کیا کبھی ہم نے سوچا ہے؟ 

” اک یاد دہانی”

(جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں )

کبھی یہ نام سنا ہے “غض بصر” ؟

نہیں ؟؟

کچھ لوگوں نے سنا ہے ؟

سب نے کیوں نہیں جناب ؟؟

حالانکہ یہ تو پہلے پیدا ہوا ہے ، ‘حجاب’ کا بڑا بھائی ہے !!…

حجاب کا نام تو رٹا ہوا ہے .. پیدا ہوتے ہی اس پہ کچھ نا کچھ سننے کو ملا، بلکہ روز یہ نام سنتے ہیں ..

مگر مجال ہے کے ‘غص بصر’ لفظ کا کوئی چپٹر بھی ہو کسی کتاب میں __

ایک بات اور ____ کتنے ہی سیمینار ، کتنی کانفرنسز اور کتنے ہی لیکچرز رکھوائے جاتے ہیں، “حجاب” کے ٹاپک پہ .. !

مگر اس موضوع پہ کتنا بولا گیا ؟ کتنے درس ہوۓ ؟ کتنے تربیتی سیمینار رکھوائے گیے ؟؟

ہمارے چھوٹے بھائی کو بھی پتہ ہوتا ہے کے بڑی بہن پہ حجاب فرض ہے .. مگربہن بڑی ہو کہ بھی اسے یہ نہیں کہہ سکتی، کہ تم پہ بھی “غض بصر” فرض ہے ..

آپ سائیکل کے ایک پیڈل کو پاؤں مارے جا رہے ہیں ، دوسرے پہ صرف خالی خولی پاؤں رکھا ہے .. مگر پیڈل نہیں چلا رہے ، تو کیا چل پڑے گی سائیکل ؟؟

تو جناب آپکی صحت پہ اگر ناگوار نہ گزرے تو سوچیے گا، جب ایک پہیہ پہ سائیکل نہیں چلتی تو جیتا جاگتا معاشرہ کیا خاک چلے گا ؟

مجھےایک ملحد؛ جو اسلام چھوڑ چکا تھا ، کہنے لگا کہ .. “مردوں کا تو اسلام میں رہنا سمجھ آتا ہے ، مگر تم عورت کا اسلام میں رہنا سمجھ میں نہیں آتا .. انھیں تو بے شمار Packages ملے ہوئے ہیں .. آپکو کیا ملتا ہے ؟؟ میں بتاتا ہوں کیا ملتا ہے :

طلاق آپکو ملتی ہے …

برقعہ آپکو ملتا ہے …

گالی آپکے نام کی ملتی ہے …!!

مرے پاس جواب تھا کہ یہ سب اسلام کا نہیں ، اس معاشرے کا المیہ ہے …

مجھے ایک باغی قسم کی محترمہ نے کہا، “ظلم دیکھو ان ‘عالموں’ کا ،قرآن کی تفسیر ہمیشہ مرد کے ہاتھوں ہوئی، اسلئے وہ اپنے حصّے کے فرائض پہ ایک لائن لکھتے مگر عورت کہ فرائض پہ کتاب لکھ ڈالتے ہیں .. کیا حیا کی ساری مزدوری ہم عورتوں نے ہی کرنی ہے ؟

محترم مرد حضرات !!! میرا یہاں پہ آپکے سامنے، رونا پیٹنا اسلیے ہے، کہ میں عورتوں کی ایک اچھی خاصی ایسی تعداد سے واقف ہوں جو ان ملحدین کی باتوں میں آ چکی، اور خود کو اپنے باپ، بھائی، شوہر کی قید سے آزاد کروا کہ، اب دوسری عورتوں کو ایسی آزادی دلوانے کے لئے کوشاں ہیں ..

اس سے پہلے کہ عورت اپنی ٹیڑھی پسلی کا سہارا لے کہ خود کھڑی ہوجائے .. آپ کھڑے ہو جائیں ..

میری آپ سے گزارش ہے ، “غض بصر” کا فارمولہ پہلے باہر implement کروایں، پھر اپنی گھر کی عورت کا پردہ بھی فائدہ دے گا …. کیوںکہ،، قرآن میں ان دونوں فرائض کی نزول ترتیب بھی یوں ہی ہے .. پہلے غض بصر.. پھر اوڑھنی کا حکم …. یہ دونوں مخلوق ‘ایک خالق’ کی تخلیق کردہ ہیں، اسلئے وہ بہترجانتا ہے پہلے کیا ہونا چاہے ..

اب سوچیں نظر جھکانے کا حکم پہلے کیوں آیا ،، اگر آپکو برا نا لگے تو ؛

میں بتاتی ہوں کہ غض بصر پہلے کیوں آیا …..

دیکھیں ،، اس فارمولہ کی implementation کے بغیر، جب عورت حجاب پہن کہ باہر نکلتی ہے تو کچھ یوں منظر ہوتا ہے …

” کوئی محترمہ کالونی سے باہر قدم ڈالے تو، چند لڑکے کھڑے میچ کی اپ ڈیٹس ڈسکس کر رہے ہوتے ہیں،ایک محترمہ کو دیکھتے ہی اپنے ساتھ والے سے بولتا ہے ..

“ابے کیا ہرنی والی آنکھیں ہیں چھوٹے تیری “

دوسرا تیسرے کا بازو پکڑ کے بولتا ہے “آج تیری چال خراب کیوں ہیں جگر ؟؟

لوکل گاڑی میں بیٹھ جاؤ ، ‘بیک مرر’ کا ‘رخ’ اور ‘استعمال’ دونوں بدل جاتے ہیں .. ایک نظر روڈ پہ اور ایک بیک مرر سے نظر آتی ‘اسکی آنکھوں” پہ .. ! اور پھر نشیلی آنکھوں والے گانے بجنے لگتے ہیں …..

وہ حجاب تو کرتی ہیں ، مگر جاندار ہیں ، پیاس اور بھوک بھی لگتی ہے ..وہ ہوٹل میں آیس کریم کا ویٹ کر رہی ہوتی ہے اور ادھر ویٹر اس انتظار میں ہوتا ہے کہ کب ادھر حجاب اٹھے ، ادھر ہماری نظروں کی تسکین ہو …

وہ سبزی خرید کے پیسے پکڑاتی ہیں ، مگر موصوف ہاتھ پکڑتے ہیں ..

کچھ خارشیوں کے کندھے کو عین اسی وقت خارش ہوتی ہے جب پاس سے کوئی دوشیزہ گزر رہی ہو، اور پھر کندھا مار کے اپنی کھجلی مٹاتے ہیں ..

آفس میں حجاب کے ساتھ چلیں جائیں تو یہ آپشن رکھ دیا جاتا ہے ، “جاب یا حجاب” ….!!

پہلے پہل، مجھے لگتا تھا اس پروفیشنل دور میں ‘غض بصر’ نا ممکن سی چیز ہے .. مگر عملی زندگی میں ایسی مثالیں کئی دیکھی ہیں جو غض بصر کے معیار پہ پورا اترتے ہیں مگر نہ تو وہ مولوی ہیں نہ اسلامیات کے ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھتے ہے .. جب کہ ہمیں لگتا ہے ‘غض بصر’ اتنا مہنگا برانڈ ہے کہ کوئی “خاص” مذھبی قسم کی کلاس ہی اسے، اپنی شخصیت کے لئے خرید سکتی ہے ___

یہ خالصتا تربیتی پہلو ہے جسے ہر عقل رکھنے والا انسان اپنا سکتا ہے … انتہائی پروفیشنل رویہ رکھنے والے ایسے بے شمار حضرات ہیں …جو سویرے 8 سے شام 7 بجے تک خواتین و حضرات کے ساتھ آفس میٹنگز ، پلانننگز ، اور کئی ایڈمنسٹریشن کے معاملات نمٹاتے ہیں .. لیکن “آنکھ” ہے کہ کمرے میں موجود ہر شے پہ پڑتی ہے مگر سامنے بیٹھی ‘محترمہ’ پہ نہیں اٹکتی …اور وہ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں … اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نظر جھکانے سے کامیابی اور کارگردگی پہ ذرا برابر اثر نہیں ہوتا …

(منقول)

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.