فیس بک پر ہونے والی بدتمیزی

فیس بک کے صحافی
تحریر: گل نوخیز اختر

کیا آپ کو پتا ہے کہ نوبل انعام پانے والی ملالہ یوسف زئی اصلی ملالہ یوسف زئی نہیں‘ اصلی ملالہ امریکہ شفٹ ہوچکی ہے۔
۔۔اسرائیل نے پاکستانی صحافی حامد میر‘ جاوید چوہدری‘ ڈاکٹر شاہد مسعود اورکامران خان کو فی کس چالیس کروڑ دیے ہیں تاکہ یہ لوگ پاکستان کو تباہ کرنے میں اسرائیل کی مدد کر سکیں۔
۔۔عزیر بلوچ نے اعتراف کر لیا ہے کہ صدر زرداری اور رحمان ملک نے انہیں کہا تھا کہ یوٹیوب پر پابندی لگوا نی ہے۔۔۔!!!
اگر میں اس طرح کی بکواس لکھ کر فیس بک پر لگا دوں تو یقین کیجئے نہ صرف لوگ مان لیں گے بلکہ کمنٹس کے بھی ڈھیر لگا دیں گے ۔آج کل یہی ہورہا ہے۔ فیس بک وہ واحد جگہ ہے جہاں آپ کچھ بھی لکھ کر لگا دیں‘ بے شمار ایمان لانے والے نکل آتے ہیں۔
میرا ایک دوست بتا رہا تھا کہ اُس نے ایک دفعہ شرارتاً گوگل سے کسی لڑکی کی تصویر لگا کر نیچے لکھ دیا کہ جب پاکستان کا ایٹم بم بن رہا تھا تو اس لڑکی نے اپنا جہیز بیچ کر ڈاکٹر قدیر خان کو ڈیڑھ لاکھ عطیہ کیا تھا۔جونہی یہ تصویر اپ لوڈ ہوئی‘ دھڑا دھڑ اِس قسم کے کمنٹس آنے لگے ۔۔۔سبحان اللہ۔۔۔ ماشاء اللہ۔۔۔بہت خوب۔۔۔ یہ لڑکی قوم کا فخر ہے۔۔۔ جیتی رہو تم نے ہمیں عزت سے رہنا سکھایا۔۔۔حکمرانوں کو اس لڑکی کو دیکھ کر شرم کرنی چاہیے۔۔۔لٹیرو! اس لڑکی کو بھی یاد رکھو یہ پاکستان کی شان ہے۔۔۔ہم تمہاری عظمت کو سلام کرتے ہیں۔۔۔وغیرہ وغیرہ!!!

آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ فیس بک پر تصویریں لگانے والے کئی دفعہ اپنی طرف سے ثواب اناؤنس کردیتے ہیں کہ اِس تصویر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور ثواب حاصل کریں۔ گئے وقتوں میں لوگ گھروں میں فوٹو کاپیاں پھینک جاتے تھے جس پر کسی مکے کے حاجی کا واقعہ لکھا ہوتا تھا جس نے اس کاغذ کی پندرہ فوٹو کاپیاں کروا کے تقسیم کیں اور اللہ نے اسے بے حساب رزق دے دیا‘ جبکہ ایک اور بندے نے فوٹو کاپیاں نہیں کروائیں تومحض دو دن میں ہی اس کا سارا خاندان مر گیا۔آج کل یہی چیزیں فیس بک پہ آگئی ہیں‘ جس کا دل چاہتا ہے اپنے عقیدے کی کوئی چیز اپ لوڈ کرتا ہے اور نیچے لکھ دیتا ہے

’’اگر آپ مسلمان ہیں تو اس کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں‘‘۔

گویا اب مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ فیس بک کے شیئرز کریں گے۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں ہر چیز کی پوچھ پڑتال ہوتی ہے‘ ایک ایک چیز حوالے کے ساتھ دی جاتی ہے‘ آپ اخبار کی کوئی بھی خبر پڑھ لیں‘ خبر شروع ہونے سے پہلے بریکٹس میں ساتھ حوالہ دیا ہوتا ہے‘ لیکن فیس بک اِس جھنجٹ سے آزاد ہے اور مزے کی بات ہے کہ اِس پر یقین کرنے والے بھی چار چار آنکھیں رکھتے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے میں نے انٹرنیٹ پر ایک آرٹیکل پڑھا تھا جس میں چین کے کسی قبیلے کا ذکر تھا جو نومولود بچوں کا گوشت کھاتے ہیں‘ آرٹیکل میں ساتھ تصویریں بھی دی ہوئی تھیں۔ پچھلے دنوں یہی تصویریں دوبارہ فیس بک پر دیکھنے کا موقع ملا‘ تاہم اب کی بار نیچے کیپشن بدلا ہوا تھا اور لکھا تھا ’’برما کے مسلمان بچوں کو بھون کر کھایا جارہا ہے‘‘۔ نیچے ڈھیروں کمنٹس آئے ہوئے تھے جس میں باضمیر مسلمانوں نے میڈیا کو لعن و طعن کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ آخر یہ تصویریں اخبارات اور ٹی وی میں کیوں نہیں دکھائی جارہیں؟ کیا میڈیا یہودیوں کے ہاتھوں بک گیا ہے؟؟؟‘‘کسی نے یہ پوچھنے کی زحمت نہیں کی کہ برما میں تو میڈیا پر سخت پابندی ہے‘ پھر کون ہے جو اتنے آرام سے ہر ایونٹ کی تصویریں کھینچ کھینچ کر بھیجے جارہا ہے؟؟؟

یاد رکھئے ‘ جب کوئی چیز فیس بک پر آئے اور دنیا بھر کے میڈیا پر نظر نہ آئے تو میڈیا کو کوسنے کی بجائے تھوڑی تحقیق کرلیں کہ کہیں فیس بک والا بندہ ہی تو کذاب نہیں۔ یہاں سچ کے نام پر کیا کیا کچھ جھوٹ نہیں بولا جارہا ‘ قصور اُن کا نہیں جو ایسی چیزیں اپ لوڈ کرتے
ہیں‘ قصور اُن کا ہے جو آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے ہیں۔تھوڑے دن پہلے فیصل آباد کی ایک لڑکی کے بارے میں ایک وڈیو اپ لوڈ ہوئی تھی جس کے بارے میں فیس بک اور یو ٹیوب پر شور مچا ہوا تھا کہ اِس لڑکی نے اللہ کی شان میں گستاخی کی اور اللہ نے سزا کے طور پر اسے سانپ بنا دیا۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ایسی کسی لڑکی کو ڈھونڈ ڈھونڈ کے تھک گئے اور ظاہری بات ہے جب نہیں ملی تو انہوں نے خبر بھی نہیں چلائی‘ لیکن فیس بک پورے دعوے کے ساتھ بتا رہی تھی کہ ایسا ہوا ہے۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا خبروں کی تلاش میں ’’پھاوے‘‘ ہوئے رہتے ہیں لیکن پتا نہیں فیس بک کے صحافیوں کی خبروں پر اُن کی نظر کیوں نہیں پڑتی۔۔۔!!!
جب خبر کی خبر نہ لی جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے‘جو لوگ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کو نہیں سمجھتے اُن کا خیال ہے کہ وہاں جو چاہے چل سکتا ہے ‘ ہر جھوٹی خبر بھی آرام سے نشر ہوجاتی ہے‘ ایسا نہیں ہوتا‘ایسا صرف فیس بک پر ہی ممکن ہے‘ میڈیا کی خبر تو بیسیوں تربیت یافتہ  لوگوں کے ہاتھوں سے نکل کر منظر عام پر آتی ہے۔یہ ضرور ہے کہ بریکنگ نیوز کے چکر میں بعض اوقات خبر غلط بھی ثابت ہوجاتی ہے‘ لیکن غلط خبر کی اطلاع بھی میڈیا ہی دیتا ہے نہ کہ فیس بک۔ اس کے برعکس فیس بک پر نبی پاکﷺ کی قبر کی جعلی تصویر بھی لگا دی جائے تو عقیدت کے مارے آگے شیئر کرتے نہیں تھکتے۔ یہاں چونکہ کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا لہذا ہر وہ بندہ جس کا فیس بک پر اکاؤنٹ ہے وہ اپنی ذات میں ایک ’’تفتیشی‘‘ ہے۔ مزے کی بات ہے کہ جو لوگ اپنی ’’ذاتی‘‘ خبریں ڈھونڈ ڈھونڈ کر فیس بک پر لگاتے ہیں وہ ساتھ ساتھ میڈیا کو بھی کوستے ہیں کہ وہ اِس خبر کے بارے میں کیوں نہیں کچھ بول رہا‘ حالانکہ میڈیا تو وہ خود بن چکے ہوتے ہیں‘ جس خبر کو فیس بک پر ڈھیروں شیئرز مل جائیں کیا اُسے الیکٹرانک میڈیا کی ضرورت رہتی ہے؟؟؟
ہمارے ہاں جھوٹ کو آزادی اظہار سمجھا جاتاہے‘لوگ ناصر کاظمی کا شعر بے وزن لکھ کر احمد فراز کے نام سے لگا دیتے ہیں اورسننے والے داد دیتے ہوئے نہیں تھکتے‘ ایک صاحب نے اپنی پانچ سو کلو بے وزنی غزل لکھ کر اوپر لکھ دیا ہے
’’احمد فراز کی آخری غزل‘‘
۔۔۔ اور سادہ لوح پبلک نے ہمیشہ کی طرح اس جذباتی ٹائٹل سے متاثر ہوکمنٹس کی برسات کی ہوئی ہے۔غیر ذمہ داری ایسی کہ حکایتیں حدیثوں کے نام سے لگائی جارہی ہیں‘ انگریزی کی مثالیں نبیوں پیغمبروں کے ناموں سے آگے پھیلائی جارہی ہیں‘ جھوٹ کی وہ یلغار ہے کہ صحیح اور غلط میں تمیز مشکل ہوگئی ہے۔لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ سلسلہ زیادہ دیر تک چلے گا نہیں‘ ابھی چونکہ فیس بک کی نئی نئی انٹری ہے اس لیے ہر کوئی شرارتیں کر رہا ہے‘ جوں جوں وقت گذرے گا ‘ لوگ ایسی غیر مصدقہ چیزوں کو دیکھنا بھی گوارہ نہیں کریں گے‘ ابھی تو صرف یہ ہورہا ہے کہ جو چیز ہمیں اپنے مزاج کے مطابق نظر آتی ہے اُسے ہم من و عن تسلیم کرلیتے ہیں۔پہلے دوست محلے میں بنتے تھے ‘سکول میں بنتے تھے ‘کالج میں بنتے تھے‘ اب فیس بک پر بنتے ہیں‘ اور ڈھیروں کے حساب سے بنتے ہیں‘ دوست ضرور بنائیں لیکن یہ ذہن میں رہے کہ
’’دوست ہوتا نہیں ہر فرینڈ ریکوسٹ بھیجنے والا‘‘۔

Author: Dr Asif Mahmood Khokhar

Senior eye surgeon with special interest in Vitreoretinal, Oculoplastic, Laser, and Phaco surgeries

Leave a Reply

Be the First to Comment!

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔