کیا کوئی اس بے لاگ انصاف کی باریکیاں سمجھا سکتا ہے؟

مسئلہ کسی ملزم کی گرفتاری یا جیل منتقلی یا اُس کی میڈیا کوریج پر پابندی کا نہیں ہے۔

مہتاب عزیز

اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں دہشت گردی، اغواہ اور قتل کے دس مقدمات کے مفرور ملزم عابد باکسر کو ایک ہی روز ایک ہی عدالت سے ضمانت مل جاتی ہے۔ اسی شام کو وہ ہر بڑے ٹی وی چینل کی سکرین پر پورے طمطراق سے ہیرو بنا بیٹھا ہوا ہے۔

مجرم فوجی سربراہ ہو، ملک اور آئین سے غداری کے جرم میں عدالت قید کا حکم دے تو ایک ادارے ریاست کے بجائے مجرم کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اُسے عدالت سے بھگا کر کرپشن کے پیسے سے بنائے گئے محل میں لے جاتے ہیں۔ اُس کے محل کو ہی سب جیل قرار دے کر اُسے وہاں رکھا جاتا ہے۔ سب جیل کے طور پر مجرم کو اُسی کے محل کا سرکاری خزانے سے کرایہ بھی ملتا رہتا ہے۔ 
کمر درد کے علاج کے لیے دل کے ہسپتال میں بھی ہفتوں داخل رکھتے ہیں۔ مزید علاج کے لیے ملک سے باہر منتقل کرتے ہیں جہاں وہ ٹھمکے لگاتا ہے۔ روز پرائم ٹائم میں اُس کے انٹرویو کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ اُس کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک ہو تو فورا سپریم کورٹ حکم جاری کرکے کھلواتا ہے۔ اس کے بعد دنیا پھر میں غداری کا ملزم آزادانہ گھومتا ہے کسی کو اعتراض نہیں ہوتا۔

چار سو سے زاید معصوم انسانوں کے ماورائے عدالت قتل کے ملزم راو انوار کو اُس کے عالیشان گھر میں نظر بند رکھا جاتا ہے۔ اس کے شناختی کارڈ اور بنک اکاونٹ انسانی ہمدردی کے نام پر بحال کیے جاتے ہیں۔ پھر تمام کیسز میں ضمانت دلا کر آزاد کر دیا جاتا ہے۔

اس کے برعکس حاضر سروس جج اور جرنیلوں سمیت ساڑھے چار سو افراد کے نام پانامہ سکینڈل میں آتے ہیں۔ لیکن کیس صرف منتخب وزیر اعظم کے خلاف چلتا ہے۔ جے آئی ٹی کے سارے ڈرامے کے بعد بھی اُسے کرپشن کے بجائے اقامہ پر اُسے تاحیات ناہل قرار دے کر وزارت اعظمیٰ سے ہٹایا جاتا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر سماعت میں ملزمان کو حاضری سے استشنا نہیں ملتا۔ فیصلہ سنانے میں ایک ہفتے تاخیر کی درخواست مسترد ہوتی ہے۔ ایک ریفرنس میں سزا کے بعد باقیوں کی سماعت روک دی جاتی ہے۔ تاکہ اگر سزا ہو تو ایک ساتھ ریلیف نہ مل سکے۔ اپیل کی جائے تو ہفتوں کا نوٹس ڈال دیا جاتا ہے۔ مجرم سزا کاٹنے رضاکارانہ واپس آتا ہے تو کوریج پر پابندی عاید کر دی جاتی ہے۔ کمانڈوز غیر ملکی طیارے سے گھسیٹ کر باہر نکالتے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جیل کے اندر منظور شدہ سہولیات بھی مہیا نہیں کی جاتیں۔

ہمیں جرم سے ہمدردی ہے نہ ہی کسی مجرم سے۔ البتہ ہمیں انصاف کے اس دہرے معیار پر سخت اعتراض ہے۔ عدل کے نام پر اس طرح کا کھلواڑ ہمیں قبول نہیں۔ عدلیہ کو لونڈی بنا کر فیصلے کرائے جائیں گے تو قوم اسے تسلیم نہیں کرے گی۔

یاد رکھیے قومیں دشمن فوج کے حملوں سے تباہ نہیں ہوا کرتیں۔ تباہی قوموں کا مقدر تب بنتی ہے جب ملک سے عدل و انصاف ناپید ہو جاتا ہے۔

 

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.