اُس وقت بھی

اُس وقت بھی

میں تو—- اک نقشِ جاوداں——— اُس وقت بھی تھا

صاحبِ تسخیر فقط—— یہی ناتواں اس وقت بھی تھا

یہ آتش ہی تو وہ راز ہے—جو مجھ سے سمجھا نہ گیا

ورنہ بجھا ہوا زہر میں——- تیرِ کماں اس وقت بھی تھا

اب ہی—- عجب روح پھونک دی گئی ہے—- مجھ میں

ورنہ اتنا ہی وسیع—- یہ جہاں—— اس وقت بھی تھا

تیری چشم کی گہرائیوں میں ڈوب کے نکلا ہی اب ہوں

اے شاہدِ سحر طراز——- میں یہاں اس وقت بھی تھا

مجھے ہی آخر— کیوں— در خورِ اعتناء نہ سمجھا گیا

ایسا ہی— اک شعلہ———- جواں اس وقت بھی تھا

زمانوں کے بے خود کو الہی لمحۂ بے خودی مل جائے

خجل کیوں ہوا، رہبرِ تو شاید—– قرآں اس وقت بھی تھا

وصلِ یار کی کلفتوں نے ابھی جنم بھی نہیں لیا تھا

اور اپنا دل—- ناصبور و پریشاں—– اس وقت بھی تھا

روح بھی نہ پھونکی گئی تھی ابھی جسدِ خاکی میں

اک خوف سا—- رواں دواں———- اس وقت بھی تھا

فرزانوں کی پزیرائی کے یونہی ہوا کرتے تھے اہتمام

اور—- ہر اک دیوانہ—— بے خانماں اس وقت بھی تھا

ہر قدم پر—- مُڑ مُڑ کے دیکھتے تھے———- ہم لوگ

سامنے موجود— اک نخلستاں—– اس وقت بھی تھا

پھر— سکونِ مردگی سے ہمکنار ہونے لگے تھے جب

رہنما میرا—- دلِ خونچکاں———- اس وقت بھی تھا

اندھیروں کے دشمن—- جاگے ہیں– –خدا خیر کرے

اک نور —–بام پہ——— پر فشاں اس وقت بھی تھا

پھر مینار بنے، غار بھرے، اور ظلم کی آندھی تھم گئی

مسرتوں کا— امڈا ہوا اک طوفاں— اس وقت بھی تھا

بھٹکی ہوئی انسانیت کو ——-راہ پہ جس نے لگا دیا

موجود ہر اک مقام پہ وہ—- انساں اس وقت بھی تھا

 

 

ڈاکٹر آصف کھوکھر

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔