کیا جمہوریت کفر ہے؟

’جمہوریت سے مراد وہ سیاسی نظام ہے جس میں حکومت عوام کی مرضی سے بنے، عوام کی مرضی سے قائم رہے اور عوام کی مرضی سے تبدیل ہوسکے۔ اب جمہوریت کا ایک مغربی تصور ہے اور دوسرا اسلامی تصور ہے۔
مغربی تصور یہ ہے کہ اس میں اقتدارِ اعلیٰ کے مالک عوام ہوتے ہیں۔ ہر قسم کی قانون سازی میں آخری فیصلہ کن حیثیت عوام کی مرضی کو حاصل ہوتی ہے۔ عوام کی اکثریت حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرسکتی ہے۔
اس کے برعکس اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ حکومت تو اس میں بھی عوام کی مرضی سے بنتی ہے، عوام ہی کی مرضی سے قائم رہتی ہے اور انہی کی مرضی سے تبدیل ہوسکتی ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ جمہوریت کے اسلامی تصور کے مطابق، اقتدارِ اعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور مسلمانوں کو قانون سازی کا اختیار صرف شریعتِ اسلامی کے مقرر کردہ حدود کے اندر ہے۔ ان حدود سے باہر جاکر وہ کوئی قانون نہیں بناسکتے۔ وہ سارے کے سارے مل کر بھی خدا کے کسی حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہیں کرسکتے۔ ان معنوں میں مغرب کی مطلق العنان اور بے قید جمہوریت کے مقابلے میں یہ ایک حدود آشنا جمہوریت ہے اور اسی مناسبت سے اس کے لیے اسلامی جمہوریت کی اصطلاح استعمال کرنا درست ہے۔ گویا اگر Sovereignty(اقتدارِ اعلیٰ) کے مغربی تصور کو اقتدارِ اعلیٰ کے اسلامی تصور سے بدل دیا جائے تو تمام مفاسد کی جڑ کٹ جاتی ہے۔
سيد ابوالأعلٰى مودودي رحمة الله عليه

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.