نظر کی تنگی

میں دامنِ کوہ پر کھڑا تھا۔
نیچے اسلام آباد کی رونقیں نظر آرہی تھیں۔پورا شہر میری آنکھوں کے سامنے گردش کر رہا تھا۔چیونٹیوں کی مانند رینگتی گاڑیاں۔ اور اُن میں بیٹھے آنکھوں کی پہنچ میں نہ آنے والے انسان۔

میں یہ سوچ رہا تھا کہ انسان کی حیثیت ہی کیا ہے۔۔! چیونٹی جیسی ،بلکہ اس سے بھی کم۔
جو لوگ اس وقت اسلام آباد کی سڑکوں پر ہونگے، اُن میں کوئی بہت بڑا بزنس مین ہوگا تو کوئی بہت بڑا ٹھیکیدار،،کوئی بہت بڑے پاب کی اولاد ہوگا جس کے پاس بہت بڑی سی گاڑی ہوگی،تو کوئی موروثی سیاستدان۔

لیکن اس وقت ان تمام انسانوں کی میرے سامنے کیا حیثیت ہے؟
صرف ایک چیونٹی کی مانند ،بلکہ اس سے بھی کم رینگتا ہوا کوئی کیڑا۔
میں ذرا سی بلندی پر کیا آگیا، سب انسانوں کی حیثیت میرے سامنے ہیچ ہوگئی۔

تو وہ رب۔۔
جس پر بلندیوں کی انتہا ہی ختم ہے۔۔جو سب سے بلند و بالا ہے۔۔اس کے سامنے انسان کی کیا حیثیت ہے؟
کچھ بھی نہیں۔۔۔!!
لیکن پھر بھی انسان اکڑتا ہے۔۔شرک کرتا ہے۔۔۔رب کو جھٹلاتا ہے۔۔۔اس کو آنکھیں دکھاتا ہے۔۔۔خدائی اور نبوت کےجھوٹے دعوے کرتا ہے۔
انسان کس چیز پر اکڑتا ہے؟اس کی حیثیت ہی کیا ہے؟؟

اس دن مجھے قرآن کی اس آیت کی اصل تشریح معلوم ہوئی:
“اور زمین پر اِتراتے ہوئے مت چلو، (کیونکہ) نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ (بدن کو تان کر) پہاڑوں کی لمبائی تک پہنچ سکتے ہو۔”
(سورہ بنی اسرائیل – 37)

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.