نوائے وقت کا ایک اور تاریخی اداریہ؛ غوروفکر کی دعوت دیتا ہے

nawaiwaqt_newspaperاس حقیقت میں اب کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی کہ عمران خان اور طاہرالقادری نے آزادی مارچ‘ انقلاب مارچ اور دھرنے کی شکل میں حکومت مخالف تحریک اسکی ہرصورت کامیابی کی یقین دہانی پر ہی شروع کی تھی جس میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفوں اور اسمبلیوں کی تحلیل کے تقاضوں کو حرف اول و آخر بنایا گیا اور حکومت کی جانب سے انکے ایک کے سوا تمام مطالبات تسلیم کئے جانے کے باوجود استعفوں پر ہٹ دھرمی برقرار رکھی گئی اور پھر تمام حدود کو عبور کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاﺅس اور وزیراعظم ہاﺅس پر حملے کیلئے پیش قدمی شروع کر دی گئی جبکہ ان حملہ آوروں کو آئین کی دفعہ 245 کے تقاضوں کے تحت تعینات افواج پاکستان کے دستوں نے خود بھی نہ روکا اور حکومت کو ساتھ ہی ساتھ طاقت استعمال نہ کرنے کے مشورے بھی دیئے جاتے رہے۔ تحریک انصاف کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے اسی تناظر میں گزشتہ روز اپنی پریس کانفرنس میں عمران اور قادری کے سازشی ایجنڈے کو بے نقاب کیا جس پر آئی ایس پی آر کو بادل نخواستہ وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا کہ فوج تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی پشت پناہی نہیں کر رہی جسے ایسے تنازعات میں گھسیٹنا افسوسناک ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق فوج ایک غیرسیاسی ادارہ ہے جس نے متعدد مواقع پر جمہوریت کیلئے اپنی غیرمتزلزل حمایت کا اظہار کیا ہے جبکہ فوج کا اتحاد اور ساکھ ہی اسکی طاقت ہے۔
آئین میں یقیناً فوج کا کوئی سیاسی کردار موجود نہیں اور ملک کی سالمیت و دفاع یا اندرونی خلفشار پر قابو پانے کیلئے افواج پاکستان کو آئین کے تحت مجاز سول اتھارٹی کی جانب سے دیئے گئے احکام کی روشنی میں ہی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوتی ہیں مگر ماضی کی چار جرنیلی آمریتوں کے تلخ تجربات کے پیش نظر اب بھی آئین‘ جمہوریت اور پارلیمنٹ کو یہی دھڑکا لگا ہے کہ کہیں ماضی کی طرح اب بھی کسی ماورئے آئین اقدام کا راستہ تو ہموار نہیں کیا جا رہا جبکہ اس خدشے کو تقویت بھی عمران خان اور طاہرالقادری کی جانب سے انکی تخریبی تحریک کو فوج کی حمایت حاصل ہونے کے بار بار کے دعوﺅں کے ذریعے پہنچائی گئی اور پھر عسکری قیادتوں کی جانب سے طاقت کا استعمال کئے بغیر مسئلہ کا فوری طور پر سیاسی حل نکالنے کے بارے میں دیئے گئے مشوروں نے صورتحال کو مزید مشکوک بنا دیا جبکہ عمران اور قادری وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفوں سے کم کسی بات پر آہی نہیں رہے تھے اور وقفے وقفے سے تقاریر کرتے ہوئے اپنی دھرنا سیاست کی کامیابی کی نوید بھی سنا رہے تھے۔ اگر فی الواقع ایسا کوئی معاملہ نہیں تھا اور عمران خان اور طاہرالقادری کو کسی جانب سے کوئی اشارہ نہیں ملا تھا جس کی آئی ایس پی آر کی جانب سے وضاحت کی ضرورت محسوس کی گئی تو اداروں کے تہس نہس کے عزائم کے ساتھ شاہراہ دستور پر مسلسل دو ہفتے سے دھرنا دیئے بیٹھے لوگوں پر آئین کی دفعہ 245 کے تقاضے بروئے کار لا کر انکے عزائم ناکام بنائے جا سکتے تھے مگر بدقسمتی سے اسکے بجائے آرمی چیف کے ثالث اور سہولت کار کے کردار کے تذکرے ہونے لگے جو بذات خود ماورائے آئین اقدام کے زمرے میں آتا ہے۔ یقیناً اس فضا میں ہی قومی اسمبلی اور سینٹ کے فورموں پر حکومتی اور اپوزیشن بینچوں کی جانب سے آئین‘ جمہوریت اور پارلیمنٹ کے تحفظ کی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرکے حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیااور متعدد سیاسی قائدین نے بھی مفاہمت کا کوئی درمیانہ راستہ نکالنے کی مقدور بھر کوششیں کیں جنہیں عمران خان اور طاہرالقادری نے اپنی ہٹ دھرمی کے تحت ناکام بنا کر سیاست دانوں کے ناکام ہونے کے پروپیگنڈا کا موقع فراہم کیا جبکہ آرمی چیف کے ٹیلی فونک پیغام پر یہ دونوں حضرات یکایک جی ایچ کیو جا پہنچے۔ اگر اس موقع پر مخدوم جاوید ہاشمی عمران خان سے اختلاف کرتے ہوئے میڈیا کے ذریعے انکے عزائم کو بے نقاب نہ کرتے تو شاید اس سازشی تھیوری کو اب تک عملی جامہ پہنایا جا چکا ہوتا جس کی بنیاد پر عمران اور قادری اپنی تحریک کی کامیابی کے دعوے کر رہے تھے۔ اس تناظر میں مخدوم جاوید ہاشمی پارلیمنٹ اور جمہوریت کو روندنے کیلئے لائے جانیوالے طوفان کے آگے حقیقی معنوں میں ڈھال بنے ہیں اور اب وزیراعظم نوازشریف بھی دوٹوک الفاظ میں قوم کو یقین دلا رہے ہیں کہ وہ استعفیٰ دینگے نہ رخصت پر جائینگے جبکہ اب قومی اسمبلی اور سینٹ نے اپنے مشترکہ اجلاس کے ذریعے وزیراعظم کیلئے اپنے پاﺅں پر کھڑے رہنے کا مزید اہتمام کیا ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ماضی کے ماورائے آئین اقدامات کی صدائے بازگشت بھی گونجتی رہی اور موجودہ صورتحال میں آئین کی دفعہ 245 کی عملداری پر بھی زور دیا جاتا رہا۔ اگر پوری پارلیمنٹ آج اس بارے میں متفق ہے کہ پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر آئین‘ ریاست اور سسٹم کو تسلیم نہ کرنے کے اعلانات کرنیوالے اور پی ٹی وی پر دہشت گردی کے مرتکب ہونیوالے لوگوں کیخلاف بھی شمالی‘ جنوبی وزیرستان جیسے اپریشن کی ضرورت ہے تو ملک کے اعلیٰ ترین اس منتخب فورم کی متفقہ رائے کا بہرصورت احترام ہونا چاہیے اور شرپسندوں سے شاہراہ دستور خالی کرانے کے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جانے چاہئیں۔ سپریم کورٹ بھی بار بار حکومت سے اس امر کا تقاضا کرچکی ہے کہ شاہراہ دستور کو دھرنے والوں سے ہرصورت خالی کرایا جائے۔ سپریم کورٹ کے احکام کی تعمیل کیلئے آئین کی دفعہ 190 کے تقاضے بھی موجود ہیں اس لئے ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اور عدالتی عملداری کی خاطر تمام متعلقہ ریاستی اور حکومتی اداروں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں تاکہ یہاں جنگل کے قانون اور جس کی لاٹھی اسکی بھینس کا تصور راسخ نہ ہو سکے‘ اگر مسلح جتھہ بندوں کی کارروائیوں سے حکومتی رٹ کی کمزوری کا تاثر پیدا ہو گا تو یہ صورتحال ملک کی سلامتی کیلئے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے‘ اس لئے لاقانونیت کا ارتکاب کرنے والوں سے شاہراہ دستور خالی کرانا اور سرکاری ٹیلی ویژن کی عمارت میں گھس کر وہاں دہشت گردی کا ارتکاب کرنے اور اسلام آباد کے ایس ایس پی اپریشنز کو زدوکوب کرنیوالے عناصر کیخلاف متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لانا ہی وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ اگر پوری پارلیمنٹ کے متحد ہونے کے باوجود حکومتی مشینری اور ریاستی اتھارٹی غیرموثر نظر آتی ہے تو پھر یہ اتحاد بھی لاحق خطرات سے سسٹم کو نہیں بچا پائے گا۔ اگر حکومت تہس نہس کی سازش سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوتی ہے تو پھر اسے اپنی من مانی پالیسیوں اور شہنشاہانہ طرز عمل پر بھی نظرثانی کرنا ہو گی کیونکہ یہی وہ حکومتی معاملات ہیں جو عوامی اضطراب کا باعث بنے اور عمران خان اور طاہرالقادری کو حکومت مخالف پیدا ہونیوالی اس فضا سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا۔ حکمران پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی سیاسی قائدین کی جانب سے کی گئی تقاریر کی روشنی میں اپنے معاملات کا جائزہ لیں اور اپنی اصلاح کریں‘ ورنہ انہیں باربار کوئی بچانے نہیں آئیگا۔

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔