پشاور کا اندوہناک سانحہ

اُف عرشِ الہٰی لرز گیا ہے..
ارے دنیا والو یہ کیا کِیا ہے..
دل میں اک کُہرام مچا ہے…
آنسوؤں کا طوفان برپا ہے..
آسماں دیکھو سرخ ہوا ہے..
پھر بےگناہ کا خون ہوا ہے..
جوان ستارہ ٹوٹ گیا ہے..
اوڑھ کے خاک سو گیا ہے…
دنیا میں پھر ظلم ہوا ہے..
انساں اب بن حیوان گیا ہے…
دردِدل ہاں بس فنا ہوا ہے…
معصوم پھول روند گیا ہے..
کوئی ظالم شیر گزر گیا ہے..
ماؤں کا دل ویران ہوا ہے..
اجڑے کھنڈر ویران جگہ ہے..
ظالم سی اک چلی ہوا ہے..
اس بستی کا چراغ بجھا ہے..
شرم لحاظ نہ خوفِ خدا ہے..
شاید وقتِ قیامت کھڑا ہے
سنبل آصف

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔