ڈائٹنگ کے حوالے سے کچھ غلط فہیاں جن کا درست ہونا ضروری ہے

سمارٹ بننے کے طریقے!

سفیر علی اصل مضمون کو پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔ صحت کے حوالے سے 9ایسی سچی باتیں،جو اصل میں جھوٹ ہیں ******* آج کل بے شمار کمپنیاں آپ کو اسمارٹ بنانے کے لیے طرح طرح کے طریقے بتاتی ہیں،جو دارصل ڈائٹ پلان ہوتے ہیں۔ بعض ڈائٹ پلان ایک کو فائدہ دیتے ،تو دوسرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ بعض مرد و زن کا وزن ہمیشہ کے لیے کم ہوجاتا ہے۔ دیگر جیسے ہی منصوبہ ختم کریں، پھر فربہ ہونے لگتے ہیں۔ اسی باعث کئی ڈاکٹر اور ماہرین غذائیات ان ڈائٹ پلانوں کو بے فائدہ سمجھتے ہیں۔نیز پچھلے چند عشروں میں وزن گھٹانے سے متعلق دیومالائی باتیں بھی وجود میں آ چکیں۔ ذیل میں ایسی 9 باتوں کو بیان کیا جا رہا ہے، جو بظاہر سچی ،لیکن حقیقت میں لغو ہیں:

  1. پروٹین سے بھر پور اور کم کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں کھانے سے وزن گھٹتا ہے ۔مغربی ممالک میں ’’اٹکنز پلان‘‘ کو بہت کامیابی ملی کیونکہ وہاں ڈبل روٹی، پاستا، پیزا، کیک، برگر وغیرہ پر مشتمل غذا کاربوہائیڈریٹ اور پروٹین کے مابین توازن نہیں رکھتی جبکہ سبزی، دال اور چاول پر مبنی غذائیں پروٹین، کاربوہائیڈریٹ اور ریشے کا بہترین توازن رکھتی ہیں۔ رجوتا ڈائیوکر بھارت کی مشہور ماہر غذائیات ہے۔ چند برس قبل اس کی کتاب ’’اپنا ذہن مت کھوئیے‘‘شائع ہوئی ،جس نے بہت شہرت پائی۔ اس میں رجوتا نے لکھا کہ انسان جب کم کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں کھائے (اٹکنز ڈائٹ پر چلتے ہوئے) تو اس کی روز مرہ زندگی اور سوچنے کی طاقت متاثر ہوتی ہے۔ دراصل جدید طبی تحقیق سے دریافت ہوا ہے کہ اگر کم کاربوہائیڈریٹ والی غذا کھائی جائے، تو ہمارے بدن میں ’’سیروٹونین‘‘(Serotonin)کی افزائش رک جاتی ہے۔ دماغ میں جنم لینے والا یہ نیورو ٹرانسمیٹر ہی ہم میں خوشی، اطمینان اور سکون کے نہایت قیمتی محسوسات پیدا کرتا ہے۔ امریکا میں مستعمل ’’سائوتھ بیچ ڈائٹ‘‘ بھی کم کاربو ہائیڈریٹ غذائوں والا غذائی پلان ہے۔ یہ پلان خصوصاً خواتین کے لیے تباہ کن ثابت ہوا، جو خاتون شدو مد سے اسی منصوبے پر عمل کرے، وہ بے چینی، ڈپریشن اور گھبراہٹ کا شکار ہوجاتی ہے۔ وجہ یہی ہے کہ کم کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں کھانے سے جسم میں نسوانی ہارمونوں کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ سو اگر آپ فربہ ہیں، تو کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں اعتدال میں کھانا جاری رکھیے۔ البتہ یہ کوشش کیجیے کہ کم سے کم کاربوہائیڈریٹ ردی غذا سے لیے جائیں۔ ثابت اناج ان کا عمدہ ذریعہ ہیں۔
  2. رات آٹھ بجے کے بعد کھانا مت کھائیے ۔عام خیال یہ ہے کہ سونے سے تین گھنٹے قبل کھانا کھا لیا جائے، تو بہتر ہے۔ یوں جسم کو کھانا ہضم کرنے کی خاطر مناسب وقت مل جاتا ہے، لیکن جو مرد و زن رات گئے تک یا نائٹ شفٹ میں کام کرتے ہیں، انھیں کیا نظام الاوقات اپنانا چاہیے؟ دراصل جب ہم کام کریں اور چلیں پھریں، تو ہمارے جسم کو توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا چھ سات بجے آخری کھانا کھانے کے بعد انسان ساری رات بھوکا نہیں رہ سکتا۔ لہٰذا اگر آپ رات کو کام کرتے ہیں، ہر دو تین گھنٹے بعد کوئی پھل یا ہلکی پھلکی غذا کھالیں۔ یوں آپ کا پورا جسمانی نظام درست طریقے سے کام کرتا رہے گا۔ مزید برأں صبح کم از کم سات گھنٹے کی نیند لینا مت بھولیے گا۔
  3. ڈائٹنگ کے دوران کیلا، آم، انگور اور چیکو نہ کھائیں! بیشتر ڈائٹ منصوبوں میں فرد کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ درج بالا پھل ہرگز نہ کھائے، مگر یہ پلان بنانے والے بھول جاتے ہیں کہ یہ سبھی پھل غذائیت بخش ہیں۔ سو عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ ڈائٹنگ کرنے والا ان پھلوں کو اپنی روز مرہ غذا میں اس ترکیب سے شامل کرے کہ حراروں (کیلوریز) کی مقررہ تعداد بڑھنے نہ پائے۔ مثال کے طور صبح آدھا کیلا کھانے سے آپ کو اتنی توانائی ملے گی کہ بخوبی ورزش کر سکیں۔ اسی طرح آم وٹامن اے اور صحت دوست کیمیائی مادوں، فلاونوئیڈز (Flavonoids)مثلاً بیٹا کروٹین، الفاکروٹین اور بیٹاکراپٹو زینتھین کا منبع ہے۔ یہ سبھی انسان کی بصارت کو طاقت ور بناتے ہیں۔ چیکو بھی بڑا غذائیت بخش پھل ہے۔ یہ ہمیں فولاد، پوٹاشیم، تانبا، فولیٹ، نائسین اور ہانٹو تھینک ایسڈ فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا ڈائٹنگ کرتے ہوئے ان پھلوں کا استعمال مت چھوڑئیے، البتہ کم کرسکتے ہیں۔
  4. وزن کم کرنے کے لیے بادشاہ کی طرح ناشتا کرو اور فقیر کے مانند رات کا کھانا کھائو۔ یہ نظریہ بھی فرسودہ ہوچکا ۔ وجہ یہ ہے کہ صبح ازحد غذا کھانے سے معدے پہ بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ انسان پھر سارا دن گرانی میں گزارتااور پریشان رہتا ہے۔ اس باعث ماہرین غذائیات مشورہ دیتے ہیں کہ ناشتا اقساط میں کیجیے۔ مثال کے طور پر سب سے پہلے پھل کھائیے، پھر ڈبل روٹی یا رس چائے کے ساتھ کھائیے۔ بعدازاں آپ دفتر پہنچ کر یا گھر ہی میں انڈا یا دودھ استعمال کرسکتے ہیں۔ یوں معدے پربوجھ نہیں پڑتا اور انسان ہلکا پھلکا رہتا ہے۔ اقساط میں ناشتا کرنے یا کھانا کھانے کے پیچھے یہ فلسفہ پوشیدہ ہے کہ انسان سیر نہ ہو، لیکن ضروری ہے کہ یہ چھوٹے کھانے بھرپور نہ ہوں،یعنی ان میں سبزی و پھل زیادہ اور کاربوہائیڈریٹ والا اناج کم ہو۔ ورنہ موٹاپا ختم کرنا محال ہوجاتا ہے۔
  5. سخت ورزش سے زیادہ کھانے کے اثرات ختم کیے جاسکتے ہیں۔ ماضی میں ماہرین غذائیت وزن گھٹانے والوں کو یہ مشورہ دیتے تھے کہ زیادہ کھانے کی صورت میں سخت ورزش کریں۔ مثلاً آپ نے 350حراروں والی پیسٹری کھائی، تو آدھ گھنٹہ ورزش کرنے سے آپ حاصل ہونے والے حرارے جلا ڈالیں گے، مگرجدید تحقیق اس نظریے کو باطل قرار دے چکی ہے کیونکہ زیادہ کھانے کے مضر اثرات سخت ورزش سے دور نہیں کیے جاسکتے۔ الٹا جسم کو شکست و ریخت کا شکار بناتی ہے اور جوڑ مَتورم کر دیتی ہے۔ گویا طویل عرصہ سخت ورزش کرنا انسانی بدن کو نقصان پہنچانا ہے۔ دراصل جب ہم ورزش کریں، تو ہمارا جسم اینڈوفینز (Endophins) نامی کیمیائی مادے خارج کرتاہے۔ یہ کیمیائی مادے ہم میں خوش گواری کا احساس پیدا کرتے ہیں ،جوا نسان باقاعدگی سے ورزش کرنے لگے، اسے پھر اس احساسِ خوش گواری کی لَت پڑ جاتی ہے۔ سو سخت ورزش سے بچنے کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ غذا معتدل مقدار میں کھائیے۔ یوں آپ نہ صرف موٹاپے سے بچیں گے بلکہ جان توڑ ورزش بھی نہیں کرنا پڑے گی۔
  6.  دعوت سے لطف اندوز ہونے کی خاطر ایک وقت کا کھانا نہ کھائیے وزن بڑھنے سے خوفزدہ کئی مرد و زن درج بالا روش اختیار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر رات کو شادی کی دعوت ہے، تو وہ دوپہر کا کھانا نہیں کھاتے۔ وجہ یہ ہے کہ ایک وقت کا ناغہ کرنے کے بعد انسان عموماً زیادہ کھانا کھا جاتا ہے۔ اس ضمن میں ایک ماہر غذائیات، سہیل اکمل کہتے ہیں: ’’ انسان جب غذا کھائے، تو ہمارا بدن اس میں سے مطلوبہ غذائیت استعمال کرتا اور بقیہ محفوظ کر لیتا ہے، لیکن جب جسم کو ایک وقت کا کھانا نہ ملے، تو وہ گھبراہٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی لیے انسان جیسے ہی کھانا کھائے، وہ اس کا بیشتر حصہ مستقبل کی خاطر ذخیرہ کر لیتا ہے۔ چناںچہ بدن پر غیر ضروری چربی کی تہیںچڑھ جاتی ہیں۔ سو کسی تقریب کی خاطر کھانے کا ناغہ نہ کیجیے، ورنہ یہ عمل آپ کو فربہ بنا سکتا ہے بلکہ بہتر یہ ہے کہ دعوت میں جانے سے پہلے پیٹ بھر کر پانی پی لیجیے۔ یوں دعوت میں پیٹ بھر کر کھانے سے بچ جائیں گے۔
  7. بدیسی غذا اچھی ہے امیر مرد و زن یہ سوچ کر نہایت مہنگی امپورٹڈ غذائیں کھاتے ہیں کہ وہ زیادہ غذائیت بخش ہوتی ہیں، لیکن پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی طور پر دستیاب تمام غذائیں انسانی جسم کو دستیاب غذائیت رکھتی ہیں۔ لہٰذا متوسط طبقے کو بدیسی غذائیں خریدنے کی خاطر اپنی جیب ہلکی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
  8.  وزن کم کرنے کی خاطر غذا کا کردار سب سے اہم ہے ایک تحقیقی جائزے سے انکشاف ہوا کہ وزن کم کرنے والوں کی اکثریت یہ سمجھتی ہے، غذا میں ردوبدل کرنے سے انھیں کامیابی مل جائے گی۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ معتدل ورزش کے بغیر وزن کم کرنا کٹھن مسئلہ بن جاتا ہے۔ دراصل انسان جب کم کھانے لگے اور ورزش نہ کرے تو اس کے عضلات لٹک جاتے ہیں۔ عضلات کو سخت رکھنے کے لیے روزانہ 30منٹ کی ورزش ضروری ہے۔ مثلاً تیز چلنا یا دوڑنا۔ یوں کم کھانے سے چربی گھلنے کے باعث عضلات نہیں لٹکتے اور اپنی سختی قائم رکھتے ہیں۔
  9. پانی ہی نہیں رس، چائے، کافی، یخنی بھی پی جاسکتی ہے وزن کم کرنے کے سلسلے میں ماہرین سبھی کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ دن میں زیادہ سے زیادہ پانی پئیں، لیکن بیشتر لوگ پھلوں یا سبزیوں کا رس، یخنی، چائے، کافی حتیٰ کہ بوتل پی کر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مائع جات بھی پانی کے زمرے میں آتے ہیں۔ حالانکہ کوئی بھی مائع‘ پانی کا بدل نہیں ہو سکتا، خصوصاً انسان جب اپنا وزن کم کرنا چاہے۔ غیر مضر حرارے رکھنے والا پانی ہمارے بدن کو زہریلے مادوں سے پاک صاف کرتا اور غذائوں میں شامل معدنیات و حیاتین (وٹامن) کو بدن میں جذب کرتا ہے۔ مزیدبرأں ہمارے نظام ہضم کو پانی پروسیس کرنے کے لیے سخت تگ و دو بھی نہیں کرنا پڑتی۔ سو خصوصاً چائے کافی پانی کے نعم البدل کبھی نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا جب ماہر غذائیات وزن کم کرنے کے ضمن میں آپ کو پانی زیادہ پینا بتائے، تو اس سے مراد کوئی اور مائع نہیں صرف اور صرف پانی ہے۔ ٭…٭…٭

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.