا ریڑھی والا جارہا ھے تو اسے ہارن دے کر اس چیز کا احساس مت دلائیں کہ وہ اپنی ریڑھی آپ کی گاڑی کے آگے کھینچ کر کسی گناہ کا مرتکب ہورہا ھے۔ دنیا کا کوئی کام اتنا ضروری نہیں ہوسکتا کہ جس کی خاطر آپ ایک غریب، مجبور انسان کی خودداری پر مزید کچوکے لگا دیں۔
کسی کراسنگ کے دوران اگر آپ کو کوئی راستہ دے دیتا ھے تو ہاتھ کے اشارے سے اس کا شکریہ ادا کریں۔ ہوسکے تو ونڈو کا شیشہ نیچے کرکے بلند آواز سے ‘تھینک یو’ یا ‘شکریہ جناب’ کہہ دیں۔ ایسا کرنے سے آپ اس شخص کو ایک زبردست پازیٹو انرجی دیں گے جس کے اثرات گھوم پھر کر آپ تک ضرور واپس آئیں گے۔
اگر بے دھیانی میں گاڑی چلاتے وقت آپ نے غلط لین کراس کرلی، یا کسی پر پانی کی چھینٹے گرا دیئے تو ہاتھ اٹھا کر معذرت کرنے سے آپ کی عزت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور اگر ہوسکے تو گاڑی سائیڈ پر لگا کر اس شخص کے پاس جائیں اور اس سے معذرت کرلیں۔ یہ عمل نہ صرف آپ کے گناہ چھڑوا دے گا بلکہ اس شخص سے دعائیں بھی مفت میں مل جائیں گی۔
اگر سگنل پر کوئی ٹریفک پولیس والا سخت گرمی میں ٹریفک مینج کررہا ھے، آپ اس کے پاس سے گزرتے ہیں اور آپ کی آنکھیں ٹکراتی ہیں تو اسے ایپریشی ایٹ ضرور کریں۔ وہ شخص بہت کم تنخواہ میں سورج کی تپتی دھوپ میں آپ کی آمدورفت بہتر بنانے کی کوشش کررہا ھے، اس کا شکریہ ادا کرنے سے ہوسکتا ھے آپ اس کا حوصلہ بڑھا دیں اور وہ مزید فرض شناسی سے اپنا کام کرتا رھے۔
کسی ٹریفک سگنل پر اگر آپ اپنی اے سی والی گاڑی میں بیٹھے ہیں اور آپ کے اردگرد موٹرسائکل یا چنگ چی میں لوگ گرمی سے بدحال ہوکر آپ کو دیکھ رھے ہیں اور رشک کررھے ہیں تو چہرے پر رعونت مت لائیں۔ ہوسکے تو ان سب کو ایک سمائیل پاس کردیں، آپ کی یہ مسکراہٹ ان کی غربت تو دور نہیں کرسکے گی لیکن شاید ان کے احساس محرومی کی شدت کم کردے۔
ایسے چھوٹے چھوٹے اعمال اور ان سے ملتے جلتے کئی دوسرے اعمال کرنے سے آپ کا کچھ نہیں جاتا لیکن معاشرے پر اس کے بہت گہرے اور لانگ ٹرم اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مثبت انرجی جب بھی کسی کو دی جائے، وہ گھوم پھر کر، پہلے سے زیادہ میگنیجوڈ میں آپ کو واپس ملتی ھے۔
یہی اسلام کا اصول بھی ھے اور نبی پاک ﷺ کی سنت بھی۔ دوسروں کیلئے آسانیاں پیدا کریں، اللہ آپ کیلئے آسانیاں فرمائے گا ۔ ۔ ۔

Author: Dr Asif Mahmood Khokhar

Senior eye surgeon with special interest in Vitreoretinal, Oculoplastic, Laser, and Phaco surgeries

Leave a Reply

Be the First to Comment!

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔