میرے ایک دوست نے مجھ سے ایک بڑا اہم سوال کیا ہے، آپ بھی اِس گفتگو میں شریک ہو جائیں

سوال: ڈاکٹر آصف صاحب آپ کی حالیہ بہت سی پوسٹس پڑھ کر میں محسوس کرتا ہوں کہ آپ انڈائریکٹلی [بالواسطہ طور پر] نوز شریف کو سپورٹ کرتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آپ کیا کر رہے ہیں؟

جواب: مولانا مودودی رحمہ اللہ کے وقت سے ہی جماعت اسلامی کی پالیسی یہ رہی ہے ملک میں دستور کا ہونا اور اسلامی دستور کا ہونا ایسے ہی ضروری ہے جیسے جاندار کے لئے آکسیجن. اس وقت نواز شریف کا مسئلہ بڑی چالاکی سے پیچھے کر دیا گیا ہے اور اس بدقسمت قوم کو دستور سے محروم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے. اس لئے دستور اور نظام کی حفاظت کی سوچ کا ساتھ دینا ناگزیر ہے. آپ صحیح کہہ رہے ہیں کہ ظاہری طور پر کئی دفعہ ایسے ہی محسوس ہوتا ہے کہ نواز شریف کی حمایت ہو رہی. بدقسمتی یہ ہے کہ اس وقت وہ ملک میں دستور کی بقا کی علامت بن گیا ہے.

سوال: جزاک اللّہ درست لیکن دستور کو تو تب بچایا جائے جب اس پر عمل ہو رہاہو

جواب: دیکھیں اُن کو اور دیگر غلط لوگوں کو اِس وقت ہر کوئی جوتے مار رہا ہے کہ تم دستور پر عمل نہیں کرتے. عدلیہ بهی رکاوٹیں ڈالتی ہے. احتجاج بهی ہوتا ہے. ان کو وضاحتیں کرنی پڑتی ہیں اپنی چوریاں چهپانی پڑتی ہیں. اگر دستور نہ رہا یا دستور میں اسلام نہ رہا تو پھر تو بالکل ہی کهل کهیلیں گے جیسا کہ پہلے بهی خصوصا مارشل لاؤں میں یہ سب کچھ کرتے رہے ہیں.

اب اس بات کا امکان موجود ہے کہ دعوت کا کام کرکے لوگوں میں شعور پیدا کر کے دستور پر عمل درآمد کا تناسب بہتر بنایا جا سکے. جو کہ دراصل اسلام ہے.

اسی اسلامی دستور کی موجودگی اور دعوت کی آزادی کی وجہ سے ہی جماعت سمجھتی ہے کہ پاکستان میں بندوق کے ذریعے جہاد جائز نہیں.

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.