بے خودی

بے خودی

بے چین ہوں بہت—– دل کہیں لگتا نہیں ہے

حسیں سمے بھی دل کبھی مچلتا نہیں ہے

چھوڑا کیا تجھے—— ہزار توجیہات کے باوجود

ضمیر سوتا نہیں ہے——– دل بدلتا نہیں ہے

شراب بے خودی دے کر—– حقائق کو جلا دے

مجھے حوصلہ دے—- کہ دل سنبھلتا نہیں ہے

گنجے سانپوں کا علاج فقط انقلاب ہے دوست

زہر کو تریاق کہنے سے اسکا اثر بدلتا نہیں ہے

ظالم کی خونخوار آنکھوں کو نکال کے پھینک دو

انھیں کے باعث تجھے کھانا بھی ملتا نہیں ہے

یہی ہے شہادت ——- راہ حق میں جاں ہار دینا

جاں سنبھالیں تو دودھ پتھر سے نکلتا نہیں ہے

 

     

ڈاکٹر آصف کھوکھر

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔