کشمکش

کشمکش

نہ یاں طمانیت ہے—– نہ واں سکوں—– — کہاں جا رہوں؟

تلاشِ عزم نے—– دشتِ یقیں نے—– کیا فقط خوارو زبوں

کس دیوانے سے جا ملا—- بہانوں کی کمیں گاہیں جل اُٹھیں

لگ گئی ہوں پابندیاں—– یا شہروں میں جیسے بم پھٹے ہوں

سامنے ہے گو جیل و آگ—— پیچھے ہے گو عیش و نشاط

نہیں حوصلہ شکن—– تیری رضوان و جنت مگر—– کیوں؟

اندھیرے ہیں دشت میں———- اور آدھی رات کا ہے عمل

ٹمٹما رہے ہیں حسیں تارے— طوفاں میں جیسے دیے ہوں

ان دیکھی منزل کی طرف——— باندھ کے کمر چل پڑا ہوں

اغوا شدہ ہو جہاز جیسے——- یا لہروں پہ تنکے تیرتے ہوں

تحریکی مقاصد پہ نثار آصف میری جان بھی میری آن بھی

ڈرتا ہوں لیکن منزل نہ کہیں— رہبر کے مقاصد بن گئے ہوں

 

 

ڈاکٹر آصف کھوکھر

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔