لمحات سہانے

لمحات سہانے

اُس کے دل کی بات کر دی اور مانے گئے

اک لمحۂ تجسس ہی میں پہچانے گئے

 

باوجود ہزار کوشش کے تتلی نکل ہی گئی

میں ہاتھ ملتا رہ گیا اور لمحات سہانے گئے

 

ٹھکرا دیا گیا ہوں لہو کے رنگیں ہونے سے

مرمریں خونوں والے لیکن اپنے جانے گئے

 

احساس تو تھا ہی روح کی تلاش بھی تھی

طوفاں بے شمار اُٹھے ہوش اپنے ٹھکانے گئے

 

عرصہ ہائے طویل تھے درکار مگر لمحہ بھر کو

سوچ کے دھارے پھوٹے آصف پہچانے گئے

 

 

 

ڈاکٹر آصف کھوکھر

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔