نئی منزل

نئی منزل

قدم آگے بھی رکھنا———- اور ڈرڈر کے بھاگنا بھی

عجب طرفہ تماشا ہے———– اپنا خدا کو ماننا بھی

بحرِ ممکنات کی غواصی سے–  بہانے بھی تلاشنا

اور خارِ یقیں کے حظ سے— طرفِ صحرا بھاگنا بھی

شوقِ منزل کا سرور بھی— بے قراری کا کرب بھی

جنت کی کشش بھی، مستقبل میں جھانکنا بھی

ہم پہ جنوں کی منزلیں بھی—- کیا  گزر گز گئیں

عقل سے دوستی بھی——عقل کو دھتکارنا بھی

کبھی ناصح سے ملاقات، کبھی جلاد سے گفتگو

عزیزوں سے جھڑپ—- کبھی پیاروں کا سامنا بھی

عشق سے عہدِ وفا— اور اب آزادی کے خواہاں ہو؟

گھر بھی چھوڑنا ہوگا— درِ سکوں کو جھانکنا بھی

زمان و مکاں تو خیر کیا —— متاعِ یقیں کی فکر کرو

جانتا ہے یہ ہنرِ زمانہ سازی، مکافات کو سنبھالنا بھی

 

 

ڈاکٹر آصف کھوکھر

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔