نویدِ انقلاب

    نویدِ انقلاب

بہتے سیلابوں کی طرح—-بڑھتے طوفانوں کی طرح

جہانِ نو   پیدا کرو ——- عظیم  انسانوں    کی طرح

تمھارا   شیوہ ہے  اجتہاد، تمھاری خو  نہیں   تقلید

ہر لمحہ چوکس رہو —–  محنتی دہقانوں  کی طرح

سخت کوش  جو ہوں،     جواں ہمت   جو ہوں انساں

منزل انہی کا مقدر —– شاہیں کی اڑانوں کی طرح

غم و راحت  کو  سلام —— وصل و فرقت  کو سلام

سفرِِمصائب ہے انقلاب، وحشت ناک بیابانوں کی طرح

ہر  حرفِ باطل  ہو—-  جوش کا تازیانہ——–تیرے لئے

نزرانۂ جاں ہومعمول ——– طرحدارانسانوں کی طرح

ترے عمل میں جِدّت  ہو— تری فکر میں یکسوئی ہو

پھر بن کےعذاب گرے—— تاریخی طوفانوں کی طرح

پھر میں  تجھ کو  سلام کروں،   تکریم   دیوانہ وار  کروں

گرضرورت ہو تو فخرسے— سارا جہاں تجھ پہ نثار کروں

 

 

 

ڈاکٹر آصف کھوکھر

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔