سلیقہ انقلاب

سلیقۂ انقلاب

اشاروں کنایوں سے۔۔۔ سنتا کوئی نہیں۔۔۔۔ سمجھتا کوئی نہیں ہے

گریز طوفانوں سے گر عادت ہو —- جوہر کھلتا کوئی نہیں ہے

پروں کو  کاٹنے کے  بعد ———-  گلوں کو گھونٹنے کے بعد

جب دیا جائے اذنِ پرواز ———– شاہیں اُڑتا کوئی نہیں ہے

ظلم کی آندھیاں — عین جوبن پہ بہار کے——کیا غضب ہے

راگ نکلتا  کوئی نہیں ہے ———– گل مہکتا کوئی نہیں ہے

ظلمت شب کی تاریکیاں ———- گر اپنا لیں ساون کے بادل

رستہ  ملتا  کوئی نہیں ہے —-۔۔۔۔۔۔۔ تارہ چمکتا کوئی نہیں ہے

جب زیست کا ہر دن ہو کربلا ——– اور ہر شام  ہو  شامِ الم

پرندہ چہکتا کوئی نہیں ہے ——۔۔ انساں ہنستا کوئی نہیں ہے

آسائش کے گوشوں میں گر۔۔۔۔۔ بیٹھ جائیں سر چھپا کے مجنوں

فسانۂ عشق بھی، حسن صحرا بھی، پھر نکھرتا کوئی نہیں ہے

 

 

ڈاکٹر آصف کھوکھر

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔