مسلم سائنسدانوں کی ایجادات جو دور جدید کی بنیاد بنیں

مسلم سائنسدانوں کی ایجادات جو دور جدید کی بنیاد بنیں

بشکریہ روزنامہ پاکستان

کافی

کافی جو آج دنیا کے مقبول ترین مشروبات میں سے ایک ہے، درحقیقت مسلمانوں کی ایجاد ہے اور یہ کسی سائنسدان کا نہیں بلکہ ایک عام عرب چرواہے کاکارنامہ ہے جو اپنے جانوروں کو چرا رہا تھا کہ اسے ایک نئے طرز کا بیری ملا اور انہیں ابالنے کے بعد دنیا میں پہلی بار کافی تیار ہوئی۔ اس مشروب کی تیاری کا یہ پہلا ریکارڈ ہے جس کے بعد بیج ایتھوپیا سے یمن پہنچا جہاں صوفی بزرگ اہم مواقع پر اسے پی کر ساری رات جاگتے تھے۔

کیمرہ

قدیم یونانیوں کا خیال تھا کہ ہماری آنکھیں کسی لیزر کی طرح شعاعیں خارج کرتی ہیں جس کے باعث ہم دیکھ پاتے ہیں تاہم جس شخص نے سب سے پہلے یہ جانا کہ روشنی آنکھوں سے نکلتی نہیں بلکہ داخل ہوتی ہے وہ 10ویں صدی کے مسلم سائنسدان ابن الہیثم تھے اور اسی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے پہلا پن ہول کیمرہ ایجاد کیا اور پہلی لیب کو تشکیل دیا۔

پیراشوٹ

رائٹ برادرز سے لگ بھگ ایک سال پہلے مسلم موسیقار، انجینئر، شاعر عباس ابن فرانز نے ایک اڑن مشین کی تیاری کرکے اسکی مدد سے متعدد کوششیں کیں، 852 عیسوی میں اس نے قطربہ کی عظیم مسجد کے مینار سے ایک ڈھیلے لبادے اور لکڑی کے پروں کے ساتھ چھلانگ لگائی اسے توقع تھی کہ وہ ایک پرندے کی طرح ہوا م یں تیر سکے گا مگر وہ ناکام رہا، مگر اس لبادے نے نیچے گرنے کی رفتار کم کردی اور اس طرح دنیا کا پہلا پیراشوٹ وجو دمیں آگیا۔

صابن

نہانا دھونا مسلمانوں کی مذہبی ضرورت ہے اور یہی وجہ ہے انہوں نے آج کے دور میں استعمال ہونے والا صابن اپنے دور عروج میں ایجاد کیا، قدیم مصر اور روم میں صابن جیسی کوئی چیز استعمال ہوتی تھی مگر یہ عرب تھے جنہوں نے سبزیوں کے تیل اور سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ کے امتزاج میں مختلف خوشبوﺅں کا استعمال کیا، یہاں تک کہ شیمپو بھی انگلینڈ میں ایک مسلم نے 1759ءمیں متعارف کرایا۔

مشینیں

شافٹ ایک ایسی ڈیوائس ہے جس کو جدید عہد کی مشینری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے اور انسانی تاریخ کی اہم ترین مکینیکل ایجادات میں سے ایک مسلم انجینئر الجرازی نے کی جس کے ذریعے پانی کو کنویں کی تہہ سے اوپر لاکر آبپاشی کا استعمال کیا جاسکتا ہے، 1206 میں ان کی کتاب سے ثابت ہوتا ہے والرز اور پسٹن کوبھی انہوں نے ایجاد کیا جبکہ انہیں روبٹکس کا بانی بھی قرار دیا جاتا ہے۔

سرجیکل آلات

جدید عہد کے متعدد سرجیکل آلات کی بنیاد دسویں صدی کے مسلم سرجن الظواہری نے رکھی، ان کے نشتر، قینیاں اور دیگر دو سو آلات کی اہمیت کو آض کے عہد کے سرجن بھی مانتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے زخموں کو ٹانکے لگانے والا ایسا دھاگا بھی تیار کیا جو قدرتی طور پر جسم سے الگ ہوجاتا تھا جبکہ انہوں نے کیپسول بھی ایجاد کیا۔

ہوائی چکی یا وِنڈمِل

ونڈمل کو ایک ایرانی خلیفہ نے ساتویں صدی میں ایجاد کیا جسے مکئی کی فصل کے لئے پانی کے حصول کے دوران استعمال کیا جاسکتا تھا اور یورپ میں یہ چیز پانچ سو سال بعد دیکھنے میں آئی۔

Author: Dr Asif Mahmood Khokhar

Senior eye surgeon with special interest in Vitreoretinal, Oculoplastic, Laser, and Phaco surgeries

Leave a Reply

Be the First to Comment!

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

  Subscribe  
Notify of