چند وہ چیزیں جنھوں نے زندگی بدل کر رکھ دی ہے

چند وہ چیزیں جنھوں نے زندگی بدل کر رکھ دی ہے

  1. ٹیلی فون الیگزینڈر گراہم بیل نے 1870ء کے عشرے کے دوران پہلا باقاعدہ ٹیلی فون بنایا۔ آج پوری دنیا میں ایک ارب تیس کروڑ ٹیلی فون استعمال کے جا رہے ہیں۔ جدید زمانے کا ٹیلی فون نیٹ ورک ٹیلی فون لائنوں، فائبر آپٹک کیبلز، سیلولر نیٹ ورکس، کمیونی کیشنز سیٹلائٹس اور زیرِ سمندر ٹیلی فون کیبلز کے سوئچنگ سینٹروں کے ذریعے باہم جڑے ہوئے عالم گیر جال پر مشتمل ہے جس کے ذریعے کوئی بھی شخص اپنے ٹیلی فون سے دنیا میں کسی بھی جگہ موجود شخص سے اس کے ٹیلی فون پر رابطہ کر سکتا ہے۔
  2. آئی پوڈ آپ کو واک مین تو یاد ہو گا جس میں کیسٹ لگائی جاتی تھی؟ اس میں بمشکل 12سے 15 گانے ہوتے تھے۔ آخر سفید رنگ کا یہ نفیس آلہ ایجاد کیا گیا اور اس نے موسیقی کی صنعت میں انقلاب برپا کر دیا۔ اس میں حیران کر دینے والی تعداد میں گانے محفوظ کیے جا سکتے ہیں۔ سب سے زیادہ گانے محفوظ کرنے والے ماڈل میں 30,000سے زیادہ گانے محفوظ کیے جا سکتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ بات حیرت انگیز نہیں کہ اب تک 110,000,000 سے زیادہ آئی پوڈ فروخت ہو چکے ہیں۔ یاد رہے پہلا آئی پوڈ اکتوبر 2001ء میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا۔
  3.  بلینڈر بلینڈر جدید دور میں ہر گھر کے باورچی خانے میں موجود ہیں۔ بلینڈر کو برطانوی انگریزی میں لیکویڈائزر کہا جاتا ہے۔ سٹیفن پاپلاسکی نے 1922ء میں بلینڈر ایجاد کیا تھا۔ 1935ء میں فریڈ اوسیئس نے اسے بہتر بنایا۔ اس نے اپنے ایجاد کردہ بلینڈر کا نام وارنگ بلینڈر رکھا تھا۔ اس نے اسے یہ نام اس لیے دیا تھا کہ اسے بلینڈر بنانے کے لیے جتنی رقم کی ضرورت تھی وہ اسے فریڈ وارنگ نامی ایک موسیقار نے دی تھی۔ وارنگ بلینڈر نہ صرف گھروں میں استعمال کیا جانے لگا بلکہ اسے سائنس دانوں نے لیبارٹریوں میں مختلف چیزیں ملانے کے لیے بھی استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ڈاکٹر جوناس سیلک نے پولیو کی ویکسین بنانے کے لیے بھی اپنی لیبارٹری میں وارنگ بلینڈر استعمال کیا تھا۔ دس لاکھواں وارنگ بلینڈر 1954ء میں فروخت ہوا تھا۔
  4. پکنک کولر پکنک کولر امریکی شہری رچرڈ سی لارامی نے 24فروری 1951ء کو ایجاد کیا تھا۔ پکنک کولر کو گھروں میں عام طور سے بھی استعمال کیا جا تا ہے۔ کولر ایک بیرونی اور ایک اندرونی خول پر مشتمل ہوتا ہے جن کے درمیان فوم بھری ہوتی ہے۔ یہ مختلف سائزوں میں دستیاب ہیں۔ ایک فرد کے لیے قابلِ استعمال کولر سے لے کر پورے خاندان کے لیے استعمال کیے جانے والے کولر بازاروں میں عام ملتے ہیں۔ اب 2سینٹی میٹر موٹے ڈسپوزیبل کولر بھی دستیاب ہیں جنہیں استعمال کے بعد پھینکا جا سکتا ہے۔ امریکہ میں اسے عموماً کولر کہا جاتا ہے، نیوزی لینڈ میں چِلّی بِن اور آسٹریلیا میں ایسکی کہا جاتا ہے۔ اب تھرموالیکٹرک کولر بھی ایجاد کیے جا چکے ہیں جن کا پلگ کار کے سگریٹ لائٹر ساکٹ میں لگا کر ان میں موجود چیزوں کو ٹھنڈا یا گرم رکھا جا سکتا ہے۔رائڈ آن کولر ایسی بڑی بڑی گاڑیوں کو کہا جاتا ہے جن میں مشروبات کی بوتلیں لاد کر دور افتادہ مقامات تک پہنچائی جاتی ہیں۔
  5. لائٹر جرمن کیمیا دان جوہان ولف گانگ ڈوبرائنر نے 1823ء میں لائٹر ایجاد کیا تھا۔ اسے ڈوبرائنر لیمپ کہا جاتا تھا۔ 1932ء میں جارج جی بلیزڈیل نے ’’زِپو‘‘ کے نام سے ایک لائٹر ایجاد کر کے فروخت کے لیے پیش کیا۔ یہ لائٹر بہت مقبول ہوا۔ جنوری 1933ء میںپہلی بار زِپو لائٹر تیار کر کے فروخت کیے گئے۔ اس ماہ 82 زِپو لائٹر فروخت ہوئے تھے۔ فروری 1933ء میں 367زِپو لائٹر فروخت ہوئے جب کہ 2006ء تک 425000000 زِپو لائٹر فروخت ہو چکے تھے۔
  6. کیلکولیٹر فرانس کے ایک نوجوان بلیز پاسکل نے کیلکولیٹر ایجاد کیا تھا۔ اس کا مقصد ریاضی کی دنیا میں تہلکہ مچانا نہیں بلکہ محض اپنے باپ کا ٹیکس کی جمع تفریق کا کام آسان بنانا تھا۔ اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اس کی ایجاد داستانوی انداز سے مقبولیت حاصل کرے گی۔ ولہیلم شکرڈ پہلا شخص تھا جس نے 1623ء میں مکینیکل کیلکولیٹر بنایا تھا۔اوّلین الیکٹرک کیلکولیٹر 1960ء کے عشرے میں جب کہ پاکٹ سائز کیلکولیٹر بیسویں صدی کے آٹھویں عشرے (1970s) میں ایجاد کیا گیا۔ اب طلبائے علم سے سائنس دانوں تک بیش تر لوگ کیلکولیٹر اپنے پاس رکھتے ہیں اور کوئی سیل فون ایسا نہیں جس میں کیلکولیٹر ایپلیکیشن پہلے سے انسٹال نہ ہو۔
  7. اے ٹی ایم اے ٹی ایم کا مکمل نام آٹومیٹڈ ٹیلر مشین ہے۔ اسے 1967ء میں جان شیفرڈ بیرن نے ایجاد کیا تھا۔ پہلی اے ٹی ایم 1967ء میں انگلینڈ میں برکلے بینک میں نصب کی گئی تھی۔
  8. فِرِج فرج کا اصل نام ریفریجریٹر ہے، جسے لوگوں نے آسانی کے لیے فرج کہنا شروع کر دیا اور یہی نام زیادہ مقبول ہو گیا۔ فرج کو باورچی خانے میں سہولت فراہم کرنے والی تاریخ کی عظیم ترین مشین کہا جاتا ہے۔ اس کی ایجاد سے پہلے سال کے بیش تر حصے میں کھانے پینے کی چیزوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے آئس باکس استعمال کیے جاتے تھے۔ پہلا ریفریجریٹر امریکہ کی کمپنی جنرل الیکٹرک کمپنی نے ’’مانیٹر ٹاپ‘‘ کے نام سے 1927ء میں متعارف کروایا تھا۔
  9. ڈیجیٹل کیمرہ کوڈک کے لیے کام کرنے والے ایک انجنئیرسٹیون سیسن نے 1975ء میں ڈیجیٹل کیمرہ ایجاد کیا تھا۔ پہلا ڈیجیٹل کیمرہ صرف 0.01میگا پکسلز کا تھا۔ اب 160میگا پکسلز تک کے ڈیجیٹل کیمرے ایجاد کیے جا چکے ہیں۔ اب تو ہر سمارٹ فون میں ڈیجیٹل کیمرہ نصب ہوتا ہے۔ سمارٹ فونوں میں 8میگا پکسلز تک کے کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں۔
  10. گیمنگ کنسول گیمنگ کنسول نے اندرونِ خانہ تفریح کا انداز مکمل طور سے تبدیل کر دیا۔ بھلے آپ نِنٹینڈو وائی پر کثرت کرتے ہوئے جسمانی اعتبار سے چاق و چوبند ہو رہے ہوں یا فرسٹ پرسن شوٹر میں اپنے حریفوں کو اڑا رہے ہوں گیمنگ کنسولز کی دنیا 1972ء میں پونگ کے اجرا کے بعدبہت ترقی کر چکی ہے۔ جدید زمانے کے گیمنگ کنسولز ایسے حقیقی دکھائی دینے والے گرافکس تشکیل دیتے ہیں کہ اکثر کھیل انسان کوانتہائی حیران کر دیتے ہیں۔
  11. روبوٹ ترقی یافتہ ملکوں میں روبوٹ زندگی کے بہت سے شعبوں میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہیں کاریں بنانے، تیار شدہ مصنوعات کو پیکٹوں میں بند کرنے، پرنٹڈ سرکٹ بورڈز (پی سی بی) بہت بڑی تعداد میں بنانے، خلا میں سائنسی تلاش کا کام کرنے وغیرہ جیسے کاموں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہونڈا کمپنی نے اسیمو کے نام سے انسان جیسا ایک روبوٹ بنایا ہے۔ اسیمو (ASIMO) انگریزی کے ان الفاظ سے بنایا گیا ہے: Advanced Step in Innovative Mobility ۔
  12. سٹیپلر موجودہ دور میں سٹیپلر ہر دفتر کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ عموماً سٹیپلر کاغذ کے الگ الگ اوراق کو باہم جوڑنے کے کام آتا ہے لیکن جدید طب میں سٹیپلر کے ذریعے زخموں کو سینے کا کام بھی لیا جا رہا ہے۔ دورِحاضر میں ہاتھ سے استعمال کیے جانے والے سٹیپلروں کے علاوہ بجلی سے کام کرنے والے سٹیپلر بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ایجادات کی تاریخ پر مبنی کتابوں میںبتایا گیا ہے کہ سٹیپلر کا اوّلین معلوم استعمال اٹھارہویں صدی کا ہے۔ اس زمانے میں فرانس کے بادشاہ لوئی XVکے لیے سٹیپلر بنایا گیا تھا۔ اس سٹیپلر میں استعمال ہونے والی ہر سٹیپل پر شاہی نشان کندہ ہوتا تھا۔ انیسویں صدی میں کاغذ کاا ستعمال بڑھ جانے سے ایک ایسے آلے کی طلب میں اضافہ ہو گیا جو کاغذوں کو باہم جوڑ سکے۔ 1866ء میں ایک امریکی شہری جارج میک گل نے کاغذوں کو باہم جوڑنے والے ایک آلے کا پیٹینٹ حاصل کیا۔ 1868ء میں سی ایچ گولڈ نے برطانیہ میں سٹیپلر کا پیٹینٹ حاصل کیا۔ اس کے بعد 1868ء ہی میں ایک امریکی شہری ایلبرٹ کلیٹزکر نے بھی ایک ایسے آلے کا پیٹینٹ حاصل کیا جس سے کاغذ جوڑے جاتے تھے۔1877ء میں ہنری آر ہیل نے پہلا ایسا آلہ پیٹینٹ کروایا جو سٹیپل کو جوڑے جانے والے کاغذوں میں داخل کر کے اس کے سِروں کو تہہ بھی کر دیتا تھا۔اس وجہ سے اسے جدید سٹیپلر کا موجد قرار دیا جاتا ہے۔ الگ الگ کاغذوں کو باہم جوڑنے والے آلے کے نام کے طور پر لفظ ’’سٹیپلر‘‘ کو پہلی بار ایک اشتہار میں استعمال کیا گیا تھا۔ وہ اشتہار 1901ء میں امریکہ کے ایک رسالے ’’میونسیز میگزین‘‘ میں شائع ہوا تھا۔
  13. ایل ای ڈی ایل ای ڈی لائٹ ایمِٹنگ ڈائیوڈ کا مخفف ہے۔ اسے نِک ہولون یک (Nick Holonyak) نے 1962ء میں ایجاد کیا تھا۔ چوں کہ یہ بجلی کم خرچ کرتا ہے اس لیے اب اسے زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایل ای ڈی بنیادی طور سے ایک سیمی کنڈکٹر ہے۔ آپ اسے ٹیلی ویژن، کمپیوٹر کے مانیٹروں، فلیش لائٹوں اور سمارٹ واچز میں دیکھ سکتے ہیں۔
  14. بال پوائنٹ پین جان لاؤڈ نے 1888ء میں بال پوائنٹ پین ایجاد کیا تھا۔ ہم موجودہ زمانے میں جس قسم کا جدید بال پوائنٹ پین استعمال کرتے ہیں اسے 1938ء میں لاسالو بیرو نے ایجاد کیا تھا۔ لاسالو بیرو کے ایجاد کردہ بال پوائنٹ پین کی خوبی یہ تھی کہ اس میں روشنائی کے بہاؤ کے مسئلے پر قابو پا لیا گیا تھا۔
  15. بلیو ٹوتھ ہیڈ سیٹ اگرچہ بلیوٹوتھ ہیڈ سیٹ کانوں میں لگا ہوا کچھ عجیب سا لگتا ہے لیکن 2000ء میں متعارف کروائے جانے کے بعد سے اب تک اس کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ ’’بلیو ٹوتھ‘‘ نام 1998ء میں ڈنمارک کے بادشاہ ہارلٹ بلیٹینڈ کے نام پر رکھا گیا تھا، جس کا انگریزی میںمترادف’’بلیوٹوتھ‘‘ہے۔ اس نے اپنے علاقے کے ان قبائل کو متحد کیا تھا جو آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے تھے۔ چوں کہ بلیوٹوتھ بھی آپ کے مختلف آلات کو یکجا کرتا ہے اس لیے اسے اس نام سے موسوم کیا گیا۔
  16. الیکٹرک ریزر الیکٹرک ریزر 1928ء میں جیکب شِک نے ایجاد کیا تھا۔ اسے 1931ء میں پہلی بار فروخت کے لیے پیش کیا گیا۔ بعد میں ریمنگٹن اینڈ فلپس لیبارٹریز نے اسے بہتر بنایا۔
  17. سموک ڈی ٹیکٹر سموک ڈی ٹیکٹر ایک ایسا آلہ ہے جو دھوئیں کے ذریعے سراغ لگاتا ہے کہ کہیں آگ تو نہیں لگ گئی۔بجلی سے کام کرنے والا سموک اینڈ ہیٹ ڈی ٹیکٹر برطانیہ کے شہر برمنگھم کے ایک موجد جارج اینڈریو ڈربی نے 1902ء میں ایجاد کیا تھا۔
  18. ڈیجیٹل تھرمامیٹر ڈیجیٹل تھرمامیٹر 1970ء میں امریکہ کی ریاست الباما کی رائل میڈیکل کارپوریشن نے ایجاد کر کے اپنے نام پیٹینٹ کروایا تھا۔ اس کی ایجاد سے مریض کے جسم کا اندرونی درجۂ حرارت معلوم کرنا آسان ہو گیا۔
  19. دل کی دھڑکن ماپنے والا آلہ دل کی دھڑکن ماپنے والا آلہ 1977ء میں ایجاد کیا گیا تھا۔ اسے ابتدا میں کھلاڑیوں کے دل کی دھڑکنیں ماپنے کے لیے ایجاد کیا گیا تھا۔ 1983ء میں اسے عام لوگوں کے لیے فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا۔
  20. ۔پیس میکر مشہور امریکی رسالے ٹائم کے ’’آ ل ٹائم ہنڈرڈ گیجٹس‘‘ کے مطابق سویڈن کے ایک شہری ریونے ایلمکوئسٹ (Rune Elmqvist) نے پیس میکر ایجاد کیا تھا جب کہ ولسن گریٹ بیچ (Wilson Greatbatch)نے اسے بہتر بنایا۔ ریونے ایلمکوئسٹ اور اکے سیننگ (Ake Senning) نے 1958ء میں پہلا پیس میکر دل کے ایک مریض کے سینے میں لگایا گیا۔ اس شخص کا نام ارنے لارسن (Arne Larsson) تھا۔ وہ 1915ء میں پیدا اور 2001ء میں فوت ہوا۔

Author: Dr Asif Mahmood Khokhar

Senior eye surgeon with special interest in Vitreoretinal, Oculoplastic, Laser, and Phaco surgeries

Leave a Reply

Be the First to Comment!

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

  Subscribe  
Notify of