پروفیسر سلمان حیدر کیوں لاپتہ ہوئے؟

​شر پسند بلاگرز شکنجے میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر : پروفیسرمحمد عاصم حفیظ۔ شیخوپورہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک منظم گروہ کے ارکان گرفتار ہوئے ہیں کہ جو ایسے سوشل میڈیا نیٹ ورک چلا رہے تھے جن کے ذریعے ذات باری تعالی ، نبی اکرمﷺ اور اسلام کے بارے توہین آمیز اور غلیظ ترین مواد شئیر کیا جاتا تھا۔ شائد بہت سے پاکستانیوں کےلئے یہ کسی انکشاف سے کم نہ ہو کہ کچھ عرصہ قبل ہم ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک میں توہین آمیز کارٹونز کی اشاعت پر احتجاج کر رہے تھے لیکن اب ایسے ہی کارٹون اور توہین آمیز مواد بیرونی آشیر باد پر ملک کے اندر دھڑلے سے تیار بھی ہو رہا ہے اور بے باکی سے شئیر بھی کیا جا تاہے۔ ان سوشل میڈیا نیٹ ورک چلانے والوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہے کہ جو تعلیم یا کسی اور سلسلے میں بیرون ملک گئے اور واپسی پر ملحدانہ نظریات اور اسلام مخالف جذبات لیکر واپس لوٹے ۔ یہ لوگ اردو زبان میں ذات باری تعالی ، اسلامی طرز معاشرت، دینی احکام اور مقدس ہستیوں کے بارے توہین آمیز مواد بنا کر فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس کے ذریعے پھیلانے میں ملوث تھے ۔ملک کے اندر اس گروہ سے منسلک افراد نے سول سوسائٹی کے طور پر پہچان بنائی ہوئی تھی ۔
اس گروپ کی جڑیں ملک کے اندر کس قدر مضبوط تھیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک پروفیسر سلمان حیدر اسلام آباد کی بڑی یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر کام کر رہے تھے ۔
اسی طرح وقاص گورایہ اور ایسے ہی چند مزید افراد گرفتار ہوئے ہیں جو کہ” بھینسا“ ، موچی اور دیگر ناموں سے فیس بک پیج چلا رہے تھے ۔
بیرون ملک تعلقات اور آشیر باد کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ ابھی شائد ان کو گرفتار ہوئے دو تین دن بھی نہیں ہوئے کہ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے خصوصی پیغام جاری کیا ہے جس میں اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔ آئندہ دنوں میں یورپی یونین اور شائد اقوام متحدہ کی جانب سے بھی اس بارے پاکستانی حکومت پر دباو ¿ ڈالا جائے گا جبکہ عالمی میڈیا پر ایک بھرپور مہم پہلے ہی شروع کی جا چکی ہے ۔
شنید یہی ہے کہ اسلام اور مقدس ہستیوں کے خلاف مزموم مہم چلانے والے ان ”بھینسوں“ کو تمام تر ملکی قوانین کو روندتے ہوئے ”باعزت رہائی “ دلائی جائے گی اور پھر انہیں دیگر ملعون افراد کی طرح امریکہ و یورپ کی شہریت دیکر وہاں لے جایا جائے گا اور بھرپور پروٹوکول کے ذریعے دوبارہ سے اسلام مخالف سرگرمیاں تیز کر دی جائیں گی ۔ دراصل یہ پاکستانی حکومت کا بھی امتحان ہے کہ جہاں ایک طرف شدت پسندی اور ملکی سرحدوںپر حملہ آور دہشت گرد گروہوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جا رہی ہے وہیں ملک کی نظریاتی اساس ، مذہب و معاشرت کے ان دشمنوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے یا انہیں ماضی کی طرح کلین چٹ فراہم کی جا تی ہے۔
ایک گرفتار شخص کے فرسٹ کزن نے باقاعدہ میڈیا پر آکر انکشاف بھی کیا ہے کہ واقعی وہ اسلام مخالف نیٹ ورک چلا رہا تھا ۔سیکولر اور ملحد گروہوں کا وطیرہ ہی یہ ہے کہ خوب دھڑلے سے اسلام ، ذات باری تعالی اور نبی اکرمﷺ کی شخصیت پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اگر کسی بھی موقعے پر ملکی ادارے یا کوئی بھی انہیں ٹوکنے کی کوشش کرے تو نام نہاد آزادی اظہار رائے اور سول سوسائٹی کا لبادہ اوڑھ کر مظلوم بن جاتے ہیں ۔ بڑے شہروں کے پوش علاقوں میں این جی اوز کی سجی سجائی چند خواتین موم بتیاںجلا کر اظہار یکجہتی کرتی ہیں ۔ مغربی ممالک اس بارے سفارتی دباو ڈالتے ہیں اور عالمی میڈیا بھرپور مہم چلاتا ہے اور اس طرح ملک کو سیکولر بنانے والے مذہب بیزار طبقے ” اپنے بندوں“ کو باآسانی نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ انہیں مغربی ممالک میں انسانی حقوق کے ہیروز کے طور پر رکھا جاتا ہے ۔
سلمان رشدی ، تسلیمہ نسرین ، ملالہ اور ایسے ہی بے شمار نام ہیں کہ جو مادر وطن پر لعنت ملامت کرنے ، اسلام بارے توہین آمیز مواد پھیلانے ، سیکولرازم کے علمبردار ہونے کے کاررنامے کرکے اب اپنے آقاو ¿ں کے پاس عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں ۔المیہ تو یہ بھی ہے کہ سرکار پاکستان کبھی بھی کسی ایسے گستاخ اور شر پسند کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لا سکی ۔ دکھ تو یہ بھی ہے کہ ملک میں یہی سیکولر اور ملحدانہ سرگرمیاں بعض عناصر کو موقعہ فراہم کرتی ہیں جن کو جواز بنا کر وہ نوجوانوںکو گمراہ کرتے ہیں کہ پاکستان کو غیر اسلامی بنایا جا رہا ہے ، اسلامی حلقوں کے خلاف ذرا سی غفلت پر سخت ترین کارروائی ہوتی ہے لیکن توہین اسلام ، توہین نبی اکرمﷺ اور توہین ذات باری تعالی کرنے پر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ اگر آج گرفتار بھی ہوئے ہیں تو بہت انہیں

چھوڑ دیا جائے گا۔
جی ہاں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں وزیر اعظم ، چیف جسٹس کی جعلی تصویر اپ لوڈ کرنیوالوں کو تو سزا ملتی ہے لیکن اللہ تعالی ،حضور اکرمﷺ کے بارے غلیظ ترین الفاظ استعمال کرنیوالوں ، کارٹون بنانیوالوںکو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوئی ہمت نہیں کر سکتا۔ میری ہمت نہیں پڑتی کہ وہ الفاظ اور ان کارٹونز کی تفصیلات لکھ پاو ¿ں کہ جو ان گستاخوں کی جانب سے شائع کئے گئے تھے ۔
کمال تو یہ بھی ہے کہ اگر کسی ادارے نے ان پر ہاتھ ڈالنے کی جسارت کی بھی ہے تو اس بارے میں دھڑلے سے سرعام احتجاجی مظاہرے کئے جا رہے ہیں ۔ ملک کے وزیر داخلہ سمیت کئی حکومتی اہلکار تھر تھر کانپتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ میڈیا کی بے چینی بڑھتی جا رہی ہے ۔ دس بارہ افراد پر مشتمل احتجاج کو بھی لائیو کوریج مل رہی ہے اور اخبارات کے اولین صفحات پر شائع کیا جا رہا ہے جیسے کوئی بہت بڑا سانحہ ہو گیا ہو۔ہم شائد تاریخ کو بہت جلد بھول جانیوالی قوم ہیں. جب گورنر سلمان تاثیر نے جیل میں موجود ایک مجرم کو قانون توڑ کر رہائی دلانے کا اعلان کیا تھا تو تبھی ایک ممتاز قادری نے جنم لیا تھا. کاش اب ایسا کبھی بھی نہ ہو ۔لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ بعض گستاخوں ، مقدس ہستیوں اور ذات باری تعالی کی توہین وکے مرتکب افراد کو صرف اس لئے قانون کے کٹہرے میں نہ لایا جا سکے کہ ان کی پشت پر مغربی قوتیں اور سیکولر طبقہ تھا ۔ کروڑوں مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے والے یہ گستاخ بھی اتنے ہی بڑے مجرم ہیں کہ جتنے خودکش دھماکے کرنیوالے درندرے ۔۔
یہ ہماری حکومت کا امتحان ہے کہ وہ کیا پہلی مرتبہ کسی توہین مذہب کے مرتکب گستاخ کو سزا سنا سکے گی کہ نہیں !! یہ ایک سوال ہے؟

اگر انہیں ” باعزت “ چھوڑ دیا گیا تو کاش ہمارے ارباب اختیار اس بات کا احساس کریں کہ اس طرح ایسے واقعات نوجوان نسل کے دل و دماغ میں سما جاتے ہیں جن سے پھر وہی نتائج نکلتے ہیں کہ جو ہم ہر روز بھگت رہے ہیں

Author: Dr Asif Mahmood Khokhar

Senior eye surgeon with special interest in Vitreoretinal, Oculoplastic, Laser, and Phaco surgeries

Leave a Reply

Be the First to Comment!

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔