(مردوں کے خلاف مظالم (عورتوں سے معذرت کے ساتھ

farrah-ahmadپدرانہ نظام کا حصہ ہوتے ہوئے ہمیشہ ہم سب نے مردوں کی طرف سے عورتوں پر ہونے والے مظالم کا احوال ہی سنا Gender Studiesجیسے مضامین کو کورس میں شامل کیا تو پڑھاتے ہوئے اس میں بھی جانبداری کا ظاہرہ کرتے ہوئے Gender Studiesکو Women Studiesمیں بدل دیا ۔ رہی سہی کسی Feminismنے پوری کردی جس نے مردوں سے نفرت کے رویے کو اس قدر جانبدارانہ بنایاکہ عورتیں اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بھی نظر آئی 1984میں Duluth Model Wheel of Power and Controlگھریلو تشدد میں مداخلت کے ادارے (DAIP)نے متعارف کرایا۔ اب اس ماڈل کو بھی ہم نے عورتوں کے حق میں اور مردوں کے مظالم کو اجاگر کرنے میں استعمال کیا ۔ آج ناچیز نے سوچا اگر اس ماڈل کو مخالف طور پر استعمال کرکے دیکھا جائے تو مندرجہ ذیل صورت حال سامنے آئی ۔ سب سے پہلے تو اس ماڈل کے حصوں کو قاری کی سہولت کیلئے حصوں میں تقسیم کرلیتے ہیں۔

1۔    گھریلو تشدد میں دھمکیوں کا استعمال

2۔    گھریلو تشدد میں جذباتیت کا استعمال

3۔     تنہا کردینے کی دھمکی

4۔     الزام تراشی

5      بچوں کا استعمال

6۔     مردانگی کے نظریہ کا استعمال

7۔      معاشی دباﺅ

اب اس ماڈل کو عورتوں پر لاگو کرنے کی بجائے آج اس کے تناظر میں مردوں کی حالات زندگی پر نظر ڈالتے ہیں ۔

1۔    گھریلو تشدد میں مرد دھمکیاں سہتے ہیں، جب خواتین چیزوں کی توڑ پھوڑ خاص کر ایسی چیزیں جو ان کے زندگی میں شامل مرد کے زیر استعمال ہوں یا وہ چیزیں جن سے ان مردوں کی جذباتی وابستگی ہو ۔ اس کو نقصان پہنچاکر کیا جاتا ہے۔

2۔     جذباتیت کا استعمال کرتے ہوئے اپنے عورت ہونے کی مظلومیت کا رونا رونا، اپنی قسمت کو کوسنا، بچپن کی محرمیوں کو شادی کے بعد اچانک پیدا ہوجانے والے حالات سے بدل دینا کہ ماں باپ کے گھر تو عیش دیکھی اب قسمت یہ دن دکھا رہی ہے، ناجائز طور پر آنسوﺅں کا استعمال ۔ بلا ضرورت جذباتی گفتگو، حیلہ بہانہ، اصل نام سے ہٹ کر برے ناموں سے پکارنا اور انتہائی حالات میں گالیوں تک کا استعمال شامل ہے۔

3۔     مرد کو تنہا کردینے کی دھمکیاں خاص طور پر بچوں کو باپ سے الگ کردینے کی دھمکی ۔ چھوڑکرچلے جانے کی دھمکی ۔ دوستوں سے میل ملاپ پر پابندی ، شک کا استعمال ۔ شوہر کی آزاد رائے پر پابندی اس کی لکھنے پڑھنے ، پروگراموں کے انتخاب پر اعتراض ہماری روزمرہ مشاہدے کا حصہ ہیں۔

4۔     الزام تراشیاں اور مسابقت کی فضا قائم کی جاتی ہے کہ فلاں کے گھر تو یہ سب ہے اور ہمارے گھر سوائے معمولی نوعیت کی اشیا کے کچھ بھی نہیں ” میرا بہنوئی آپ سے بہتر میری بہن کا خیال رکھتا ہے، آپکا بھائی تو اپنی بیوی کو عیش کرارہا ہے اور اپنے دوست سے ہی کچھ سیکھو جیسے الفاظ کا استعمال شامل ہے۔

5۔    گھریلو تشدد میں بچوں کا استعمال ان کے باپ کو ظالم ثابت کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔ ماں نے سسرال میں دادی اور پھپو سے کیا کیا ظلم سہا ہوا ہے بچوں کو باپ او ردھیال سے دور کرنا ہے۔

6۔       مردانگی کے نظریے کا غلط استعمال کرتے ہوئے ہم نے ہمیشہ مردوں کو ان فقروں سے نوازا ۔

ارے غیرت مند بنو ورنہ چوڑیاں پہن لو ، ارے زن مرید ہو کیا؟ مرد روتے نہیں ہوتے ۔ بیٹا اس گھر کی عزت اب تمہارے ہاتھ میں ہے۔ ارے مرد بنو، مرد لوگ کیا کہیں گے وغیرہ وغیرہ ۔

7۔      معاشی دباﺅ کا شکار آج بھی صرف مرد ہی ہے۔ اگلے 10سالوں میں بھی معاشروں کی صورت حال یہی رہنے والے ہے کہ ”ارے مرد ہو کما کر لاﺅ“ کہاں سے لاتے ہو ہمارا مسئلہ نہیں۔ عورتوں کو آج بھی یہ آزادی حاصل ہے کہ نہیں بھی کمائیںگی تو ان کو Afffordکرنے کیلئے ان کی زندگیوں میں باپ بھائی شوہر اور بیٹا موجود رہیںگے۔

مرد Overtimeلگائے گا۔ مزدوری کرے گا ۔ سرمایہ دارانہ نظام کی محکومیت چھیلے گا مگر اس کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ کس دن خالی ہاتھ گھر آجائے۔ اس کو اپنے پر  Dependentلوگوں کیلئے روٹی لے کے ہی جانی ہے۔ نتیجتاً معاشروں میں مردوں کی اوسط زندگی کا گراف عورتوں سے کم ہے اور ان میں خودکشی کی شرح اور دل کی بیماریوں سے زندگی ہارنا عورتوں کی نسبت زیادہ ہے۔ گھریلو تشدد میں عورتیں جسمانی تشدد کا شکار زیادہ ہوتی ہیں تو مرد ذہنی تشدد کا زیادہ ہوتے ہیں او رزندگی میں ان کی حالات سے لڑائی اور مشکل ہوتی چلی جاتی ہے۔ معراج فیض آبادی نے کیا خوبصورت لکھا ہے۔

” مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ“

Author: Dr Asif Mahmood Khokhar

Senior eye surgeon with special interest in Vitreoretinal, Oculoplastic, Laser, and Phaco surgeries

Leave a Reply

Be the First to Comment!

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

  Subscribe  
Notify of