کوئی تو ہے

آخر کوئی تو ہے

آخر کوئی تو ہے مرے دل۔۔۔۔ کوئی تو ہے!!!

درِِ دل پہ بارہا ہوئی حسیں دستک، جب بھی جا کے دیکھا تو وہی ہوائیں ..

کوئی تو  پھر سے رُلا رُلا  کے ہنسی کے قصے سنا رہا ہے…

بھیگی ریت، شب گزیدہ موسم، ہر سو پھیلی مہیب بَلایٔیں..

کوئی تو پھر سے ڈرا ڈرا  کے شبِ غم   کے قصے سنا رہا  ہے…

گرجتا موسم ،موسلا دھار بارش، موتی لٹاتی گھٹائیں …

کوئی تو پھر سے بہروپ بھر  کے میرے آنسوؤں کو گرا رہا ہے..

نیلگوں سمندر، حسین موتی، جابجا بکھری مرمریں جھاگ کی ردائیں..

کوئی تو پھر سے چپکے چپکے گزرے لمحوں کی داستانیں سنا رہا ہے..

تپتا صحرا، دھوپ کا موسم! پھر بھی مجھ پہ چھائی گھٹایٔیں..

کوئی تو پھر سے پوشیدہ رہ  کے میرا ساتھ یونہی نبھا رہا ہے..

کھولی جو کھڑکی بانکی وہی ادایٔیں، فضاء میں مچلتی وہی صدایٔیں..ٔ

کوئی تو پھر سے چالیں چل چل کے ہوا کے ذریعے تڑپا رہا ہے..

آوارہ دوپہر، اداس لمحے، ہر سو بکھری ہوئی وفایٔیں..

کوئ تو پھر سے ستا ستا کے پرانی باتیں دھرا رہا ہے…..

سنبل آصف

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.