عجب سوچ

عجب سوچ

جنت کی تلاش ہے جہنم میں نہ قدم رکھ دوں

انوکھا ہوں پہلے ہی اک اور نہ انوکھا قدم رکھ دوں

 

تلاشِ صنم میں نکلا تھا خدا کے پہلو میں جا نکلا

اب حرم میں نہ کہیں اپنا حسیں ہمقدم رکھ دوں

 

ہزار وعدوں کے باوجود سوئے دشت ہی چل پڑا ہوں

عشق کا گر شوق ہے کھول کے کیفِ جرم رکھ دوں

 

خوب سستا ہے یہ بازار آصف  مثال ہے مہنگائی بھی

جاں تک نثار کر دوں، سنبھال کے لمحۂ ستم رکھ دوں

 

 

 

ڈاکٹر آصف کھوکھر

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔